بریکنگ نیوز

ذرا سوچئے

1A33C3AC-DB52-491B-8AAE-6E62E19ED499.jpeg

تحریر : ظاہر قریشی

اسلام کا مستقل تقاضا یہ کہ زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی اصولوں کی پابندی کی جائے۔ اسی لئیے وہ اپنی ریاست میں بھی یہی قطعی پالیسی متعین کردیتاہے تاکہ اس کی ریاست سچائی، انصاف، اور ایمانداری پر قائم ہو .اسلام ملکی قومی یا انتظامی مصلحتوں کی خاطر جھوٹ، بے انصافی اور فریب کو کسی حال میں گوارا نہیں کرتا۔
اسلامی ریاست اگر چہ زمین کے کسی خاص خطے میں ہی قائم ہوتی ہے مگر اسلام انسان کے بنیادی حقوق کو کسی خاص جغرافیائی حد تک محدود نہیں رکھتا۔ اسلام کے بنیادی حقوق تمام انسانیت کے لیے ہیں ۔
اآج کا دور معاشیات کا دور ہے اور آج کا انسان معاشی انسان بن کہ رہ گیا ہے ۔ اجتمعایت انسانی میں بھی گویا معاشیات اور اقتصادیات کو بنیادی اہثیت حاصل ہے . دنیا کےموجودہ پیچیدہ حالات اور بےرحمانہ معاشی نظام کی بدولت انسان ظلم کی چکی میں پس رہا ہے۔ غربت کے مارے انسان در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں غریب کے گھر کا چولہا جلنا محال ہے اور امیر کے گھر سے دعوتیں ختم نہیں ہوتیں۔ دولت کی حرص نے انسان کو حیوان بنا کررکھ دیا ہے۔یاد رکھا جائے اسلام لالچ کو برا کہتا ہے جس دل میں میں لالچ ہو خدا کی محبت اس دل سے نکل جاتی ہے۔ سوتن سہیلی نہیں ہو سکتی ویسے ہی دولت کی لالچ اور ایمان بھی ایک دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ لالچ جب انسان کے دل میں گھر کرتی ہے تو ایمان بےبس لاچار لونڈی کی طرح دل کے ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہے۔
امیر کے محل کے پاس بنے غریب کے جھونپڑے اور ان جھونپڑوں میں غیر محفوظ غریب کی بیٹی کی عزت یہ سب دولت کو پوجنے کا نتیجہ ہی تو ہے۔ امیرکے بچوں کے نئے نئے لباس اور غریب کے بچوں کے ننگ دھڑنگ ہڈیوں کے ڈھانچے کہ روحیں جن سے نکلنے کو بےقرار ہیں سب اسی ظالمانہ نطام کا شاخسانہ ہیں۔ امیر کی خوشی اس کی نئی گاڑی کی آمد ہے جب کے غریب کی خوشی اس کے جسم سے روح کا پرواز کر جانا ہے کیوں کہ اس کے بعد ہی اس کو اس ظالم دنیا کے رنج و غم سے نجات مل پائے گی۔
ان حالات میں ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے کے ایسا کیوں یہ ظلم کیوں جو امیر ہے اس کی امیری مستقل کیوں اور جو غریب ہو گیا پھر آہیں سسکیاں اور زلالت ہی اس کا مقدر کیوں۔
مسلمان تو نیکی کا دولہا تھا پھر ہم شیطان کے پجاری کیسے ہو گئے کیسے نہ چاہتے ہوئے ہم اس راستے پر چل نکلے جس کی منزل تبائی ہے۔ وہ مسلمان جو دنیا کی بارات کا دولہا تھا اور نیکی اس کی دلہن آج نیکی سے دور کیسے ہو گیا اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے جو درخشاں اصول بتائے تھے ہم ان کو چھوڑکر شیطان کے راستے پر چل نکلے ۔
اسلام نے سود سے منع مرفایا ہم نے اس کوغیروں کی دیکھا دیکھی جائز کر لیا ۔ شراب حرام قرار دی گئی ہم نے اسے فیشن بنا دیا زناء سختی سے منع کیا گیا ہم نے اس کو انٹرٹینمنٹ کا نام دے کرزندگیوں میں شامل کر لیا یاد رکھیے سیاستدانوں کو گالیاں بکنے اور برا بھلا کہنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا. حکمران ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے عوام جب ہم اپنے روز مرہ کے معاملات میں اسلام کو کھلا چیلنج کریں گے تو پھر تباہی تو آنی ہی ہے۔ عباسی حکمران امیہ حکمران وہ بھی ایسے ہی تھے مگر تب امت کے حالات اس قدر دلخراش نہ تھے کیوں کہ تب امت خود اسلام کے وضع کردہ اصولوں پر کاربند تھی۔ جب اسلام کے نظام کو کھلا چیلنج ہو گا پھر تباہی تو نوشتہ دیوار ہے۔
اج ہماری ہی جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ی. آج ہم روزہ صرف اس لیے رکھتے ہیں کیوں کے جدید میڈکل تعقیق نے روزے کو صحت کے لیے مفید قرار دے دیا ۔ روزہ ڈائٹنگ کا ایک زریعہ بن گیا ۔اسلام میں جبر نہیں روزے کا مقصد بھوکا پیاسا رکھنانہیں بلکہ پیچھے ایک راز پوشیدہ ہے سوچیے اگر روزہ نہ ہوتا تو امیر کو کیسے معلوم پڑتا کہ غریب کے گھر میں ہر وقت جھگڑاکیوں کے کیوں ہوتا ہے وہ کیسے جان پاتا کہ غریب کے بچے بدتمیز کیوں ہوتے ہیں . بھوک اخلاقیات اور تمیز کے سبق مٹا دیتی ہے۔ امیر روزہ ایسے رکھتا ہے جیسے کسی پر احسان کر رہا ہو گلے تک خود کو غذا سے بھر لیتا ہے حتیٰ کہ چلنا مشکل ہو جائے. ظہر کے سا تھ ہی افطار کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں طرح طرح کے پکوانوں سے دسترخوان سجا دیے جاتے ہیں اور افطار کے وقت اتنا کھا لیا جاتا ہے کے پھر اٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ پھر عید کی تیاریاں اور ان میں نمودو نما ئش . امیر کے گھر لاکھوں کی شاپنگ اور غریب کا کیا جس کے گھر دکھوں اور غموں کا ڈیرا ہے. یہ کیا ہے یار وہاں روزے کا اتنا اہتمام اور یہاں نہ سحری میں کچھ کھانے کو نہ افطاری میں وہاں رمضان کے بعد عید کی خوشی آتی ہے اور یہاں عید ایک نیا دکھ اور غم لے کے آتی ہے غریب کی عید صرف اس کی موت ہی ہے جس کے بعد وہ اس دنیا کے غموں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ غریب کی بیٹی تب خودکشی کرتی ہے جب اس کا پیٹ بھوک سے خالی ہو اور امیر کی بیٹی خودکشی تب کرتی ہے جب اس کے پیٹ میں کسی کا کچھ آ جائے۔ غریب کی بیٹی معاش کے تلاش میں باہر نکلے تو اس کو بدکار سمجھ لیا جاتا ہے اور امیر کی بیٹی باہر نکلے تو اس کو خود سے کچھ کرنے کا جزبہ کہہ کر تعریف کر دی جاتی ہے. دل تو دونوں جسموں میں ہیں پھر اتنی ناانصافی کیوں ایک جیسے جسموں کے لیے اختلاف کیوں . غریب کی بیٹی کو نمائش بنا کر ہی کیوں پیش کیا جاتا ہے۔ کیا اسلام ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کیا اسلام کے اصول ہمیں یہ سکھاتے ہیں ۔ نہیں ایسا نیہں ہے یہ تو وہ مذہب ہے جس میں برتری صرف تقویٰ پر ہے تو پھر ہم کون ہیں جنھوں نے یہ سب اصول وضع کر لیے۔ اور جب یہ سب اصول بنا کہ ہم ان پر چل نکلے ہیں تو پھر حکمرانوں سے شکایت کیسی ۔ اسلام جمہور کا جمہوری مذہب ہے اس میں نہ اونچ نیچ ہے نہ ذات پات ۔ ہم عبادت کو خدا سے ملاقات کا شارٹ کٹ سمجھتے ہیں مگر بتائیے خدا کا وہ کون سا عاشق ہے کہ جس کو خدا ملا ہو اور اس نے کانٹوں کا تاج سر پہ نہ پہنا ہو۔ خدا ملتا ہے مگر خدا صرف عبادت سے نہیں ملتا بلکہ روزمرہ کے معاملات بھی خدا سے ملنےکا زریعہ ہیں . خدا کو ڈھونڈنا ہے تو غریب کی مدد میں دھونڈو بیوہ کی آہوں اور سسکیوں میں ڈھونڈو یتیم کی کفالت اور بیمار کی بیمار پرسی خدا تک پہنچنے کا سبب بن سکتی ہے۔ پس اسلام کے نازل کردہ قانون اور اصول انسانیت کی بھلائی کے لیے ہیں‌ان پر عمل پیرا ہو کر ہم تباہی سے بچ سکتے ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ