بریکنگ نیوز

قومی ووٹرڈے اور ہماری ذمہ داریاں

Capture-1.jpg

مصنف: محمد مرتضی نور
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2016میں 7 دسمبر کو قومی ووٹر ڈے قرار دیا اور اس تاریخ کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ اسی تاریخ 7دسمبر 1970کو پاکستان میں پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات منعقد ہوئے۔آزادی کے 23سال بعد نصیب ہونے والے اس حق کی حفاظت اور اسکی قوت سے اپنے جمہوری حق کی چھاؤں تلے اچھے مستقبل کی جانب سفر کو جاری و ساری رکھنا ہی اس دن کو منانے کی اصل روح ہے۔
جمہوری معاشرے میں ہر بالغ شخص کے پاس ووٹ وہ طاقت ہے جسکے صحیح استعمال سے وہ اپنی پسند کی حکومت بنا سکتا ہے، جمہوری شہریت کی یہ چابی گھما کر کسی اچھی حکومت کو تسلسل دیا جا سکتا ہے ،اور کسی خراب حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا ہے ۔نیز اچھی حکمرانی کا بہتر خاکہ پیش کرنے والی کسی نئی پارٹی کو بھی آزمایہ جا سکتا ہے۔
ووٹ کی طاقت میں ایک منفرد سماجی مساوات پائی جاتی ہے جیسے کہ مرد کا ووٹ عورت کے ووٹ کے برابر ہوتا ہے، امیر کا ووٹ غریب کے ووٹ کے برابر ہوتا ہے، شہری کا ووٹ دیہاتی کے ووٹ کے برابر ہوتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ووٹ کے حق میں برابری تک کا سفر طویل، مبر آزما اور کٹھن تھا،ابتداء میںیہ حق جائیداد اور وراثت سے مشروط تھا۔ پھر اس کا دائرہ کار خواتین تک بڑھا، رائے دہندگان کی عمر بھی 21 سے 18سال اور بعض ممالک میں 16تک کرنے کی بھی اپنی جدو جہد ہے۔
اس سال قومی ووٹر ڈے کا اہتمام انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 2018الیکشن کا سال ہوگا ،موجودہ حکومت مئی 2018میں اپنے پانچ سال پورے کرے گی اور 60دنوں کے اندر الیکشن کا انعقاد کروایا جائے گا۔ 2018کے الیکشن کا انعقاد 2017کی مردم شماری کے بعد انتہائی اہمیت کے حامل ہوگیا ہے کیونکہ مردم شماری کی بنیاد پر قومی سیاست کے مستقبل اور قومی وسائل کی تقسیم کا فیصلہ کیا جائے گا۔اکتوبر 2017 کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55,821,522 تک پنہچ گئی ہے جس میں 56فیصد مرد اور 44فیصد خواتین ووٹرز ہیں ،اسی طرح نوجوان ووٹرز کی تعداد جن کی عمر 18سال سے لے کر 35سال تک ہے ان کی تعداد بھی44فیصد تک پنہچ گئی ہے ،یعنی آئندہ الیکشن میں نوجوانوں اور خواتین کا کردار انتہائی کلیدی ہوگا۔
آنے والا سال 2018نئے انتخابات کی شنید لا رہا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ انتخابی فہرستیں تا حال تنازعات اور تنقید کی زد میں ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ انتخابی فہرستوں میں 30لاکھ سے زائد مردہ افراد کا نام شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی اعتراف کر چکا ہے کہ گھر گھر تصدیقی مہم میں صرف نئے وٹرز کا ہی اندراج کیا گیا ہے جبکہ مرنے والے افراد کی فہرستیں نادرا سے لی گئی ہیں جن میں مرنے والے افراد کی تعداد 7لاکھ ہے کیونکہ نادرا کے سسٹم میں انہیں 7لاکھ افراد کا نام درج ہے۔اس کے بر عکس ورلڈ بینک ،اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شرح اموات قریبا 7.5فی ہزار سالانہ ہے،اس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ پانچ سال مٰن مرنے والے افراد کی تعداد 37لاکھ50ہزار سے زائد بنتی ہے ۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق سات لاکھ لوگوں کا نام نکلنے کے بعد موجودہ انتخابی فہرستتوں میں 30لاکھ سے زائد مردہ افراد شامل ہیں۔ ان خامیوں پر بر وقت قابو پانا نہایت ضروری ہے تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک اور انتہائی افسوس ناک امر ملک میں خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد کی عدم موجودگی ہے ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق 79اضلاع میں خواتین کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہیں جس میں پنجاب کے 27،خیبر پختونخواہ ک

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ