بریکنگ نیوز

ہم اتنے بے بس کیوں ہوئے

25323887_1756928854339293_735851268_n.jpg

تحریر : عمران اللہ مشعل

زیر نظر تصویر میں جو ایک عرب اخبار کا کارٹون ہے جس میں موجودہ فلسطین تنازعے کی منظر کشی اور نشاندہی کی گئ ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے اور تاریخ سے ثابت ہے جب بھی مسلمان نے اپنا اصلی کام چھوڑا ہے دنیا میں رسوا ہوا۔

اللہ تعالئ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔

” وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۚ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُـمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُـمْ بِنِعْمَتِهٓ ٖ اِخْوَانًاۚ وَكُنْتُـمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْـهَا ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّہُ لَكُمْ اٰيَاتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (103)
اور سب مل کر اللہ کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم آپس میں دشمن تھے پھر تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پھر تم اس کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پھر تم کو اس سے نجات دی، اس طرح تم پر اللہ اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔“

لیکن آج مسلمان اس پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اسکی نفی کر رہا ہے صرف نفی ہی نہیں بلکہ احکامت الہی کا خلاف ورزی بھی کر رہا ہے۔
آج حالت یہاں تک آگئ ہے پوری دنیا کے مسلم ممالک مل کے بھی ایک امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہے
مسلمانوں کی یہی کمزوری کیوجہ کوئ اور نہیں مسلمان خود ہے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید دیا تھا راہنمائ وہ ہدایت کے لیے اور کائنات میں اللہ تعالئ کی قدرت پر غور و فکر کے لیے نازل کیا تھا لیکن مسلمان نے اس پر عمل نہیں کیا اور کائنات قدرت کی غور و فکر سے دور رہا۔
قرآن کریم ان تمام مناظر کو جو کائنات کے کل پرزے ہیں ، اللہ کی نشانیاں قرار دیتا ہے اور نوع انسانی کے لئے لازم کرتا ہے کہ نوع انسانی کے عاقل اور بالغ شعورافراد اللہ کے ان تمام زمینی اور آسمانی مناظر اور مظاہر کا مطالعہ کریں اور عقل و دانش کی گہرائیوں سے ان آیات پر غور کریں۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے گونگے بہرے رہ کر زندگی نہ گزاریں۔ خالق چاہتا ہے کہ غور و فکر سے متعلق اللہ تعالیٰ نے بندہ کو جو صلاحیتیں دی ہیں ان کو استعمال کیا جائے۔
’’آپﷺ کہہ دیجئے، مشاہدہ کرو جو کچھ کہ ہے آسمانوں اور زمینوں میں۔‘‘
کیا تم مشاہدہ نہیں کرتے؟
کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟
کیا تم تدبر نہیں کرتے؟
خداوند قدوس کی نظر میں بدترین مخلوق وہ لوگ ہیں جو گونگے بہرے ہیں یعنی گونگے بہروں کی سی زندگی گزارتے ہیں اور عقل و تدبر سے کام نہیں لیتے۔ (قرآن)
بے شک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے
یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔(المجاثیہ)
اے دیکھنے والے کیا تو رحمٰن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے۔ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے۔ پھر دوبارہ نظر کر، یہ ہر بار تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔(الملک)
اور وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تا کہ تم برسوں کا شمار اور کاموں کا حساب معلوم کرو۔ یہ سب کچھ خدا نے تدبیر سے پیدا کیا۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے۔(یونس)
تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی آیتوں سے یہ بات روشن دن کی طرح ثابت ہے کہ کائنات کے بنانے والے نے حکم دیا ہے کہ انسان تخلیق کائنات کے قوانین کا اس انہماک اور غور و فکر سے مطالعہ کرے کہ ہر چیز کی کاریگری سامنے آ جائے۔

آج غیرمسلموں نے وہی قرآن مجید سے سبق حاصل کرکے آج دنیا کو اپنے لیے قابل تسخیر بنایا۔
یہود و ہنود کے ناپاک قدم چاند تک بھی پہنچ گئے لیکن ہم مسلمانوں کی یہ حالات ہے عید اورمضان کی چاند بھی نظر نہیں آتی ۔

الغرض آج مسلمان دنیا کے ہر شعبے میں ناکام ہوا ہے نا نظام حکومت اچھی نا انتظام حکومت اچھی جمہوریت کے نام پر کچھ مسلم ممالک میں چند لوگ جعلی انتخابات کے زریعے حکمران بن کر لوٹ مار کرتے ہے حکمرانوں کی بیرون ملک جائیدادیں ہوتی ہے جبکہ ملک کے غریب عوام فاقوں اور بھوک سے مرتے ہے۔

اور چند اسلامی ممالک میں بادشاہت کے نام سے سلطنت قائم کرکے ایک خاندان کی اجاداری اور حکمرانی جاری رہتی ہے جو کسی بھی صورت اسلام کے اصولوں کے عین مطابق نہیں ہے انکا ہر کام ظاہری طور پر دکھاوے کے لیے اسلام کے مطابق ہوتا ہے لیکن اصل میں اسلامی قوانین سے متصادم ہوتا ہے ۔

یہی نہیں انتظام حکومت بھی کسی صورت اسلام کے مطابق نہیں ہےدولت کی مصنفانہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے آج امیر ،غریب کا فرق بڑھ گیا ہے ،رشوت کا بازار گرم ہے ،انصاف نام کا کوئ چیز نہیں ہے ،کوئ بھی اسلامی ملک فلاحی ریاست کا تصور اور دھانچہ پیش نہیں کر سکی نہ ہی مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کی قیام کے بعد آج تک ایسی کوئ فلاحی اسلامی ریاست وجود میں آئ جس میں سب کو برابر کے حقوق ملے ،انصاف ملے ،روزگار ملے ،سب ہنسی خوشی زندگی گزارسکے
اسکا ہم خواب میں تو توقع کر سکتے ہے عملی طور پر نہیں صرف پانچ وقت کی نماز پڑھنے سے مسلمان نہیں ہوتا ہے آج ہم سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں تو ہمیں انداذہ ہوجائے گا ہم کتنے پانی میں ہے اور کتنے خشکی میں،
بس نام کے مسلمان رہ گئے آج مسلمان کی شر سے دوسرا مسلمان بھائ محفوظ نہیں ہے ،مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائ بھائ ، یہ سب کہنے کے حد تک رہ گیا ہے عملی طور پر ہم سب مسلمان ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہے۔

جنہوں نے دین سکھانا تھا اور لوگوں کی راہنمائ کرنا تھا وہ آج مذہب کو اپنی معیشت اور سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہے مذہب کو کاروبار کا زریعہ بنایا ہوا اور فتویٰ فیکٹری بھی ایجاد کرکے وہ وسیع مذہب جس میں سلامتی ہے، زندگی گزارنے کے لیے راہنمائ ہے ،اللہ تعالی تک پہنچے کے لیے راستہ ہے، اسے محدود کرکے اپنی مفاد کے لیے اپنی طرف سے اپنی تشریحات کر کے اس سلامتی والے مذہب کو گالم گلوچ میں استعمال کیا جانے لگے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ