بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (3)

AAZ-3.jpg


تحریر: امام بخش

پہلی ، دوسری ، چوتھی اور پانچویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی مدِّمخالف “اُم الخبائث” اور اس کی اولاد نے آصف علی زرداری کو مطعُون کرنے کے لیے کمینگی کی ساری حدیں اِنتہائی بے شرمی سے پھلانگ چلی آ رہی ہے۔ ان کے خلاف چودہ جھوٹے مقدمات بنائے۔ بھرپور منفی پروپیگنڈا کیا اور بغیر کسی سزا کے عمر قید جتنا عرصہ پُرتشدد جیلوں میں پابند سلاسل رکھا مگر اِن گوئبلز پر تُف ہے کہ بے پناہ مُلکی وسائل لُٹانے اور گھٹیا سے گھٹیا چالبازیوں کے باوجود آج تک ایک بھی مقدمہ سچا ثابت نہیں کر سکے۔ ہاں، البتہ اِن “صادق و امین فرشتوں” نے وطنِ عزیز میں برین واشڈ دولے شاہی چُوہوں کی ایک پوری نسل تیار کر کے اپنے تئیں ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ نسل اپنی عقل کو فولادی ڈبے میں بند کر کے سمندر کی اتھاہ گہرایوں میں پھینکنے کے بعد اپنی ہذیان گوئی، کذب بیانی، مغلظات، نفرت انگیزی اور سفلی اشتعال انگیزی کو ہی دانشورانہ عمل سمجھتی ہے۔

آصف علی زرداری کے خلاف سب مقدمات کی تفصیل لکھنے کے لئے تو یقینی طور ایک ضخیم کتاب درکار ہو گی، جو کہ ہمارے لیے اس وقت ممکن نہیں ہے مگر ہم یہاں زرداری کے خلاف سب سے اہم اور مشہور و معروف سوئس مقدمے سے متعلق حقائق سے آپ کو روشناس کرانے جا رہے ہیں (اِس مقدمے کو آپ بجا طور پر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف میگا سکینڈل یا سب مقدمات کا باپ بھی کہہ سکتے ہیں)، جس سے آپ واضح طور پر سمجھ جائیں گے کہ آصف علی زرداری کتنے بڑے “کرپٹ” ہیں اور اِن کے مخالفین کتنے بڑے “صادق و امین فرشتے”؟

یاد رہے کہ ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی دونوں یورپی کمپنیاں، جو درآمد کردہ سامان کی مالیت طے کرنے اور اس حساب سے ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات کا کام کرتی ہیں۔ چونکہ بعض پاکستانی درآمد کنندہ درآمد کردہ اشیاء پر ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح خزانے کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے بچنے کے لیے نواز شریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اِن دونوں کمپنیوں کے ساتھ 1992ء میں تجارت کے عالمی معاہدے کے تحت دستخط کر چکے تھے تاہم ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ سے وہ اسے ایوارڈ نہیں کر سکے تھے حالانکہ اُس وقت کے چیف کسٹم کلکٹر خلیل احمد کے بقول نوازشریف کی حکومت نے ان کمپنیز کو کہہ دیا تھا کہ وہ 16 اپریل 1992ء سے اپنا کام شروع کر دیں۔ نواز شریف کی حکومت جانے کے بعد جب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت آئی تو اُنھیں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے تحت نواز شریف کے کیے ہوئے معاہدے کے عین مطابق 1994ء میں دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ اِنسپیکشن کے کنٹریکٹ دینے پڑے۔ اگر محترمہ بینظیر بھٹو اِن معاہدوں کی پاسداری نہ کرتیں تو ڈبلیو ٹی او کے عالمی قوانین کے تحت پاکستان کو بھاری جرمانے کا سامنا یقینی تھا۔ اِس طرح ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز نے اپنا کام شروع کر دیا، جس سے پاکستان کو ٹیکسس کی مد میں نقصان کی بجائے اٹھاون ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

اپنے آپ کو صادق و امین فرشتے ظاہر کرنے والے گوئبلز کے پاس سچ کی بجائے کذب بیانی کے وافر مقدار میں خزانے ہیں، جس سے یہ اپنے ہم رکابی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کے طوفاں بپا کر کے عوام کے دماغوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت اور وافر وسائل کے باوجود نوازشریف کے دُوسرے دورِ حکومت کی اِبتدا تک محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف اِن کے ہاتھ میں کچھ نہ آیا تو پوری سوچ بچار کے بعد سوئس کیس کو مصالحے دار بنا کر پروپیگنڈا کرنے کے اِنھیں زیادہ مواقع نظر آئے، جس سے یہ اپنے تیر بہدف ہتھیار یعنی مِلی بھگت کو استعمال کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے عوام کو متنفر کرنے اور عدالتوں سے سزائیں دلوا کر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے آؤٹ کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے۔ اپنی اس منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چند اور ریفرنسس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا مقدمہ یعنی سوئس مقدمہ احتساب عدالت میں شروع کر دیا گیا۔ مزید برآں، اس سلسلے میں حکومتِ ہاکستان نے سوئس حکام سے بھی رجوع کر لیا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن نے 10 اکتوبر 1997ء کو سوئس حکام کو مندرجہ ذیل لوگوں کے خلاف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا مقدمے سے متعلق ایک خط لکھا تھا:

1۔ آصف علی زرداری
2۔ بینظیر بھٹو
3۔ نصرت بھٹو
4۔ حاکم علی زرداری
5۔ جیمزشینگلل (وکیل)
6۔ ڈیلٹرپلینٹو (فرنٹ مین)

بعد ازاں 1997ء میں ہی سوئس حکام کو ایک اور خط لکھا گیا اور درخواست کی گئی کہ اِس کیس کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھا جائے اور فوری طور پر فیصلہ کیا جائے۔ یہ خط اُس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق (جسٹس خلیل رمدے کے بھائی) کے لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا تھا۔ دستخط کی جگہ اُس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق کا نام لکھا ہوا تھا مگر دستخط قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی چیئرمین حسن وسیم افضل نے کیے تھے۔ پھر 19 فروری 1999ء کو سوئس حکام کو تیسرا خط چوہدری محمد فاروق کے لیٹر ہیڈ پر ہی لکھا گیا تھا۔ دستخط کی جگہ چوہدری محمد فاروق کا نا م تھا مگر دستخط سیف الرحمٰن کے تھے۔

نواز شریف حکومت کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح سوئس عدالت سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جلد از جلد فیصلہ کرا لیا جائے مگر سوئس حکام نے پاکستان کی حکومت پر واضح کر دیا کہ اُن کی انکوائری کا دار و مدار پاکستان میں احتساب عدالتوں میں زیر التوا ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیس کے فیصلے سے مشروط ہے۔ نواز شریف حکومت کے لیے مشکل یہ تھی کہ جھوٹے شواہد سے اِن کے من کی مُراد کیسے پوری ہو؟ یہ من کی مراد ایسے پوری ہوئی کہ 15 اپریل 1999ء کو شریف برادران نے لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کے ساتھ مِلی بھگت کے بعد احتساب عدالت کے ذریعے اپنا من پسند فیصلہ حاصل کر لیا۔ اس عدالتی فیصلے کے تحت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سات سالہ قید کی سزا ہوئی اور اِس کے علاوہ سب بنک اکاؤنٹس سِیز، ساری جائیداد کی ضبطگی کے ساتھ ساتھ اِن کی نا اہلی کی سزائیں بھی شامل تھیں۔

آئین شکن ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے دور میں قید و بند کی سزائیں کاٹنے اور بعد میں ضیاءالحق کی معنوی اولاد کے ساتھ جمہوریت کی جنگ لڑنے والی محترمہ بینظیر بھٹو کو سوئس کیس میں ملی بھگت سے دلوائی جانے والی سزا کی پہلے ہی بھنک پڑ گئی تو وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو محفوظ بنانے لیے بیرونِ چلی گئیں۔ آصف علی زردری پہلے سے ہی 1996ء سے پابند سلال تھے۔

قُدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ 2001ء میں شریف برادران اور ججوں کی سوئس کیس سے متعلق ٹیلیفونک ریکارڈڈ گفتگو منظر عام پر آ گئی تو 6 اپریل 2001ء کو پاکستان کی سپریم کورٹ کو سوئس کیس کی 15 اپریل 1999ء کو سنائی جانے والی سزا کڑوی گولی نگلتے ہوئے کالعدم قرار دینی پڑی (واضح رہے کہ یہ سزا کالعدم قرار دینے والے بینچ میں سپریم کورٹ کے جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی شامل تھے)۔ اس فیصلے سے سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد عزیز (اُس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے) اور ملک محمد قیوم جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو اپنی اپنی نشستوں سے اِستعفے دینے پڑے۔

سوئس کیس کے سلسلے میں شریف حکومت اور ججوں کی مِلی بھگت کی تفصیل یہ ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، وزیر قانون خالد انور، اٹارنی جنرل چوہدری فاروق، احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز نے احتساب عدالت کے جج ملک محمد قیوم سے بار بار فرمائش کی تھی کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو جلد از جلد اور سخت سے سخت سزا سناؤ۔ فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے نواز شریف جسٹس ملک محمد قیوم سے ناراض بھی ہو گئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کی احتساب عدالت کے جسٹس ملک محمد قیوم اپنے باس لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اچانک عدالتی کاروائی روک کر ایک دن قبل لکھا ہوا فیصلہ سنا کر شریف برادران کی پرانی خواہش پوری کر دی۔

چوتھی قِسط آڈیو ٹیپس میں ریکارڈڈ “صادق و امین فرشتوں” کی تفصیلی بات چیت پر مشتمل ہو گئی۔ (جاری ہے)

یہ آرٹیکل کی تیسری قسط ہے۔ پہلی ، دوسری ، چوتھی اور پانچویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

2 thoughts on ““کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (3)”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ