بریکنگ نیوز

ایچ ای سی اور احسن ا قبال سے اقبالؒ کو بچائیے

IMG-20170919-WA0000.jpg

آصف محمود
کوئی ہے جو علامہ اقبال ؒ کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر مختاراوروزارت داخلہ کے پروفیسر احسن اقبال کی چاند ماری سے بچا لے ؟

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے یوم اقبال ؒ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا ، تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر احسن اقبال تھے ۔جی ہاں وہی ’ بندہِ حُر‘ جس نے ایک روز قبل اقبال شناسی کے باب میں ’ فراغ سے فراق ‘ تک کا سفر پوری علمی وجاہت سے طے کیا تھا۔ شام ڈھلے برادرم واصل شاہد کا فون آیا، کہنے لگے اس وقت میرے سامنے ایک شعر لکھا ہوا ہے میں آپ کو پڑھ کر سنانے لگا ہوں توجہ سے سنیے:
’’ضمیر جاگ ہی جاتا ہے ، اگر زندہ ہو اقبال
کبھی گناہ سے پہلے ، تو کبھی گناہ کے بعد‘‘

میں نے شعر سن کر کہا اس کا مطلب ہے آپ مری جا رہے ہیں ، آپ کے آگے ایک ٹرک جا رہا ہے اور اس ٹرک کے پیچھے ڈرائیور بھائی جان نے یہ شعر لکھوا رکھا ہے تاکہ سب جان جائیں اور سند رہے کہ اقبال شناسی میں وہ بھی پروفیسر احسن اقبال سے کم نہیں۔ کہنے لگے مری نہیں جا رہا اسلام آباد میں ہوں ، یوم اقبال ؒ پر ایچ ای سی کی ایک تقریب ہے ، احسن اقبال مہمان خصوصی ہیں، یہاں ایچ ای سی اور حکومت پاکستان نے خصوصی طور پر اس دن کی مناسبت سے ایک پوسٹر تیار کیا ہے جس پر اقبال ؒ کی تصویر کے ساتھ حکومت پاکستان اور ایچ ای سی کا لوگو بھی لگا ہوا ہے، یہ شعر اسی پوسٹر سے پڑھ کر آپ کو سنا رہا ہوں۔

اقبال اور غالب کے ساتھ یہ بدذوقی سوشل میڈیا ، ٹرکوں ، ویگنوں کے پیچھے تو دیکھنے کو ملتی ہے بلکہ اب تو اخبارات تک بھی پہنچ چکی ہے لیکن یہ بات تسلیم کرنا میرے لیے ممکن نہیں تھی کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت پاکستان کی سرپرستی میں ایسی بدذوقی اور مجرمانہ غفلت کا ارتکاب ہو گا ۔ میرا تذبذب دیکھ کر واصل شاہد نے مجھے تصاویر بنا کر واٹس ایپ کر دیں۔لیکن اب بھی دل نے مان کر نہ دیا۔میں نے ایک تصویر برادر مکرم احمد اعجاز کو اس درخواست کے ساتھ بھیجی کہ کیا وہ تصدیق کر سکتے ہیں یہ ایچ ای سی کے فنکشن ہی کی تصویر ہے۔انہوں نے ایچ ای سی کے دوستوں سے رابطہ کیا اور تھوڑی ہی دیر میں تصدیق کر دی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔

واصل کو فون کیا اور اب کی بار انہوں نے جو بتایا اس نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی ابھی ابھی چیئر مین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار سے بات ہوئی اور انہوں نے ڈاکٹر مختار سے کہا کہ یہ شعر اقبال کا نہیں ہے آپ اس پوسٹر کو یہاں سے اٹھوا دیجیے۔ڈاکٹر صاحب نے جواب میں طنزیہ مسکراہٹ اچھال کر کہا: فنکشن ہو رہا ہے ، یہی بڑی بات ہے ، ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔واصل بول رہے تھے مگر میں سن نہیں پا رہا تھا کہ حسیات برفاب ہو گئی تھیں۔اول خیال آیا خواجہ آصف کا مشہور زمانہ قول واصل ہی سے ،کہ وہ پاکستان کے نامور کیلیگرافرہیں، لکھوا کرچیئر مین ایچ ای سی کو بھجوا دوں،پھر خیال آیا کہ دل کتنا ہی بوجھل کیوں نہ ہو، حفظ مراتب نظر انداز نہیں ہونے چاہییں۔

اقبال ؒ کی شاعری کا اپنا ایک حسن اور رعب ہے۔آدمی ذوق لطیف سے بالکل بے بہرہ نہ ہو تو اقبال کا شعر خود بتا دیتا ہے کہ اسے کس سے نسبت ہے۔ایک زمانے میں اقبال ؒ کی شاعری مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہوتی رہی ، مخزن، زمانہ، زمیندار،امرتسر کے ماہنامہ نور جہاں، لکھنو سے شائع ہونے والے ماہنامہ مرقع، لاہور کے روزنامہ انقلاب،امرتسر ہی کے روزنامہ تنظیم وغیرہ میں اقبالؒ کا کچھ کلام ان کی زندگی ہی میں شائع ہوا مگر یہ اقبال کے کسی مجموعے میں موجود نہیں۔مجلس اقبال نے بعد میں ’’ باقیات اقبال‘‘ کے نام سے اسے بھی چھاپ دیا۔بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اس کی تقریض میں لکھا کہ غالب نے جب اپنا کلام شائع کیا تو لکھ دیا کہ ان کا کلام یہی ہے اس کے سوا جو بھی پیش کیا جائے گا اسے غالب کا کلام نہ سمجھا جائے مگراقبال نے ایسا کچھ نہیں لکھا ۔اقبال نے جب اپنے کلام کو شائع کروانے کا ارادہ کیا تو جو یاد تھا یا جو دستیاب تھا وہ شامل کر دیا۔بانگ درا کے انتخاب کے وقت زیادہ تر کلام دوست احباب نے جمع کر کے دیا۔ بابائے اردو کے مطابق جو کلام اقبال کی مطبوعہ کتب میں موجود نہیں مگر ان کی زندگی میں اخبارات و جرائد میں شائع ہوا اس کی بھی اہمیت ہے ۔اب اس ’’ باقیات اقبال‘‘ کو پڑھا جائے تو اس کا ایک ایک شعر گویا خود دلیل ہے کہ یہ اقبال کی تخلیق ہے۔لیکن جو شعر ایچ ای سی نے اقبال سے منسوب کر دیا ، اس کے بارے میں یہ تصور کرنا بھی جہالت کے سوا کچھ نہیں کہ یہ اقبالؒ کا شعر ہے۔

ایچ ای سی کے ذمہ داروں کاا پنا ذوق اتنا ہی پست تھا تو جناب عرفان صدیقی جیسے صاحب طرز لکھاری سے پوچھ لیا ہوتا، وہ آپ کو بتا دیتے کہ احسن اقبال تو شاید ایسا شعر کہہ سکتے ہیں لیکن اقبالؒ نہیں۔مقتدرہ قومی زبان میں جناب افتخار عارف موجود ہیں اقبال کا کلام جنہیں گویا حفظ ہے،نیشنل بک فاؤنڈیشن میں جناب انعام الحق جاوید ہیں ، اور پھر پروفیسر فتح محمد ملک جیسے اقبال ؒ کے عاشق بھی اسی شہر کے مکیں ہیں۔کلیات اقبال کھول کر دیکھنا مزاج نازک پر گراں تھا تو ان میں سے کسی کو فون کر کے پوچھا لیا ہوتا۔لیکن جب ترجیحات ہی اور ہوں تو اس تردد میں کون پڑے۔تقریب کے نام پر ایک کارروائی ڈالنا تھی،ڈال دی۔ رہ گیا اقبالؒ کے غلط شعر کا معاملہ تو اس کا جواب جناب چیئر مین پہلے ہی دے چکے کہ فنکشن ہو رہا ہے ، یہی بڑی بات ہے ، ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔

یہ حادثہ اچانک برپا نہیں ہوا۔ جامعات سے آپ نے ادب اور فلسفہ کو جس طرح نکال باہر گیا اور مشینی انداز میں روبوٹ تیار کرنے پر فوکس کیا یہ اس کا منطقی نتیجہ ہے کہ ایچ ای سی کے ذمہ داران فکری طور پر اس افلاس کا شکار ہو چکے ہیں کہ اس طرح کا شعر اقبالؒ سے منسوب کر رہے ہیں۔ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے جو لوگ ڈگریوں کے بوجھ تلے کمر دوہری کر کے نکل رہے ہیں ان کا علمی اور فکری ذوق کس سطح اور کس معیار کا ہے۔کیا سماج کو فکری طور پر اپاہج کردینے کا ہم نے اصولی فیصلہ کر لیا ہے؟

سٹیفن کوہن نے اپنی کتاب ” The Idea of Pakistan” میں لکھا ہے پاکستان کو اپنی شناخت میں سے ’’ اسلامی‘‘ کے عنصر کو تبدیل کرتے ہوئے خود کو اکیسویں صدی کے تصورات سے ہم آہنگ کرنا ہو گا ۔چنانچہ اگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا نصاب اب این جی اوز کی ’’ مشاورت‘‘ سے تیار ہونے لگا ہے تو یہ بے سبب نہیں۔

آئیے ہم حکومت سے درخواست کریں کہ اس نے یوم اقبال ؒ کی چھٹی تو ختم کر دی اب یوم اقبالؒ پر تقاریب کے تردد کو بھی چھوڑ دے۔اقبال ؒ کی فکراہل دربار کا کاسہ نہیں کہ اہل اقتدار کی نظر عنایت کا طلبگار ہو۔اقبالؒ کی فکر میں جان ہوئی تو وہ سماج میں اپنا آپ منوا لے گی، گلی گلی صدا نہیں لگائی گی کہ مجھے کیوں نکالا۔معاملہ یہ ہے کہ ، دروغ بر گردن راوی، احسن اقبال اس کابینہ کے سب سے پڑھے لکھے وزیر ہیں ۔اگر اب یہ حال ہے تو ڈریے اس وقت سے جب یوم اقبال ؒ کی کوئی سمری وزیر داخلہ کے سامنے پہنچے اور طلال چودھری جیسا مفکر اس منصب پر بیٹھا ہو اور ایچ ای سی یوم اقبال ؒ پرکسی تقریب کا اہتمام کرے تو عابد شیر علی جیسا علم دوست اس تقریب کا مہمان خصوصی ہو۔

اپنی افتاد طبع کے مطابق کام کرنا چاہیے ۔کسی نے کہا تھا کہ’’ آپ ہی غالب اور آپ ہی اقبال ہے، گیت اپنے آپ ہی لکھتی نصیبو لال ہے‘‘۔ تو صاحب آپ نصیبو لال کی شاعری پر سیمینار کیجیے اور امام دین گجراتی کی شاعری پر مقالہ جات لکھوائیے۔ایچ ای سی کا بجٹ اجازت دے تو اس مضمون کے محققین کرام کے لیے وظائف کا اعلان بھی کر دیجیے۔لیکن اقبالؒ کو معاف کر دیجیے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ