بریکنگ نیوز

تاریخ بدلنے والا ایک شرمناک معاھدہ

farooq-malik.jpg

تحریر فاروق طارق

مسلم لیگی حکومت اور ٹحریک لبیک کے درمیان 27 نومبر کو ہونے والا شرمناک معاھدہ پاکستان کی تاریخ بدلنے والا کہلایا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں دور رس منفی تبدیلیاں رونما ہوں گی، معاشرہ مذید رائیٹ ونگ سمت رخ اختیار کرے گا اور مذھبی جنونیت کے پھیلاؤ کی نئی اطراف سامنے آئیں گی۔ فوجی اداروں کی سویلین معاملات میں مداخلت مذید کھل کر سامنے آئے گی۔

یہ ایک بدترین معاھدہ ہے جس میں مسلم لیگ نے اپنی باگیں کسی اور کے ھاتھوں تھما دی ہیں۔ اب اس کو کون کون اور ہانکے گا یہ وقت اور حالات بتائے گا۔ مسلم لیگی حکومت کو اس دھرنے نے جتنا نقصان پہنچایا ہے شائد اتنا عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں نے بھی نہ پہنچایا ہو، وہ ناکام دھرنے تھے، یہ ایک کامیاب دھرنا تھا۔ کامیابی کی اپنی ہی بات ہوتی ہے۔ ایک کامیابی کئی اور کا راستہ کھول دیتی ہیں۔

دھرنے کا آغاز اس وقت میں ہوا جب مسلم لیگی حکومت پہلے ہی بحرانوں کا شکار تھی۔ اپنے لیڈر سے ھاتھ دھونے کے صدمہ سے یہ ابھی باھر نہ آئی تھی کہ ایک اور کا سامنا کرنا پڑ گیا، اس دھرنے کو آغاز سےہی سنجیدہ نہ لیا گیا۔ اسے تحریک لبیک کے ووٹوں کی طرح ٹریٹ کیا گیا کہ یہ آٹھ دس ہزار ووٹ لینے والی پارٹی اور گروپ ہے اسے ٹھیک کر لیں گے۔ مگر اس گروہ کی سماجی طاقت بڑھتے ہوئے مذھبی جنون میں پوشیدہ تھی جس کا اندازہ نہ لگایاجا سکا۔

دھرنا اس وقت سامنے آیا جب ریاست کے ادارے آپس میں الجھے ہوئے تھے۔ کوئی یگانگت نہ تھی۔ سرمایہ داری نظام کے بحران کی شدت کا اندازہ انکی ریاست کے اداروں کے ایک دوسرے سے تعلقات سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ادارے نے وزیر اعظم کو نااھل قرار دیا، دوسرا پاورفل ادارہ اس فیصلے کی کھلی یا بعض اوقات پوشیدہ طور پر حمائیت کر رھا تھا۔ ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے سیاسی پتوں کو کھلا رھے تھے اور خوب چالیں چلی جا رھی تھیں۔

تحریک لبیک کو بھی انہی اداروں میں کسی کی پوری اور کسی کی ادھوری حمائیت حاصل تھی۔ مذھبی لبادہ نے اسے خوب اوڑھ رکھا تھا۔ مذھبی استعمال کی ایک نئی جدت سامنے آرھی تھی۔ صوفی ازم کے پرچاری اور درباروں مزاروں والے اب امن کے گیت چھوڑ کر وہ زبان استعمال کر رھے تھے جو اس کی نیچر میں ہی نہ تھا۔ “پین دی سری” کا استعمال کثرت سے جاری تھا۔ یہ ملیٹینسی کا ایک نیا پہلو تھا۔

دھرنے کو ابتدائی طور پر میڈیا کی نظروں سے دور رکھنے کی خاص ھدایات جاری کی گئی تھیں۔ “تھک ہارکر یہ چلے جائیں گے” کی سوچ حاوی تھی مسلم لیگی راھنماوں کے دماغوں پر “میڈیا نہ دکھائے گا تو انہیں کون پوچھے گا” والی سوچ حاوی تھی۔ میڈیا پولٹیکس والے، عوام سے کٹے یہ راھنما میڈیا غلامی کے طوق میں اتنے جکڑے گئے تھے کہ انہیں راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کی مشکلات نظر ہی نہ آتی تھیں۔ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا مگر مسلم لیگی یہ سوچ رھے تھے کہ اس کا نقصان دھرنے والوں کو ہو گا۔ لوگ خود انہیں گالیاں نکالیں گے، ان کو بے نقاب ایسے ہی کیا جائے۔

مگر عوام درست طور پر سوچ رھے تھے کہ دھرنے کو اٹھانے کی ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے۔ ان کو تکلیف سے نکالنا حکومت کا کام ہے۔ مگر حکومت غائیب تھی وہ “دیکھو اور انتظار کرو” کی پالیسی پر گامزن تھی۔ مگو عوام میں یہ پالیسی دکھوں اور تکلییفوں کا باعث بن تھی تھی۔

جب حکومت حرکت میں آئی تو پھر بھی عدالت کو اسکا مورد الزام ٹھرا رھی تھی۔ “ہم تو ابھی بھی کچھ نہ کرنا چاھتے تھے، یہ تو انتظامیہ کا فیصلہ تھا میں تو اس کے ذاتی طور پرخلاف تھا” اس سے ذیادہ “خصی” وزیر داخلہ شائد آج تک پاکستان کی تاریخ میں نظر نہیں آتا۔

پولیس ایکشن ابتدائی طور پر کامیاب نظر آتا تھا اور وہ بھی کسی بڑے جانی نقصان کے بغیر، مگر دھرنے کے قریب پہنچ کر پسپائی کس طرح ھوئی اور کس کے احکامات پر ھوئی؟ یہ گتھی ابھی سلجھنے والی باقی ہے۔

ایک ریاستی ادارہ اگر پوری تیاری کے بعد بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو تو اس کے الٹ نتائج نکلنے لازمی ہیں۔ آپ جنگ شروع کریں اور کامیاب نہ ہوں تو اقتدار تو خطرے میں پڑتا ہی پڑتا ہے۔ 65 جنگ کے بعد ایوب آمریت کی چھٹی ہوئی، 71 جنگ کے بعد یحیی آمریت فارغ ہوئی۔ کارگل کے بعد نواز شریف کو مشرف آمریت نے جیل بھیج دیا۔

عمران اور طاہرالقادری دھرنوں کے دوران انگلی کھڑی ہی نہ ہوئی۔ اس بار تو انگلی کئی دفعہ کھڑی ہوئی، کبھی کھلے بندوں اور کبھی اشاروں کناؤں میں۔ حکومت ان کو بلاتی تھی، یہ نقص نکالتے تھے احکامات میں، کبھی عدالتی حکم کے پیچھے چھپتے تھے اور کبھی ماضی کی روایات کے پردے میں۔ “ھمارا کام ھجوم منتشر کرنا نہیں، گولی چلانے کا حکم عدالت نے نہیں دیا” یہ کام تو انہوں نے ماضی میں بار بار کئے تھے مگر اب کرنا نہ تھا۔ پولیس کو بھی کنٹرول کیا ہوا تھا۔ جب پولیس، فوج اور عدالت آپ کے ساتھ نہ ہو تو پھر ایسا ہی شرمناک معاھدہ کرنا پڑتا ہے۔

یہ ایک شرمناک معاھدہ ہے، ایک ٹوٹل سرنڈر ہے۔ آپ گاڑیاں جلائیں، میٹرو سٹیشن جلائیں، راستے بند کریں، گالیاں نکالیں، اشتعال انگیز تقریریں کریں، پولیس پر انسو گیس کے گولے چلائیں، مگر اس معاھدہ کے تحت ریاست اپنے کئے کو تو بھرے گی مگر آپ کو سات ھزار گناہ معاف ہیں۔

اور تو اور میجر جنرل رینجرز آپ کو پبلک میں اتنے کامیاب ایکشن کے بعد پیسے بھی بانٹتا نظر آئے گا۔ “یہ آپ کے انے جانے کا خرچہ ہے ہم کیا آپ کے کچھ نہیں لگتے” اپنوں پر گولیاں نہ چلانے والوں کا دعوی کرنےوالوں نے پاکستانی تاریخ میں دوجنوں مرتبہ اس کی خلاف ورذی کی ہے۔

اس دھرنے نے ریاست کی جانب سے تمام شہریوں سے برابری کے سلوک کے دعوی کی دھجیاں بھی بکھیر دی ہیں۔ بابا جان نے عطا آباد جھیل کے متاثرین کی جدوجہد کی اور جلوسوں کی قیادت کی، دھرنے نہیں دئیے، وہ گلگت بلتستان کی انسداددھشت گردی عدالت کے ھاتھوں عمر قید بھگت رھاہے، سپریم کورٹ نےبعد ازاں ھائی کورٹ کی جانب سے اسے بری کرنے کے فیصلے کو ختم کر کے اس کی عمر قید سزا بحال کر دی۔

اوکاڑہ میں جلسے جلوسوں اور پرامن ریلیوں کے علاوہ تو انجمن مزارعین کے جنرل سیکرٹری مہرعبدالستار اور دیگر راھنماؤں نور نبی، ندیم اشرف اور ملک سلیم جکھڑ کا کوئی اور قصور نہیں ہے وہ سب جیلوں میں درجنوں مقدمات انسداد دھشت گردی کی عدالتوں میں بھگت رھے ہیں، ان کا حقیقی قصور تو ملٹری فارمز کی زمینوں کی ملکیت کا مطالبہ کرنا ہے جسے وہ سو سال سے زیادہ کاشت کررھے ہیں۔

اگر اوکاڑہ کے مزارعوں، بلوچ سیاسی کارکنوں، سندھی قوم پرستوں یا مزدوروں کسانوں کی دیگر پرتوں نے ایسا کوئی دھرنا دیا ہوتا تو ان پر کئی بار گولی چل چکی ہوتی اور کئی درجن مقدمات درج ہو جاتے۔ ظاہرہے محنت کش عوام تو اپنے نہیں ہیں۔

ریاست کا اپنے تمام شہریوں کی جانب متعصبانہ رویہ اس دھرنے نے سورج کی روشنی کی طرح بے بقاب کیا ہے۔

معاھدہ نے مذھبی جنون کو پھیلنے کا ایک نیا سنہری موقع عطا کیا ہے۔ ریاست مزید مذھبی ہو گی۔ آئین میں مذید مذھبی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ پاکستان ایک نیا افغانستان بن رھا ہے۔ ابھی مسلم لیگی حکومت ٹارگٹ پر ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اب جو تھوڑی بہت لبرل ازم باقی ہے وہ بھی کنزرویٹزم میں تبدیل ھونے کی جانب جا سکتی ہے۔ ترقی پسندی تو دور کی بات اب نظر آتی ہے۔ بدلہ ہے سوچ کو اس دھرنے نے۔ وہ بھی مذید رائیٹ ونگ کی جانب،

مذھبی جنونیت کی یہ نئی شکل ایک اور طرز کی فاشسٹ سوچ بن کر ابھر رھی ہے۔ یہ ایک نئی فاشزم کا ظہور ہو رھا ہے۔ جو مذھبی جنونیت کی سابقہ شکلوں کو ہی ایک نیا تسلسل ہے یہ براہ راست جسمانی حملوں کے ساتھ ساتھ ذھنی حملوں سے کام لے رھی ہے۔ یہ سوچ کو عوامی سطح پر فاشسٹ سوچ کے قریب لے جانے کے راستے پر گامزن ہے۔

تاریخ میں بڑے واقعات اور جنگیں عوامی سطح پر سوچ کو تبدیل کرنے کی اھلیت رکھتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہی واقعہ ہوا ہے۔ ایک ایسا گروہ جو کل تک نہ تھا آج پورے پاکستان میں ہے۔ وقت بدلتے وقت نہیں لگتا۔ مگر وقت مزدور طبقات کے جانب اور حمائیت میں نہیں بدلہ بلک دوسری جانب ٹرن لے گیا ہے۔
اس کا اظہار اب زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آئے گا۔

بات اب مسلم لیگی ھاتھ سے نکل چکی ہے۔ کب کیسے کس طرح یہ رخصت ہوں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

ضرورت ہے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی، اب صرف لیفٹ یونٹی ہی نہیں بلکہ مذید دھاروں کو جن میں ترقی پسندی کی کوئی بھی شکل ہو کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ایک نئے براڈ بیس ترقی پسند الاینس کا متقاضی ہے۔ چیلنجز بڑھتے جا رھے ہیں ہماری جگہ تنگ ہوتی جا رھی ہے۔
اس کو آیڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔

فاروق طارق
ترجمان عوامی ورکرز پارٹی
farooqtariq@hotmail.com

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ