بریکنگ نیوز

حکومت کا ٹیسٹر۔۔۔

WhatsApp-Image-2017-12-14-at-12.46.59-AM.jpeg

فیاضیاں… فیاض راجہ

موجودہ قومی اسمبلی کی آئینی مدت 31 مئی 2018 کو پوری ہورہی ہے۔۔آئین کے مطابق اسمبلی اپنی مدت پوری کرکے تحلیل ہوجائے تو الیکشن کمیشن کو 60 روز میں نئے انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔
یوں الیکشن کمیشن پر آئینی طور پر لازم ہے کہ 31 جولائی سے قبل الیکشن کرائے تاہم آئین میں غیر معمولی صورتحال کی سہولت کا فائدہ اٹھایا جائے تو بھی الیکشن کمیشن کو 15 اگست 2018 تک انتخابات کروانا ہونگے۔
اگر کسی وجہ سے حکومت قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کر لے تو یہ سوفیصد آئینی ہے۔ اس کے لئے حکومت کسی بھی وقت قومی اسمبلی تحلیل کر کے آئندہ عام انتخابات کا اعلان کرسکتی ہے تاہم اس صورت میں الیکشن کمیشن کو اسمبلی ٹوٹنے کے 60 نہیں بلکہ 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہونگے۔
یعنی اگر 31 دسمبر کو قومی اسمبلی توڑی جاتی ہے تو الیکشن کمیشن کو 31 مارچ 2018 سے قبل ہر صورت انتخابات کروانا ہونگے۔
پاکستان جیسے ملک میں عام انتخابات کے لئے تاریخ اور وقت کا فیصلہ کرتے ہوئے اداروں کو رمضان، عید ین اور محرم کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔
یوں اسمبلی کی مدت پوری کرنے کی صورت میں آئیڈیل وقت 15 جولائی سے 15 اگست کے درمیان بنتا ہے۔
حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے ایک دھڑے کے اندر یہ سوچ بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے کہ وسط اپریل کے بعد ملک میں ہونے والی لوڈشیڈنگ نواز لیگ کے سیاسی نعرے کو نقصان پہنچائے گی اور 31 مئی تک حکومت میں بیٹھ کر وہ شدید تنقید کی زد میں ہونگے۔
مارچ میں احتساب عدالتوں سے آنے والے بظاہر خلاف فیصلوں اور ماڈل ٹاؤن، حدیبیہ کیس میں تیزی کے باعث وہ شدید مشکلات میں گھر جائیں گے۔
اس دھڑے کی رائے ہے کہ انہیں دسمبر کے آخر یا جنوری کے آغاز میں حکومت سے جان چھڑا کر نگران سیٹ اپ لانے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ مارچ میں احتساب عدالتوں، ماڈل ٹاؤن اور حدیبیہ کیسز کے فیصلوں کے وقت مظلومیت اور اداروں کی جانب سے نواز لیگ کے خلاف سازش کی تھیوری کو آگے بڑھاتے ہوئے، زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کرکے عوامی رابطہ مہم میں جانا چاہئیے۔ جس کا آغاز وہ حکومت چھوڑتے ہی کرسکتے ہیں۔ تاہم ایسی صورتحال میں انہیں سینٹ الیکشن جوکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں ہونا ہیں، کی قربانی دینا ہوگی۔
سینٹ الیکشن ہونے کی صورت میں نواز لیگ کی ایوان بالا میں موجودہ 27 نشستیں بڑھ کر 36 ہوجائیں گی جو بہر حال سادہ اکثریت نہیں مگر مستقبل کی کسی بھی ممکنہ حریف مرکزی حکومت کے لئے نواز لیگ کا ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتی ہیں۔
نواز لیگ کے اندر دوسرا دھڑا سینٹ کے انہی انتخابات کو بنیاد بنا کر اگست 2018 کے پہلے ہفتے میں نئے انتخابات کروانے کا حامی ہے۔ اس دھڑے کا خیال ہے کہ جلدی حکومت چھوڑ دینے سے کہیں ان کی قیادت اور اراکین کے خلاف کئی دوسرے کیسز اور محاذ نہ کھول دئیے جائیں اور جس سے نگران سیٹ اپ طویل ہونے اور نواز لیگ کے سیاسی نقصان میں مزید اضافے کے امکانات نہ پیدا ہوجائیں تاہم اس دھڑے کا مخالفین کا خیال ہے کہ جولائی اگست کی گرمی میں ہونے والے عام انتخابات نواز لیگ کے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوی کا پردہ چاک کر سکتے ہیں۔
ایک اہم ترین آئینی نکتہ یہ بھی ہے کہ جب تک مردم شماری کے نتائج کا حتمی گزیٹڈ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کردیا جاتا، پرانی حلقہ بندیوں پر نئے عام انتخابات کروانا ہرگز غیر آئینی نہیں تاہم اہم بات یہ ہے کہ اگست کے آخری ہفتہ میں مردم شماری کے عبوری نتائج آنے کے بعد حکمران جماعت نے دو ماہ ضائع کئے اور نومبر میں نئی حلقہ بندیوں کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا جو اب سینٹ میں اپنی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔
اطلاعات ہیں کی الیکشن کمیشن نے منزل کو سامنے رکھے بغیر سفر کا آغاز کردیا ہے۔ مردم شماری کے عبوری اعداوشمار اور بلاکس کی روشنی میں حلقہ بندیوں اور نئی ووٹر فہرستوں کی تیاری کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے باخبر حلقوں کا دعوی ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جب چاہیں سینٹ سے حلقہ بندیوں کا بل منظور کرواسکتی ہیں مگر دونوں جماعتوں کے حلقوں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ اگر قبل از وقت انتخابات ہی کرانا پڑے تو اس کے لئے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہی کیا ہے یہ کام تو پرانی حلقہ بندیوں سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف بھی قبل از وقت انتخابات کا شور مچا کر ایک طرح سے پرانی حلقہ بندیوں والی تھیوری ہی کو سپورٹ کر رہی ہے کیونکہ قومی اسمبلی توڑنے کے تین ماہ کے اندر انتخابات کروانے کی آئینی شرط کی صورت میں اتنے کم وقت میں نئی حلقہ بندیاں کرنا تو ممکن ہی نہیں۔
اس تمام تر صورتحال میں کہ جب الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کی جماعت سے متعلق کیسز کے اہم فیصلے بھی آنے ہیں، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینٹ کی اہمیت، ارکان میں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
سابق صدر آصف زرداری گزشتہ دنوں ایک جلسے میں جبکہ وزیر داخلہ خواجہ آصف ایک میڈیا گفتگو میں سیاسی فائدے کے لئے قبل از وقت انتخابات کروانے کا اشارہ دے چکے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے آج دو ٹی وی چینلز پر کنفیوزڈ انٹرویوز بھی اس سمت اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت ملک میں قبل از وقت انتخابات کروانے کے آپشن پر غور کر رہی ہے اور اس کے لئے ذومعنی گفتگو کرکے ,, ٹیسٹر،، لگا رہی ہے۔۔
ماضی میں ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات علیحدہ علیحدہ بھی ہوتے رہے ہیں تاہم 1997 سے ملک میں قومی اورچاروں صوبائی کے انتخابات ایک ہی روز کرانا آئینی ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی ، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت توڑنا حکمران جماعت کے اختیار میں ہے تاہم سندھ اور خیبر پختونخواہ میں اپوزیشن کی حکومت ہے یوں حکمران جماعت کو صرف پیپلز پارٹی نہی بلکہ تحریک انصاف پر بھی بیک ڈور رابطوں کا ٹیسٹر لگانا پڑیگا۔ مگر نواز لیگ کو اس اقدام سے پہلے سوچنا ہوگا کہ تحریک انصاف کا گزشتہ تین ماہ سے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بھی کہیں ,, ٹیسٹر،، تو نہیں تھا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ