بریکنگ نیوز

“میرا لیڈر ,میرا پیر “

IMG-20171209-WA0008.jpg

تحریر امجد اقبال ملک

گزشتہ چند سالوں سے ,نویں محرم ,کی اداسیوں میں , ایک عظیم انسان ملک محمد اسلم خان کی وفات بھی اداس کر دیتی ہے .
ملک صاحب ! اپنے عجیب مزاج کی وجہ سے یاد آتے ہیں تو انکی یادیں جہاں اداس کرتی ہیں ,وہاں انکی کمال کی حس ظرافت , اداس چہروں کو آج بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے .
جو بات ناگوار گزرے , اس پر , دوسرے کو سنا دینے کا انداز بھی دلچسب ہوتا تھا .
لاہور سے چلتے تو میرے سمیت سب کو پروگرام بتا کر , میں نے حضرو میں کچھ عرصہ سٹور کھولا , جب
بھی حضرو آتے ,انکی گاڑی سیدھی میرے سٹور پر رکتی , کوئی پوچھتا ” ملک صاحب ! یہاں کیوں رکے ? تو جواب ملتا ,” اسے ( مجھے ) ملنا میرا فرض ہے , یہ فرض میں ہی پورا کر رہا ہوں ” پھر میں شرمندہ سا ساتھ ہو لیتا ” مسکرانا , ہنسنا ہنسانا انکی خوبصورت فطرت تھی .
صاف بات کرتے وہ بلکل نہیں جھجھکتے تھے ,چاہے سامنے والا کوئی بھی ہو .
بہت سی یادیں انکے صاف گو مزاج کی ہیں , انکے والد کی وفات پر ,دعا کے لئے ,وزیر اعظم محمد خان جونیجو آنا چاہتے تھے , اس وقت کے کمشنر پنڈی ,شاید سعید مہدی تھے . ایک دن آکر انتظامات کی تفصیل طے کی گئی ,پی ایم کا ہیلی کاپٹر کہاں اتر گا , کہاں استقبال ہوگا ,کہاں بیٹھیں گے , کون استقبال کرے گا , کمشمر ٹیم چلی گئی . دوسرے دن پھر ٹیم آ گئی , ملک صاحب شاید انکی دوبارہ تفصیل سے الجھے تھے ,جب ملک صاحب کو کہا گیا کہ آپ گاؤں سے باہر ہیلی پیڈ پر پی ایم کو رسیو کریں گے تو ,ملک صاحب کو غصہ آگیا , لیکن بڑے تحمل سے بولے ” اپکا پی ایم ماتم پہ آرہا ہے ولیمے پہ نہیں , جیسے آتا ہے آ جائے ,میں پنڈال میں ہی ملونگا ” ٹیم نے نکلنے والی کی .
ایک دفعہ میں لالہ زار اسٹیڈیم اٹک میں , ملک صاحب کے ساتھ جلسہ گاہ میں بی بی بے نظیر بھٹو کی آمد کا منتظر تھا , بہت جم غفیر تھا , بی بی نے سیدھا جلسہ گاہ پہنچنا تھا , راستے میں مرحوم غالب خان کے دفتر کے افتتاح کے بھد , ملک حاکمین خان بی بی کو جلسہ گاہ کی بجائے شین باغ لے گئے , لوگ شدت سے منتظر تھے , اچانک ملک صاحب کو ,حاکمین خان اور دیگر رہنماؤں کے پیغام آنا شروع ہو گئے کہ آپ بھی شین باغ آجائیں .ملک صاحب کا ایک ہی جواب تھا کہ ” پروگرام کے تحت بی بی ,جلسه گاه پہنچے ”

آخر بی بی کا ڈائریکٹ پیغام موصول ہوا کہ آپ تشریف لائیں , لیکن ملک صاحب نے وہی جواب دہرایا ,اور بی بی فوری طور پر جلسہ میں پہنچ گئیں .
شوکت عزیز وزیر اعظم پاکستان تھے , ملک صاحب کے ڈیرے پر تشریف لائے , صرف فیملی اور قریبی دوست انوائٹ تھے . شوکت عزیز کی عادت تھی کہ وہ پریزنٹیشن کے شوقین تھے ,زیادہ بولنا ,ہر موضوع پر بولنا . گندم کی کٹائی پر تقریر شروع کردی , ایک ملازم جوس کا گلاس لئے پی ایم کے سامنے کھڑا تھا , جب میری نظر ملک صاحب کی بے چینی پر پڑھی تو ہنس پڑا , پھر وہی ہوا ,ملک صاحب نے پی ایم کو ٹوک دیا ” جناب یہ آپکے لئے کھڑا ہے ”

ملک صاحب کو درختوں ,پودوں سے پیار نہیں عشق تھا , سبز ٹہنی ! کوئی توڑے تو وہ برداشت نہیں کرتے تھے .ایک دفعہ پاکستان کی ایک معزز ,با اثر ترین ہستی سے ,سائیڈ پر جا کر کوئی اہم بات کر رہے تھے ,ہم ذرا فاصلے پر تھے ,باتوں باتوں میں اس شخص نے ( جیسے اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے ) ایک ٹہنی توڑ دی ,اور اپنی بات جاری رکھی , ملک صاحب رک گئے ” اگر کوئی آپکا کان مروڑ دے یا توڑ دے ,کیا محسوس کروگے ?” وہ بیوروکریٹ سر جھکائے کھڑا تھا .
تعریف کھل کر کرتے تھے , جو بات پسند نہ آتی اسکے اظہار میں جھجھکتے بھی نہیں تھے . صاف گوئی میں ایک مثال تھے ,
اگر کوئی شخص کسی کی غیر موجودگی میں اسکی شکایت یا انکے بارے میں غلط بات کرتا ,تو دونوں کو سامنے بیٹھا کر کبھی کلیر کرنا نہ بھولتے تھے .
بے تحاشا یادیں ہیں , صاف گوئی ,محبت , برداشت کے قصے ہیں ,میری نظر میں وہ ایک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ تھے , ہمیں دنیا کے بہت سے سلیقے , بہت پیار ,ہنسی مذاق میں سکھا گئے .
دو بندوں ,دو پارٹیوں یا دو گروپوں کا موقف تسلی سے سنے بغیر ,کبھی فیصلہ نہیں کرتے تھے .
اتنے قریب رہ کر بھی , انتہائی قربت سے ہر چیز جاننے کے باوجود ,انکی وفات کے بھد جو حیرت انگیز انکشافات ہوئے ,وہ ملک اسلم خان کی بے بہا چیرٹی تھی . سینکڑوں خاندانوں کی مالی مدد , سینکڑوں بچوں کی کلاس اول سے لے کر یونیورسٹی لیول تک مالی مدد , جسکا ذکر وہ زندگی میں اتنا پوشیدہ رکھتے رہے کہ قریبی لوگوں کو علم نہیں تھا ,
ہمیں انکی وفات کے بھد , لوگوں نے بہتے آنسوں سے بتایا کہ ” سختی سے کہتے تھے کہ کسی سے ذکر بھی کیا تو تیرے بچے کی تعلیم یا گھر کا نظام خراب ہوگا ”
اسی لئے شاید ملک معراج خالد جیسے لوگ احترام میں کھڑے رہتے تھے کہ ” یہ ہمارے سردار ہیں ”
حضرت سلطان باہو کے گدی نشین اپنے لاکھوں مریدوں کی طرف اشارہ کر کے ,مسکرا کر کہتے کہ ” یہ میرے مرید ہیں اور میں ملک اسلم خان کا مرید ”
چودری نثار علی خان جیسے لوگ برملا کہتے ہیں کہ” میں نے اسمبلی میں نماز ملک صاحب کی موٹیویشن سے شروع کی , میرا دادا مجھے تربیت کے لئے شمس آباد چھوڑ کے جاتا تھا ”
قاضی زاہد الحسینی صاحب مرحوم فرماتے تھے ” پتر ! یہ ہماری عزت ہے ”
اللّہ ملک اسلم خان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے . انکے صابزادے ملک امین اسلم خان کو زندگی ,صحت ,کامیابیاں نصیب کرے , جو باپ کے اعلیٰ اوصاف کی تصویر ہے .

امجد اقبال ملک

x

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ