بریکنگ نیوز

تحریکِ آزادی کشمیر کی اسلامی شناخت

726852-ProfFatehcopy-1403703248-470-640x480.jpg

خواب و خیال

تحریر فتح محمد ملک

جب میں برہان وانی شہید کی پیشانی پر کلمۂ طیبہ کا خوب صورت نقش دیکھتا ہوں تو مجھے بے اختیار علامہ اقبال یاد آتے ہیں جن کی انقلابی فکرکا فیضان بیسویں صدی کی تیسری دہائی سے لے کر عصرِ رواں کے لمحۂ رواں تک کشمیریوں کی ہر نئی نسل کو خانقاہوں سے نکل کر میدانِ جنگ میں رسمِ شبیری ادا کرتے چلے آنے کی انقلابی حکمتِ عملی پر عمل پیرا رہنے کا حوصلہ بخشا ہے۔ کشمیریوں کا یہ جذب و جنوں مسلمانوں کی حیاتِ نو سے خائف عالمی طاقتوں کے لیے سوہانِ روح ہے۔ نتیجہ یہ کہ علامہ اقبال سے سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور آج کے حریتِ فکر و عمل سے سرشار نوجوان کشمیریوں کی دینی شناخت الزامات کی زد میں ہے۔ آئیے تحریکِ آزادئ کشمیر کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈال کر ان الزامات کے پسِ پردہ محرکات و عوامل کی ایک جھلک دیکھیں۔
کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کو بدنام کرنے کے لیے بھارت اور اس کے مغربی سرپرست جن گونا گوں حربوں کو آزمانے میں مصروف ہیں ان میں سب سے مؤثر حربہ اسلامی بنیاد پرستی کی مسلسل زور پکڑتے ہوئی قوت سے خوف دلانا ہے۔ نیویارک ٹائمز جیسے بااثر اخبارات، اداریوں اور مضامین میں یہ استدلال پیش کرتے نہیں تھکتے کہ اگر کشمیری مسلمان اپنی قوم کو جہاد کے ذریعے آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے تو کشمیر میں ایک مذہبی ریاست قائم ہو جائے گی جو اقصائے عالم میں فروغ پذیر مختلف جہادی تحریکوں پر اثر انداز ہو کر نت نئی مذہبی ریاستوں کی قیام کو دائرہ امکان میں لے آئے گی۔ اس طرزِ فکر میں بنیادی خامی یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی غالب اکثریت کے علاقوں میں عوام اپنے دینی عقائد پر قائم رہتے ہوئے اپنی کلچرل روایات کے مطابق زندہ رہنے کا عوامی، جمہوری، انسانی حق مانگتے ہیں تو اس میں خرابی کی کیا بات ہے؟ خود اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو خود اختیاری کا یہ انسانی حق دینے کی خاطر رائے شماری کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ نصف صدی تک اسحق رائے دہی سے مسلسل انکار کی عالمی سیاست میں مایوس ہو کر کشمیری عوام نے ہتھیار اٹھائے ہیں۔ اب جب کہ بھارت کی فوج گردی اپنی تمام تر دہشت پسندی اور بربریت پرستی کے باوجود ناکام ہونے لگی ہے تو امن عالم اور حقوقِ انسانی کا دم بھرنے والی مغربی طاقتیں مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں مصروف ہو گئی ہیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ پوری دنیا میں ایک مؤثر کردار کے حامل ہیں۔ خود مسلمان ملکوں کے اہلِ علم و دانش ان ذرائع سے پھیلائے جانے والے طرزِ فکر و احساس کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ پاکستانی دانشور بھی ان ہی مغربی مفروضوں کی جگالے کرتے پائے جاتے ہیں۔ وہ ترقی پسند اور سابق انقلابی دانشور بھی جو لاطینی امریکہ کے گوریلا مجاہد چی گویرا کے مقلد ہونے پر نازاں رہتے ہیں کشمیر میں مسلمانوں کی گوریلا جنگ کو ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کی گالی دیتے ہیں۔ اپنے اس رویہ کو وہ روشن خیالی کا ثبوت بنا کر پیش کرتے پھرتے ہیں۔ یہ کتنا بڑا ستم ہے کہ خود مسلمان دانشور اپنی اسلامی شناخت پر معذرت خواہ ہیں۔ بیشتر تو اس شناخت کی نفی کو ترقی پسندی اور انسان دوستی کا نام دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پاکستانی اہل فکر و نظر کشمیری مجاہدین کے ساتھ اس طرح کی قلبی یگانگت ، جذباتی رفاقت اور سیاسی ہم سفری کا ثبوت فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کا الجزائر اور ویت نام کی جنگ آزادی میں مہیا کر چکے ہیں۔
خیر، یہ تو مسلمان ملکوں میں مغرب زدگی اور تقلید فرنگی کا شاخسانہ ہے۔ مغرب کے مقلد دانشور خود اپنے علاقے میں بھی اپنا اعتبار کھو چکے ہیں۔ یہ لوگ آج تک جس معرکے میں بھی غازی بنے ہیں وہ معرکہ ہمیشہ ہی ناکامی اور نامرادی پر تمام ہوا ہے۔ حیرت تو یورپ اور امریکہ کے اربابِ فکر و دانش اور اربابِ بست و کشاد پر ہے جو اس وقت تک مسلمانوں کو انسانی حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک مسلمان اپنی اسلامی شناخت سے دستبردار ہونے پرتیار نہ ہوجائیں۔ کشمیری مسلمان اپنی اسلامی شناخت روز بروز نمایاں سے نمایاں تر کرتے چلے آ رہے ہیں اس لیے دنیائے مغرب ان پر ظلم کے پہاڑتوڑنے والی فاشسٹ قوت کی عملی دستگیری اور نظریاتی حمایت سے حقوق انسانی کے پامالی میں مصروف ہے۔
مسلمانوں کی تہذیبی اور نظریاتی ہستی کو مٹانے کے لیے بھارت اور مغرب کا اتحادِ فکر و عمل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس اتحاد کی جڑیں برٹش انڈیا کی سامراجی تاریخ میں بہت دُور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر اپنے اولین مرحلہ پر بھی برٹش کانگریس گٹھ جوڑ ہی کے باعث انتشار کا شکار ہوئی تھی۔ رواں صدی کی تیسری دہائی میں ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف اسلامیان کشمیر نے احتجاج و مزاحمت کی تحریک شروع کی تو مہاراجہ نے اندھی قوت کے ساتھ اس کا زور توڑنے میں ناکام ہو کر بالآخر پان اسلامزم (اتحاد اسلامی) کا ہوا کھڑا کیا۔ مہاراجہ کے انگریز وزیراعغم نے اقبال اور ان کے ساھتیوں کے سرگرمیوں کی جانب برطانوی استعمار کو متوجہ کر کے ہمدردیاں حاصل کیں۔ جاسوسی ایجنسیوں کی خفیہ رپورٹوں سے برطانوی حکومت کو یقین دلایا گیا کہ اگر کشمیری آزاد ہو گئے تو برصغیر میں ایک مضبوط پان اسلامک مملکت وجود میں آجائے گی جو برطانوی استعمار کے مفادات کو معرضِ خطر میں ڈال دے گی۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے اسی سفاک ظلم پروری کی روش اپنا کر مہاراجہ کا ساتھ دیا جس پر آج امریکہ اور جی ایٹ ممالک رواں دواں ہیں۔ اس وقت بھی کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی کو اسی طرح تہذیب کے فروغ کا نام دیا گیا جس طرح اسلامیانِ کشمیر کو بھارت کے پنجہ جبر و استبداد میں بدستور سسکتا چھوڑ دینے کو تہذیب کے مستقبل کو تابناک بنانے کا نسخہ بتایا جا رہا ہے۔
علامہ اقبال ۳۳ء میں اپنے عروج کو پہنچنے والی تحریک آزادی کے دوران کل ہند کشمیر کمیٹی کے صدر تھے۔ مہاراجہ کشمیر کے انگریز وزیراعظم کی گورنر پنجاب اور برطانوی حکومت کے شعبہ ہند کے ساتھ رازدارانہ خط و کتابت، اقبال اور ان کے رفقاء کی سرگرمیوں پر مشتمل سی آئی ڈی کی رپورٹیں، برطانوی حکومت کے انتباہ اور ان پر علامہ اقبال کا مجاہدانہ ردعمل….. یہ سب خفیہ دستاویزات انڈیا آفس لائبریری کی ایک فائل میں موجود ہیں۔ جناب سلیم الدین قریشی کی دریافت کردہ اس فائل کا عنوان ہے:
Rivival of Agitation in Kashmir: Question of issuing a warning to Sir Muhammad Iqbal
ان خفیہ دستاویزات (جواب خفیہ نہیں رہیں) کی ورق گردانی سے کھلتا ہے کہ جب برطانوی حکومت کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود علامہ اقبال، پیر حسام الدین اور سید محسن شاہ تحریک آزادی کشمیر کی فکری اور عملی قیادت سے باز نہ آئے تو کشمیر کے انگریز وزیراعظم نے برطانوی حکومت کی آزادی کشمیر میں پنہاں پان اسلامک خطرات کو اجاگر کر کے ایک وسیع تر اسلامی اتحاد کے ممکنہ نتائج سے برٹش گورنمنٹ کو ڈرایا۔ وزیراعظم اپنے ۱۷۔اگست کے خط میں رقم طراز ہیں:
’’میں آپ کی توجہ (اقبال کے) اس جملے کی طرف بطور خاص دلانا چاہتا ہوں کہ شمالی ہند کے مسلمانوں کے لیے کشمیر خصوصی اہمیت کا حامل ہے، میں اس جملے میں شمال مغربی ہندوستان میں ایک الگ پان اسلامک ریاست کے خواب کو نمودار ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ اس ریاست کا تصور بڑے تسلسل اور تواتر کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کی آزادی اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ مہاراجہ کا کشمیر پر تسلط اس پان اسلامک ریاست کی تشکیل کی راہ کا ایک بھاری پتھر ہے۔ گلانسی کمیشن اور حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود اقبال کا احتجاجی سیاست کے راستے پر مستقل مزاجی کے ساتھ گامزن رہنا بڑی حد تک پان اسلامک ریاست کے اسی آئیڈیل کی بدولت ہے ….. اگر آپ میرے یہ خیالات و مشاہدات حکومت کے متعلقہ شعبوں اور افرد تک پہنچا سکیں تو بڑا کرم ہوگا۔‘‘
اسی خط کے ساتھ سی آئی ڈی کے انسپکٹر دھیان سنگھ کے ساتھ یکم اگست ۳۳ء کی ایک رپورٹ بھی منسلک ہے جس میں اقبال کی پان اسلامک تخریبی سرگرمیوں کی مفصل روداد بیان کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کو مستند بنانے کی خاطر اقبال کا لکھا ہوا ایک پوسٹر بھی شامل کر دیا گیا ہے جس کا عنوان ہے:اسلامیانِ کشمیر کی خدمت میں ایک دردمندانہ اپیل۔ اس انداز کی پے در پے رپورٹوں اور خطوں نے برطانوی استعمار کی وہ کشمیر پالیسی تشکیل دی جس کی رو سے کل کشمیر پر مسلمان دشمن ڈوگرہ استبداد کا باقی رہنا ضروری قرار پایا، برطانوی استعمار کی رخصتی پر مسلمانوں کی اکثریت اور عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے کشمیر پر بھارت کا تسلط قائم کر دینا انصاف کا تقاضا بتایا گیا اور آج کشمیری عوام کی گوریلا جدوجہد کو اسلامی دہشت گردی ثابت کرنا لازم ٹھہرا۔
جو لوگ امریکہ اور یورپ سے غمگساری کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور بھارت سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں انہیں وہ واقعات پر ازسرِنو غور کر لینا چاہیے۔ اول یہ کہ جب برطانوی حکومت تحریک آزادی کشمیر کے پان اسلامک رنگ و آہنگ سے خوف میں مبتلا ہوئی تو اس نے اس تحریک کی قیادت میں اختلافات کے بیج بونا شروع کر دئیے۔ چنانچہ چند برس بعد شیخ محمد عبداللہ نے مسلم کانفرنس کو چھوڑ دیا اور اس کے مقابلے میں نیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی۔ یوں تحریک آزادی کشمیر کی اسلامی شناخت دھندلانے لگی۔ کشمیری مسلمان دو متصادم جماعتوں میں بٹ گئے۔ مسلم کانفرنس سے ناطہ توڑتے ہی شیخ محمد عبداللہ نے اپنی خوبصورت داڑھی ہی کو خیرباد نہیں کہا بلکہ مسلمانوں کو سیکولر نیشنلزم کا درس بھی دینا شروع کر دیا۔ دوم یہ کہ ۱۹۳۴ء میں اسی پان اسلامک خطرے سے نبٹنے کی خاطر وادی کشمیر میں ہندو فاشسٹ تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کی بنیاد رکھ دی گئی جو آج تک جاری ہے۔کبھی قتل و غارت گری کا نشانہ مسلمان تہذیبی و ثقافتی اقدار بنتی ہیں تو کبھی خود مسلمان۔
بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں برطانوی سامراج اور کانگریس کی قیادت کے درمیان پان اسلامزم کے خلاف جو اتحاد فکر ومل وجود میں آیا تھا وہ آج تک سرگرمِ کار ہے۔ حکمت وہی ہے بس حکمت عملی بدل گئی ہے۔ کرداروں میں تھوڑا سا ردوبدل ہو گیا ہے۔ برطانیہ کی جگہ اب امریکہ نے لے لی ہے اور کانگریس کی بجائے اب بھارتی جنتا پارٹی سرگرمِ عمل ہے۔ اُس وقت مسلمان دشمنی کے جذبات کو ہوا دینے کے لیے پان اسلامزم کی اصطلاح وضع کی گئی تھی۔ اِس وقت اسلامی بنیاد پرستی اور اسلامی دہشت گردی کی اصطلاحات کو رواج دے دیا گیا ہے۔مقصد وہی پرانا ہے کہ مسلمان اپنی جداگانہ اسلامی شناخت سے دستبردار ہو کر سیکولر انڈین نیشنلزم کا سیاسی عقیدہ اپنا لیں تاکہ کشمیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے۔ کشمیر تو بھارت کے قبضے میں پہلے ہی سے موجود ہے، ہم بھی بھارت کے ہو جائیں۔ ہمارا حکمران طبقہ تو اس طرح کے ’’امن پسندانہ حل‘‘ پر رضامند ہے مگر مجاہدین صورتِ حال کو ’’خراب‘‘ کیے بیٹھے ہیں۔اب برہان وانی شہید ہی سے پوچھیے کہ وہ اپنی پیشانی کو کلمہ طیبہ : لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کے کتبہ سے ڈھانپ کر دادِ شجاعت دینے کیوں نکلے تھے؟
***

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ