بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (5)

AA-5.jpg

تحریر: امام بخش

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی پانچویں قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، چٹھی ، ساتویں ، آٹھویں ، نویں ، دسویں اور گیارہویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

جس وقت میاں محمد نواز شریف اور اِن کے حواری محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو بے بنیاد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز (المعروف سوئس کیسز) میں اپنی من چاہی سزا دلوانے کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم سے رابطے میں تھے۔ بالکل اُسی وقت اِن کی طرف سے سوئٹزر لینڈ میں سوئس کیسز کی تفتیش کرنے والے سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی تھیں۔ یہ ملی بھگت کی کاوشیں اُس وقت سامنے آئیں، جب سوئٹزر لینڈ میں پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ اور شریف حکومت کے تعینات کردہ وکلاء جیکؤس پاتھن، ڈومینک ہینچوز اور فریسنس راجر میشلی کی 25 مارچ 1998ء کو جنیوا میں ہونے والی انتہائی خفیہ ملاقات کے سیکرٹ منٹس میڈیا کے ہاتھ لگنے سے منظر عام پر آ گئے۔

انویسٹیگیٹنگ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے شریف حکومت کے تعینات کردہ وکلاء کی میٹنگ سے متعلقہ نوٹس کی سمری سے پتہ چلتا ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ پر دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں کہ ہر صورت میں محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بیگم نصرت بھٹو کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سوئس جج بہت زیادہ خوفزدہ تھے کہ اگر اس خفیہ ملاقات کا علم میڈیا کو ہو گیا تو ان کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ سوئس جج کے مطابق اس کیس کے حوالے سے اس پر شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا تھا مگر وہ پریشر کے باوجو افورڈ نہیں کر سکتے تھے کہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر نامزد ملزمان محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری، بیگم بھٹو اور دیگر کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کر سکیں، جس کے بارے میں وہ خود مطمئن نہیں تھے۔ اس صورت حال میں اگر وہ مقدمے کی کاروائی شروع کریں تو اُنھیں بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے خفیہ ملاقات کے سیکرٹ منٹس کے نوٹس کے طشتِ ازبام ہونے کے بعد جب میڈیا نے نواز شریف کی حکومت کے تعینات کردہ مرکزی وکیل جیکؤس پاتھن سے رابطہ کیا تو وہ اس بات پر حیران تھے کہ یہ ملاقات تو خفیہ رکھی جانی تھی، پھر پتہ نہیں کہ میڈیا کو کیسے علم ہو گیا؟ جیکؤس پاتھن نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ واقعی اُن کی پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ کے ساتھ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے خفیہ ملاقات ہوئی تھی، جس میں یہ سب گفتگو کی گئی تھی بلکہ اس کے علاوہ بھی ہم نے تفتیشی جج سے کئی ملاقاتیں کی تھیں کیونکہ پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ کا کہنا تھا کہ ان پر سیف الرحمٰن کا بہت زیادہ پریشر تھا کہ وہ سوئس حکام اور جج سے ملاقاتیں کریں اور جتنا جلدی ہو سکے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کر کے سزا دلوا دی جائے۔

جیکؤس پاتھن کا یہ اقرار بھی میڈیا پر موجود ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ نے پریشر کے باوجود سزا دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کیسز میں سرے سے کوئی ثبوت موجود ہی نہ تھا، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ نامزد ملزمان نے مذکورہ کمپنیوں سے کمیشن وصول کیا ہو۔ انھوں نے مزید واضح کیا کہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا سے معاہدوں کی تفصیلی شرائط نومبر 1993ء سے پہلے فائنل ہوئیں، جب نوازشریف کی حکومت تھی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت بعد میں آئی۔ اِس کے علاوہ اُن کو یہ بھی ماننا پڑا کہ سویئٹزرلینڈ میں یہ قطعاً پریکٹس نہیں ہے کہ کوئی سفیر ججوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ملاقاتیں کرے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں پیپلز پارٹی مخالف سیاستدانوں سمیت شریفین، میڈیا اور اپنے تئیں صادق و امین فرشتے ججوں کے پروپیگنڈے کے برعکس سوئس کورٹ میں یہ مقدمات (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیس) سرے سے تھے ہی نہیں، فقط انکوائری تھی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی۔ شروع میں جب محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے ان فضول اور بے بنیاد مقدمات کی پیروی نہ کی تو انویسٹیگیٹنگ جج نے تفتیش میں مدد نہ کرنے پر ایک ایڈورس فائنڈنگ دی۔ آصف علی زرداری تو پاکستان میں جیل میں قید تھے، محترمہ بینظیر بھٹو نے جب پیروی کی تو سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں کوئی شواہد نہیں ملے، اس لیے یہ مقدمات فائل نہیں کیے جا سکتے۔

محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر سوئس کیسز میں چھ ارب روپے کی کرپشن کے اِلزام میں کئی گنا زیادہ رقم قومی خزانے سے برباد کر دی گئی۔ سیف الرحمٰن نے بھاری فیسوں پر ملکی اور غیر ملکی آفیشل ہائر کیے۔ احتساب بیورو کے آفیشل نے انکوائری کے نام پر سوئٹرز لینڈ، انگلینڈ، امریکہ اور سپین کے دورے کیے اور اس مد میں کروڑوں ڈالرز بے دردی سے پھونک دیئے گئے۔ جس کا جب دل چاہا انکوائری کے بہانے غیر ملکی سیر سپاٹے پر نکل گیا۔ مزیدبرآں، میڈیا پر شریفوں کا مکمل کنٹرول تھا، صحافیوں کا ایک پورا لشکر ان کے اشارہ آبرو کا منتظر رہتا تھا، سوئس کیسز کے بارے میں مسلسل چیختی چنگھاڑتی شہ سرخیاں شائع ہو رہی تھیں۔ اس سلسلے میں اخبارات کے پورے پورے صفحات پر اشتہارات شائع کیے جا رہے تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ججوں سے ملی بھگت کی یقینی طور پر بھاری قیمت ادا کی گئی ہو گی۔ اگر سوئس کیسز کی چھ ارب روپے کی جھوٹی کرپشن کہانی کا شریفوں کی کرپشن سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ ان کے چھوٹے سے ندی پور پاور پلانٹ پروجیکٹ کے مقابلے میں بھی اُونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔

12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے آتے ہی کرپشن کا نعرہ پھر بلند ہو چکا تھا اور قومی احتساب بیورو کو تحلیل کر کے نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو (نیب) قائم کیا گیا، جس کے تحت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر پریشر ڈالنے کے لیے نئے مقدمات بنانے کے ساتھ ساتھ پرانے مقدمات بھی چلتے رہے۔ 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشت ازبام ہونے پر سپریم کورٹ نے ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور ان مقدمات کی از سر نو سماعت کا حکم سنایا۔ جس کے بعد ان مقدمات کی سماعت احتساب عدالت میں شروع ہو گئی۔

پرویز مشرف نے بھی آصف علی زرداری کو اپنے دورِ اقتدار میں پانچ سال تک پابند سلاسل رکھا۔ آصف علی زرداری بالآخر 22 نومبر 2004ء کو اپنی مسلسل اسیری کے آٹھ سال اور اٹھارہ دنوں کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے۔ (اس سے قبل بھی وہ بغیر کسی مقدمے کے ثابت نہ ہونے کے باوجود 1990ء سے 1993ء تک ساڑھے تین سال کی بے گناہ جیل کاٹ چکے تھے۔)

5 اکتوبر 2007ء کو پرویز مشرف کی حکومت نے 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے قومی احتساب بیورو کی جانب سے عوامی اور سرکاری عہدے رکھنے والوں کے خلاف عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) جاری کر دیا۔ 12 اکتوبر 2007ء کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ این آر او سے متعلق آئینی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک کسی کو بھی اس آرڈیننس کی روشنی میں رعایت نہیں دی جا سکتی۔ 28 فروری 2008ء کو صدر مشرف کی طرف سے جاری کردہ عبوری آئینی حکم کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے اسے بحال کر دیا۔

4 مارچ 2008ء کو سندھ ہائی کورٹ نے این آر او کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف غیر ممالک میں دائر احتساب ریفرنسس ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے سوئس کیس سے متعلق کاروائی روک دینے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھ دیا۔ اس کے بعد سوئس حکام نے ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز سے متعلق کاروائی روک دی۔ سوئس انویسٹیگیشن عدالت نے اپنے حتمی فیصلے میں لکھا کہ ملک قیوم کا خط آتا یا نہ آتا مگر ہم اس سے قبل گواہوں کے بیانات اور غیر ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں ان کیسز کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ سوئس عدالت نے مقدمات کو بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیا۔ سوئس عدالت کے فیصلے کے بعد پراسیکیوٹر نے لکھا تھا کہ دس دن کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل فائل کی جا سکتی ہے، اس کے بعد یہ کیسز کو بند تصور کیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے اپیل نہ ہونے پر یہ مقدمات ہمیشہ کے لیے بند کر دیئے گئے۔

3 دسمبر 2009ء کو این آر او کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فُل کورٹ بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ 7 دسمبر کو سماعت شروع ہوئی اور 16 دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ نے این آر او کے بارے میں دائر درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ این آر او کے تحت جن فیصلوں کے تحت مقدمات ختم کر دیئے گئے تھے وہ تمام فیصلے اب کالعدم ہو گئے ہیں۔ عدالت نے اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم دے دیا۔

آصف علی زرداری اپنے خلاف مقدمات میں ضمانت پر تھے۔ این آر او کے ذریعے یہ مقدمات ختم ہوئے مگر این آر او کو عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد یہ مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے تھے۔ سوئس کیسز بھی بحال ہونے کے بعد راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 بھی میں چلتے رہے۔ اس عدالت نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنا دیا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا، جس کی تصدیق ایک آڈٹ فرم کر چکی ہے۔ سوئس کیسز کے اہم گواہ اور برسوں انکوائری کرنے والے افسر طارق پرویز کو عدالت میں تسلیم کرنا پڑا کہ یہ مقدمات نواز شریف کے دوسرے دور میں سیف الرحمٰن نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بنائے تھے۔ طارق پرویز کو یہ بھی ماننا پڑا کہ تحقیقات کے دوران ریفرنسز میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی قانون میں دئیے گئے طریقہ کار کے مطابق تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ اِن کے سینیئرز کی طرف سے فوٹو کاپیاں دی گئی تھیں۔ جن پر اوریجنل دستخط اور سٹیمپس موجود نہیں تھیں اور اسے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے دستخط کر کے ان کی تصدیق کر دے، جو انھوں نے کر دی تھی۔ طارق پرویز نے یہ بھی بتایا کہ ان ریفرنسز میں کوئی ایک بھی ایسی دستاویز نہیں لگائی گئی تھی، جس سے یہ ثابت ہوتا کہ جینوا میں کسی عدالت کے سامنے یہ کیسز چلے تھے۔ سوئس مجسٹریٹ کے سامنے محض تحقیق کے لئے کاروائی ہوئی تھی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور اسے بھی بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ طارق پرویز کے بقول مجسڑیٹ کے سامنے بھی تحقیقات اس خط کے بعد ہوئیں تھیں، جو اٹارنی جنرل محمد فاروق نے سوئس حکومت کو لکھا تھا اور ان تحقیقات کو بھی بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ طارق نے یہ بھی عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ اس انکوائری کے دوران اس کے سامنے کوئی ایسا ثبوت نہیں مِلا، جس سے ثابت ہوتا کہ ملزمان نے کمیشن کھایا تھا، منی لانڈرنگ کی تھی یا پھر کمپنی کو غیر قانونی مراعات دی تھیں۔ ایک دوسرے گواہ چیف کلکٹر کسٹم ساؤتھ خلیل احمد نے عدالت میں تمام الزامات کی تردید کی اور یہ بھی بیان دیا کہ اسے جنیوا میں سوئس مجسٹریٹ کی عدالت میں منی لانڈرنگ کے کیس کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا۔ جہاں اس کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کے بیان کے بعد یہ مقدمات وہاں بھی ختم کر دیئے گیے تھے کیونکہ سوئس مجسٹریٹ کی رپورٹ کے بعد جینوا کے اٹارنی جنرل نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان مقدمات کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا کیونکہ اس میں کمیشن لینے یا منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا- محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کا نام سوئس کیسز سے خارج ہو گیا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔

احتساب عدالت کے 30 جولائی 2011ء کو دیئے جانے والے سوئس کیسز کے فیصلے کی اتنی بڑی خبر کو پاکستانی اخبارات نے کس طرح رپورٹ کیا؟ کتنی بڑی شہ سُرخیاں لگائیں؟ شہ سُرخیوں کے الفاظات کیا تھے؟ اور یہ خبر کن صفحات پر چھاپی گئی؟ آیئے، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ قلمی مجاہدین نے عدالتی فیصلے کو کیسے اپنی خواہش کے مطابق خبر میں ڈھال کر قارئین تک پہنچایا تھا۔ اِنتہائی چھوٹے فونٹ میں روزنامہ جنگ کی خبر دیکھنے کے لائق ہے، جو اخبار کے صفحہ نمبر 40 پر چھاپی گئی اور خبر میں ایک عام ریفرنس یعنی اے آر وائی گولڈ کا ذکر کیا۔ اس خبر میں ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز ایسے اہم مقدمات کا ذکر تک نہیں۔ خبروں کے لِنکس مندرجہ ذیل ہیں۔ تصدیق کے لیے خبروں کے اِمیجز (تصویروں) کے آخر میں یو آر ایل (لِنک) بھی موجود ہیں:

https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-express-july-31-2011.png
(ایکسپریس)

https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-nawaiwat-july-31-2011.gif
(نوائے وقت)

https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-jang-july-31-2011.png
(جنگ)

اگلی قسط میں سوئس مقدمات کے شروع سے لے کر آخر تک رہنے والے حکمرانوں کے اِن مقدمات کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر یا احوال کا جائزہ لیں گے۔ یہ وہ حکمران تھے، جنھوں نے یہ مقدمات شروع کیے اور بعد میں چلاتے رہے۔ (جاری ہے)۔

پچھلی قسط ——- اگلی قسط

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی پانچویں قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، چٹھی ، ساتویں ، آٹھویں ، نویں ، دسویں اور گیارہویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ