بریکنگ نیوز

پاکستان ترقی پزیر ہی کیوں ؟؟؟؟؟؟

x370-426x540-426x540-1.jpg

تحریر ؛ آزاد احمد چوہدری

7 دہائیوں سے مملکت پاکستان قیام پزیر ہے ،مگر آج بھی ترقی یافتہ کہلانے کی بجا ئے ترقی پزیر ہی کہلاتی ہے۔ اشعبہ ہائے زندگی کے کسی بھی شعبے میں پاکستان ترقی یافتہ کیوں نہیں ۔اس کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں مگر کچھ یہاں زیر بحث لاتا ہوں زراعت،تعلیم، صحت ,سائنس انڈسٹری و کارخانے جنگلات بجلی ،الیکٹرانک اشیاء غرض کوئی بھی شہ جو ترقی کرنے کا باعث بن سکتی ہو ایسا کوئی بھی ایک شعبہ نہیں جس میں پاکستان نے ترقی کی ہو یا ہم اسے ترقی یافتہ کہہ سکیں ۔

پاکستان بننے سے پہلے کانگرس جماعت تحریک پاکستان کیخلاف سازشیں کرتی تھی ۔ مگر قائد اعظم جیسی زہین شخصیت نے اس کا مقابلہ کیا اور پاکستان بن کر رہا۔ مگر افسوس کہ پاکستان بننے کے بعد زندگی نے ان کا ساتھ نہ دیا اور کانگرس کی سازشیں ہمارے حکمران اشرافیہ نے اپنا لیں اور آپس میں ایک دوسرے کیخلاف سازشیں کرنے لگ گئےاور یوں کسی بھی حکومت کا چلنا مشکل ہوتا رہا اور ملک بھی دو لخت جگر ہو گیا اور 23 سال بعد پاکستان اپنا آئین بنا سکا ۔

اکانومی میں بہتر ہونا تو الگ ہم سفارتی سطح پر بھی کچھ ایسی کامیابیاں نہ سمیٹ سکے جیسا کہ ہم آج اس موڑ پر ہیں جہاں اگرہم دیانتداری اور سچائی کیساتھ اپنا موازنہ کریں تو دوسری اقوام سے تو ہم ان کے مقابلے میں آج بھی غلامی ہی میں ہیں ۔نہ ہم آج تک اپنے پڑوسیوں کیساتھ اتنے اچھے تعلقات بنا سکے اور نہ ہی دور والوں کیساتھ ۔ اور نہ ہی اکانومی میں ترقی کرسکے اور نہ ہی زراعت دفاع اور نہ ہی سفارتی طور پر

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی کل آبادی کا %65 فیصد دیہی علاقوں میں مقیم ہے اور ان میں اکثریت ان کی زراعت کے شعبہ سے منسلک ہے مگر افسوس اس ایک شعبہ میں بھی ہم آج تک خود کفیل نہ ہوسکے اسکی وجہ ایک کہ بجائے اس کے کہ ہم اپنے کسانوں کو رعائیت دے کر حوصلہ افزائی کرکے پیداوار کو بڑھائیں بلکہ ہم زرعی اجناس بھی کثیر زرمبادلہ سے درآمد کر لیتے ہیں۔

آج کے وقت میں ترقی انڈسٹریل ملک کرتے ہیں اور انڈسٹری لگانے کے لئے سرمایہ اور تعلیم چاہئے ہوتی ہے اور ایسے میں ہم نے تعلیم اتنی مہنگی کر لی ہے کہ غریب تعلیم حاصل کر ہی نہ سکے۔ اگر یقین نہ آئے تو پرائیویٹ سکولوں کی کیا سرکاری سکولوں کے بچوں کی کتابوں کی قیمتیں چیک کر لیں ۔

اس پیارے ملک میں ہر طرح کا نظام حکو مت آزمایا جا چکا ہے مگر ملک کی حالت نہ بہتر ہو سکی ہر ایک شعبہ اپنے آقاؤ ں کی کرپشن کی بدولت اپنے خسارے میں ہے۔

اقتدار کے مزے لینے والے جب تک اقتدار میں رہتے ہیں عوام سے اتنے دور رہتے ہیں جتنا کہ چاند اور مریخ اور جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو پھر ایک مرتبہ پھر باری کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بار ہم سچ میں دودھ اور شہد کی نہریں لگا دیں گے۔

مگر حقیقت یہ ہےیہ اشرافیہ کی اپنی جائیدادیں ملک سے باہر بنالینے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں ،تاکہ ان کا مستقبل بھی حال کی طرح شیان شان رہے۔ اور سفارت خانوں میں تعینات ہمارے بابے بجائے اپنے ملک کے تعلقات دیگر ممالک کیساتھ بڑھائیں عوام کے لئے روزگار کے مواقعے کھلوائیں بجائے اسکے وہ بابے بھی اپنے اور اپنی فیملی کے شیان شان مستقبل کے لئیے دوہری شہریت اور اپنا آپ کو سیدھا کرتے ہیں اور ریٹئر منٹ کے بعد وہ بھی ایسے بولتے ہیں کہ اب اگر انہیں ایک موقع اور دے دیاجائے تو شاید کوئی الہ دین کے چراغ سے کچھ لمحوں میں ملک سپر پاور بن جائے گا۔ قرض اتر جائیں گے دودھ اور شہد کی نہریں نکلیں گی۔ مگر افسوس اس کا کہ کچھ نہیں اب ان کی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ