بریکنگ نیوز

مقدس گائے

WhatsApp-Image-2017-04-18-at-10.48.40-PM-503x540-503x540-1.jpeg

تحریر: عمران اللہ مشعل

ہمارے ملک میں مقدس گاۓ کا تصور اور اصطلاح آج تک فوج کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور یہ درست بھی ہے اگر فوج کسی پالیسی سے اختلاف کیا جاۓ تو ملکی سلامتی کا رونا رویا جاتا ہے ملکی سلامتی ہم سب کے لیے اہم ہے اور فوج بھی ہماری اپنی ہے۔
لیکن حقیقت میں اگر دیکھا جاۓ تو فوج کے ساتھ دوسرے اور مقدس گاۓ بنے ہوۓ جن کی وجہ سے آج ملک غیر یقینی اور عدم استحکام کا شکار ہے.
اگر کسی حکومتی شخصیت کے اوپر بات آجائے یا انکی کسی کرتوت پر تنقید کی جائے تو جمہوریت کو مقدس گائے بنایا جاتا ہے ہر طرف سے آوازیں اور چیخیں نکل آتی ہے اب تو بس جمہوریت خطرے میں ہے ملک کا نقصان ہوگا ترقی کا سفر رک جائے گا وغیرہ وغیرہ حالانکہ اختلاف اور تنقید تو جمہوریت کا حسن ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نام نہاد اور شخصی جمہوریت کیو جہ سے جوابدہ دہی اور اختلاف رائے کا تصور بھی نہیں ہے
بس کسی کے مفادات کو ٹھیس پہنچھے تو جمہوریت کو مقدس گائے بنا کر خطرے کی گنٹھی بجائ جارہی ہے۔
اسکے علاوہ جو تیسری مقدس گائے ہے وہ عدلیہ ہے ہماری عدالتوں کی مثال سب کے سامنے ہے وہ ایک کہاوٹ بھی مشہور ہے ایک شخص کو اپنے مکان پر جھوٹے مقدمے میں کیس لڑتے لڑتے آخر میں مکان ہی بیچ دینا پڑا اسی طرح لوگوں کی مرنے کے بعد بریت کے فیصلے آتے ہے کیس لڑتے لڑتے زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ انصاف کی اس سست روی کا زمہ دار عدلیہ ہے یا استغاثہ اس کا آج تک تعین نہیں ہوسکا اور اگر کسی فیصلے پر تنقید یا اختلاف رائے دی جائے تو وہی مقدس گائے کا رونا رویا جاتا ہے اور اختلاف رائے رکھنے والا توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔

چوتھی مقدس گائے مذہبی جماعتیں اور مذہبی گروپس ہے وہ اپنی مرضی کا مذہب سکھانا چاہتے ہے اگر ان سے اختلاف کیا جاۓ تو توہین مذہب اور کفر کا فتویٰ لگتا ہے۔
پانچویں مقدس گائے میڈیا ہے میڈیا کا ہم سب کو پتہ ہے کس طرح استعمال ہورہی ہے صبح سے شام تک میڈیا پر بیٹھے لوگ لوگوں کی عزتیں اچھالتے ر ہتے ہیں اور پروپیگنڈے کا حصہ بن جاتے ہے مخالفین کو آمنےسامنے بٹھا کر لڑایا جاتا ہے۔

کوئ بھی مثبت بات سنے اور سیکھنے کو نہیں ملتی ہے انکی دیکھا دیکھی پورا معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہوتا ہے جب ان سے اختلاف کی جائے تو اظہار رائے کی آزادی کو خطرہ ہوجاتا ہے۔
یہی وہ سب مقدس گائے بنے ہوئے جو ملک کو ایک سمت میں چلنے نہیں دیتے ہے جس کی وجہ سے آزادی کے ستر سال بعد بھی حالات جوں کے توں ہے ہمارا مقدس گائے والا یہ المیہ اب ختم ہونا چاہیے۔

اگر مقدس ہے تو سب سے پہلے مذہب ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک بنایا گیا پھر اس ملک کے عوام مقدس ہے پھر تمام ادارے مقدس ہے لیکن شخصیات مقدس نہیں ہے جنکی وجہ سےآج تمام اداروں میں بہتری نہیں آرہی ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ