بریکنگ نیوز

وادیِ کہون کی تقدیر تبدیل کرنے والا بیلجیم مشن ہای سکول ڈلوال

WhatsApp-Image-2017-12-04-at-3.29.12-PM.jpeg

نبیل انور ڈھکو
جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے تین عشروں میں دوسری دفعہ بیلجیم پر قبضہ کیا تو اس جارحیت کے اثرات نے بیلجیم سے ہزاروں میل دور ایک سکول کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ یہ سکول سالٹ رینج میں واقع ضلع چکوال کے ایک مشہور گاؤں ڈلوال میں تھاجو’’بیلجیم مشن ہائی سکول ڈلوال‘‘کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بی ایم سکول کی انتظامیہ کے پاس سکول کو چلانے کے لیے فنڈ نہ رہا کیونکہ سکول کا فنڈ بیلجیم سے آتا تھا جو بیلجیم پر جرمن قبضے کی وجہ سے آنا بند ہو گیا۔ سکول کے اساتذہ، طلباء اور علاقے کے لوگوں کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ اب شاید سکول بند ہو جائے لیکن اس کے پرعزم پرنسپل نے نہ صرف سکول کو مالی بحران سے کامیابی سے نکالا بلکہ اس کٹھن وقت میں بھی سکول کا اعلیٰ معیار تعلیم برقرار رکھا۔ سکول کے یہ پرعزم پرنسپل فادر سیلویسٹر تھے جو سکول میں چھتیس سال تک تعینات رہے اور ان چھتیس سالوں میں صرف دو دفعہ اپنے گھر(بیلجیم) گئے۔
سکول کے سابق طابق علم و سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد صفدر ملک جو ڈلوال سے ملحقہ گاؤں دوالمیال کے باسی ہیں اور اس وقت سکول میں پڑھ رہے تھے، فادر سیلویسٹر کے عزم و حوصلے کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں،’’ایک صبح فادر سیلویسٹر نے یہ اداس کن خبر ہمیں بتائی کہ بیلجیم پر جرمنی نے قبضہ کر لیا ہے اور سکول کو بیلجیم سے ملنے والی مالی امداد رک گئی ہے لیکن وہ(فادر سیلویسٹر) اس کڑی آزمائش کے آگے نہ جھکے‘‘۔ فادر سیلویسٹر نے اپنے طلباء کے آگے اعلان کیا،’’میں سکول کو بند نہیں ہونے دوں گا‘‘۔
جنرل صفدر مزید بتاتے ہیں کہ فادر سیلویسٹر اپنے موٹر سائیکل جو ان کی پہچان تھا کیونکہ اس قت پورے علاقہ میں صرف ان کے پاس ہی موٹر سائیکل ہوا کرتا تھا، پر روزانہ سکول کی خاطر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے مختلف دیہاتوں کے چکر لگاتے اور وادی کہون کے دیہاتوں کے باسی دل کھول کر انہیں چندہ دیتے کیونکہ وہ فادر سیلویسٹر کو اپنا محسن سمجھتے تھے۔
مشن سکولوں کی تعمیر پنجاب میں1888ء میں شروع ہوئی جب1886میں تعمیر ہونے والی لاہور ڈائسس (Diosese)( عیسائی پادریوں کا ایک مخصوص علاقہ جس طرح ہمارے ہاں تحصیل یا ضلع ہیں)کو کیپوچنز مشنریز کی تحویل میں دے یا گیا۔کیپوچنز مشنریز نے لاہور ڈائسس کو پورے پنجاب اور ریاست بہاولپور تک پھیلا دیا۔
ڈلوال کے ایک بااثر شخص راجہ شاکر مہدی جو 1965ء کی جنگ کے ہیرو گروپ کیپٹن سیسل چوہدری کے نانا اور پاکستان کے لیجنڈری فوٹو گرافر فاسٹین ایلمر چوہدری(ایف ای چوہدری) کے سسر(سیسل چوہدری ایف ای چوہدری کے بیٹے تھے) نے سترہ سال کی عمر میں عیسائی مذہب قبول کر لیا اور بعد میں ایک عیسائی خاتون سے شادی کی۔ یہ راجہ شاکر مہدی ہی تھے جن کو گاؤں میں سکول تعمیر کروانے کا انوکھا خیال آج سے تقریباً ایک سو چوبیس سال قبل آیا۔ راجہ شاکر مہدی نے سکول کی تعمیر کے لیے سات ایکڑ زمین وقف کر دی اور اس طرح ڈلوال میں بی ایم سکول بن گیا۔مشن ہائی سکول کے قیام کا سہرا راجہ شاکر مہدی ان کے عزیز راجہ شیر دل کے سر ہے جنہوں نے نہ صرف سکول کے لیے سات ایکڑ قیمتی زمین وقف کی بلکہ سکول میں پڑھایا بھی۔ آج بھی اس خاندان کے افراد کی قبریں سکول کے احاطہ میں موجود ہیں۔
اگرچہ آج بھی سکول کی عمارت کی پیشانی پر ’’1900‘‘موٹے ہندسوں میں لکھا ہوا ہے لیکن یہ سکول1900میں نہیں بلکہ1893 یا1894ء میں تعمیر ہوا۔
فائیڈینٹین وین ڈین بروک اور ڈینئیل سپلائی کی مشترکہ لکھی ہوئی کتاب’’ کیپوچنز مشنریز ان دی پنجاب‘‘ کے مطابق فادر گاڈ فرے 1893ء میں لاہور کے تیسرے بشپ اور ڈائسس کے منتظم تعینات ہوئے۔یہ فادر گاڈ فرے ہی تھے جنہوں نے بی ایم سکول ڈلوال اور سکول کے ساتھ پادری کی رہائش گاہ ایک چھوٹا گرجا اور ایک ڈسپنسری کی بنیاد رکھی۔ کتاب ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ سکول کی بنیاد کس تاریخ کو رکھی گئی تاہم کتاب یہ ضرور بتاتی ہے کہ فادر ونسنٹ کا مئی1998ء میں بی ایم سکول ڈلوال تبادلہ ہوا جہاں انہوں نے ایک مشن سینٹر کھولنے کی ناکام کوشش کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سکول1898ء میں فنکشنل تھا۔ کتاب کے مطابق یہ سکول ابتدائی طور پر پرائمری سکول تھا۔18ستمبر1899ء کو فادر انتھونی کو ڈلوال سکول میں سکول کی عمارت کی مرمت اور اسے وسیع کرنے کے لیے بھیجا گیا۔18جنوری1900کو بشپ پیک مینز جو لاہور کے تیسرے بشپ تھے نے سکول کے مڈل اور ہائی حصے کی عمارت کی تعمیر کی منظوری دی۔کتاب مزید بتاتی ہے کہ بی ایم سکول کو اس وقت کے پرنسپل فادر میتھیو جو یکم مارچ1900ء کو سکول کے پرنسپل تعینات ہوئے اور تیس برس تک بطورپرنسپل خدمات انجام دیں نے 1903ء میں ’’مڈل‘‘اور1905ء میں’’ہائی‘‘کا درجہ دیا۔ 1930ء میں فادر میتھیو کو ترقی دے کر لاہور بلا لیا گیا جس کی وجہ سے انہیں اپنا محبوب سکول مجبوراً چھوڑنا پڑا ۔ بی ایم سکول ڈلوال کو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے بلکہ اس کو پنجاب (بھارتی پنجاب بھی اس وقت پنجاب کا ہی حصہ تھا) کے چند بہترین سکولوں کی صف میں شامل کرنے کا سہرا فادر میتھیو کے سر ہی ہے۔ فادر میتھیو نے سکول میں پندرہ کلاس رومز کا ایک کمپلیکس اور ایک ہاسٹل جس میں مسلمان، ہندواور عیسائی طلباء کے لیے الگ الگ کمرے تھے بھی بنوایا۔ اس کے بعد پادری کی رہائش گاہ اور گرچے کی تعمیر مکمل ہوئی۔فادر میتھیو نے سکول کے احاطے میں ساٹھ میٹر گہرا کنواں کھدوایا تاکہ پینے کا پانی حاصل ہو سکے۔ 1930ء میں جب فادر میتھیو نے ڈلوال چھوڑا تو اس وقت سکول میں پانچ سو سے زائد طلباء زیر تعلیم تھے۔ شعبہ تعلیم میں فادر میتھیو کی شاندار خدمات کو سراہتے ہوئے انڈین وائسرائے نے انہیں’’قیصر ہند‘‘جیسے گولڈن میڈل سے نوازا جو سب سے بڑا سول ایوارڈ تھا۔
جنرل صفدر کے مطابق بی ایم سکول ڈلوال علاقے میں پہلا ہائی سکول تھا جس نے سارے علاقے کی تقدیر کو بدل کر رکھ دیا۔ جب1947ء میں پاکستان بنا تو پاک آرمی کے 30کمیشنڈ آفیسر صرف اس علاقے سے تھے اور وہ سب کے سب اس سکول سے فارغ التحصیل تھے۔ اس سکول نے بے شمار آرمی آفیسر، بیوروکریٹس، انجینئرز،ڈاکٹرز، پروفیسرز اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پیدا کئے جن میں ڈلوال کے ایف ای چوہدری(پاکستان کے پہلے فوٹو جرنلسٹ)، دوالمیال کے سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد صفدر ملک، دوالمیال کے ہی بریگیڈئیر نیاز احمد ملک مرحوم(جو پاک فوج کے ایک باثر افسر رہے) اور ارڑ گاؤں کے لیفٹیننٹ جنرل(ر) رحمدل بھٹی شامل ہیں۔ مشہور مصنف سلمان رشید نے لکھا ہے کہ اگریہ سکول نہ ہوتا تو آج اس علاقے سے تعلق رکھنے والے کئی ریٹائرڈ جرنیل اور دوسرے اعلیٰ افسر بھیڑ بکریاں چرارہے ہوتے۔
دوالمیال کے ایک اور رہائشی ملک ریاض احمد جو بی ایم سکول کے طالب علم رہے نے’’چکوال پوائنٹ‘‘کو بتایا کہ دوسری جنگ عظیم1939-45میں صرف دوالمیال گاؤں سے سات سو ساٹھ سپاہیوں نے حصہ لیا اور ان سات سو ساٹھ افراد میں زیادہ تر اسی سکول کے پڑھے ہوئے تھے۔ پہلی جنگ عظیم(1914-1918) میں بھی دوالمیال گاؤں سے چار سو ساٹھ فوجیوں نے حصہ لیاجن میں سرفہرست کیپٹن غلام محمد ملک تھے جنہوں نے برطانوی فوج کی طرف سے دوالمیال کے بہادر سپوتوں کو بطور انعام ملنے والی تاریخی توپ وصول کی۔ دوالمیال گاؤں کے ان بہادر سپوتوں کی اکثریت ڈلوال سکول کی ہی فارغ التحصیل تھی اور کیپٹن غلام محمد ملک کی سکول کے لیجنڈری پرنسپل فادر سیلویسٹر کے ساتھ دوستی بھی تھی۔جنرل رحمدل بھٹی جو جنرل آر ڈی بھٹی کے نام سے معروف ہوئے نے ’’چکوال پوائنٹ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بی ایم سکول ڈلوال میں1948ء میں داخلہ لیا تھا اور اس وقت سکول کے پرنسپل فادر سیلویسٹر تھے۔ جنرل آر ڈی بھٹی اور جنرل صفدر کے مطابق فادر سیلویسٹر ایک انتہائی بارعب شخصیت کے حامل تھے۔ دراز قد، سڈول جسامت، سفید داڑھی، سر پر بال ندارد، آنکھوں میں چمک اور بہترین لباس میں ملبوس فادر سیلویسٹر چیزوں کو اپنے گنجے سر کو انگلی سے پٹخ کر یاد کرتے تھے۔ جنرل آر ڈی بھٹی کہتے ہیں کہ جب انہوں نے 1959 ء میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا تو ان کے اس کارنامے کی وجہ سے فادر سیلویسٹر بہت خوش ہوئے جیسے وہ اپنے ہر طالب علم کی کامیابی پر خوش ہوتے تھے۔ جب نو دس سال بعد جنرل آر ڈی بھٹی فادر سیلویسٹر کو ملنے گئے تو انہوں نے اپنے گنجے سر میں انگلی مار کر آر ڈی بھٹی کو پہچانا۔ جنرل بھٹی کہتے ہیں کہ مشن ہائی سکول علاقے کا پہلا اور اکلوتا ہائی سکول تھا۔ علاقے کے ہر فوجی افسرنے اسی سکول میں پڑھا ۔دوالمیال کے لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد مرحوم وادی کہون سے پہلے جنرل تھے جنہوں نے مشن ہائی سکول ڈلوال میں ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ مشنریز کو شاندا رالفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جنرل بھٹی کہتے ہیں کہ مشنریز اساتذہ عظیم انسان تھے جو طلباء کو اپنے بچے سمجھتے تھے۔
آج بی ایم سکول ڈلوال کے کئی طلباء یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں مقیم ہیں کیونکہ معیاری تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ بیرون ملک آسانی سے مقیم ہو گئے۔ دوالمیال کے رہائشی ممتاز احمد ملک جو آج کل برطانیہ مقیم ہیں بی ایم سکول میں1940ء کی دہائی میں زیر تعلیم رہے۔ ’’چکوال پوائنٹ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز ملک بتاتے ہیں کہ بی ایم سکول نے کئی آرمی آفیسر، کئی بیوروکریٹس، کئی ڈاکٹرز، کئی انجینئرز اور کئی اساتذہ پیداکئے۔ سکول کے اعلیٰ تعلیمی معیار نے وادی کہون اور اس کے ملحقہ علاقے کی تقدیر بدل دی۔
بی ایم سکول ڈلوال مذہبی ہم آہنگی کا بہترین مقام تھا کہ اس سکول کے طلباء میں مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی شامل تھے جبکہ اساتذہ میں بھی عیسائی، مسلمان اور ہندو شامل تھے۔
1901ء میں فادر لیون سکول میں بطور پروفیسر تعینات ہوئے اور سکول میں کیتھولک طلباء کے لیے ایک ہاسٹل کی تعمیر شروع کی۔1917ء میں لاہور کے چوتھے بشپ فیبن ایسٹر مینز نے ہندوستانی عیسائیوں کو پادریت کے لیے تیار کرنے کے لیے سکول میں ایک عمارت کا افتتاح کیا۔
برادر ماؤرس ڈلوال سکول میں تعینات ہونے والے پہلے سائنس ٹیچر تھے جن کو بشپ پیک مینز نے تعینات کیا اور وہاں ایک اور پرعزم مشنری بھی تھے جن کا نام برادر جوچم تھا جو سکول میں بطور سائنس ٹیچر تعینات ہوئے تھے۔ برادر جوچم برادر ماؤرس کے بڑے بھائی تھے جو تین سال قبل انتقال کر گئے تھے۔ برادر جوچم نے اپنے مرحوم بھائی کے مشن کو سنبھالا۔ برادر جوچم نے بی ایم سکول ڈلوال میں پنجاب کی بہترین سائنس لیبارٹری بنائی۔ برادر جوچم نے سکول میں بائیس سال تک بطور سائنس ٹیچر خدمات سرانجام دیں اور نہ صرف ان کی وفات اسی سکول میں ہوئی بلکہ
ان کو سکول کے ایک چھوٹے باغ کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

چکوال کے ان محسنوں میں محسن عظیم بلاشبہ فادر سیلویسٹر تھے جو یکم اگست1893ء کو بیلجیم میں پیدا ہوئے۔12ستمبر1911ء کو آرڈر(عیسائیوں کی مذہبی تنظیم) میں شامل ہوئے اور19فروری1921ء کو پادری بنے۔ فادرسیلویسٹر23نومبر1921ء کو بیلجیم سے لاہور روانہ ہوئے۔ یکم اپریل1923ء کو فادرسیلویسٹر بی ایم سکول ڈلوال میں کیتھولک ہاسٹل کے منتظم مقرر ہوئے۔ نو سال تک ہاسٹل کے منتظم رہنے کے بعد فادر سیلویسٹر یکم اپریل1932ء کو ڈلوال سکول کے پرنسپل تعینات ہوئے۔ انہوں نے سکول میں چھتیس سال تک اپنی خدمات سرانجام دیں۔ 28سال تک سکول کے پرنسپل رہنے کے بعد فادر سیلویسٹر نے یکم نومبر 1960کو سکول کا نظم و نسق راولپنڈی ڈائیسس کے حوالے کیا۔ سکول میں چھتیس سالہ قیام کے دوران فادر سیلویسٹر صرف دو دفعہ اپنے آبائی وطن بیلجیم گئے۔ 24نومبر1962ء کو فادر سیلویسٹر 69سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے لاہور سے بیلجیم روانہ ہو گئے اور 24مئی1977ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کو بیلجیم کے شہر ازیگیم میں دفنایا گیا۔
بی ایم سکول ڈلوال کے کئی پرعزم باحوصلہ اور باہمت اساتذہ میں فادر آنر ،فادر مرسین، فادر آرنلڈ،فادر انیسٹاس، فادر سیمن، ہیکڑکیٹری، فادر انوسینٹ، فادر میسیو، فادر میکائیل، فادر تھامس، فادر یوجین، فادر بوناوینچر، فادر ایلیس، فادر رینفرائیڈ، فادر ماؤرین، فادر ایون اور فادر اینگلبرٹ شامل تھے۔
یہ مشنریز جنہوں نے اپنی زندگیاں ایک ارفع اور نیک کام کے لیے وقف کیں ،انسانی حوصلے،عظمت اور یقین کی شاندار علامت تھے۔ آپ فادر ڈیسائر کو دیکھیں جو لاہور ڈائیسس میں بطورمشنری43سال تک تعینات رہے اور ان 43سالوں میں صرف دو دفعہ اپنے آبائی وطن گئے۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور تک بی ایم سکول ڈلوال کا شمار پنجاب کے چند بہترین سکولوں میں ہوتا تھا۔ لیکن بھٹو دور نے اس سکول کے معیار، شہرت، پہچان، تشخص کو ایسا تباہ کن جھٹکا لگایا کہ سکول آج تک اس جھٹکے کے اثرات سے نہ نکل سکا۔ یہ جھٹکا بھٹو کی پرائیویٹ اداروں کو قومیانے(نیشنل لائیز) کی پالیسی تھی۔ دوسرے پرائیویٹ اداروں کی طرح بی ایم سکول ڈلوال بھی حکومت پاکستان کی تحویل میں چلا گیا۔ پیپلزپارٹی کے اپنے ہی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھٹو کی اس پالیسی کو غلط قرار دیا تھا۔
جب سابق آمر مشرف نے صوبائی حکومتوں کو بااختیار بنایا اور بھٹو دور میں قومیائے گئے اداروں کو واپس کیا تو بی ایم سکول ڈلوال بھی اپنے اصل منتظمین کے پاس چلا گیا لیکن اس وقت تک اس تاریخی سکول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا۔ سکول کا معیار تعلیم سرکاری اساتذہ کی وجہ سے بری طرح گر چکا تھا۔ سکول میں نصب مجسمے چوری ہو چکے تھے۔ جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ حتیٰ کہ سکول کا ریکارڈ تک غائب ہو چکا تھا جو ابھی تک غائب ہے کہ یہ نہ سکول انتظامیہ کے پاس موجود ہے اور نہ ضلعی محکمہ تعلیم کے پاس۔ سکول کی ان گمشدہ املاک کے متعلق ایک انکوائری2014ء میں کی گئی۔ ’’چکوال پوائنٹ‘‘کو دستیاب انکوائری رپورٹ کی کاپی کے مطابق اس وقت کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن ڈاکٹر غلام مرتضیٰ انجم نے سکول کی گمشدہ املاک کے معاملے کی انکوائری کی۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق1991ء یا1992ء میں اسسٹنٹ کمشنر چوآسیدن شاہ جمال یوسف نے سکول کا دورہ کیا۔اے سی جمال یوسف نے سکول کے بارہ مجسمے اور ایک منبرگاڑی میں لوڈ کروائے اور چلتے بنے۔عذر یہ پیش کیا گیا کہ ان مجسموں کو کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر سکول کی عمارت گر گئی تو ان مجسموں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ ابھی تک ان نوادرات کا سراغ نہیں لگایا جا سکا کیونکہ ای ڈی او کی انکوائری رپورٹ پر کوئی عمل نہ ہوا۔


بی ایم سکول ڈلوال جہاں1930ء میں پانچ سو سے زائد طلباء زیر تعلیم تھے اکتوبر2017ء میں صرف373 طلباء رجسٹر کروا سکا۔ اپنے ایک انٹرویو میں جو ڈیفنس جنرل کے جون2001ء کے شمارے میں شائع ہوا ،پاکستان کے ہیرو گروپ کیپٹن سیسل چوہدری نے انتہائی دکھ اور غصے سے کہا کہ 1972ء کی نیشنلائزیشن پالیسی نے ان کے نانا کے بنائے ہوئے سکول کو تباہ کر کے رکھ دیا۔سکول کی موجودہ انتظامیہ خراج تحسین کی مستحق ہے کہ جس نے نیشنلائزیشن کے نام پر تباہ ہونے والے سکول کو نئے سرے سے زندہ کیا اور اس کے تعلیمی معیار کو بحال کیا۔
ڈلوال یونین کونسل کے چیئرمین راجہ ذوالفقار اسلم اور ان کے والد راجہ محمد اسلم نے ’ گفتگو کرتے ہوئے علاقے کی ترقی میں مشن ہائی سکول کے کردار کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ راجہ محمد اسلم کا کہنا تھا کہ انہیں آج تک یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ سکول غیر مسلم کا ہے کیونکہ یہ غیر مسلم ہی ہیں جنہوں نے اس علاقے میں علم کی شمع جلائی۔ راجہ ذوالفقار اسلم کا کہنا تھا کہ وہ سکول انتظامیہ سے ہر قسم کا تعاون کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے۔
جنرل صفدر کہتے ہیں کہ اس سکول کی انتظامیہ کو ہماری اور حکومت کی سرپرستی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ ہمارے بچوں کو ایک سو چوبیس سال سے سستی اور معیاری تعلیم دے رہے ہیں۔ جنرل صفدر کا خواب ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں قائم ہونے والا یہ تاریخی سکول آج ’’یونیورسٹی آف سالٹ رینج‘‘ہوتا لیکن یہ جان کر جنرل صاحب کا خواب چکنا چور ہو گا کہ مسلسل سات عشروں تک پنجاب کے ایک بہترین ہائی سکول کا اعزاز رکھنے والا بی ایم ہائی سکول ڈلوال آج یونیورسٹی آف سالٹ رینج تو دور کی بات ہائی سکول کا درجہ بھی قائم نہ رکھ سکا کہ آج یہ سکول بی ایم ہائی سکول نہیں بلکہ ایک مڈل سکول بن چکا ہے اور اس کاکریڈٹ ہمیں اور ہماری حکومت کی قابلیت کو جاتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایک سو چوبیس سال پرانا یہ عظیم تعلیمی ادارہ آج یونیورسٹی آف سالٹ رینج ہوتا اور اس کے گیٹ پر فادر سیلویسٹر کا مجسمہ نصب ہوتا جس کی اہلیان چکوال تعظیم کرتے لیکن آج ایک سو چوبیس سال بعد ہمیں اس کے بانیان اور اساتذہ کے نام تک معلوم نہیں۔سکول کے سبزہ زاروں میں آج بھی ان پرعزم انسانوں کی قبریں موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں ہمارے لیے تیاگ دیں۔یہ قبریں آج ہم سے سوال کرتی ہیں کہ’’اپنے محسنوں کے ساتھ کوئی ایسا بھی کرتا ہے؟‘‘

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ