بریکنگ نیوز

ایک عورت جو سورج مکھی نہیں تھی

IMG-20171201-WA0034.jpg

تحریر اسد علی
اس عورت کی کہانی لکھنا آسان نہیں ہے جو سورج مکھی نہیں تھی۔یا شائید کہانی صرف اسی عورت کی لکھی جا سکتی ہے جو سور ج مکھی نہ ہو۔باقی عورتیں تو کہانیوں میں بس ویسے ہی در آتی ہیں۔۔۔۔۔بلا ضرورت صرف گلمیر کو بڑھانے کیلئے۔۔۔۔۔۔جیسے ہندوستان میں ایکشن فلموں کی ہیروئینز ہوتی ہیں۔ کہانی میں انکا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ وہ تو بس وہاں ہوتی ہیں ہیرو کو دلاسہ دینے کیلئے، ہیرو کو غصہ دلانے کیلئے، ہیرو کو محنت پر مجبور کرنے کیلئے، ہیرو کو انتقام پر اکسانے کیلئے، ہیرو کے گرد اچھل اچھل کر گانا گانے کیلئے۔

مگر عورت صرف سورج مکھی نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی ہی عورت کی کہانی ہے۔جو مچھیروں کی بستی میں رہتی تھی۔جس کے دو بیٹے اور ایک چوڑے شانوں والا کم گو سا شوہر تھا۔جو ایک کانوں سے بنی جھونپڑی میں رہتی تھی۔یہ سب سچ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ انہی سب چیزوں کے بیچ تھی مگر وہ ان چیزوں سے جدا بھی کچھ تھی۔ اسے صرف ان چیزوں کی مدد سے سمجھا نہیں جا سکتا تھا۔ اگر اسے جاننا ہو تو ہمیں اسکے قریب ہونا پڑے گا۔اور کسی کے قریب ہونا ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ مجھے کہنے دیں کہ ہم سب اپنے اندر ایک بلیک ہول چھپائے پھرتے ہیں ۔ ہربلیک ہول کی طرح اسکا بھی ایک حد ہوتی ۔ اس ایک نکتہ سے آگے اگر کوئی وجود چلا جائے تو پھر واپس نہیں آ سکتا۔۔۔۔کبھی نہیں آ سکتا۔
لیکن کبھی کبھار آپ کو یہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے کیونکہ کچھ عورتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں آپ بس سمجھے بنا رہ نہیں سکتے۔

تو وہ مچھیروں کی بستی میں رہتی تھی اور اپنے شوہر اور بچوں سے محبت کرتی تھی۔ وہ ایک سلیقہ مند عورت تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے شوہر سے پہلے اٹھ بیٹھتی۔چائے کو پانی گرم کرتی۔اسی دوران اسکا شوہر اپنا جال اٹھا لیتا اور اسکے الجھے ہوئے گھچھے کھولنے کی کوشش کرتا۔وہ بڑے بیٹے کو اٹھا کر اسکا منہ ہاتھ دھلاتی، اسکے گھنگریالے بالوں میں کنگھی کرتی جس پر اس کی چیخ نکل جاتی ”اتنے اندھیرے میں کون دیکھے گا اسکے بالوں کو۔۔۔۔۔۔ایسے ہی جانے دے۔“اسکا باپ اسکی طرف داری کرتا۔مگر وہ کسی کی نہیں سنتی اور بال بنا کر رہتی۔ وہ دونوں اسکے پاس بیٹھ کر ناشتہ کرتے جبکہ چھوٹا بیٹا وہیں سویا رہتا۔ناشتے کے بعد وہ دونوں باہر چلے جاتے۔انکے جانے کے بعد اسکے کام شروع ہوتے۔ وہ جانوروں کیلئے چارہ تیار کرتی، انکا باڑا صاف کرتی، چھوٹے بیٹے کو اٹھاتی اسے کھانا کھلاتی،کپڑے دھوتی کھانا پکاتی اور ایسے ہی کاموں میں اسکا سارا دن گذر جاتا یہاں تک کہ دوپہر کو اسکا شوہر اور بیٹا بھی آ جاتے۔ وہ لوگ سہ پہر کو سوتے۔ شام کو دریا کنارے بیٹھ کر باتیں کرتے اور یوں انکے دن گذر رہے تھے۔ گو اس زندگی میں بہت گلیمر تو نہیں تھا مگر ایک عجیب سا توازن ضرور تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے۔کوئی فرق نہیں پڑتا تھااگر وہ کوئی کام نہ بھی کرتی مگر وہ پھر بھی روز کے کام روز ہی کیا کرتی تھی۔اسے لگتا تھا جیسے ایک چیز کو بھی چھوڑ دیا تو جیسے کوئی بہت اہم چیز رہ جائے گی۔جیسے پوری زندگی کا مقصد فوت ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔لیکن اس سب کے باوجود اسکے دل میں
ایک کسک سی تھی۔ وہ جب شام کو دریاکنارے بیٹھ کرشہر کی روشنیاں دیکھتی تو اسکے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی۔

اسنے بچپن میں ایک دفعہ شہر کے بچے دیکھے تھے جو ایک کشتی میں بیٹھے دریا کی سیر کر رہے تھے۔ وہ تب کنار ے
پر کھڑی ایک چھڑی سے چھوٹی مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔مچھلیاں جو چھڑی کو دیکھتے ہی ادھر ادھر ہو جاتی تھیں۔ایسے میں سکول کے یونیفارم میں ایک صاف ستھری بچی نے اسکی طرف دیکھا اور اپنے دوستوں کی توجہ اسکی طرف دلائی ”وہ دیکھو ایک گندی بچی پانی سے کھیل رہی ہے۔“”اسکے بال تو دیکھو ایسے لگتا ہے جیسے جھاڑیاں اگی ہوں۔“ایک دوسری بچی بولی۔ ۔۔۔۔۔اور پھر آوازیں ابھرتی رہیں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ وہیں کنارے پر ہلکورے مارتے پانی میں گم ہو جائے۔ انہی مچھلیوں کی طرح مٹی میں دبک کر بیٹھ جائے۔بچے بولتے رہے پراسنے سر نہیں اٹھایا اور اسی توجہ سے چھڑی کو پانی میں مارتی رہی۔آوازیں بڑھنے لگیں۔ آوازیں قریب آتی گئیں یہاں تک کہ اسنے سنا کہ کوئی کہ رہا تھا ”شائید بچی گونگی ہے تبھی تو ہماری آوازیں سن نہیں پا رہی ہے۔“ ”اوہ گونگی بچی“کسی سمجھدار بچی نے آواز لگائی۔ایک دفعہ تواسکے دل میں آئی کہ وہ ان بچوں کے سامنے گونگی ہی بن جائے۔ ہاں یہی ان کے لئے ایک بہتر جواب ہو سکتا تھا۔وہ یہی ظاہر کرے گی کہ اسنے کچھ سنا ہی نہیں اور اپنے کام میں مصروف رہے گی۔پر ہم شیشے کے بنے ہوتے ہیں۔ اسکے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ”گونگی نہیں یہ میسنی ہے۔ سب سن رہی ہے“۔ ایک اور آواز آئی ۔ اور سب بچے کورس کی صورت اسے آوازیں دینے لگے ”میسنی لڑکی ۔۔۔۔۔میسنی گونگی لڑکی۔۔۔۔۔۔گونگی لڑکی“ اور پھر آوازیں کہیں گم ہو گئیں پر اس میں سر اوپر اٹھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

وہ وہیں کھڑی رہی یہاں تک کہ شام کو اسکی ماں اسے آ کر لے گئی۔ اس دن اسکے دل میں بہت سارے سوالات تھے مگر وہ جانتی تھی کہ اس بستی میں اسے انکے جوابات کبھی نہیں ملیں گے۔کوئی نہیں دے گا۔یہ بستی شہر سے جتنی قریب نظر آتی تھی اتنی ہی دور تھی۔ یہاں سے بہت کم لوگ تھے جو شہر جاتے تھے اور وہ بھی محض مچھلی بیچنے اور ضرورت کی چیزیں خریدنے جاتے تھے اور یہاں کی کوئی عورت تو کبھی شہر گئی ہی نہ تھی۔وہ پوچھتی تو کس سے۔ خاموشی سے اپنے کونے میں لیٹ کر جھونپڑی کی چھت کو دیکھتی رہی جس میں ایک چھوٹا سا سوراخ تھا جس سے آسمان کا ایک ستارا نظر آتا تھا۔ ”مجھے بھی بس اتنا ہی چاہیے۔بس اتنا سا آسمان ہی چاہیے جس سے بس ایک ستارا نظر آ سکے۔ میں شہرکے بارے میں جاننا چاہتی ہوں “ وہ شہر کے بارے میں تو نہ جان سکی لیکن اسنے چند ایک فیصلے ضرور کر ڈالے۔اسنے خود کو اتنا تبدیل تو ضرور کر لیا کہ اب کوئی اسکا مذاق نہیں اڑا سکے گا۔وہ ہر وقت اپنے بال بنائے رکھتی، ہر وقت کسی کام میں مصروف رہتی۔سال گزرتے گئے ۔ اسنے کئی مرتبہ اپنے بابا سے شہر جانے کی فرمائیش بھی کی مگر وہ ہنس کر ٹال گئے۔ وہ اسے بہت پیار کرتے تھے مگر پھر بھی شہر نہ لے جا سکے۔ پھر ایک دن مراد احمدسے اسکا بیاہ ہو گیا۔ وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ ریشماں نے بھی سوچا کہ شائید اب اسے موقع مل سکے کہ وہ کسی طرح شہر جا سکے اور دیکھ سکے کہ لوگ کس طرح زندگی گذار رہے ہیں مگر مراد احمد تو اسکے باپ سے بھی کمزور نکلا۔ وہ ہمیشہ موضوع بدل دیتا۔ اب اسکے دو بیٹے ہو چکے تھے پر اب بھی اگر کوئی اس سے اس کی سب سے بڑی خواہش پوچھتا تو وہ شہر کی سیر ہی بتاتی۔ اسنے اپنی خواہش سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور آپ ایسا کر سکتے ہو۔ آپ اپنی خواہش سے سمجھوتہ کر سکتے ہو مگر یاد رکھو کہ خواہش کبھی آپ سے سمجھوتہ نہیں کرتی۔خواہش وہ ضدی بچی ہے جو اپنی بات منوا کر رہتی ہے۔ جو رونے سے شروع کرتی ہے اور ماں باپ کے نہ ماننے پر چلانے لگتی ہے، گھر کی چیزیں توڑنے لگتی ہے۔۔۔۔۔یہاں ٹوٹنے والی چیزیں اسکے جسم میں رکھے وہ بڑے بڑے ستون تھے جن پر اسکا جسم کھڑا تھا۔ وہ بچی ایک ایک کر کر ستون گرا رہی تھی اور اسے ڈر تھا کہ وہ کہیں اندر ۔۔۔۔۔اپنے ہی اندر گر کر ٹوٹ نہ جائے۔

اسکی یہ ٹوٹ پھوٹ کوئی نہیں دیکھ پا رہا تھا یا کوئی اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ ہاں مگر عبدل نے اسکی یہ خواہش بھانپ لی۔ عبدل جیسے لوگ تو جیسے ایسے ہی موقع کے انتظار میں ہوتے ہیں۔وہ جیسے کوئی گدھ تھا جو صحرا میں چلتے شخص کو دیکھ کر اسکے ساتھ اڑنے لگا تھا۔ یہ سوچ کر کہ ابھی وہ شخص گرے گا اور جب وہ گرے گا تو اسکے دانت اسکے جسم میں پیوست ہونے کو بالکل تیار ہوں گے۔میں نہیں مانتا کہ گدھ صحراﺅں میں ،بیابانوں میں رہتے ہیں۔ایسی جگہوں پرتو وہ بھوکے مارے جائیں۔ نہیں جناب۔۔۔۔۔۔یہ گدھ آبادیوں کے آخری سرے پر رہتے ہیں اور جب ہم انہیں بے نیازی سے کسی خشک ہوتے ہوئے درخت کی ٹہنی پر بیٹھے دیکھتے ہیں تو کبھی سوچ بھی نہیں پاتے کہ وہ ہماری ہر حرکت پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔جیسے ہی ہمارے قدم ان صحراﺅں، ان ویرانوں کی طرف اٹھتے ہیں ان کے خون میں ایک گرمی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ، بہت محتاط انداز میں ہمارا تعاقب کرنے لگتے ہیں۔وہ کبھی اپنے شکار کو گھبراہٹ میں مبتلا نہیں کرتے (مبادا وہ واپس ہی نہ مڑ جائے)اور بڑی شائیستگی سے اسکا پیچھا کرتے ہیں۔تو ہم انہیں کبھی دیکھ نہیں پاتے یہاں تک کہ دنوں کے سفر کے بعد ہم بھٹک جاتے ہیں اور پیاس سے ہمارے ہونٹوں پر پپڑی جمنے لگتی ہے اور آنکھوں کے سامنے سراب ناچنے لگتے ہیں اور ایسے میں ہم پہلی بار انہیں اپنے سر پر منڈلاتے دیکھتے ہیں۔ہاں مگر اب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

وہ چاہتے تو اب بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل رہ سکتے تھے مگروہ سامنے آتے ہیں تاکہ ہم اب گھبرا جائیں اور اپنے جسم میں چھپی بچی کھچی طاقت کو استعمال کر ڈالیں۔ تو ہم انہیں پہلی بار دیکھ پاتے ہیں اس وقت جب ہماری آنکھیں ٹھیک طرح سے دیکھنے کے قابل نہیں رہتیں۔وگرنہ تو وہ شہر سے ہی ہمارے ساتھ چلے تھے۔اگر شہر سے نکلتے ہوئے ہم تھوڑی دیر کو اپنی خواب آور آنکھوں کو بند کر سکتے تو ہم بڑی آسانی سے انہیں دیکھ سکتے تھے۔پر ہم ایسا نہیں کرتے۔ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے، دیکھتے بھی ہیں تو سمجھ نہیں پاتے اور چند بیوقوف پرندے جان کر آگے چلتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کاش کہ مسافر یہ جان سکتے کہ گدھ ہرمسافر کے ساتھ سفر نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جانتے ہیں۔ہمارے چہروں پر لکھی موت کو پڑھ سکتے ہیں۔جیسے تمہیں اللہ نے زندگی دیکھنے کی طاقت دی ہے اور تم چیزوں کو دیکھ کر جان لیتے ہو کہ کیسے زمین کی کوکھ میں پھینکا گندم کا دانہ تمہیں خوراک دے سکتا ہے، کیسے چیڑھ کے سینکڑوں فٹ اونچے پیڑ پر لگی کون کے اندر طاقت بخشنے والے چلغوزے رکھے ہیں۔جیسے تم زندگی کو جان لیتے ہو ایسے ہی ان میں موت کو دیکھنے کی طاقت رکھ دی گئی ہے۔کہتے ہیں کہ موت زندگی بھر ہمارے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔اس بچے کی طرح بھاگ بھاگ کر جو میلے میں جاتے ہوئے باپ کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے چھوٹے قدموں کی وجہ سے پہنچ نہیں پاتا۔بس چند قدم پیچھے چلتا رہتا ہے۔پر جب میلہ آ جاتا ہے تو وہ بے اختیاری میں باپ سے بھی تھوڑا آگے نکل جاتا ہے۔۔۔۔۔۔تو موت بھی اس آخری لمحہ میں بے خودی کے عالم میں ہم سے کچھ آگے نکل جاتی ہے۔۔۔۔۔یہ گدھ اسے دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ تو اسے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی اور عبدل نے جان لیا۔گدھ نے پروں کے بیچ سے
ایک لمبی گردن نکال کر دیکھا اور اپنے مسکن سے اڑکر آسمان پرماورائی مستی میں اڑنے لگا۔۔۔۔۔جیسےجشن منا رہا ہو۔عبدل کسی نہ کسی بہانے سے ریشماں کو ملنے لگا۔وہ اتنا بیوقوف نہیں تھا کہ اپنے شکار کو بوکھلا ڈالتا اسلئے بڑے
بے ضرر سے انداز میں ملتا رہا۔جیسے ایک مرتبہ جب ریشماں اپنے چھوٹے لڑکے احمد کے ساتھ دریا کی طرف جا رہی تھی تو وہ سامنے سے آ گیا اور بچے کو پیار کرنے لگا۔اسنے جیب سے پلاسٹک کی ایک موٹر گاڑی نکال کربچے کو دی ”میں شہر سے لایا ہوں۔۔۔۔۔کھیلو گے اس سے؟“ احمد نے استفہامیہ نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا ”کیوں یہ کیوں کھیلے ایسی چیز سے جو اس ملنے ہی نہیں والی؟“اسکے لہجے میں قطیعت تھی۔ ”کیوں نہیں مل سکتی؟کون کہتا ہے نہیں مل سکتی؟میں خود کئی بار موٹر پر بیٹھ چکا ہوں۔ یہ تو ہمارے گاﺅں کے لوگ یہاں سے نکلتے ہیں نہیں وگرنہ شہر کوئی آسیب نہیں ہے۔“عبدل بولا ”ہاں جیسے میں تیر ی بات پر یقین کر لوں گی۔بھلا پھر تو واپس کیوں آ جاتا ہے؟“اسنے سوال کیا۔ ”وہ تو اور بات ہے۔میں کسی اور وجہ سے واپس آتا ہوں ورنہ شہر میں رہنا چاہوں تو ہمیشہ رہ لوں۔“ ”اور وہ اور بات کیاہے؟“ ”کیوں تو پوچھ کے کیا کرے گی؟“ ”یہاں کوئی ہیرے جواہرات تو دھرے نہیں تو جن کی تلاش میں آتا ہے۔مجھے تولگتا ہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔دوسرے کنارے پر جا کر تیری بھی ٹانگیں کانپنے لگ جاتی ہوں گی۔“ ”وہ تو میں جو بھی کہ لوں تجھے یقین نہیں آئے گا۔سچ کیاہے اگر جاننا ہے تو چل میرے ساتھ۔دوسرے کنارے پراترتے ہیں تو دیکھے گی کہ میری چال ہی بدل جائے گی۔ میری اصل جگہ وہیں ہے یہاں تو بس میں کسی اور وجہ سے آتا ہوں۔“اسنے آنکھ کا کونا دبایا۔ ”ایسے نہ کیا کر لفنگا نظر آتا ہے۔“اسنے نے چڑ کر کہا۔ ”اسکا مطلب کہ اس کے بغیر میں لفنگا نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔اوہ پھر تو موجیں ہی ہو گئیں۔“وہ مسکرایا اور پھر سے آنکھ ماری۔ ”چل ! راستہ چھوڑ۔۔۔۔۔لفنگا لفنگا ہی رہتا ہے جو مرضی کر لے۔“وہ آحمدکو لئے آگے بڑھ گئی۔

وہ راستہ چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ ہاں مگر گذرتے ہوئے اسنے وہ گاڑی احمد کے ہاتھ میں تھما دی۔احمد نے اپنی کسی حرکت سے ظاہر نہیں ہونے دیاکہ گاڑی اسے مل چکی ہے۔ وہ کچھ کہتا تو اسکی ماں فورا اسے واپس کرنے کو کہ سکتی تھی۔وہ چپکے سے چلتا رہا اور جب اسکی ماں دریاکنارے ریت پر جا بیٹھی تو احمد نے گاڑی نکال کرریت پرکھیلنا شروع کر دیا۔کھیل کھیل میں اسے پتہ نہیں چلا کہ کب اسکی ماں اسکے قریب آ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ احمد نے بیچارگی سے کہا ”ماں مجھے گاڑی سے کھیلنا ہے“ یہ بڑی چھوٹی سی بات تھی مگر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہوتی ہیں جو ہم سے بڑے بڑے فیصلے کروا دیتی ہیں۔ اس وقت تو احمد خوش تھا مگر بعد میں اسے ہمیشہ یہ لگا کہ اسکی ماں کو اس پار دھکیلنے میں سب سے بڑا ہاتھ اسی کا تھا۔ عبدل اسکا کا راستہ روکتا رہا۔اس جیسے لوگ اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتے اور پھر ایک دن جب احمد دریا کنارے کنڈی ڈالے مچھلی پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا اسنے دیکھا کہ اسکی ماں عبدل کی کشتی میں شہر کی طرف جا رہی تھی۔اسنے چہرہ دوپٹے میں چھپا رکھا تھا مگر احمد سمجھ گیا کہ وہ اسکی ماں ہی تھی۔ عبدل کے چہرے پراس دن ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔اسکی ماں خاموشی سے اس کشتی میں بیٹھی تھی۔عبدل بھی کچھ نہیں بولا ۔وہ آج ضرورت سے زیادہ اچھا بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مچھلی جال میں آ گئی ہے اب ذرا سی جلد بازی سے وہ باہر نکل جائے گی۔ اسلئے وہ خاموشی سے کشتی کو چلاتا ہوا کنارے سے دور لے گیا۔ ایسے میں اسکی کی نظر دور کنارے پرکنڈی ڈالے آحمد پرپڑی اور وقت جیسے رک سا گیا۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ واپس چلو پر جانتی تھی کہ اسکے کہنے پر بھی اب کشتی واپس نہیں جا سکے گی۔اسکے سامنے اب دو راستے تھے۔۔۔۔۔شہر یا دریا کی گود۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا اسلئے وہ خاموش بیٹھی رہی۔ارسلان سے پرے سرکنڈوں میں غل مچاتے سوروں کے ریوڑ کو دیکھتی رہی اور کشتی دریا کے دوسرے کنارے اتر آئی۔

اسنے شہر دیکھا۔۔۔۔۔دیکھ کر بھی نہیں دیکھا۔کتنی عجیب بات ہے کہ ایک چیز کیلئے آپ اتنی بڑی قربانی دیتے ہو، خود کو اتنے بڑے خطرے میں ڈالتے ہو اور وہ چیز سامنے آتی ہے تو جیسے کسی چیز کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔عبدل ایک اچھے گائیڈ کی طرح اسے شہر کے گلی کوچے دکھا رہا تھا ۔ چیزوں کے بارے میں تفصیل بتا رہا تھا۔وہ جیسا بھی تھا کم ازکم شہر کے بارے میں جانتا ضرور تھا۔اسنے اسے کچھ چیزیں بھی کھلائیں۔۔۔۔چیزیں جن کے کیلئے شائید ابھی اسکے منہ میں ذائقہ چکھنے والےٹیسٹ بڈز بھی نہیں تھے۔پر میں آپ کو بتا دوں کہ اسنے شہر میں کچھ بھی نہیں دیکھا ۔وہ اس کنارے پر اتری تو اسنے ایک چھوٹا بچہ دیکھا جو چھوٹا سا ٹرے اٹھائے شہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔اسکے سر پر ٹوپی تھی اور وہ لوگوں کے پاس جا جا کرانہیں شائید کچھ خریدنے کو کہ رہا تھا۔نجانے کیوں اسے لگا جیسے احمد یکدم اپنی عمر سے کئی سال بڑا ہو گیا ہو اور یہاں شہر میں ٹوپی سر پر ڈالے کچھ بیچتا ہو۔بہت ممکن ہے کہ کسی دوراہے پر وہ اسکی نگاہوں سے اوجھل بھی ہو گیا ہو آخر وہ کوئی اسکی طرح شہر گھومنے کو تو نہیں نکلا تھا لیکن وہ تمام راستہ اسے دیکھتی رہی۔تمام شہر ایک چھوٹے سے بچے کی پشت پیچھے چھپ گیا اور جب عبدل نے شام سے ذرا پہلے کشتی میں بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھاکہ تمہیں شہر کیسا لگا تو وہ بے اختیار کہنے لگی ”شہر میرے احمدجیسا ہے بس اسنے ٹوپی پہن رکھی ہے۔“عبدل نے بیوقوفوں کے انداز میں سر ہلا دیا اور کشتی کو گاﺅں کی طرف لے جانے لگا۔

اس کنارے پر پہنچ کر وہ کھوئے کھوئے انداز میں اٹھی اور اپنے گھر کی طرف چل پڑی ۔ اسنے مڑ کر عبدل کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ احمد وہ سارا دن دریا کنارے ہی بیٹھا رہاتھا۔اسکی کنڈی زور زور سے ہلتی رہی لیکن اسنے اسے باہر نکالنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ماں کوواپس آتے دیکھ کر وہ بھی میسمرائیزڈ سے معمول کی طرح اسکے پیچھے چل رہا تھا۔ڈوری اسکے ہاتھ میں تھی اور اسکے سرے پر ایک بڑی مچھلی ٹنگی تھی۔مچھلی اسکے ساتھ ساتھ گھسٹتی رہی۔۔۔۔پتھروں سے ٹکراتی رہی،جھاڑیوں سے الجھتی رہی یہاں تک کہ وہ گھر پہنچ گیا۔ ریشماں گھر پہنچی تو وہاں پر کوئی نہیں تھا۔اسنے دوپٹہ اتار کر کھونٹی سی لٹکایا اور پانی کا گلاس پینے لگی۔ پانی پی کر مڑی تو دیکھا کہ احمد دروازے پر کھڑا اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ کچھ بولا نہیں بس قریب آ کر اسنے اپنی ڈوری اسے تھما دی۔ڈوری کے دوسرے سرے پر ایک بڑی مچھلی بندھی تھی۔وہ اتنی بڑی تھی کہ اگر عام حالات میں احمد کو ملی ہوتی تو وہ اب تک چیخ چیخ کر پورے گاﺅں کو اکٹھا کر چکا ہوتا مگر اب اسنے آہستگی سے ڈوری اپنی ماں کو تھما دی اور خود جا کر ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ راسنے ڈوری کو لپیٹ کر طاق میں رکھا اور مچھلی کو صاف کرنے لگی۔ دونوں نے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ اسکا باپ بھی واپس آ گیا۔

اس رات بادل بہت زور سے گرج رہے تھے۔دریا کی پھنکاریں یہاں تک سنائی دی رہی تھیں۔اسے لگا کہ تقدیر جیسے اسے ایک موقع دے رہی ہے۔ اسے بلا رہی ہے کہ آﺅ تمہیں اپنے بازﺅں میں چھپا لوں۔تم بہت دور نکل گئی ہو۔اس سے پہلے کہ کوئی جانے ایک راستہ اب بھی کھلا ہے۔وہ راستہ جہاں سب عیب چھپا لیے جاتے ہیں۔ اور یہ راستہ ہمیشہ ہمارے سامنے کھلا رہتا ہے۔ شروع شروع میں ہم اس پر ہنستے ہیں۔ بچپن میں ہم سوچ بھی نہیں پاتے کہ لوگ خود کشی کیسے کر سکتے ہیں مگر پھر وقت ہمیں ایسے مقام پر لے آتا ہے جہاں ہم کم ازکم سمجھنے لگتے ہیں ۔ان لوگوں کیلئے ہمارے دل میں اگر ہمدردی نہیں تو کم ازکم ایک احساس تو ضرور ہی پیدا ہو تا ہے لیکن پھر بھی ہمیں لگتا ہے جیسے یہ راستہ ہمارے لئے نہیں ہے۔ اور پھر کچھ ہوتا ہے۔ہم کوئی حد پار کر جاتے ہیں اور واپس لوٹ آ نا چاہتے ہیں۔یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر راستہ واپس نہیں آ سکتا۔ہم آگے جانے کی ہمت نہیں رکھتے اور واپس لوٹنا مقدر نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہ راستہ ہمارا واحد دوست بن کر سامنے آتا ہے اور ہم اس کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔ پہلے کبھی رات میں اگر بجلی کڑکتی تھی تو آحمد اپنی ماں کا بازو پکڑ کر اسکے قریب ہو جاتا تھا۔ آج وہ سو تو اسی کے ساتھ رہا تھا مگر اسنے حتٰی الامکان خود کو اپنی ماں سے دور کر رکھا تھا۔ایسے میں بجلی کڑکی تو اسنے نے احمد کو تھام لیا کہ کہیں وہ ڈر نہ رہا ہو مگر وہ ویسے
ہی لیٹا رہا۔ کچھ نہیں بولااور یہ آخر ی تنکا تھا۔وہ خاموشی سے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ وہ دریا کی طرف چلنے لگی۔بارش نے ایک لمحے میں ہی اسے بھگو دیا مگر وہ رکی نہیں۔وہ دریاکے قریب پہنچی تو ایک لمحے کو تو خوفزدہ ہو گئی۔ یہ وہ دریا نہیں تھا جسے وہ بچپن سے جانتی تھی۔۔۔۔دریا جو انکی بستی کے کنارے بہتا تھا۔یہاں تو ہر سمت پانی ہی پانی تھا۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ دریا کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم۔شہر کی تمام روشنیاں بھی بجھی تھیں ۔کیا خبر وہ شہر ڈوب گیا ہو کیونکہ وہاں ہر طرف اندھیرے کا راج تھا۔اگر شہر ڈوب جاتا ہے تو اسکے جر م کے سارے نشان بھی مٹ جاتے ہیں۔ اسنے سوچا۔پھر خو د کو ملامت کرنے لگی۔ ”میں شہر کے ڈوبنے کا سوچ بھی کیسے سکتی ہوں۔“اسکی آنکھوں کے سامنے ٹوپی پہنے ایک لڑکا گھومنے لگا۔ وہ اپنی جگہ رکی رہی اور پھر تقدیر اسکی مدد کو آ گئی۔مہربان دریا نے کہا کہ اگر تم فیصلہ نہیں کر پا رہی تو چلو میں ہی تمہاری مدد کو آ جاتا ہوں۔اسکے قد سے لمبی پانی کی ایک باڑ آئی اور سردی جیسے اسکے ہر مسام سے جسم میں داخل ہو گئی۔آخر ی سوچ جو اسکے دل میں ابھری وہ اس باڑ سے بھی بڑی تشکر کی ایک لہر تھی۔وہ ڈوب رہی تھی، غوطے کھا رہی تھی اور شکر گذار تھی۔

اسد علی

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ