بریکنگ نیوز

زرداری کے متحرک ہونے پر ضیاء الحق کی صحافتی بیواؤں کا ماتم

pakistan-1_650_111214025135.jpg

تحریر: امام بخش

ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے دورِ مطلق العنانی میں اِس کی صحافتی کنیزائیں آمرانہ حرم کی زینت بنی رہیں اور متواتر ضیائی صر صر کو صبا لکھتی رہیں۔ اللہ تعالٰی نے جب آئین شِکن کو بھسم کیا تو ضیائی بیوائیں فرحت انگیز آمرانہ دور کے سحر سے باہر نہ نکل سکیں۔ وہ ضیائی آمریت اور اُس کے نظریہ منافقت کو مقدس لبادہ اوڑھ کر نمائش کرتی رہیں اور قلم کے قلم گِھساتی رہیں۔

نواز شریف اپنے گاڈ فادر یعنی مکار اور سفاک آمر ضیاءالحق کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ہر گھٹیا سے گھٹیا حربہ آزماتا رہا۔ آئین شکنوں، ججوں، دہشت گردوں اور صحافیوں سے ملی بھگت کر کے لشکر کشی کرتا رہا۔ جھوٹے مقدمات بناتا رہا۔ اِس صورت حال میں جھوٹ اور دروغ گوئی کے فن میں تاق ضیائی بیوائیں انتہائی ڈھٹائی سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈا کرتے ہوئے جھوٹی کہانیاں گھڑتی رہیں، کسی مقدمے کے سچ ثابت نہ ہونے کے باوجود زرداری کی پُرتشدد قید کو قرین انصاف قرار دیتی رہیں اور اِس پر خوشی کے شادیانے بجاتی رہیں، نواز شریف پر صدقے واری جاتی رہیں اور اِس کی ہر غلط کاری پر میناکاری اور گوٹا کناری کرتی رہیں۔ آئین، روایت اور نظام کو بے وقعت کرنے والے نواز شریف کے ہر عمل کو یہ دروغ گوئی اور کذب بیانی کی شیرینی میں ملفوف کرتی رہیں۔

محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری ضیائی وارثوں کی گھٹیا و ظالمانہ حرکات کے باوجود آئین اور ووٹ کی حرمت کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ وہ عدالتوں میں رُلتے رہے، قید و بند کی صعوبتیں اور جلا وطنیاں کاٹتے رہے لیکن صبر کے ساتھ مُسلسل جمہوریت کی جنگ لڑتے رہے۔ انھوں نے کردار کُشی کی سُرخ آندھیوں میں بھی اپنے شخصی توازن کو برقرار رکھا۔

کنفیوشس نے کہا تھا کہ ’اگر مستقبل کو جاننا ہے تو ماضی کا مطالعہ کرو۔‘ نواز شریف کا ماضی دیکھا جائے تو یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ جب جب مضبوط ہوا، آصف علی زرداری کا گلا پکڑتا رہا اور کمزور ہونے پر زرداری کے قدموں میں گرتا رہا، معافیاں مانگتا رہا، قسمیں اُٹھاتا رہا کہ اُس نے اِن کے خلاف کوئی بھی مقدمہ خود سے نہیں بنایا بلکہ سارے مقدمات آئی ایس آئی اور ملٹری نے اس پر دباؤ ڈال کر بنوائے تھے۔ آصف علی زرداری نواز شریف کو معاف کرتا رہا اور پاکستانی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی سیاسی پارٹی کا نقصان ہونے کے باوجود ذاتی بدلے لینے سے اجتناب کرتا رہا۔

مسلم لیگ (ن) کی موجود وفاقی حکومت نے سندھ میں آئین و قانون کو بارہا تار تار کیا، وفاقی محکموں نے صوبائی محکموں میں غیر قانونی چھاپے مار کر ہزاروں فائلیں اُٹھائیں اور واپس نہ کیں مگر آج تک ان فائلوں سے کوئی کرپشن ثابت نہ ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور ورکروں پر جھوٹے مقدمات بنائے اور اُنھیں قید کر کے بہیمانہ تشدد کیا، میڈیا پر بھرپور منفی پروپیگنڈا کیا مگر آصف علی زرداری نے اُف تک نہ کی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف کوئی غیر آئینی قدم نہ اُٹھایا اور نہ ہی کسی دوسرے کی مدد کی۔ لیکن وطنِ عزیز میں ہر شعبے میں شدید تنزلی کی وجہ سے آج جب آصف علی زرداری بجا طور پر سمجھتا ہے کہ اِس وقت شریفوں کی مدد پاکستان کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔ زرداری کے متحرک ہونے اور آئین و اخلاقیات کے عین مطابق سیاست کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا نام سنتے ہی ہیجان و ہذیان میں مبتلا ہو جانے والی ضیائی بیوائوں اور ضیائی اولاد نے سر میں خاک ڈال کر ماتم کرنا شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے اپنی چیخ و پکار سے سماں باندھ کر پیشہ ور رودالیوں کو بھی مات دے دی ہے۔ وہ نواز شریف کے قدم قدم پر غیر آئینی اقدامات کا ذکر تک نہیں کر رہیں مگر آصف علی زرداری کے جائز اقدامات کو بھی ملک و قوم کے خلاف قرار دے کر گریہ ؤ زاری کر رہی ہیں۔ اِن کی طرف سے آصف علی زرداری پر طعنہ زنی کی بھرمار ہے، طعنے بھی ایسے کہ جن کے پیچھے بغض کی لپکتی ہوئی زبانیں چھپائے نہیں چھپتیں۔

ضیائی بیوائیں اور ضیائی اولاد جتنی زیادہ شریف خاندان پر مہربان ہے، آصف علی زرداری کی اُتنی ہی زیادہ بَیری ہے۔ آئیں، آپ کو زرداری سے اِن کی کینہ پروری کا ایک واقعہ یاد دلاتے ہیں۔ آصف علی زرداری جب صدرِ پاکستان تھا تو ضیائی وارثوں نے اس کی ایوانِ صدر میں لوگوں سے میل ملاقاتوں کو بھی سیاسی سرگرمیاں کہہ کر میڈیا پر خُوب اُودھم مچایا تھا اور آخر کار انصاف پر مبنی فیصلے سنانے میں مشہور لاہور ہائی کورٹ سے اِسے غیر آئینی قرار دے کر ہی دم لیا۔ بعدازاں، وفاق میں جب نواز شریف کی حکومت آئی تو پارلیمنٹ کے لیے ایک اجنبی خاتون مریم نواز شریف کے بارے میں یہ بالکل اندھے، گونگے اور بہرے بن گئے، جس کے سامنے وزیر، مشیر کورنش بجا رہے تھے اور پرنسپل سکریٹری سمیت سبھی وفاقی سکریٹریز ہاتھ باندھے اور سر جُھکائے ہر حکم پر عمل کرنے کے لیے ہمہ وقت موجود رہتے تھے۔

ضیائی بیوائیں اور ضیائی اولاد آمرانہ آغوشِ ناز کے پروُردہ نواز شریف کے پوری طرح ایکسپوز ہونے کے باوجود آج بھی سمجھتی ہے کہ اپنے ذاتی مفاد کو پاکستان پر مقدم رکھنے والا نواز شریف ماوزے تنگ، لینن اور جی گویرا جیسا انقلابی ہے، جو ہر صورت میں انقلاب لا کر رہے گا۔ پتہ نہیں کس خمیر سے تیار شدہ یہ دماغ ہیں، جن کی سطح نے ارتقاء سے منہ موڑنے کی قسم اٹھا رکھی ہے، بالغ نظری سے محرومی کے لئے تگ و دو کرنے کے ساتھ ساتھ مُستقل دعا گو بھی رہتے ہیں۔

بات بہت سادہ سی ہے کہ آصف علی زرداری شریفین کی طرح کسی دہشت گرد سے نہیں ملا، دہشت گرد سے بھتہ لیا اور نہ ہی اُسے بھتہ دیا، اُنگلی کا اشارہ پاتے ہی ٹائی لگا کر عدالت میں وکیل نہیں بنا، آئینی وزیرِ اعظم کو غیر آئینی طریقے سے ہٹانے کا پٹیشنر نہیں بنا، رات کے اندھیرے میں چوری چھپے جی ایچ کیو نہیں گیا، ڈبل پی سی زدہ چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک نہیں چلا رہا، کسی سیاستدان کے خلاف ججوں سے ملی بھگت نہیں کر رہا، افتخار محمد چوہدری کی طرف سے متعارف کیے جانے والے جوڈیشل ایکٹیوزم کی سپورٹ نہیں کر رہا، فرقہ واریت میں ملوث کسی مولوی سے نہیں ملا۔ نواز شریف کی حکومت کے چار سال بعد زرداری کے متحرک ہونے اور دوسرے سیاست دانوں سے ڈائیلاگ کرنے پر کون سی قیامت برپا ہو گئی ہے کہ ضیائی وارث دہکتے کوئلوں پر لوٹنا شروع ہو گئے ہیں؟ اِن کی حالت بالکل اُس شخص کی طرح ہو گئی ہے، جو اپنے مرحوم والد کا قصہ سناتے ہوئے کہہ رہا تھا ’’اللہ بخشے، ابا جی بہشتی ایک دفعہ کسی مکان میں چوری کرنے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بے ایمان گھر کا مالک نماز پڑھ رہا ہے…..!‘‘

نُونی تربوزوں کے برعکس ضیائی بیواؤں اور ضیائی اولاد کی ماتم گری کی حقیقت ہر پاکستانی پر پوری طرح عیاں ہے۔ ضیائی وارثوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ قوم کو جھوٹی کہانیاں سنا کر گمراہ کرتے رہنا یقینی طور پر ایک سنگین اخلاقی جرم ہے۔ اس کی سزا مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی کسی دفعہ میں ہرگز درج نہیں، اِس ضمن میں فقط ضمیر ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔

شیئر کریں

One thought on “زرداری کے متحرک ہونے پر ضیاء الحق کی صحافتی بیواؤں کا ماتم”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ