بریکنگ نیوز

اسلامی سربراہی کانفرنس, فلسطین سے کشمیر تک!

received_2004450753173885.jpeg

تحریر: فواد اسلم خان

13 دسمبر 2017 کو ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی سربراہی کانفرنس, اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی. کانفرنس کا موضوع تھا. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ تسیلم کیا اور امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا. جب کہ اسرائیل کی ناجائز ریاست کے قیام سے پہلے یروشلم فلسطین کا دارلخلافہ تھا. او آئی سی نے ہنگامی اجلاس بلایا اور امریکی صدر کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور امریکی صدر کو اپنا بیان واپس لینے کو کہا. سوال یہ ہے ک اگر ٹرمپ اپنا بیان واپس نہیں لیتا تو کیا کرے گی او آئی سی؟
اب آتے ہیں او آئی سی کے کردار کی جانب جو کہ کبھی بھی جاندار نہیں رہا. اورمجھ سمیت اکثر کشمیری ہمیشہ کشمیر کے معاملے میں او آئی سی کے کردار کا شکوہ کرتے رہتے ہیں. اور اچھی بات ہے کہ او آئی سی کا فلسطین کے مسلئے پر ہمیشہ جاندار موقف رہا ہے.

مگر اتنا جاندار موقف او آئی سی نے کبھی کشمیر کے بارے میں نہیں اپنایا. جو کہ حیران کن بات تھی میرے لیئے. اور میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟ ان سوالات کا جواب جاننے کے لئے میں نے دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاس ہونے والی قراردادیں پڑہیں جو کہ لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس کے باریے میں سنا تھا کہ اس کہ ایجنڈے میں کشمیر کو شامل کیا گیا تھا.

اُس کانفرنس میں سات قراردادیں پاس ہوئیں مگر یہ پڑھ کر مجھے بے حد حیرت ہوئی کہ سات میں سے دو قراردایں فلسطین اور یروشلم کے حوالے سے تھیں اور باقی پانچ میں بھی کوئی کشمیر کے حوالے سے نہیں تھی. اور یہ کانفرنس پاکستان کے شہر لاہور میں منعقد ہوئی تھی. اور اب تک تیرہ اسلامی سربراہی کانفرنسیں ہو چکی ہیں اور ایک کے بھی ایجنڈے پہ کشمیر نہیں رہا.

ہر تنظیم کا دائراہ کار اس کے بنیادی مقاصد ہوتے ہیں.او آئی سی کے بنیادی مقاصد پڑھنے کا اشتیاق ہوا اور جب ان تک رسائی ہوئی تو مجھے میرے سوالوں کا جواب مل گیا. او آئی سی کے بنیادی مقاصد میں چوتھے مقصد میں درج ہے کہ تنظیم ممبر ممالک کی خودمختاری کے لئے جدوجہد کرے گی جو کسی بیرونی استبداد کا شکار ہیں. اور آٹھویں مقصد میں درج ہےکہ تنظیم فلسطین کی خودمختاری کےلئے جدوجہد کرے گی اور یروشلم جو بیت المقدس اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے کو فلسطین کا ہی دارلخلافہ تسلیم کرے گی. ایسے میں کشمیر کے حوالے سے تو او آئی سی کے مقاصد میں مجھے کوئی جگہ نظر نہیں آئی. اور اگر او آئی سی کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر آنا ہے تو کشمیر کو او آئی سی کا ممبر ہونا ضروری ہے مگر آئیے زرا اوآئی سی کی ممبرشپ کی طرف جس کے لئے یہ شرائط ہیں کہ کوئی بھی ملک جو مسلم اکثریت رکھتا ہو اور اقوامِ متحدہ کا ممبر ہو اوآئی سی کا ممبر بن سکتا ہے. کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے مگر اقوامِ متحدہ کی ممبر نہیں ہے پس کشمیر کی ریاست او آئی سی کی ممبر بھی نہیں بن سکتی. ممبر کے بعد آتی ہیں مبصر ریاستیں جن کی منظوری ممبر ریاستوں کے وزرائے خارجہ نے دینی ہوتی ہے اور کسی ایک ریاست یا ایک سے زیادہ ریاستوں کی تجویز پر اسے منظوری کے لیئے پیش کیا جاتا ہے. مگر ہنوز ریاستِ کشمیر مبصر کی حثیت بھی حاصل نہیں کر سکی او آئی سی میں. اگر کشمیر کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرتی ہے او آئی سی تو پھر متنازعہ حیثیت کی نفی ہوتی ہے اور مسئلہ کشمیر ہی ختم ہو جاتا ہے. ایسے میں کشمیر کی کہاں جگہ بنتی ہے اوآئی سی کے پلیٹ فارم پر؟
اب بات آتی ہے آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کی عالمی حیثیت پر. سابق صدر آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر خورشید الحسن خورشید شہید نے اس وقت کے صدرِ پاکستان جنرل(ر) ایوب خان مرحوم کو کہا کہ آزاد حکومت کو عالمی سطح پر آزاد حکومت تسلیم کروایا جائے اور اسے اقوامِ متحدہ کی ممبر شپ دلوائی جائے تا کہ کشمیر عالمی سطح پر فلسطین کی طرح اپنا مقدمہ خود لڑ سکے اور اقوامِ متحدہ کا ممبر ہونے کی بنا پر عالمی سطح پر کشمیریوں کی آواز زیادہ جاندار طریقے سے سنی جائے گی. پاکستان سفارتی سطح پر کشمیر کی حمایت جاری رکھے جیسے کہ عالمِ اسلام فلسطین کی کر رہا ہے. ایوب خان اس بات پر اتفاق کر چکے تھے مگر اپنوں کی اقتدار کی ہوس نے ایسا نہ ہونے دیا اور کے ایچ خورشید کو غدار جیسے القابات سے نوازا اور ایوب کے قدموں میں بیٹھے کہ اگر ایسا ہوا تو کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل جائے گا. ایوب خان نے فوراً کے ایچ خورشید کو صدارت سے بر طرف کر دیا. آج اگر کشمیر اقوامِ متحدہ کا اور اوآئی سی کا ممبر ہوتا تو شاید یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا اور کشمیریوں کی آوازکو موثر انداز میں عالمی سطح پر پہنچانے کا واحد اور بہترین حل یہی تھا. اور خورشید کی محبتِ پاکستان پر شک کرنے والے بھول گئے کہ محمد علی جناح بانیِ پاکستان سرینگر سے خورشید کو اپنے ساتھ لائے تھے اور معاونِ خاص رکھ لیا تھا اور خورشید نے بھی قسم کھائی تھی کہ جب تک پاکستان نہیں بنے گا گھر نہیں جاؤں گا اور ایسا ہی ہوا کہ جناب خورشید کی والدہ فوت ہوئی تو محمد علی جناح نے انھیں کہا کہ کشمیر جاؤ والدہ فوت ہوئی تو کے ایچ خورشید نے جواب دیا کہ اب پاکستان بن کے ہی جاؤں گا.
کشمیر کا مسئلہ آج بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے اور میری نظر میں اس مسئلے کا واحد حل کے ایچ خورشید کا بتایا ہوا حل ہی ہے.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ