بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (7)

CJ-with-PPP-and-noo-Copy.jpg

تحریر: امام بخش

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی ساتویں قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی ، آٹھویں ، نویں ، دسویں اور گیارہویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

ڈبل پی سی او زدہ مگر اپنے تئیں سب سے بڑے صادق و امین چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری 22 مارچ 2009ء کو بحال ہو چکے تھے۔ آصف علی زرداری ان کی سیاسی معاملات میں دلچسپی کے علاوہ دو ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر اِن کی بحالی کے حق میں نہ تھے کیوںکہ ایک تو میثاقِ جمہویت کے برخلاف یہ بات تھی کہ کسی پی سی او زدہ جج کو چیف جسٹس بنایا جائے، دوسری بات یہ کہ آصف علی زرداری کا نکتہ نظر بہت واضح تھا کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھانے اور پھر آئین توڑنے والے ڈکٹیٹر کی حمایت اور توثیق کرنے والے جج کسی صورت میں صادق و امین نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑے جھوٹے اور بد دیانت ہوتے ہیں۔

آج روزِ روشن کی طرح یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف شریفین کی افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ملی بھگت تھی، اِس جج نے سپریم کورٹ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا سیل بنا کر اِس مقدس ادارے کی توہین کرنے میں تمام حدیں پار کر دیں۔ اس دور میں انتہائی منظم طریقے سے صحافتی گوئبلز کے ذریعے اخبارات میں جھوٹی خبریں چھپوائی جاتیں، پھر اُن پر سو موٹو ایکشن لے کر میڈیا پر پروپیگنڈے کا ایک نیا طوفان برپا کر دیا جاتا۔

2001ء میں شریفوں اور لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کی ملی بھگت طشت ازبام ہونے پر سپریم کورٹ کی طرف سے سوئس مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں کالعدم قرار دینے کے بعد اِن مقدمات کی سماعت احتساب عدالت میں جاری تھی۔ آصف علی زرداری کے مخالفین اُس وقت تک بھی ذِلت آمیز خوارگی کے باوجود اُن کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے تھے۔ بہت سوچ بچار کے بعد زرداری کے مخالفین نے این آر او کی پٹاری سے سوئس کیسز کو سب سے اہم آئیٹم سمجھ کر نکالنے اور شعبدہ بازی شروع کرنے کا پلان بنایا۔ 16 دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فُل کورٹ بینچ نے این آر او کو کالعدم قرار دے کر اس کے تحت بند ہونے والے تمام مقدمات دوبارہ کھول دیئے۔ اِس سے قبل افتخار محمد چوہدری نے 9 دسمبر 2009ء کو این آر او کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سوئس کیسز کی تفصیل طلب کر لی تھی، جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل دانشور ملک نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمات حکومت پاکستان کی ایماء پر 2008ء (پرویز مشرف کی حکومت کے دوران) میں ختم کیا گیا تھا اور اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے اُنہیں اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔ مزیدبرآں، وہ اس ضمن میں سابق اٹارنی جنرل کے ہمراہ جنیوا بھی گئے تھے۔

یاد رہے کہ 4 مارچ 2008ء کو سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس حکام کو ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز سے متعلق کاروائی روک دینے کے لیے خط لکھنے والے پرویز مشرف حکومت کے اٹارنی جنرل کوئی اور نہیں بلکہ وہی لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قیوم ملک تھے، جنھوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سوئس کیسز میں شریفین کے ساتھ ملی بھگت کر کے سزائیں دی تھیں۔ سزاؤں کے دو سال بعد ناقابلِ تردید یہ ملی بھگت پکڑی جانے کے بعد سپریم کورٹ نے سزائیں کالعدم قرار دے دیں اور جسٹس قیوم ملک اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کو گھر جانا پڑا تھا۔ شاید یہ قدرت کا انتقام تھا کہ ان مقدمات کے ہر اہم کردار کو بذاتِ خود ان مقدمات کی نفی کرنی پڑی۔

سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو ہدایت کی کہ وہ سوئس حکام کو ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھے۔ اِس طرح عدالتِ عظمٰی میں سوئس کیسز سے متعلق حکومتِ پاکستان سے سوئٹزر لینڈ کے حکام کو خط لکھ کر ان کیسز کو وہاں کھولوانے کا فضول تھیٹر شروع کر دیا گیا، جس کا مزید تین سال تک کھڑکی توڑ شو جاری رہا۔ تعفُّن زدہ عدالتی ڈائیلاگز کو چسکے لے لے کر ہر شام ٹی وی سکرینوں پر دُہرایا گیا، اخبارات میں چیختی چنگھاڑتی سُرخیوں کے ذریعے دروغ گوئی کے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ قوم کو چھ ارب روپے کی رقم کی خالی پیلی آمد کی تکرار کا تشدد مُسلسل سہنا پڑا۔

وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ کے حکم پر سوئس حکام کو خط لکھنے پر موقف تھا کہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز سوئٹزر لینڈ کی عدالت میں فائل نہیں ہوے، اس لیے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنا بے سود ہو گا۔ مزید برآں، صدرِ پاکستان کو عدالتی کاروائی سے استثنٰی حاصل ہے۔ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوانین پر صرف پاکستان کی حدود میں ہی عملدر آمد ہو سکتا ہے جبکہ بیرون ملک عدالتوں کو سپریم کورٹ احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتِ عظمیٰ کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ کسی شخص کو ایک مقدمے میں دو بار سزا نہیں دی جا سکتی۔

18 اپریل 2012ء کو سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ملک کے صدر یا سفارت کار کے خلاف فوجداری یا دیوانی مقدمے میں کارروائی بیرونی ملک کے دورے کے دوران نہیں ہو سکتی اور جس سربراہ کو استثنیٰ درکار ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے۔

قارِئِینِ کِرام! یہاں ہم دیکھتے چلیں کہ آئین کا آرٹیکل 248 کیا ہے؟ اس آرٹیکل میں بہت واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ “صدر یا گورنر کے خلاف، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمات نہ قائم کیے جائیں گے اور نہ ہی جاری رکھے جائیں گے”۔

عدالتِ عظمٰی میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے معاملے میں اگر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو سوئس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی مثال قائم کر دی گئی تو پھر مستقبل میں کسی بھی غیر ملکی عدالت میں پاکستانی صدر یا آرمی چیف کو بھی پیش کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اُنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے ایک عام شہری کو فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کے باوجود اُسے پاکستان سے نکال کر لے گیا اور آپ (بینچ) اپنے منتخب صدر کو اتنا بھی احترام نہیں دیں گے؟ اعتزاز احسن نے بھارتی اداکار شاہ رُخ خان کی امریکہ میں گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا، جس پر امریکہ کو معافی مانگنی پڑی جبکہ اس کے برعکس ہم اپنے منتخب صدر کو غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے خط لکھنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتی حکم پر سوئس حکام کو خط لکھنے پر تیار تھے مگر عدلیہ اور وزیرِ اعظم میں خط کے متن پر اختلاف جاری رہا۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے طور پر آئین پاکستان کے تحت اُٹھائے گئے حلف کو پسِ پشت ڈال کر میں کیسے یہ خط لکھ دوں؟ جس پر عدلیہ نے توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے۔ بعد ازاں، 26 اپریل 2012ء کو سپرم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے انہیں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے توہین عدالت کے آرڈیننس 2003ء کے سیکشن پانچ کے تحت جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنا دی، جو تیس سکینڈ میں پوری ہو گئی۔ اُسی دن سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ضروری کارروائی کی خاطر قومی اسمبلی کی سپیکر کو خط تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے سپیکر کی توجہ مبذول کرائیں۔

24 مئی 2012ء کو قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے توہین عدالت کیس میں سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو مسترد کرنے کی رولنگ جاری کی کہ آئین اور توہینِ عدالت کی شِقوں، سپریم کورٹ کے ماضی میں دیئے گئے احکامات اور سپیکر کی سابقہ رولنگز کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے وزیرِ اعظم کو نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

28 مئی 2012ء کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے خواجہ محمد آصف اور پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے عمران احمد خان نیازی نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں۔ 6 جون 2012ء کو عدالتِ عظمٰی نے سپیکر کی رولنگ سے متعلق دائر درخواستوں پر وفاق، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیئے۔ 14 جون 2012ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی، جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کو نااہل قرار نہ دینے کے بارے میں سپیکر کی رولنگ کو آئین کے مطابق کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ آخر کار سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 19 جُون 2012ء کو یوسف رضا گیلانی کو غیر آئینی طور پر نااہل قرار دے دیا۔ عدالت کے مطابق وہ فیصلے کی تاریخ (26 اپریل 2010ء) سے ملک کے وزیرِ اعظم بھی نہیں رہے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی حکم دیا کہ وہ 26 اپریل 2010ء سے ہی یوسف رضا گیلانی کی مجلسِ شوریٰ کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیر اعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ اس طرح توہینِ عدالت کی سزا کی وجہ سے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت پانچ سال کی نااہلی کی سزا بھی شامل تھی۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے قبل راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو ان مقدمات کے لیے جمع کرائی گئی ساری جعلی دستاویزات کی وجہ سے کیسز خارج کر دیئے تھے (جس کی پوری تفصیل ہم اِس آرٹیکل کی پانچویں قسط میں لکھ چکے ہیں)۔ پھر حیرانی سی حیرانی ہے کہ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو غیر آئینی طور پر فارغ کرنے اور بار بار ثابت شدہ جھوٹے کیسز چلانے کے پیچھے “آزاد عدلیہ” کے کیا عزائم تھے؟

اگلی قسط میں لکھیں گے کہ کس طرح یوسف رضا گیلانی کی غیر آئینی نااہلی کے بعد وزیرِ اعظم پرویز اشرف کے ساتھ بھی “آزاد عدلیہ” خط کہانی چلاتے چلاتے بند گلی کے آخری سِرے پر پہنچ کر خود ہی پھنس گئی اور اس غیر آئینی کھیل میں اس کے لیے راہِ فرار مشکل ہو گئی۔ مزید برآں، یہ بھی اگلی قسط میں لکھیں گے کہ پاکستانی سپریم کورٹ میں چلتے اس احمقانہ کھیل پر سوئس حکام کا کیا ردعمل تھا؟ (جاری ہے)۔

پچھلی قسطاگلی قسط

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی ساتویں قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی ، آٹھویں ، نویں ، دسویں اور گیارہویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ