بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (6)

6.jpg

تحریر: امام بخش

پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، ساتویں ، آٹھویں اور نویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

آیئے، اب ہم سوئس کیسز کے شروع سے لے کر آخر تک رہنے والے حکمرانوں کے اِن مقدمات کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر یا احوال کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ وہ حکمران تھے، جنھوں نے یہ مقدمات شروع کیے اور بعد میں چلاتے رہے۔

سب سے پہلے ہم آپ کو قومی اِحتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمٰن کا حال سُناتے ہیں، جس نے نواز شریف کی خواہش پر بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور حاکم علی زرداری کے خلاف ریفرنسز دائر کئے، اِن ریفرنسز میں سوئس کیسز بھی شامل تھے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے آنے کے بعد سیف الرحمٰن بھی گرفتار ہو گیا تھا۔ خاندانِ شریفیہ تو پرویز مشرف سے معافی مانگ کر سرور پیلس سعودی عرب سدھار گیا مگر سیف الرحمٰن اڈیالہ جیل میں ہی رہ گیا۔ اس دوران جب ایک دن آصف علی زرداری کو جیل سے راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیشی پر لایا گیا تو سیف الرحمٰن کو بھی اُسی عدالت میں پیشی کے لیے ہتھکڑیوں میں وہاں پیش کیا گیا۔ سیف الرحمٰن نے جیسے ہی آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن کے قدموں میں گِر کر گِڑ گڑا کر معافیاں مانگنے لگا۔ صحافی حامد میر بھی دوسرے صحافیوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری سے مخاطب سیف الرحمٰن نے صاف الفاظ میں کہا کہ “میں نے آپ پر جھوٹے مقدمات بنا کر ظلم کیا، مجھے جو حکم دیا گیا، میں نے وہی کیا تھا، مجھے معاف کر دیں”۔ حامد میر کہتے ہیں ان کے لیے یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا، آصف علی زرداری سے سیف الرحمٰن نے معافی مانگ کر سر اوپر اٹھایا تو اُس کی نظر اُن پر پڑی، سیف الرحمٰن نے فوراً آنسو پونچھے اور زرداری صاحب کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گیا۔ حامد میر اِس بارے سوال کرتے ہیں “اگر آپ میری جگہ ہوتے اور آپ نے سیف الرحمٰن کو زرداری صاحب کے قدموں میں گر کر معافی مانگتے دیکھا ہوتا تو آپ کس کو سچا سمجھتے؟”

یاد رہے یہ وہی سیف الرحمٰن ہے، جس نے نواز شریف کے حکم پر لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے سوئس کیسز میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سات سال قید، ساری جائیداد ضبط اور سارے اکاؤنٹس سیز کروانے کی سزائیں سنوائی تھیں (جو بعد میں کالعدم ہو گئی تھیں)۔ سیف الرحمٰن نے انہی مقدمات میں سوئیٹزر لینڈ میں سوئس انویسٹیگیٹنگ جج سے بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہاں شواہد نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات چلانا تو دور کی بات مقدمات فائل تک کروانے میں ناکام رہا۔

اب نواز شریف کی سُنیئے، جو سوئس کیسز بنوانے میں سب سے اہم کردار تھے۔ اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہیئے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں میاں نوازشریف کو لانڈھی جیل میں اُسی کھولی میں قید کیا گیا، جس میں مختلف ادوار کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری قید رہے تھے، چشم دید گواہوں کے مطابق جہاں نواز شریف کھولی کے دروازے کو پکڑ کر دھاڑیں مار کر روتے تھے۔ خیال رہے کہ آصف علی زرداری 1996ء سے ہی قید میں تھے۔ جب نواز شریف کو لانڈھی جیل میں قید کیا گیا تو اُس وقت آصف علی زرداری سنٹرل جیل کراچی میں قید تھے۔ نواز شریف نے جیل سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جُھوٹے مقدمات بنانے پر نوید چوہدری کے ذریعے پیغام بھیج کر آصف علی زرداری سے معافی مانگی۔

بعدازاں، نواز شریف ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے معافی مانگنے اور دس سالہ معاہدے کے تحت جب سعودی عرب میں تھے، تو انھوں نے وہاں صحافی سہیل وڑائچ سے “غدارکون؟ نوازشریف کی کہانی اُن کی زبانی” نامی کتاب لکھوائی۔ آیئے، آپ کو اس کتاب کے صفحہ نمبر 137 پر لے چلتے ہیں۔

سوال: آپ کے دوسرے دور میں کئی پیچیدہ سیاسی مسائل پیدا ہو ئے آپ نے احتساب کا ایسا طریق کار اپنایا کہ اپنی قائد حزبِ اختلاف بے نظیر بھٹو کا پتہ ہی صاف کر دیا، کیا یہ جمہوری رویہ تھا؟

نواز شریف: احتساب کا طریق کار غلط تھا۔ ہمیں اس حوالے سے اکسایا گیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دباؤ تھا۔ جان بوجھ کر ہم سے بے نظیر اور اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات کروائے گئے تاکہ سیاست دانو ں کا اعتبار ختم ہو جائے۔

اِس کے بعد جب بھی نواز شریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی، اُنھوں نے بار بار قسمیں کھاتے ہوئے آصف علی زرداری کو یہ یقین دھانی کروانے کی بھرپور کوشش کی کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ملٹری کے پریشر پر بنائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے پہلے دونوں ادوار میں آصف علی زرداری مکمل طور پر قید رہے، وہ ایک بار بھی ضمانت پر رہا نہیں ہوئے۔ حتٰکہ والدہ کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے پیرول پر تک رہا نہ کیا گیا۔

ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی وہ حکمران تھے، جن کے دورِ حکومت میں سوئس کیسز چلتے رہے۔ 1996ء سے گرفتار آصف علی زرداری اِن کے دور میں 12 اکتوبر 1999ء سے لے کر 22 نومبر 2004ء تک قید میں رہے۔ پرویز مشرف نے بھی آصف علی زرداری پر دو ریفرنس دائر کیے تھے، جن سے آصف علی زرداری باعزت بری ہو گئے تھے۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو 2008ء میں مجبوراً اقتدار سے باہر ہونا پڑا۔ مشرف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُنھیں اقتدار سے باہر نکالنے کے لیے محترمہ بینظیر بھٹو نے بنیاد رکھی اور اختتام آصف علی زرداری نے کیا۔ اِسی لیے مشرف آصف علی زرداری کے انتہائی خلاف ہیں اور اکثر اِن پر اپنے غصے کا اظہار بھی وافر مقدار میں کرتے رہتے ہیں۔ مگر اِس کے باوجود یہ ناقابل تردید ہماری تاریخ ہے کہ 2010ء میں پرویز مشرف کو میڈیا کے سامنے کُھلا اعتراف کرنا پڑا کہ “یہ کیسز ایک فرضی داستان ہے، اُن کی حکومت نے سوئس حکومت سے بار بار رابطہ کیا مگر جواب میں بتایا گیا کہ وہاں کوئی رقم نہیں پڑی ہوئی۔ سوئس حکومت کا کہنا تھا کہ یہ سب داستانیں اُنھیں پاکستانی میڈیا کے ذریعے سُننے کو ملتی ہیں۔ مشرف کا مزید کہنا تھا کہ ان فضول کیسز کی بیرونِ ملک تفتیش کرنے سے حکومت پاکستان کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر پاکستان کو ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا”۔

اگلی قسط میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سوئس کیسز پر شعبدہ بازی کی تفصیل لکھی جائے گی کہ کس طرح اُنھوں نے عدالتِ عظمٰی میں تھیٹر لگا کر مزید مسلسل تین سال تک اِن بے بنیاد مقدمات پر کھڑکی توڑ شو جاری رہا رکھا۔ (جاری ہے)۔

پچھلی قسط                   اگلی قسط

یہ آرٹیکل ابھی جاری ہے اور یہ اس کی چھٹی قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، ساتویں ، آٹھویں اور نویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ