بریکنگ نیوز

گالی کی سماجی حیثیت

14955959_1425243120837038_6066556335997869295_n-1.jpg

تحریر: شاہد حمید
shahid.hmm@gmail.com
میراا گمان ہے کہ پطرس بخاری اگر “کتے” نہ لکھتے تو شاید ان کے مضمون کا عنوان “گالی” ہوتا جس سے وہ سماجی سدھار میں اپنا نام پیدا کرتے ۔ایسے ہی منٹو کے”کالی شلوار” یا ” ٹھنڈا گوشت” بھی “گالی” کی وسیع دیوار میں خاصے با پردہ انداز میں سمو یا جا سکتا تھا۔لیکن یہ سب نہ کرنے کے باوجود بھی پطرس کی سنجیدہ حس مزاح یا منٹو کی حقیقت پسندی میں کمی کرنا ممکن نہیں ہے۔تاہم یہ فائدہ ضرور پہنچتا ہے کہ گالی کو سماجی اعتبار سے کیھتارسس(Catharsis) کے لئے انفرادی حیثیت دیا جانا اشد ضروری ہے۔ بعینہ اس کے اخلاقی یا غیر اخلاقی میعارات کی جانچ پرکھ ایک الگ بحث ہے۔گالی کی بنیادی اقسام یا اس کے مضمرات و اثرات سے قطع نظر ملک خداداد میں رائج تقریبا ہر علاقائی زبان میں اس کی بڑھتی ہوئی ضرورت سماج میں موجود شدید درجے کے ذہنی دباؤ(Stress) کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔جسے خارج کرنے کے لئے اس کا استعمال ناگزیر نظر آتا ہے۔ گویا اچانک آن ٹپکنے والے غم و غصے کی لہرِ ، یا کسی فوری افتاد کی صورت میں کیتھارسس(Catharsis) کی واحد صورت اسی طرز سے رائج ہے چاہے اس کی جس بھی قسم سے افادہ کیا جائے۔اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے اچانک مواقع پر بازار سے لتا منگیشکر یا نصرت فتح علی خان کے کسی درد بھرے گیت کی سی ڈی لائی جا کر کیھتارسس کے حصول کے لئے خاصا وقت ضائع کرنے کا باعث بن سکتا ہے اور شاید برداشت کی حدود بھی اتنی وسعت نہ دکھا پائیں جو فوری طور پر کم سے کم درجے پر اس ذہنی دباؤ (Stress)کے اخراج کے لئے ضروری ہیں۔دوسری جانب سماج میں دستیاب بہت تھوڑی سے ایسے مواقع جو مسرت و انبساط اور کیف و سرور سے مسنلک پائے جاتے ہیں ان کے لئے بھی گالی کی استعجابیہ(Exclamation) علامتی حیثیت روزمرہ کی لسانی ضرورت اختیار کر چکا ہے۔یوں بس پر سوار مسافروں کی تو تکار سے لے کر مذہبی علماء کے جلسے جلوسوں میں تقاریر کے دوران تک ” گالی” کے عام فہم اور بے جاء استعمال سے اس کے اوصاف(Characteristics) اور تشریح و معانی میں خاصی تبدیلی پائی جاتی ہے۔مثلا اگر آپ نے کسی کی ذہانت اور فطانت کی تعریف کرنی ہو تو اسے اپنی علاقائی زبان میں کوئی بھی رائج گالی نرم لہجے میں دینے کے بعد چند تعریفی کلمات ادا کر دیجے۔جوابا” سامنے والے کی بتیسی دکھائی دے گی اور وہ سینہ چوڑا کر کے شاید اپنی شان میں ایک آدھ گالی کا اضافہ بھی کر دے۔یوں اس کے معانی میں تغیر و تبدیلی سے لغت میں مزید وسعت کی گنجائش قابل توجہ ہے۔اگرچہ یہ ڈر اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایسے الفاظ جا بہ جا استعمال کے باعث کل کو اپنے اصل معانی کھو بیٹھتے ہیں تو نئی گالیوں کی تلاش خاصہ پیچیدا عمل ہو گا۔اور شاید اس کے لئے ماہرین لسانیات کو کسی نئے اسلوب کی ایجاد بھی کر نی پڑے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ