بریکنگ نیوز

گولڈن جوبلی عظیم الشان جلسہ کی کچھ یادیں

Rab-Nawaz.jpg

تحریر ربنواز بلوچ
نہ نہ کرتے صدر پیپلز یوتھ سندھ جاويد ناياب لغاری بھائی عابد لغاری کے ساتھ، جاوید بھائی کے بے حد اصرار پر ایک دن کے نوٹس پر تیار ہوکر نکل پڑے
پہلا پڑاؤ حیدرآباد رہا
وہاں سے دوست رؤف برڑو کو ساتھ لیا
اور سفر کی شروعات ہوئی
‎‏اگلا پڑاؤ خیرپور تھا جہاں سے پانچویں دوست مھران ناریجو کو ساتھ لیا اور لمبے سفر کی شروعات ہوئی
واضح رہے جاوید بھائی مخلف انسان ہونے کے ناطے کسی دوست کو تکلیف نہیں دیتے ہیں
انہوں نے کہا کہ سفر لمبا ہے کوشش کریں کہ زیادہ سفر طے کرلیا جائے
پنوں عاقل میں چائے پانی پے کر رات رحیم یار خان پہنچے
‏رحيم یار خان میں نون لیگی دوست سے گپ شپ ہوئی (نون لیگ والے مولوی خادم والی ایپیسوڈ سے بہت ڈرے ہوئے ہیں) انہوں نے خود بتایا جنوبی پنجاب میں نون لیگ بہت بیک فٹ پر ہے
جنوبی پنجاب کے اکثر اضلاع میں نون لیگ کے امیدوار بہت کمزور ہیں(نون کا یہ دوست مرکزی عہدے دار ہے)
‏کہا جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی میں مقابلہ ہوگا
پیپلزپارٹی کو ایج حاصل ہے
باقی سینٹرل پنجاب میں پیپلزپارٹی کو بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے
وہاں کچھ گھنٹے آرام کے بعد صبح سویرے ہم نے سفر کو کنٹینیو کیا. 8 بجے ہلکے پھلکے ناشتہ کے بعد نکل پڑے
‏آج ہمیں معلوم نہیں تھا
جاوید بھائی ہمارے ساتھ کچھ ایسا کرنے والے ہیں
جو شاید زندگی بھر یاد رہے گا
8 بجے ہلکے پھلکے ناشتہ کے بعد نکلے تھے
4 گھنٹے مسلسل سفر کیا
پھر 4 سے 6 گھنٹے ہوگئے
گاڑی کو تو کھانا دیا پر ہمیں کھا
بس آگے تھوڑا سا چل کر رکتے ہیں
وہ تھوڑا تھوڑا آگے آگے کرتے
‏شام ہوگئی
ہم سب اب چپ ہوگئے
ہم سب کو یہ تو پتا تھا
جاوید بھائی جب سفر پر نکلتے ہیں تو کہتے ہیں سفر مکمل کرلیں پھر کہیں بیٹھیں گے
کئی بار ایسا ہوا ہے کہ
ہمیں کہا لاڑکانو چلتے ہیں
واضح رہے کراچی سے لاڑکانو تقریباً 450 کلومیٹر ہے
لاڑکانو پہنچ کر، کام نمٹانے کے بعد کہتے ہیں
‏یار یہاں کیا رکنا واپس چلتے ہیں، مطلب ایک دن میں 900 کلومیٹر سفر مکمل کرکے گھر واپس چلتے ہیں،
لیکن اس بار کچھ زیادہ ہی ہوگیا جب شام ہوگئی تو ہم سب خاموش ہوگئے
ہمارے احساسات کو سمجھ گئے
کہا اچھا اب جو بھی ریسٹورنٹ آیا رکتے ہیں
لیکن ہمارے بُرے نصیب گوجرہ انٹرچینج کے بعد کوئی ریفریشمنٹ پوائنٹ نہیں تھا
پنڈی بھٹیاں انٹرچینج پر خود ہی رکے
‏وہاں پہنچے تو بھوک مرچکی تھی
ہم بے حال تھے
تھوڑا بہت کھانے کے بعد ہمارا سفر پھر شروع ہوچھا تھا
کراچی میں موسم نارمل تھا
کلر کہار کے پھاڑ بل کھاتا راستہ طے کرنے کے بعد ہم شام 9 بجے اسلام آباد کے قریب تھے
موٹر وے سے اترتے ہی ہمارا استقبال ٹوٹی بھوٹی سڑک نے کیا
‏سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ پوچھا تو پتا چلا ایک سال پہلے روڈ بننے کے بعد شوباز اور وفاقی حکومت کو یاد آیا کہ میٹرو کو ایکسٹینڈ کیا جائے
اسی لئے کشمیر ایکسپریس وے پر میٹرو کا روٹ بنایا جارہا
اسی وجہ سے ٹریفک بہت زیادہ تھی
اللہ اللہ کرکے ہم اپنی منزل پر پہنچے
‏کیونکہ ہم کراچی سے چلے تھے
ہمیں موسم کا اندازہ تو تھا
لیکن ہماری سوچ سے کچھ زیادہ موسم میں خنکی تھی
پانی کو ہاتھ لگاتے ہاتھ کو کھینچ لینا آگے آنے والے دنوں کیلئے ہماری پریکٹس کا حصہ بننے والا تھا
وہ رات قدرے ٹھنڈے موسم میں گزارنے کے بعد گھومنے کا پروگرام تھا
‏جیالوں سے ملاقاتیں، لیڈرشپ سے ملاقاتیں، اور جلسہ کی تیاریاں وغیرہ
پہلے دن ہم پہنچ کر قدرے مایوس ہوگئے تھے
کیونکہ ہمیں کچھ ایکٹیویٹی نظر نہیں آرہی تھی
ہم پیپلزپارٹی کی چند بہت ایکٹو خواتین میں سے ایک ادی ڈاکٹر نفیسہ شاہ سے ملاقات کرنے ان کے لاجز پہنچے تھے
جہاں ان سے سیر حاصل گفتگو ہوئی
بعد ازاں
اس شام جب ہم پرانے جیالا محترم خلیل صاحب کے گھر پہنچے، تب پرانے جیالا نے ہمیں راولپنڈی، اسلام آباد کی پرانی سیاسی یادوں سے
‏سے اگاہ کیا
اپنے بارے بتایا ہم سے پوچھا
سوشل میڈیا کی وجہ سے ہمارا پران تعلق تھا
ان کے ہونہار جیالا بیٹے راولپنڈی اسلام آباد کے مشہور جیالا ہیں
دونوں سافٹویئر انجنيئر ہیں
عقیل بھائی اور سجیل بھائی نے موبائل پر بھٹو کوٹز کے بعد سی ایم مائسٹریو گیمیں بنائی ہیں
‏جو میرے خیال میں پیپلزپارٹی کے کسی جیالا کے جانب سے پہلی کوشش تھی
بہت اعلٰی کھانے اور سیاسی موضوعات پر گپ شپ کے بعد ہماری ملاقات کا اختتام ہوا
اگلے دن موسم سے کچھ واقفیت حاصل ہوچکی تھی تب ہم نے سوچا کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنایا جائے
آج ہمیں اپنے بھائی ماجد آغا نے بھی جوائن
‏کرلیا تھا
تب ہم مری کیلئے نکل پڑے
وہاں تو سردی کچھ زہادہ تھی
لیکن حسب معمول ویکنڈ کی وجہ سے مری کے مال روڈ پر کافی رش تھا، لیکن ہم نے اس دن کو خوب انجوائے کیا
رات مری میں دوست جی ایم برڑو نے بھی جوائن کرلیا تھا
رات مری میں گزارنے کے بعد جب ہم واپس آنے لگے تو مری اور گردونواح
‏میں پیپلزپارٹی کے بینرز اور پینافلیکس نظر آنے لگے تھے
جب اسلام آباد پہنچے تو عجیب سی خوشی محسوس ہورہی تھی
کیونکہ پہلے دن کے مقابلے میں آج جگہ جگہ پیپلزپارٹی کے بینرز آویزاں تھے
لیڈرشپ کی قدآور تصاویر تھیں
اسلام آباد لاڑکانو جیسا لگ رہا تھا.
‏شام میں جلسہ وزٹ کیا تو مزید تسلی ہوگئی
ہمیں نظر آرہا تھا
نوجوان لیڈر جو خود ہدایات دے رہے تھے
کام کی نگرانی خود کررہے تھے
ہر چیز کو کئی بار چیک کیا جرہا تھا
اور پھر رات کو اسلام آباد کے جیالا سر عابد صاحب کے کافی شاپ پر بیٹھک ہوئی
جو میری سیاسی زندگی کی انمول میٹنگ تھی
‏اس میٹنگ میں ہمارے ہر دلعزيز جیالا رہنما سینیٹر سعید غنی بھائی، پروفیسر طاہر ملک، عثمان منظور، علی جمیل حیدر و دیگر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا
وہاں سے پیپلزپارٹی کے کیمپس کا دورہ کیا
لوگوں کے رسپانس کے بعد
اب ہمیں پوری تسلی تھی کے یہ جلسہ شاندار ہوگا

اگلا دن ہمارے مصروف دن تھا
‏صدر پیپلز یوتھ سندھ جاوید نایاب بھائی کی کمینٹ مینٹس کے باعث بہت سے جیالا کو ٹائم نہیں دے پائے تھے
جیالا سے ملتے وقت ان کی محبت کو دیکھ کر ہمیں یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ ہم سندھ سےآئےہیں
ہمیں ایک فیملی جیسا احساس ہورہا تھا
کیمپس ہو یا گراؤنڈ ہمیں جیالا بھائیوں نے دل پر بٹھائے رکھا
‏کل جلسہ تھا
آج کا دن کام کام کام اور صرف کام کیلئے تھا
صبح سویرے اٹھ کر جب گراؤنڈ پہنچے تو ہر طرف ترنگوں کی بھار تھی
لوگوں میں جوش تھا جذبہ تھا
نوجوان، مرد و خواتین سب پرامید تھے
کہ ہم پریڈ گرائونڈ پر تاريخ رقم کریں گے
جو سیاسی اداکار پیپلزپارٹی کو دفن کیئے بیٹھے تھے
‏کل بروز منگل 5 دسمبر انکے بے تکے تجزیوں کو دفن کرنا تھا
کام کام اور کچھ کیمپس کے دورے کے بعد شام میں جلسہ سے پہلے ایک اور منی جلسہ ہونے والا تھا
جسے فکری نشست بھی کہا جاسکتا ہے
جگہ پھر وہی
عابد بھائی کی کافی شاپ اور وہاں موجود پیپلزپارٹی کی قیادت بشمول
‏سینیٹر سلیم مانڈوی، سینیٹر روبیناخالد، سینیٹر سحر کامران، سینیٹر مرتضٰی وہاب، حیدر زمان قریشی، ناصر شاہ صاحب، جاوید نایاب کے ساتھ ساتھ 60 کے قریب جیالا جو سوشل ميڈیا پر ایکٹو ہیں
کے ساتھ بہت عمدہ بات چیت، سوال جواب کا دور رہا
لیڈرشپ نے تجاویز لیں، جیالا نےبہت اچھی اچھی تجاویز دیں
‏یہ نشست رات دیر تک جاری رہی
اور پھر آج تاريخ ساز دن کا آغاز ہوچکا تھا
ہم قریب 10 بجے جلسہ گاہ پہنچ چکے تھے
لوکل پنجاب پولیس، کیپیٹل پولیس، و ٹریفک پولیس کا تعاون نہ ہونے کے برابر تھا
جیالا کے قافلے آنا شروع ہوچکے تھے
آج کے دن تاریخ لکھی جارہی تھی
جو سمجھتے تھے پریڈ گرائونڈ
‏نہیں بھرا جائے گا
دوپھر تک پریڈ گرائونڈ بھرا جاچکا تھا
اسلام آباد ہائی وے، کشمیر ہائے وے جام ہوچکے تھے
پیپلزپارٹی کا بہت بڑا قافلہ گجر خان کے قریب کنٹینر لگاکر ان کا راستہ بند کردیا گیا تھا
ان سب کے باوجود جلسہ گاہ بھرچکا تھا
لوگوں کا سمندر پریڈ گرائونڈ پر موجود تھا
‏آزاد ذرائع، میڈیا والے پ پ پ کو مبارکباددیتےنظر آئے، صحافی حضرات و دیگر جماعتوں کے سیاسی کارکن بھی داد دے رہے تھے
سخت سردی کے باوجود لوگ بلاول بھٹو کی تقریر ختم ہونے تک موجود رہے
جلسہ میں عارف لوہار کی پرفارمنس پر زرداری صاحب کا رقص بہت سوں کو مایوسیوں کے گھرے سمندر میں غرق کرگیا

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ