بریکنگ نیوز

پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی

176487_6689020_updates.jpg

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے اور اس میں کسی حکومتی شخصیت کا نام نہیں ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالت نے 30 روز میں ماڈل ٹاؤن رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی ہدایت کی جب کہ عدالت کا حکم آتے ہی وزیراعلیٰ پنجاب نے رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا اور حکومت نے رپورٹ پبلک کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ہی منظر عام پر نہیں لائی گئی تھی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک جج پر مشتمل ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے اور اس رپورٹ میں جن شہادتوں پر انحصار کیا گیا ہے وہ غیر متعلقہ ہے۔

لاہورہائیکورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم

انہوں نے کہا کہ پنڈی میں بیٹھے ہمارے مخالف شیطان نے رپورٹ سے متعلق طوفان کھڑا کر رکھا تھا لیکن واضح طور پر کہتا ہوں کہ اس رپورٹ میں کسی حکومتی شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ رپورٹ میں موقع پر موجود کسی پولیس اہلکار کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ اس رپورٹ میں ایک لفظ نہیں جس میں وزیر اعلیی پنجاب کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہو۔

صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق مجھ پر الزام ہے کہ میں نے پولیس کو بیرئیر ہٹانے کا حکم دیا لیکن رپورٹ میں نہیں کہیں نہیں لکھا کہ میں نے پولیس کو حکم دیا ہو کہ مظاہرین پر فائرنگ کر دے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قانون کی نظر میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ غیر موثر ہے کیونکہ اس رپورٹ میں ثبوت یک طرفہ ہیں، رپورٹ شہادت کے طور پر نہیں پیش کی جا سکتی۔

‘حکومت ماڈل ٹاؤن رپورٹ کے راستے میں رکاوٹ بنی تو احتجاج کا آپشن موجود ہے’

انہوں نے کہا کہ جسٹس خلیل الرحمان نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور کوشش کی اس پر رائے دیں، مناسب ہو گا کہ رپورٹ ون مین انکوائری ٹریبونل کو بھیجی جائے جو معاملے کو دیکھے اور رائے قائم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ قاری خود سانحے کے ذمے دار کا فیصلہ کرے، بہت سے قاری تو علامہ صاحب آپ کو بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔

وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستان عوامی تحریک کی طرف سےکوئی شہادت نہیں جب کہ مختلف ایجنسیز کی رپورٹ میں دونوں طرف سے فائرنگ کا ذکر ہے، ایجنسیوں کی رپورٹ کو اس رپورٹ کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ رپورٹ میں یہ جا بجا موجود ہے کہ پاکستان عوامی تحریک نے لوگوں کو اکٹھا کیا، وہ کون تھا جو ساری رات یہ کہتا رہا شہادت کا وقت آگیا ہے باہر نکلیں؟ یہ نہیں بتایا گیا کہ لوگوں کو اکٹھا کس نے کیا؟، لیکن بے شمار شہادتیں میڈیا کے پاس ہیں اور کلپس بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تصادم کی صورتحال پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے پیدا کی کیونکہ انہیں 14 اگست کے لانگ مارچ کے لیے لاشیں درکار تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ ایک انتظامی فیصلہ ہے اور اس پر تنقید کی جا سکتی ہے۔

جسٹس باقر نجفی رپورٹ کے چند نکات
جسٹس باقر نجفی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمشنر لاہور نے منہاج القرآن کے ارد گرد تجاوزات کی رپورٹ پیش کی، کمشنر لاہور نے بیریئر لگانے کے غیر قانونی اقدامات کی رپورٹ پیش کی، اجلاس میں تجاوزات ہٹانے کے لیے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا

رپورٹ کے مطابق طاہرالقادری نے23 جون 2014 کو راولپنڈی تا لاہور لانگ مارچ کا کہا جب کہ رانا ثنا نے کہا کہ طاہرالقادری کو مقاصد حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

جسٹس باقر نجفی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جگہ ڈاکٹر توقیر شاہ شریک ہوئے، اجلاس میں ڈاکٹر توقیر شاہ نے برئیر ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی، آپریشن کے فیصلے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی رائے نہیں لی گئی۔

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات بھی کرائی گئی لیکن اب تک جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرعام پر نہیں لائی گئی تھی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ