بریکنگ نیوز

پچاس سالہ پیپلز پارٹی

wasat-ullah-khan.jpg

وسعت اللہ خان
یپلز پارٹی دو روز پہلے پچاس کی ہو کر اکیاونویں برس میں داخل ہوگئی۔لاہور کے جس گھر سے متصل خالی پلاٹ میں اس کا جنم ہوا اس گھر کے مالک ڈاکٹر مبشر حسن ماشااللہ پچانوے برس کی عمر میں بھی ذہنی اعتبار سے ساٹھے پاٹھے ہیں۔پیپلز پارٹی کے جنم دن کے موقع پر جو یادگار گروپ فوٹو کھینچا گیا اس میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید انتالیس سالہ ذوالفقار علی بھٹو کے زانو پر بیٹھے ہیں۔ویسے دو روزہ کنونشن میں لگ بھگ تین سو مندوب شریک ہوئے تھے۔مگر یہ تین سو کون تھے کسی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں۔شائد پیپلز پارٹی کے پاس بھی نہیں۔
ایک تاسیسی رکن عبدالرزاق سومرو کی یادداشت کے مطابق اس کنونشن میں جے اے رحیم ، ملک حامد سرفراز ، حنیف رامے ، معراج خالد ، ڈاکٹر مبشر حسن ، شیخ محمد رشید ، کمال اظفر ، ملک شریف ، حکیم عبداللطیف ، میاں محمد اسلم ، محمد صفدر ، آفتاب ربانی ، عبدالوحید کٹپر ، شوکت علی لودھی ، میر رسول بخش تالپور ، معراج محمد خان ، بیگم عباد احمد ، خورشید حسن میر ، حیات محمد خان شیر پاؤ ، چاکر علی جونیجو ، مصطفی کھر ، حفیظ پیرزادہ ، مجتبی کھر ، احمد رضا قصوری ، حق نواز گنڈاپور ، جہانگیر خان ، عماد حسین جمالی ، احمد دہلوی ، سردار پیر بخش بھٹو ، میر حامد حسین ، ملک نوید احمد بھی شریک تھے۔ہر مندوب نے انٹری کارڈ کی مد میں دس دس روپے بطور کنونشن فیس ادا کیے۔
تیس نومبر اور یکم دسمبر کو دو دن میں چار سیشن ہوئے۔ تین نام تجویز ہوئے۔پیپلز پروگریسو پارٹی ، پیپلز پارٹی ، سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان۔اتفاق پاکستان پیپلز پارٹی پر ہوا۔عام طور پر سیاسی جماعتوں میں بالائی عہدہ صدر کہلاتا تھا۔مگر اتفاق ہوا کہ پیپلز پارٹی کا صدر نہیں چیئرمین ہوگا ( تب شائد چیئرمین ماؤزے تنگ ذہن میں ہوں گے )۔
پیپلز پارٹی میں لوگوں کو نکالنے کا رواج کبھی بھی نہیں رہا۔جو لوگ تاسیسی کنونشن میں شریک ہوئے ان میں سے متعدد نے بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں ہی راستے جدا کر لیے۔کچھ بھٹو کو پسند نہ آئے ، کچھ کو بھٹو کا انداز پسند نہ آیا۔سب سے پہلا باغی احمد رضا قصوری تھا۔پھر معراج محمد خان ، پھر پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریہ ساز جے اے رحیم ، پھر تہتر کے آئین کے ایک معمار محمود علی قصوری ، پھر غلام مصطفی کھر۔بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد بھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔
مگر جس جس نے بھی کسی بھی وجہ سے بھٹو کی زندگی یا بعد میں پیپلز پارٹی چھوڑی وہ پھر سیاست میں بہت دور تک نہ چل پایا۔ احمد رضا قصوری اور محمود علی قصوری مرحوم تحریک ِ استقلال میں چلے گئے۔معراج محمد خان مرحوم نے قومی محاذ ِ آزادی بنایا اور آخری دور میں اپنی پارٹی تحریکِ انصاف میں ضم کردی اور پھر نکال لی ، ، مولانا کوثر نیازی مرحوم کی پروگریسو پیپلز پارٹی جانے کہاں ہے۔غلام مصطفی کھر کنونشن مسلم لیگ میں گئے اب سنا ہے طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے بعد تحریک ِ انصاف میں علامتی طور پر شامل ہیں۔
حنیف رامے مرحوم نے مساوات پارٹی بنائی اور پھر وہ کہیں کھو گئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم نے سندھی بلوچ پشتون کنفیڈرل فرنٹ کا مختصر تجربہ کیا اور پھر سیاست ہی چھوڑ دی۔ غلام مصطفی جتوئی مرحوم کی نیشنل پیپلز پارٹی کدھر گئی۔ ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کا سندھ نیشنل فرنٹ کبھی مسلم لیگ ن میں ضم ہو جاتا ہے تو کبھی تحریک ِ انصاف میں۔فاروق لغاری مرحوم کی ملت پارٹی مسلم لیگ ق میں ضم ہو گئی۔ آفتاب شیر پاؤ کی قومی وطن پارٹی گھر کی پارٹی ہے۔
فیصل صالح حیات کی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا کوئی اتا پتا نہیں مگر بھائی فیصل گھوم گھام کے پھر پیپلز پارٹی میں آ گئے۔بی بی اور مرتضی میں سیاسی طور پر نہ بن پائی لہذا پی پی شہید بھٹو وجود میں آ گئی۔اب یہ پارٹی ستر کلفٹن اور المرتضی لاڑکانہ کے درمیان پائی جاتی ہے۔جن کے گھر میں پیپلز پارٹی پیدا ہوئی وہ ڈاکٹر مبشر حسن بھی اب شہید بھٹو پارٹی میں ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ