بریکنگ نیوز

16دسمبر کی کہانی ۔۔شہداء کے ورثاء کی زبانی!

NASEER-BOKHARI.jpg

تحریر : نصیر بخاری

ماہ ِ دسمبرکو خوش نصیب سمجھوں یاپھر بد قسمت ۔ یہ مہینہ پاکستان کی تاریخ میں بہت سی یادیں اور تاریخی راز چھپائے ہوئے ہےان رازوں سے پردہ اُٹھانا ضروری ہے تاکہ ہماری نوجوان اور آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ اہم واقعات کیا تھے۔ اِن چند میں پیپلزپارٹی کا وجود میں آنا، جنرل یحیی ٰ خان کامسٹر بھٹو کو اقتدار سوپنا،میجر شبیر شریف کی شہادت،پروین شاکراور جنید جمشید کی المناک موت ،محترمہ بینظیر بھٹو کا اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننا،اور پھر اسی مہینہ میں جام شہادت نوش کرنا قابل ذکر واقعات ہیں لیکن دو ایسے زخم جن کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی بدقسمتی سے دونوں زخم ایک ہی دن پاکستان کے سینے میں پیوست ہوئےایک سقوط ڈھاکہ اور دوسرا سانحہ اے پی ایس۔ ابھی تو سقوط ڈھاکہ کا زخم ہم نہیں بھُول پائے تھے کہ ایک اور قیامت صغریٰ برپا ہو گئی ۔کئی ماؤں کی گود اُجڑ گئی ، باپ کے لخت جگر چھن گئے ۔غم ایسا کہ ہر دن اور ہر پل بڑھ رہا ہے ، والدین کی آہ عرش معلیٰ سے التجا کرتی ہے ہائے یہ سولہ دسمبر کیوں پھر لوٹ آیا ۔ کاش یہ دن ہماری زندگیوں سے نکال دیا جائے۔ کاش یہ بھیانک یاد کسی طرح ذہنوں سے اُوجھل ہوجائے۔ لیکن ایسا ممکن نہیں قدرت کو جو منظور !انسان بھلا کیا کر سکتا ہے ۔ غم کی یہ شام نہ ڈھلنے والی شب کا وہ پیش خیمہ تھی کہ شاید جس کی کوئی سحر ہی نہیں ۔اس دکھ کی گھڑی میں ہم اپنے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے پھولوں کے شہر پشاور پہنچے۔شہداء کے والدین نے روتی ہوئی آنکھوں سے خوش آمدید کہااس دکھ بھرے لمحات میں مہمان نوازی قابل دید تھی جو کہ ہم شاہد کھبی نہ بھلاپائیں پھر سولہ دسمبر کے بد قسمت دن کا ذکر شروع ہواتو اسفند شہیدکی والدہ اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی لب پر بس ایک ہی سوال تھا کہ ” یہ دن آیا ہی کیوں؟” اس کی ہر ی بھری گو د اجڑ گئی، کون ذمہ دار ہے اس کا؟ ایک ہی التجا ہے کہ اب کسی ماں کی گود نا اجڑے ، کاش یہ حکمران اس درد کو اپنا درد سمجھیں۔ اورپھر یہ قیامت نا اترے ۔اسی طرح شہیر شہید کی والدہ بھی اپنے بیٹے کو یاد کرتےبے ساختہ رو پڑی فوج میں بھیجنا چاہتی تھیں شہادت مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔ ہم پر تو ایک اور کربلا بیت گئی میں تو اپنے شہید بیٹے کے جنازے پر رو بھی نا سکی ماں کو ہنسانے والا لاڈلا ماں کو زندگی بھر کے آنسو دے گیا۔ آنکھوں سے ہر وقت بہتے آنسوؤں کی جھڑی اور زبان پر بیٹے کی یاد صرف ایک سوال کرتی ہے” شاید ایسا کچھ ہوا ہوتا کہ یہ دن اُن کی زندگی کاحصہ ہی نا ہوتا “۔دیہات سے سوہانے خواب سجائےنور اللہ شہید اور سیف اللہ شہید کی والدہ اپنے دونوں بیٹو ں کو کھو کر ان کی تصاویرسے باتیں کرتی ہیں انھیں چومتی ہیں ۔ ان کی بے جان آنکھوں میں جھانکتی ہیں ۔ جیسے یہ آنکھیں بولتی ہوں اپنے پیارے بیٹوں کو ہر یاد میں تلاش کرتی ہیں آج بھی اس دن کو یاد کرکے سسکیاں لے کر روتی ہے ۔ اپنے پھول سے بچوں کو اسکول بھیجا اور جب اے پی ایس پر حملے کی خبر سنی تو اس واقعے کو یاد کر کے ماں کا دل تڑپ جاتا ہے” انھیں ڈر لگتا تھا وہ اپنے بچوں کو کہیں جانے نہیں دیتی تھیں لیکن اب انھیں ڈر نہیں لگتا کیونکہ ڈرنے کے لئے کچھہ رہا ہی نہیں”۔شہدا ء کی تصاویر سے آویزاں شہید حسن زیب کے گھر پہنچے”جوان بیٹے کی موت نے والد کو ضعیف کردیا والدہ کی آنکھوں سے شاید آنسو ہی خشک ہو گئے ہیں” ۔ حسن زیب کو گھر میں چڑیا اور فاختائیں بہت اچھی لگتی تھیں جو اب بھی ان کے گھر میں ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ والدہ کو بیٹے کی یا د کا ہر لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں لگتااپنے شہزادے کو یاد کر کے ماں کے لرزتے ہونٹ اس کے زخمی جگر کا پتہ دیتے ہیں۔ سانحہ اے پی ایس میں ایک چوالیس شہید بچوں کی مائیں صبر اور ہمت کا نشان ہیں اپنے بچوں کو یاد کرتے ہوئے ایک سوال اُن کے ذہن میں موجود ہے کہ ایک ماں ریاست بھی تو ہے اس نے اپنے بچوں کو بچانے کے لئے کچھ کیا ؟وُہ جو نیشنل ایکشن پلان بنا اس کے بعد متعدد حادثات کیوں رُونماہوئے؟ گلشن علم کی ننھے معصوموں کے خون سے آبیاری کے بعد بھی حکومت کن سیاسی مسائل میں اُلجھی ہو ئی ہے؟ ترجیحات کیوں نہیں بدلیں؟ کیا کوئی سیاسی مصلحت آڑے آجاتی ہے یا وسیع تر قومی مفاد ؟سب ایک میز پر بیٹھے دہشت گردی ختم کرنے کا عزم کر کے پھر مندر جات پر مکمل عملدرآمد بھول گئے؟
ابھی تک شہید کےورثا ء اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں سے نالاں کیوں ہیں؟ ۔قوموں کی حیات میں سانحات تو گزر جاتے ہیں لیکن نااہل اور غافل مقتدر لوگوں کے چہرے بے نقاب ضرور ہو جاتے ہیں۔

کالم نگار: نصیر بخاری
0331-5095014

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ