بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (4)

AAZ-4.jpg

تحریر: امام بخش

پہلی، دوسری ، تیسری اور پانچویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

آج ہم شریفوں اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بھاری مراعات لینے والے عدلیہ میں بیٹھے درشنی انصاف کے مینار ججوں کی رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والی “صداقت و امانت” پر مبنی واردات کھول کر آپ کے سامنے رکھیں گے، جو سُپریم کورٹ آف پاکستان میں ثابت ہوئی۔ یہ واردات “صادق و امین فرشتوں” کے مُنہ پر پہلے سے لگی ہوئی سات توؤں کی کالک کے اوپر ایک اور سیاہ تہہ ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سُنائی جانے والی یہ واحد سزا، جو سوئس کیس میں سُنائی گئی، سے متعلقہ مندرجہ ذیل ٹیلیفونک بات چیت سے شریفوں کی چمک کا شکار ہونے والی کینگرو کورٹس کا کردار کُھل کر سامنے آتا ہے۔ یہ بات چیت آپ پر پوری طرح واضح کر دے گی کہ خاندانِ شریفیہ انصاف کے نام پر کلنک عدلیہ کو کس طرح محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف استعمال کر کے پروپیگنڈا کرتا رہا ہے۔ آیئے، گفتگو پڑھتے ہیں:

1۔ سیف الرحمٰن اور جسٹس (ر) ملک محمد قیوم ملک کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت

جسٹس ملک محمد قیوم: آپ کا کام ایک یا دو دن میں کیا جائے گا۔ میں نے آپ کے لیے ایک مشیر (پیرزادہ) سے بھی درخواست کی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں بہت بیمار ہوں اور میں نے بیرونِ ملک جانا ہے، اس لئے جتنا جلدی ہو سکے میرے لیے یہ معاملہ ختم کر دیں۔ پیرزادہ نے مجھے بتایا کہ وہ یہ کام کر دے گا۔ اور وہ اپنی تمام غلطیوں کا ازالہ کرے گا، اس نے مزید کہا کہ اس کے بعد میاں صاحب (نواز شریف) خوش ہو جا ئیں گے۔

سیف الرحمٰن: بہتر ہو گا کہ آپ یہ کام (سوئس مقدمے کا فیصلہ) آج ہی کر دیں۔

جسٹس ملک محمد قیوم: کام ایک یا دو دن میں ہو جائے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اگر ایک دن مزید لگ جاتا ہے۔ یہ بہتر ہو گا کہ اِسے اچھے طریقے سے پورا کیا جائے۔ یہ سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے۔

سیف الرحمٰن: وہ محض شور یا پھر بائیکاٹ کریں گے۔

جسٹس ملک محمد قیوم: ہم انہیں سپریم کورٹ کا بائیکاٹ کبھی نہیں کرنے دیں گے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر آپ کے لئے بہت فائدہ ہو گا۔ آپ سمجھ گئے ہیں نا؟

سیف الرحمٰن: براہ مہربانی آپ جلدی کریں کیونکہ پہلے ہی بہت زیادہ مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

جسٹس ملک محمد قیوم: ایک یا دو دن لگیں گے، آپ تو ہمارے وکیل ہیں۔

سیف الرحمٰن: خدا کی قسم! آپ نہیں جانتے۔ اللہ جانتا ہے کہ میں تمھارے لیے کتنا لڑا ہوں۔

جسٹس ملک محمد قیوم: خدا کے فضل و کرم سے کام ہو جائے گا۔ میں اور آپ دونوں جائیں گے اور مل کر ان (نواز شریف) سے معافی مانگ لیں گے۔

سیف الرحمٰن: ہم مل کر وہاں جائیں گے، لیکن کل یہ کام سو فیصد ہو جانا چاہیئے۔

جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ہم ایک ساتھ جائیں گے، مجھے نناوے فیصد امید ہے کہ وہ (پیرزادہ) یہ کام کل تک کر دے گا۔

سیف الرحمٰن: نناوے فیصد نہیں، بلکہ آپ سو فیصد تصدیق کریں کہ آپ کل فیصلے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آپ اسے ختم کریں (فیصلہ سُنا دیں)۔

جسٹس ملک محمد قیوم: ختم کیسے جی، وہ (آصف علی زرداری) آگے سے لڑتا ہے جی۔

سیف الرحمٰن: وہ تو لڑے گا، آپ ختم کریں (فیصلہ سُنا دیں)۔

جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، آپ مجھے بتائیں کہ اسے کتنی سزا دینی ہے؟

سیف الرحمٰن: انہوں (نواز شریف) نے کہا ہے کہ سزا سات سال سے کم نہیں ہو چاہیئے؟

جسٹس ملک محمد قیوم: نہیں، سات سال نہیں۔ پانچ سال کر دیتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آپ ان سے پوچھ لیں، سات سال زیادہ سے زیادہ سزا ہے اور سات سال کوئی بھی نہیں دیتا۔ مجھے پوچھ کر بتانا۔

سیف الرحمٰن: پوچھ کر بتاتا ہوں (نواز شریف سے)۔

جسٹس ملک محمد قیوم: میں نے سزا میں جرمانہ شامل کر دیا ہے۔ جائیداد کی ضبطی کے ساتھ ساتھ اس کی نا اہلی کی سزا کا بھی فیصلہ ہو گا۔

سیف الرحمٰن: نہ صرف جائیداد، بلکہ ساری جائیداد، اس کے علاوہ دو سال جب سے وہ (آصف علی زرداری) گرفتار ہے۔ ان دو سالوں کو قید کی سزا سے منہا نہیں کرنا۔

جسٹس ملک محمد قیوم: یہ ہمارے کیس میں پکڑا ہوا نہیں تھا، یہ ہمارے مقدمے میں ضمانت پر ہے، اس لیے یہ پہلے والے دو سال شمار نہیں ہو سکتے، جتنی سزا ملے گی یہ (آصف علی زرداری) اتنا عرصہ جیل میں ہی رہے گا۔

سیف الرحمٰن: آپ نے کل تک فیصلہ کرنا ہے۔

2۔ چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس ملک محمد قیوم کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت

جسٹس ملک محمد قیوم: یار! اس (سیف الرحمٰن) نے مجھے ٹیلی فون کیا ہے اور بتایا ہے کہ نواز شریف مجھ سے بہت ناراض ہے کیونکہ میں نے ابھی تک فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔ میں نے سوچا تھا کہ بہتر ہے کہ میں آپ کو بھی بتا دوں۔

پرویز الہی: (تفصیلی بات چیت کرنے سے ہچکچاہٹ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے، کچھ اور بات چیت کرتے ہیں۔

جسٹس ملک محمد قیوم: یار! نواز شریف خوامخواہ ناراض ہو جاتے ہیں۔

پرویز الہی: (دوبارہ ہچکچاہٹ۔۔۔۔) اسے چھوڑیں۔ آپ مجھے بتائیں، آپ کیسے ہیں؟

——- لائن منقطع

3۔ جسٹس ملک محمد قیوم کو سیف الرحمٰن کی دوسری ٹیلیفوں کال

سیف الرحمٰن: میں نے ان (نواز شریف) سے دوبارہ بات کی ہے۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ آپ وعدہ پورا نہیں کرتے۔

جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ویسا ہی ہو گا جیسا وہ (نوازشریف) چاہتے ہیں۔

سیف الرحمٰن: انہوں (نواز شریف) نے یہ بھی کہا کہ آپ اسے (آصف علی زرداری) “فل ڈَوز” نہیں دینا چاہتے۔

جسٹس ملک محمد قیوم: نہیں، عام طور پر زیادہ سے زیادہ (maximum) سزا نہیں دی جاتی۔

سیف الرحمٰن: سوئٹزر لینڈ اور لندن میں اِن (بینظیر بھٹو اور آصف زرداری) کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کو کس طرح وصول کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم انھیں فریز کر سکتے ہیں؟

جسٹس ملک محمد قیوم: فیصلے کے بعد آپ کو جائیداد کے لئے آرڈرز کے مطابق ایک درخواست دائر کرنی پڑے گی۔ خیر کل فیصلے میں جائیداد اور اکاؤنٹس کے بارے میں ذکر کیا جائے گا۔ اور یہ فیصلہ ہر چیز کا احاطہ کرے گا۔

اِس کے علاوہ اُس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ راشد عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم کی بھی ٹیلیفونک ریکارڈڈ ٹیپ پکڑی گئی (راقم کے پاس یہ آڈیو بھی موجود ہے، شریف برادران سے متعلقہ دوسرے معاملات کے بارے میں طویل مکالمے کی وجہ سے یہ گفتگو یہاں نہیں لکھی گئی)، جس میں راشد عزیز ملک قیوم کو تاکید کر رہے ہیں کہ کل ہی ہر صورت میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سزا سُنا دیں۔

(اس کے بعد احتساب عدالت کے جج ملک قیوم نے نواز شریف کی فرمائش کے عین مطابق محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف فیصلہ سُنا دیا۔)

4۔ فیصلے کے بعد سیف الرحمٰن کی جسٹس ملک محمد قیوم کو تیسری ٹیلیفون کال

سیف الرحمٰن: تمہارے فیصلے نے مجھے بہت خوش کر دیا۔ اس فیصلے نے خدا کے فضل سے پوری قوم کو کامیاب بنا دیا ہے۔ میں نے مجید ملک اور اسحاق ڈار کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ایک اجلاس میں شرکت کی ہے، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی تاخیر کے بغیر فیصلے کو نافذ اور تمام جائیداد ضبط کرنے کی کاروائی کی جائے۔

جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

5۔ شہباز شریف کی جسٹس ملک محمد قیوم کو ٹیلیفون کال:

فون کی بیل ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیلیفون آپریٹر: السلام علیکم، جسٹس ملک قیوم صاحب ہیں؟

جسٹس ملک محمد قیوم کے گھر سے کوئی بچی فون اُٹھاتی ہے: وعلیکم السلام، کون بول رہے ہیں؟

ٹیلیفون آپریٹر: چیف منسٹر پنجاب (شہباز شریف) بات کریں گے۔

بچی جواب دیتی ہے کہ میں دیکھتی ہوں۔

ٹیلیفون آپریٹر: جسٹس صاحب!

جسٹس ملک محمد قیوم: جی بول رہا ہوں۔

ٹیلیفون آپریٹر: ہولڈ کریں، میاں صاحب بات کریں گے۔

شہباز شریف: ہاں جناب۔

جسٹس ملک محمد قیوم: جی میاں صاحب، اسلام علیکم۔

شہباز شریف: کیا حال ہے، ٹھیک ٹھاک ہیں؟

جسٹس ملک محمد قیوم: بڑی مہربانی۔

شہباز شریف: خیریت سے ہیں؟

جسٹس ملک محمد قیوم: آپ سنائیں؟

شہباز شریف: بس آپ کی دعا چاہیئے، آپ کے راج میں آپ کو دعا دیتے ہیں۔

جسٹس ملک محمد قیوم: بس سر جی، آپ بھائی ہیں۔

شہباز شریف: میں نے آپ سے ایک گذارش کی تھی۔

جسٹس ملک محمد قیوم: سر جی وہ (سوئس کیس کا فیصلہ) تو میں نے نمٹا دیا تھا۔

شہباز شریف: بڑی مہربانی، دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے بھائی (نواز شریف) نے کہا ہے کہ مہربانی کر کے سرور چوہدری کے کیس کا دھیان کرنا۔

جسٹس ملک محمد قیوم: کون چوہدری سرور؟

شہباز شریف: ایم این اے (رکن قومی اسمبلی)۔

جسٹس ملک محمد قیوم: اسے کیا ہوا جی؟

شہباز شریف: آپ کے پاس اس کی نااہلی کا ایک کیس ہے۔

جسٹس ملک محمد قیوم: جی، چوہدری سرور کا خیال رکھنا ہے؟

شہباز شریف: جی ہاں۔

جسٹس ملک محمد قیوم: چلو جی کوئی بات نہیں، کر دیا جی۔ میاں صاحب نے کہہ دیا تو کر دیا۔

شہباز شریف: بڑی مہربانی۔

جسٹس ملک محمد قیوم: شکریہ

شریفوں اور ججوں کی ثابت شدہ ملی بھگت پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مندرجہ بالا گفتگو سے سب کچھ واضح ہے کہ اصولوں کی سیاست کے نعرے لگانے والے اور منصفوں کے اعلٰی منصب پر بیٹھنے والوں کا اصل چہرہ کتنا مکروہ اور بھیانک ہے۔ مکر یہاں ہم اپنی حیرت کا اظہار ضرور کریں گے کہ جب یہ ملی بھگت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ثابت ہو گئی تو اتنے بڑے جُرم میں ملوث دو ججوں کو گھر بھیجنے کے ساتھ شریفوں اور ان کے حواریوں کو کیوں بالکل معاف کر دیا گیا؟ مزید برآں، سپریم کورٹ نے سوئس کیس کی سزا کالعدم قرار دے کر مقدمہ ایک بار از سر نو سماعت کے لیے احتساب عدالت میں بھیج دیا حالانکہ مقدمہ دائر کرنے والوں کی نیت اور عمل سامنے آ چکے تھے۔ مزید برآں، آڈٹ کمپنی کی رپوٹ کے مطابق اِن ٹھیکوں سے پاکستان کو اٹھاون ارب روپے کا بھی فائدہ ہو چکا تھا۔ اگر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے کمیشن یا کِک بیک لینے کے ثبوت ہوتے تو شریفوں کو ججوں کے ساتھ ملی بھگت کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی؟

سوئس کیس کے سلسے میں شریفوں نے کامیاب چمک جادو کے ذریعے جب لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کو مغلوب کیا، بالکل اُسی وقت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سزا دلوانے کے لیے سوئس عدالت پر بھی چمک جادو کے منتر پھونکے گئے۔ اِس بارے میں تفصیل کے لیے پانچویں قسط کا انتظار کیجیئے۔ (جاری ہے)

یہ آرٹیکل کی چوتھی قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری اور پانچویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

2 thoughts on ““کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (4)”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ