بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی(2)

AAZ-2.jpg

تحریر: امام بخش

پہلی ، تیسری ، چوتھی اور پانچویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

پاکستان میں گوئبلز گروپ شروع سے ہی اسٹیبلشمنٹ اور اِس کے تراشیدہ جَمُوروں پر مشتمل رہا ہے۔ اس گروپ میں شامل شعبدہ بازوں کی طلسم گری پہلے بھی کم نہ تھی مگر اس گروپ نے اپنے فن کو نوے کی دہائی میں بامِ عروج تک جا پہنچایا۔ اِنھوں نے جھوٹ کا وہ اندھ کار مچایا کہ عوام کے لیے سچ اور جُھوٹ کی تمیز بہت مشکل ہو گئی۔ من کے پُجاری اور نفس کے حواری پاکستانی گوئبلز نے آج قوم کی یہ حالت کر دی ہے کہ کسی پر الزامات لگنے کے ساتھ ہی اسے مُجرم مان کر سنگباری شروع ہو جاتی ہے۔ اپنے ناپسندیدہ شخص کے خلاف ہر افواہ کو ایمان کی حد تک سچ مان لیا جاتا ہے اور اسے فریضہ اوٗل سمجھ کر خوب پھیلایا جاتا ہے۔ بعد میں وہ افواہ بھلے جُھوٹ ثابت ہو جائے، مگر وہ پہلے ہی اذہان میں پتھر کی لکیر بن چکی ہوتی ہے، جس نے پھر ہمیشہ مستقبل میں ریفرنس کے طور پر استعمال ہونا ہونا ہے۔ اِس وقت پاکستانی معاشرے میں صرف اپنی پسند کے سچ کو ماننے پر مبنی ہماری سیاسی ثقافت صرف دشمنی اور الزام تراشی کا نام ہے۔

پاکستانی گوئبلز نے قوم کو ایک ذہنی کیفیت، جسے willingness to believe کہا جا تا ہے، میں مبتلا کر دیا ہے۔ اِس کیفیت میں آدمی ناپسندیدہ کے خلاف اور پسندیدہ کے حق میں ہر بات مان لینے پر فوراً آمادہ ہوتا ہے۔
 
1988ء میں اسٹیبلشمنٹ کے خرّانٹ سوانگیوں سمیت اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل اور ہمیشہ عوام کے ووٹوں پر بھروسہ نہ کرنے والی ملک کی نو سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روک رہیں تھیں مگر عوام نے اپنا فیصلہ صادر کر دیا۔

جب محترمہ بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو آصف علی زرداری کی سیاسی زندگی باضابطہ طور پر شروع ہو گئی۔ محترمہ کا پہلا دور شروع ہوتے ہی ان پر پاکستانی گوئبلز نے منظم طریقے سے لاتعداد من گھڑت کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ ان پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب چپکا کر اس کی بھرپور تشہیر کی گئی (آج اخبارات کے وہ بدبخت ایڈیٹرز اپنے مُنہ سے پوری تفصیل سُناتے ہیں کہ کس طرح شریف خاندان نے اُس وقت اُن کو سترہ کروڑ روپے دے کر مِسٹر ٹین پرسنٹ کے پروپیگنڈے کی اسائینمنٹ دی تھی۔ شریف خاندان پوری طرح ایکسپوز ہو چکا اور اُن کے تنخواہ دار صحافیوں کے اِقرار کے باوجود بھی برین واشڈ دولے شاہی چوہے آج بھی “مِسٹر ٹین پرسنٹ” کی گردان الاپی جا رہے ہیں)۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے۔ جگہ جگہ مشکلات پیدا کی گئیں۔ ان کو سیکیورٹی رِسک قرار دے کر بھرپور جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ دَھن کی موسلا دھار بارش میں تحریک عدمِ اعتماد کا ڈول ڈالا گیا مگر بات نہ بنی۔ اِس کے بعد بینظیر بھٹو کی حکومت کو صرف 20 ماہ بعد اس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان نے آرمی چیف اسلم بیگ کے ساتھ مل کر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر آٹھویں ترمیم کے تحت ختم کر دیا اور آصف علی زرداری کو ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالرز لینے کی سازش کا الزام لگا کر حراست میں لے لیا گیا۔

1990ء میں بینظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں آصف علی زرداری رکنِ قومی اسمبلی بنے۔ اس عرصہ میں وہ جیل میں ہی رہے۔ لیکن اُسی غلام اسحاق خان کو جس نے اُنھیں کرپشن کے لاتعداد الزامات لگا کر جیل بھیجا تھا، پوری کوشش کے باوجود کوئی ایک بھی الزام ثابت کیے بغیر تین سال بعد 1993ء میں اپنا تھوکا سرِعِام چاٹ کر آصف علی زرداری کو رہا کر کے نگران وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنا کر حلف لینا پڑا۔

محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں زرداری رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ 1997ء سے 1999ء تک سینٹ کے رکن بھی رہے۔ محترمہ کے دوسرے دورِ حکومت میں بھی آصف علی زرداری پر الزامات لگانا افترا پردازوں کا محبوب مشغلہ رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے محسن کش اور بعد میں نشانِ عبرت بن جانے والے صدر فاروق احمد خان لغاری نے 4 نومبر 1996ء کو بدامنی، بد عنوانی اور ماورائے عدالت قتل کے جھوٹے الزمات لگا کر محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ ہی آصف علی زرداری کو کسی مقدمے کے بغیر ہی گرفتار کر لیا۔ حکومت توڑنے کے دوسرے دن یعنی 5 نومبر 1996ء کو فاروق لغاری کی حکومت نے آصف زرداری کا نام مرتضٰی بھٹو قتل کیس میں درج کر دیا۔ اُس وقت ایک اور جعلی مقدمہ بنا کر میڈیا پر خُوب تشہیر کی گئی کہ جب آصف علی زرداری کو گورنر ہاؤس لاہور سے گرفتار کیا گیا تو اُن سے اربوں ڈالرز کے کرنسی نوٹوں کے بریف کیس اور سونے سے بھرے ٹرک برآمد ہوئے تھے۔ مُدتیں بیت گئیں مگر یہ مقدمہ بنانے والے آج تک نہیں بتا سکے کہ آصف علی زرداری سے اربوں ڈالرز کے کرنسی نوٹ اور سونے سے بھرے پکڑے گئے وہ ٹرک کدھر ہیں؟

1997ء کے  الیکشن کے بعد بننے والی نوازشریف کی حکومت نے آصف علی زرداری پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کر دی۔ اِس بار بغیر کوئی مقدمہ سچ ثابت ہوئے وہ جیل میں آٹھ سال قید رہے۔

یاد رہے کہ آصف علی زرداری جب بھی گرفتار ہوئے۔ مخالف حکمرانوں نے اِن کے جاننے والے بینکاروں، تاجروں، بیوروکریٹس، خاندان اور ذاتی عملے کو گرفتار کر کے بے انتہا تشدد کا نشانہ بنایا اور Perjured بیانات لینے کے لئے انھیں مالی و ذاتی فوائد اور بصورت دیگر تباہی کے واضح پیغامات دیئے گئے۔ حکمرانوں کی خواہش تھی کہ اُن کے گھناؤنے مطالبات نہ ماننے تک زرداری جیل میں رہیں۔ اِس دوران ججز، پولیس، جیل حُکام اور پروپیگنڈا کرنے والے صحافیوں نے اُس وقت کے حکمرانوں سے خوب فائدے اُٹھائے، زرداری کو تشدد کا نشانہ بنانے اور طرح طرح کی تکالیف پہنچانے پر انعامات کی بارش ہونے کے ساتھ ساتھ ترقیاں بھی مِلتی تھیں۔ طوائف طبیعت صحافیوں نے من کی مرادیں پائیں۔ آصف علی زرداری کے خلاف سیاسی نوعیت کے بنائے گئے جھوٹے مقدمات میں بعض ایسے لوگوں کو بھی گواہ بنایا گیا، جو مقدمے کی تفصیل جاننا تو دُور کی بات زرداری تک کو نہیں پہچانتے تھے اور نہ ہی زرداری اُن کو جانتے تھے۔ چند گواہوں کو جھوٹی گواہیاں نہ دینے پر عملی طور پر عبرت کا نشان بنا دیا گیا، بعض کو تو پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔

محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا واضح پیغام تھا کہ اُن کے غیر آئینی مطالبات نہ ماننے تک زرداری جیل میں ہی رہیں گے۔ اِس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت سے اجتناب نہ کیا۔ مثال کے طور پر 2002ء میں جب سب مقدمات میں زرداری کی ضمانت ہوئی اور وہ جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگے تو جیل سپرٹنڈنٹ نے زرداری سے کہا “جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی زرداری پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا مقدمہ بنا کر عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ جب آصف علی زرداری نے جج صاحب سے کہا کہ “جج صاحب! اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن فرض کیا کہ اگر یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج نے کہا “ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں آصف علی زرداری کو ایک بار پھر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اُن کا اٹک میں مزید دو سال ٹرائل ہوا۔

محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے حکمرانوں کے گھناؤنے مطالبات نہ مانے، جس کی وجہ سے جیل میں آصف علی زرداری پر مسلسل تشدد ہوتا رہا۔ ایک بار تشدد کی وجہ سے اُن کی حالت بہت نازک ہو گئی تو اُنھیں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس بار تشدد میں اُن کی گردن اور زبان پر بھی کٹ لگا کر زخمی کیا گیا تھا۔ جب انھیں اسپتال منتقل کیا گیا تو حکمرانوں کے ہمنوا میڈیا اور پولیس نے خودکُشی کا رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن بعد میں عدالت میں میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں بلکہ تشدد ہوا تھا۔  

پُرتشدد جیل میں بھی آصف زرداری کی فعال شخصیت مرکزِ توجہ بنی رہی۔ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کئے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم کے علاوہ نادار قیدیوں کی ضمانت اور رہائی کے لیے رقم کا بندوبست جیسے فلاحی امور شامل ہیں۔

1990ء سے لے کر 2004ء تک غلام اسحاق خان، نواز شریف، فاروق لغاری اور پرویز مشرف نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری پر کرپشن کے تقریباً ڈیڑھ درجن ریفرینسز فائل کئے۔ اِس کے بعد پرویز مشرف کی حکومت نے بھی اندرون و بیرونِ ملک ان الزامات، ریفرینسز اور مقدمات کو آگے بڑھایا۔ مگر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے ہمیشہ اپنا مؤقف برقرار رکھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات خالصتاً سیاسی تھے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس محترمہ بینظیر بھٹو کے دعوٰے کی تصدیق کرتی ہیں کہ اُن پر اور اُن کے شوہر کے خلاف کرپشن کے مقدمات دائر کرنے کے لیے ملکی خزانے سے خطیر رقم خرچ کی گئی۔ اکیلے غلام اسحاق خان نے نوے کی دہائی کے شروع میں قانونی مشیروں کو 28 ملین روپے ادا کیے۔ اس کے بعد دوسرے حکمرانوں نے بھی سرکاری وکیلوں اور مقدمات پر اُس وقت قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر دیئے لیکن اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواریوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود آج تک کوئی ایک اِلزام محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر ثابت نہیں ہو سکا۔

قید کے دوران آصف علی زرداری پوری بہادری کے ساتھ ظالم حکمرانوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہے، اداروں اور عدالتوں کی اُس وقت کے حکمرانوں کے ساتھ ملی بھگت کے باوجود اپنی قانونی جنگ لڑتے رہے۔ ریکارڈ کے مطابق زرداری نے ہر مقدمے میں چار  سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتی ہیں مگر کبھی بھی عدلیہ سمیت کسی ادارے کی توہین نہیں کی۔ آصف علی زرداری کے خلاف پاکستانی گوئبلز کے پاس رتی برابر کوئی ثبوت نہیں تھا، جس کے ذریعے وہ عدالت سے اُنھیں سزا دلوا سکتے۔ عدالت نے تنگ آ کر نومبر 2004ء میں آخری مقدمے میں بھی زرداری کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

آصف علی زرداری قید کے دوران مختلف بیماریوں میں مبتلا رہے۔ اِس لیے رہا ہونے کے بعد علاج کے لئے بیرونِ ملک چلے گئے۔27 دسمبر2007ء کو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے اور شہید بی بی کے جنازے پر “پاکستان کھپے” کا نعرہْ مستانہ بلند کر کے بی بی کے سوگ میں جلتے سندھ سمیت پوری قوم کو تسلی دی۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین کا عہدہ سنبھالا۔ 2008ء کے الیکشنز میں آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر جمہوری حکومت قائم کی۔ 6 ستمبر 2008ء کو پاکستان پیپلزپارٹی نے باضابطہ طور پر انہیں صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کر دیا اور یوں آصف علی زرداری دو تہائی اکثریت سے زائد ووٹ لے کر صدرِ پاکستان منتخب ہو گئے۔

سب اہم پوزیشنز بشمول وزیرِ اعظم، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینٹ حاصل کرنے اور صدرِ پاکستان کا عہدہ سنبھالنے اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے تمام پوزیشنز برقرار رکھ کر آصف علی زرداری نے گوئبلز گروپ کے دماغوں کو مسلسل چرخی میں گھما کر انھیں نقشِ حیرت بنا دِیا ہے۔

ماضی میں عوامی حکومتیں گِرانے، ایک مُنہ میں ہزار باتیں کہنے اور اپنی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھنے والے اپنے تئیں صادق و امین فرشتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پچھلی وفاقی حکومت میں پورے پانچ سال کے دوران ہر تین مہینے بعد پورے یقین کے ساتھ صدرِ پاکستان کے جانے کی نئی تاریخیں دیتے رہے۔ مگر ہر دی جانے والی تاریخ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہر کور ایشو کے ساتھ مضبوط دیکھ کر مبالغہ شعار گوئبلز کی طبیعت اُتھل پُتھل ہو جاتی رہی۔ 2013ء کے الیکشنز میں مسلم لیگ (ن) کی دھاندلی زدہ وفاقی حکومت کی ہر شعبے میں کارکردگی پاکستان پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت کے مقابلے میں بدترین ہے مگر گوئبلز، رعونت کی خمیدہ کلغی اور الم ناک نوحوں کے ساتھ آصف علی زرداری کے خلاف “اگر، مگر، چونکہ چنانچہ” سے لیس اپنے پروپیگنڈے کے ساتھ اپنی حواس باختگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے) 

یہ آرٹیکل کی دوسری قسط ہے۔ پہلی ، تیسری ، چوتھی اور پانچویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

3 thoughts on ““کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی(2)”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ