بریکنگ نیوز

(امید سے یقین تک !!!)

Ali-Jameel.jpg

تحریر علی جمیل
سالہا سال پہلے کی بات ہے۔ریاست میں چند بااثرخاندانوں اور کچھ خواص کا کاروبارِ زندگی عروج پر تھا۔وہ جو سوچتےجو چاہتےاسے ہونے سے کوئی روک نہ پاتا۔ غریبوں، محنت کشوں ،مزدوروں اور کسانوں کا پرسانِ حال کوئی نہ تھا۔مل مالک مزدور کو اس کے کام کی اجرت پوری نہ دیتا، زمیندار محنت کش کو اس کی محنت کا ثمر دیتے ہوئے حقارت سے دھتکارتا۔اور کسانوں کو ان کی محنت کا ثمر ملنا دشوار ہو گیا تھا۔ان سب غریبوں کے گھروں کا چولہا جلنا مشکل ہو گیا، اکثروبیشتر نوبت فاقوں تک جا پہنچتی۔ریاست کے عام لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق حالات کا مقابلہ کرتے کرتے تھک کر نڈھال ہو چکے تھے۔
مایوسی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ غریب اور محنت کش لوگ ریاست کے وجود سے نالاں دکھائی دینے لگے۔پھر رب نے کرم کر دیا، ریاست کے جنوب سے ایک ایسا شخص نکلا جو ان کی آواز بنا۔بابا 14 سال کے تھے جب انکے سب سے چھوٹےچچا انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر ایک جلسہ گاہ میں لے گئے۔لوگ کہہ رہے تھے بھٹو آیا ہے، بھٹو آیا ہے، وہ ہمارے لئے آیا ہے۔اس نے وعدہ  کیا ہے کہ تمہیں روٹی، کپڑا اور مکان ملے گا۔ تماری اجرت وقت پر ملے گی۔تماری فصلیں مناسب داموں پر خریدی جائیں گی۔تمہارے بچوں کو تعلیم ملے گی پھر وہ ملازمتوں پر لگ کر افسر اور بابو بن جائیں گے۔
یہ کسی دیوانے کا خواب لگتا تھا، وہ لوگ جنہوں نے کبھی تعلیمی ادارے کا منہ تک نا دیکھا ہو ان کے بچے افسر اور بابو بنے گے۔نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے!!! لگتا تھا بھٹو افسانے سناتا ہے۔پھر نجانے اس نے کس کس طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ۔روٹی کے وسیلے سے لے کر تن کے کپڑے اور سر چھپانے کے لئے چھت کو ممکن بنایا۔اور صرف یہ ہی نہیں غریبوں کے بچوں کو سکولوں تک پہنچایا۔بھٹو نے بے آسرا لوگوں اور بے یقینی کی حامل ریاست کو اس کے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بِیڑا اٹھایا تھا۔اور وہ کر دکھایا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔بھٹو نے خدائے بزرگ وبرترکی مدد سے اس ملک کی تقدیر سنوارنا شروع کی۔
چند سالہ دورِاقتدار میں ہر محاذ پر کامیابی کے جھنڈے گاڑھے،  ایٹم بم سے لیکر سٹیل مل، کھاد کے کارخانوں سے لے کر ہیوی مکینیکل کمپلیکس، کامرہ میں میراج ری بیلڈ فیکٹری سے لے کرکراچی میں ایٹمی بجلی گھر، اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے مسلمانوں کے اتحاد ویگانگت، آئین کے وجود سے لے کر شاہراہِ قراقرم تک کی معماری، پورٹ قاسم، چشمہ بیراج کی تعمیر سے لے کر فرانس اور کینڈا کے ساتھ ایٹمی معاہدے، اوپن یونیورسٹیوں کا انعقاد، غرض کہ بھٹو نے اتنے قلیل وقت میں وہ سب کچھ کر دکھایا جو ایک قوم کو عظیم قوم بنانے کے لئے اولین ضرورتیں تھیں۔پر صاحب وقت بہت بے رحم ہے، ملک اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں نے بھانپ لیا کہ یہ شخص اس قوم کو اقوم عالم کی نمائندہ قوم بنا کر دم لے گا۔
پھر ایک ایسا بھونچال آیا جس نے ریاستی اداروں کو مفلوج کرکےرکھ دیا،  غریبوں سے ان کا غریب نوا، بے آسروں سے ان کا آسرا اور عوام سے انکا قائدِعوام چھین لیا۔بھٹو صاحب نے اپنے ملک اور لوگوں سے کئے وعدہ کے مطابق اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔دن کی روشنی سیاہ رات کی آغوش میں سمٹ گئی۔افسوس صد افسوس ظالموں نے محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو پر مظالم کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایسے انسانیت سوز مظالم ان باہمت نہتی عورتوں پر ڈھائے گئے کہ کوئی جری اور بہادر مرد بھی اس دور میں ایسے حالات کے سامنے کھڑا نہ ہو سکا۔اس خاندان کے درخشاں ستارے میر شاہنواز بھٹو اور میر مرتضٰی بھٹو اماوس کی تاریک رات کی نظر ہو گئے۔
لیکن کیا کہنے اُس بے نظیر کے جو واقعتاً بے نظیر تھی۔کہ جس نے بھٹو ازم کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا۔بے‏‎‎نظیرکوورثےمیں بھٹوصاحب کی سیاست کےساتھ نہتےعوام کی طاقت بھی ملی،لیکن سفاک دشمنوں کاوہ مسلح لشکرِجراربھی انکےتعاقب میں لگا رہاجو قدامت پسندی کا محافظ تھا۔محترمہ نےبہت لمبی لڑائی لڑی، بےشمار دکھ سہےاور مصیبتیں کاٹیں۔
ان تمام نامناسب حالات کے باوجود وہ صرف پاکستان کی ہی نہیں عالمِ اسلام کی پہلی خاتون سربراہِ مملکت بن کر سامنے آئیں۔
محدود مدتِ اقتدار میں عوام کی خدمت سے لے کر اقوام عالم میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔زمینی اور لیبر اصلاحات سے لے کر رہائشی منصوبے۔تعلیم، صحت، نوجوانوں کے لئے بہتر مستقبل سے لے کر خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی، پانی بجلی اور گیس گھر گھر پہنچانے کے لئے عملی اقدام،  دورِحاضر کو مدِنظر رکھتے ہوئے مواصلات اور پیداوار کے شعبہ کی اہمیت، میڈیا سے کالے قانون کا خاتمہ، آئل اینڈ گیس کے شعبہ کی بہتری، آئین کی اصل روح اور پارلیمان کے وقارکی بحالی۔
اپنےشہید باپ کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جدید ترین میزائیل ٹیکنالوجی اور اسکی مقامی سطح پر تیاری کا سحرا صرف اور صرف محترمہ کے سر ہے۔ نیوی اور پاک فضائیہ کی صلاحیت کو بڑھانے کے حوالے سے دوست ممالک کے ساتھ قابلِ عمل معاہدے اور بہترین فارن پالیسی کا آغاز آپ کے دور میں پھر سے شروع ہوا۔حجاج اکرام کے کوٹے میں پہلی بار کئی گنا اضافہ  کر کے ایک لاکھ تک پہنچایا گیا جو کے بے نظیر کی مذہبی عقیدت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔
آپ ہمیشہ اعتدال پسندانہ رویہ کامظہر رہیں۔ 
بینظیر بھٹو نے اپنے بدترین دشمنوں سے بھی کبھی انتقام نہ لیا۔ آپ جمہوریت کو بہترین انتقام سمجھتی تھیں۔ غریب، مزدور اور کسان یہاں تک کے تمام طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ محترمہ کے دو مختصر ادوار میں سکھ کا سانس لیتے رہے۔لیکن کیا معلوم تھا کہ کوئی سازشی ٹولہ کہیں بیٹھ کر شر کے جال  بُن رہا ہے۔پھر وہ وقت آیا جب پھر سے ملک و قوم انتہائی مصیبت اور زوال کا شکار ہو گئے۔لوگوں نے بے نظیر کو پکارا اور ان کی محبوب قائد  عوام کی آواز پر لبیک کہیتی ہوئی اپنی جان کی بازی لگا کر ان کی جنگ ملک کے اندر اور اقوام عالم سے لڑنے لگیں۔
بھیڑیا نما سفاک دشمن گھات لگائے بیٹھا تھا وہ امید کے اس سفر کو یقین کی دہلیز سے دور رکھنا چاہتا تھا ۔ اور اس گھناونے کھیل میں آخرکار وہ سفاک دشمن کامیاب ہو گیا۔اور زنجیر ٹوٹ گئی💔۔
ملک اندھیروں میں ڈوب گیا، کوئی اس کا پرسانِ حال نہ بن سکا، تکلیفیں اس حد تک بڑھ گئیں کہ اقوام عالم انگلیاں اٹھانیں لگیں۔لیکن کیا ہے نہ جب کچھ نہیں بچتا تو پھر بھی ایک چیز باقی رہ جاتی ہے اور وہ ہے امید!!!
بی بی کے شہزادے بلاول نے بھٹو ازم کا پرچم بلند کیا، اس کی للکار میں اس کے شہید نانا کی جھلک اورشہید  ماں کی  سیاسی تربیت کا اثر تمام تر طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے محسوس کیا۔ پھر سے امید جاگی کہ وہ آگیا جس کا تعلق لوگوں سے ہے جو ان کے درد کو سمجھتا ہے، جو ان کا اپنا ہے۔بخدا میں نے بلاول کے جلسوں میں غریبوں کو ہاتھ اٹھا کے لبیک کہتے دیکھا ہےاور ان کے چہروں پر وہ ہی امید دیکھی ہے جو ہمارے اجداد ہمیں بھٹو صاحب کے ابتدائی دور کے حوالے سے بیان کرتے تھے۔
آج بھی سامراجی قوتیں انتہائی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ بھٹو اور عوام کا رشتہ کیسے توڑیں ۔ ارے یہ تمہارے بس کی بات نہیں، یہ رشتہ تو تقدیر لکھنے والے نے جوڑا ہے۔
تم کون ہوتے ہو اس کو توڑنے والے!!!
امید سے یقین تک کا سفر جاری ہے اور اب اس کشتی کا ناخدا بلاول بھٹو زرداری ہے۔
سلام بے نظیر

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ