بریکنگ نیوز

کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی “(1)

AAZ-1.jpg


تحریر: امام بخش

آصف علی زرداری اور اپنے تَئیں صادق و امین فرشتوں (اِس بھان متی کے کُنبے میں ہیئت مقتدرہ اور اس کے ادنٰی غلام یعنی عدلیہ، میڈیا اور جمورے سیاست دان شامل ہیں) کی اصل کہانی سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں جانا پڑے گا۔ سب سے پہلے آصف علی زرداری کے خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی کی طرف چلتے ہیں۔

آصف علی زرداری 26 جولائی 1955ء کو کراچی میں سردار حاکم علی زرداری مرحوم کے گھر پیدا ہوئے۔ آصف علی زرداری اولادِ نرینہ میں اکلوتے ہیں۔ حاکم علی زرداری ایک قبائلی سردار اور ممتاز زمیندار تھے۔ نواب شاہ میں ان کی ہزاروں ایکڑ زمین تھی۔ ان کا اندرونِ سندھ زمینداری کے علاوہ کراچی میں بھی کاروبار تھا۔ حاکم علی زرداری نے ساٹھ کی دہائی کے شروع میں این اے پی (موجودہ اے این پی) کے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کی۔ وہ 1970ء کے اِنتخابات میں نواب شاہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی بار ایم این اے بنے تھے۔ اِن کی انتخابی مہم کی خصوصی بات یہ تھی کہ اعجاز درانی (نور جہاں کے خاوند)، طارق عزیز سمیت دوسرے اداکار اِن کی الیکشن کمپیئن چلانے کے لیے آئے تھے۔ حاکم علی زرداری نے ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے ظالمانہ دور میں بیگم نصرت بھٹو کا بھی بھرپور ساتھ دیا۔ ساٹھ کی دہائی میں حاکم علی زرداری کی حیثیت یہ تھی کہ اگر کوئی بھی اِنٹرنیشنل ڈیلیگشن دارالحکومت کراچی میں آتا تھا تو ڈیلیگیشن میں شامل لوگوں کی حاکم علی زرداری سے ملاقات و ضیافت کی خواہش ضرور ہوتی تھی۔ حاکم علی زرداری کراچی میں دو میں سے ایک بڑی عمارت یعنی بمبینو چیمبرز کے مالک بھی تھے (دوسری عمارت تبت سنٹر تھی)۔ بمبینو چیمبرز سات منزلہ بلڈنگ تھی۔ اس کی ساتویں منزل پر اس زمانے میں حاکم علی زرداری یعنی آصف علی زرداری کی والدہ نے ساتویں منزل پر پینٹ ہاؤس بھی بنوایا تھا، جس کی اُس سستے زمانے میں لاگت تین لاکھ روپے آئی تھی۔ بمبینو چیمبرز میں بمبینو نامی سینما گھر بھی تھا، جو بعد میں ایک اسکول کو عطیہ کر دیا گیا۔ حاکم علی زرداری بمبینو سینما گھر کے علاوہ کراچی میں مشہورِ زمانہ لارکس اور اسکالا سمیت پانچ سینما گھروں کے بھی مالک تھے۔ اُس دور میں فلم انڈسٹری اور سینما گھروں کا کاروبار بہت زیادہ منفعت بخش تھا۔ حاکم علی زرداری کے سینما گھر جدید ترین مووی ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔ ان کے سینما گھر سنیما انڈسٹری میں انقلاب لے کر آئے۔ ان کے پانچوں سینیما گھروں میں ٹکٹوں کی خرید ریزرویشن کے ذریعے ہوتی تھی۔ سینما کے ٹکٹوں کی ریزرویشن کے سلسلے کی شروعات بھی یہاں سے ہوتی ہے۔ حاکم علی زرداری فلموں کے پروڈیوسر ہونے کے علاوہ فلم ڈسٹریبیوشن ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی تھے۔ اُس وقت کے سُپر سٹار اور امیر ترین فلمسٹار محمد علی کی ان کے ساتھ بہت زیادہ دوستی تھی اور اِن کا ایک دوسرے کے گھر بہت آنا جانا تھا۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری نے سالگرہ نامی ایک فلم میں چائلڈ ایکٹر کے طور پر بھی کام کیا تھا، جس کے ہیرو سُپر سٹار وحید مراد تھے۔

یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا وہی مشہور زمانہ بمبینو سینما گھر تھا، جہاں سے پروپیگنڈسٹ آصف علی زرداری سے ٹکٹ بلیک کرواتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اُس دور میں آصف علی زرداری شاید پرائمری اسکول میں پڑھ رہے ہوں گے اور یہ دروغ گو بڑے دھڑلے سے ایک امیر ترین آدمی کے اکلوتے بیٹے سے اتنی چھوٹی سی عمر میں ٹکٹیں بلیک کروائی جا رہے ہیں۔

نامور مسلم دانشور مولانا خان بہادر حسن علی آفندی، آصف علی زرداری کے نانا تھے۔ حسن علی آفندی آل انڈیا مسلم لیگ سے ملحق رہے اور مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے رکن بھی رہے۔ 1934ء سے 1938ء تک وہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے محمد علی جناح کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کو مسلمانوں میں متعارف کرانے کا کام کیا۔ مزید برآں، انہوں نے مصر، فلسطین، شام، عراق، یمن، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ بھی کیا، جہاں انھوں نے اپنی تقریروں میں ہندوستان کی آزادی اور اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ مولانا حسن علی سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی تھے، جو انھوں نے اپنی ذاتی آٹھ ایکڑ زمین پر تعمیر کیا۔ یہ وہی مدرسہ ہے، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ایسی عظیم ہستی 1887ء سے لے کر 1892ء تک زیر تعلیم رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہ نواز بھٹو کے علاوہ عبداللہ ہارون، ایوب کھوڑو، سر غلام حسین ہدایت اللہ ایسی کئی عظیم ہستیوں نے بھی اِسی عظیم تعلیمی درسگاہ سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہ مدرسہ 1943ء میں ہائی سکول سے کالج بنا۔ 2012ء صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے سندھ مدرسۃ الاسلام کو کالج سے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا۔ آج مولانا آفندی کے بنائے ہوئے اس تعلیمی ادارے کے بطن سے نکلے ایس ایم لا کالج سمیت کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

آصف علی زرداری اپنی پرائمری تعلیم کراچی گرائمر اور سینٹ پیٹرکس سکول میں مکمل کرنے کے بعد سیکنڈری تعلیم کے لیے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو چلے گئے۔ 1972ء میں پٹارو سے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد وہ بزنس کی تعلیم کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔ آصف زرداری اوائل عمر سے ہی “یاروں کے یار” ٹائپ شخص کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔ وہ نوجوانی میں پولو اور باکسنگ کے کِھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے پولو کی “زرداری فور” نامی ٹیم کی قیادت بھی کی ہے۔

آصف علی زرداری کے اُس زمانے کے ایک ساتھی کے بیان کے مطابق آصف ایک بڑے دل والے شخص ہیں۔ اس کے بقول کہ ہم لوگ ایک مرتبہ کراچی کے مضافات میں ہارس رائیڈنگ کر رہے تھے کہ ہمارے گروپ میں شامل ایک جرمن سفارت کار کی بیٹی کا گھوڑا دلدل میں دَھنس گیا۔ اس صورت حال میں کوئی آگے نہیں بڑھا۔ لیکن آصف دَلدل میں اکیلا اُتر گیا اور اُس نے پہلے لڑکی کو بچایا پھر گھوڑے کو بھی باہر نکال کر سب کو حیران کر دیا۔

سیاست سے آصف علی زرداری کا اسی کی دہائی کے وسط تک دُور دُور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ مِلتا ہے کہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں آصف علی زرداری نے نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نِشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ مگر یہ کاغذات واپس لے لیے گئے۔ اسی زمانے میں آصف علی زرداری نے کنسٹرکشن کا کاروبار شروع کیا لیکن اس شعبے میں وہ صرف دو اڑھائی برس ہی فعال رہے۔

1987ء آصف علی زرداری کے لئے فیصلہ کن سال تھا، تب اِن کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا اور ان کی زندگی ایک نئی ڈگر کو چل نکلی، جب ان کی سوتیلی والدہ ڈاکٹر زریں آراء اور بیگم نصرت بھٹو نے محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ اِن کا رشتہ طے کیا۔

18 دسمبر 1987ء کو ہونے والی محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی کراچی کی یادگار تقاریب میں شمار ہوتی ہے۔ جس کا اِستقبالیہ کراچی کے امیر ترین علاقے کلفٹن کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بھی منعقد ہوا اور اُمرا کے شانہ بشانہ ہزاروں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور انکے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔

آصف علی زرداری کی زندگی محترمہ بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد ہنگامہ خیز ہو گئی۔ چِیرہ دست اِسٹیبلشمنٹ نے زرداری پر محترمہ بینظیر بھٹو سے رشتہ طے ہونے کے دن سے ہی اپنی “نظرِعنایت” اور کرتب کاری شروع کر دی تھی، جو 1967ء سے پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی پرانی خواہش مند تھی کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اِسٹیبلیشمنٹ کے لئے پہلے دن سے ہی ایک دہشت کا نام رہی ہے۔ اور یہ دہشت زدہ اِسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چھوٹے سے چھوٹے نشان سے بھی گھبرا کر اُسے مٹانے کے درپے رہی ہے۔ مثال کے طور پر ضیاءالحق کے غیر آئینی دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے کے تین رنگ یعنی کالا، لال اور سبز پر غیر اِعلانیہ پابندی تھی۔ پابندی اتنی سخت تھی کہ گلی محلے اور بازار کے رنگ ریز خواتین کے دوپٹے رنگتے ہوئے بھی یہ احتیاط کرتے تھے کہ مبادا یہ تین رنگ کسی دوپٹے میں یکجا ہو کر”مومنی” مارشل لاء کے جاہ و جلال کو نہ للکار دیں۔

1988ء کے الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف غدار اور ملک توڑنے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ مگر جب عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو دھاندلی کے باوجود جتوا دیا اور اِس طرح بھٹو فیملی کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بھرمار کے باوجود عوام کے رجحان نے اِسٹیبلشمنٹ کے سامنے حقیقت کھول کر رکھ دی تھی۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پُرکار اِسٹیبلشمنٹ کو نئی جہت میں آصف علی زرداری آسان ٹارگٹ لگے، اِن پر خُوب طبع آزمائی کی گئی اور گھٹیا سے گھٹیا حرکت تک سے گریز نہ کیا گیا۔ اور اس دن سے زرداری کے بارے میں ان “فرشتوں” کا طریقہْ واردارت ڈاکٹر جوزف گوئبلز والا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر گوئبلز کے بارے میں مختصر بتاتے چلیں کہ وہ پروپیگنڈے میں مہارت کی وجہ سے بہت جلد ایڈولف ہٹلر کا قریبی ساتھی اور وزیر پروپیگنڈہ بن گیا اور اس نے اپنی وزارت کو بڑی کامیابی سے چلایا۔ یہ وزارت جنگ عظیم کے اواخر یعنی 1945ء تک گوئبلز کے پاس رہی۔ گوئبلزکا بڑا مشہور قول ہے کہ ”جھوٹ باربار اور اتنی بار بولو کہ سننے والے اسے سچ مان لیں”۔

جب ہم وطنِ عزیز میں پروپیگنڈے کے “صادق و امین فرشتوں” کو وافر مقدار میں دیکھتے ہیں، تو بے چارہ گوئبلز ان کے سامنے بالکل طفلِ مکتب لگتا ہے۔ ان پاکستانی گوئبلز نے اپنی مہاکاری 1987ء سے لے کر آج تک منظم انداز میں آصف علی زرداری پر خوب آزمائی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعے اِن کی کردار کشی کی بد ترین مہم چلائی۔ پروپیگنڈسٹوں نے ان کے خلاف منظم طریقے سے جھوٹ بار بار اور اتنی بار بولے کہ اب ان کے خلاف کوئی بھی بودے سے بودا سا الزام آئے تو برین واشڈ لوگ فوراً سچ مان لیتے ہیں۔ (جاری ہے)

یہ آرٹیکل کی پہلی قسط ہے۔ دوسری ، تیسری ، چوتھی اور پانچویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ