بریکنگ نیوز

تیرے ملنے کو معجزہ مانتے ہیں ہم!!!

DE0C42EA-1EEC-444C-89BB-A4C96FB4582D.jpeg

تحریر : علی جمیل

دسمبر سال کا آخری مہینہ، جس کی پہچان یخ بستہ ہوائیں اور ٹھٹرا دینے والی سردی ہے۔اکثر لوگ اس مہینے میں سرد موسم سے بچاؤ کے مکمل انتظامات کے ساتھ اپنے گھر والوں یا دوستوں کے ہمراہ سیر سپاٹے پر نکلتے ہیں کیونکہ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں عموماً سال کے آخری ایام میں چھٹیاں ہوتی ہیں۔
ایسے بہت سے دسمبر گذرے جب ہم بھی گھر والوں کے ہمراہ اور کبھی احباب کے سنگ سنگ سکول کالج اور یونیورسٹی کے مختلف ادوار میں جاڑے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
وقت دھیرے دھیرے سِرکتا رہا اور یہاں تک کہ دسمبر 2007 آن پہنچا۔
بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں خطاب کے لئے پہنچیں تو پارٹی کے جیالوں نے انتہائی جوش وجذبے اور فلک شگاف نعروں کے ساتھ آپکا فقید المثال استقبال کیا۔
باوجود سرد موسم کے پنڈال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا اور بے نظیر ایک منفرد ترین انداز میں سٹیج پر براجمان تھیں۔
لیاقت باغ میں یہ مناظر دیکھنے والی آنکھوں کے آنسو آج تک اُس نرالی شان اور سَج دَھج کی بے مثل کہانی بیان کرتے چلے آرہے ہیں۔ اپنے خطاب میں مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے آخر میں انہوں نے پنڈی ڈویژن کے امیدوارں سے عوامی خدمت کا حلف لیا، اور عوام سے وعدہ کیا کہ یہ لوگ آپکی خدمت کریں گے اور ملک کی ترقی میں سب ملکر اپنا کردار ادا کریں گے۔ جوشیلے نعروں کے ساتھ ایک عظیم الشان جلسہ اختتام پذیر ہوا۔اور محترمہ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ سے رخصت ہونے لگیں۔
اس وقت ایک ایسا ہولناک حادثہ پیش آیا جو ملک، قوم اور سلطنت کو گہرے اندھیروں کی جانب دھکیل گیا۔ ایک کہرام برپا تھا، کان پڑی آواز سنائی نا دیتی تھی۔ بے نظیر اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ ایک  دلیر، بہادر، جرأت مند اور زِیرک سیاستدان اپنے آخری عوامی خطاب میں بھی ملک دشمن عناصر کو ببانگِ دہل للکارتی رہیں۔
وہ غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کی حالتِ زار پہ کُڑھتی رہیں اور ان کی حالت کو پھر سے بہتر کرنے کا عِندیہ دیتی رہیں۔ پر 27 دسمبر 2007 کی وہ شام جو شامِ غریباں کی مانند تھی، ملک کے طول وعرض میں مایوسیاں پھیلاتی ہوئی تاریک رات کی آغوش میں گم ہو گئی۔
بی بی شہید ہو چکی تھیں۔ اپنے پرائے سب شہید بے نظیر کی باتیں کر رہے تھے۔جب بھی کوئی شہید محترمہ کا ذکر کرتا تو آنسوؤں کو آنکھوں کی دہلیز پار کرنے میں ایک لمحہ بھی نہ لگتا۔ بس پھر کیا تھا ہمارا دسمبر تو اندھیرے کی نظر ہو گیا۔
ہر سال دسمبر آیا اورہم اس کے ساتھ اداسی کا سیاہ لبادہ اوڑھے ایسے ہی رہے جیسے بہتی ندی کے دو کنارے ایک دوسرے کے ساتھ تو ہوتے ہیں لیکن ملتے نہیں۔
ملک کے مزدور، غریب اور کسان کی حالت ابتر سے ابتر ہوتی چلی گئی۔ ملک میں قیادت کے فقدان کے دور میں محترم زرداری صاحب صبح کے ستارے کی صورت میں اپنی بہت تھوڑی سی روشنی پھیلا کر مدھم پڑ گئے۔
بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد  ملک حقیقی اور باصلاحیت  قیادت سے محروم ہو گیا۔
ملک کی سب سے بڑی اور چاروں صوبوں میں نمائندگی کی حامل جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت آر او الیکشن میں ایک صوبے کی حد تک دھکیل دیا گیا۔
سیاسی یتیم اور نان سٹیٹ ایکٹرز اپنی اپنی من مانی کرنے لگے۔ بہت دفعہ آزمائے جانے والے نام نہاد امیر المومنین، خود ساختہ خادمِ اعلیٰ، خاص قومیتی جماعتوں کے رہنماؤں اور جونک کی طرح معاشرے کا خون چوسنے والے ملاؤں کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک ایکس کرکٹر کو لیڈر کے طور پر متعارف کرانے کی سر توڑ کوشیشیں کی جانے لگیں۔ لیکن ان سب گِھسے پٹے مہروں اور نئے پیادے نے ہر لمحہ اور ہر موڑ پر اپنی سیاسی نابالغی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
تمام سیاسی جماعتوں کی تقاریر ایک دوسرے کی نقل لگتیں۔ سیاسی جلسوں میں ایسی زبان استعمال ہونے لگی کہ ان میں جانا تو دور کی بات، ٹی وی کے سامنے اپنے گھر والوں کی موجودگی میں ان نام نہاد لیڈروں کےہلڑ بازی سے بھرپور شوکو دیکھنا انسانی غیرت کے منافی نظر آنے لگا۔
ہر کوئی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں اتنا مصروف ہو گیا کہ روشن خیال اور مشکلات میں گِھرے طبقات کا وجود کہیں گم ہی ہو گیا۔
کسی جلسے میں فارن پالیسی کا ذکر تو دور کی بات غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور نوجوان طبقے کے مسائل پر بات تک نہ کی جاتی۔ گالم گلوچ کی سیاست کو فروغ ملنے لگا۔ اب کے سیاسی جلسوں کے بعد سوٹڈ بوٹڈ لوگ ایک دوسرے کو بدیشی زبان میں گالیاں دیتے ہوئے بھی دکھا ئی دئیے۔ اس سنگین اور کٹھن وقت میں قوم کو ایک نظریاتی، خوش اخلاق، فہم و فراست اور تدبر سے بھرپور نوجوان قیادت کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔ نجانے کیوں ملک جب بھی  مشکل اور بد ترین حالات کا سامنا کر رہا ہوتا ہے تو اس کو بھٹوز ہی کا سہارا چائیے ہوتا ہے۔ اور انہیں بھی وطن اور اس سے منسلک غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کی محبت اس میدانِ کار ساز میں بار بار کھینچ لاتی ہے۔
اس بار قرعہ شہید بی بی محترمہ بے نظیر بھٹو کے لختِ جگر بلاول بھٹو زرداری کے نام نکلا۔ نوجوان بھٹو کا سفر پھر سے شروع ہوا تو جیالوں کی جان میں جان آگئی۔ وہ جن کی روحیں دسمبر 2007 میں گھائل ہو چکی تھیں اور حسرت ویاس کی تصویر بن گئے تھے۔ وہ پھر سے مسیحا کو تکنے لگے۔ بلاول بھٹو نے اپنےسیاسی سفر کا آغاز سندھ کی عظیم دھرتی سے شروع کر دیا اور جلد ہی کشمیر چترال، چنیوٹ، اٹک،ساہیوال، اور حیدرآباد، کےعظیم الشان جلسوں میں اپنے سیاسی تدبر کی دھاک بٹھاتے ہوئے تمام تر سیاسی پنڈتوں کو ورطئہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔
5 دسمبر 2017 کو بلاول بھٹو نے ملک کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں پی پی پی کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے منعقد جلسے میں مدعو کیا۔ اس جلسہ گاہ کو  آج تک کوئی بھی سیاسی جماعت پوری طرح بھرنے میں ناکام رہی تھی۔
لیکن یہاں تو جیالوں کاوہ سانس لیتا دسمبر پھر سے لوٹ آیا تھا اور وہ ملک کے مختلف حصوں سے اپنی محبوب قائد کے لختِ جگر کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے جوق در جوق اسلام آباد پہنچ گئے۔
جلسہ گاہ اندر اور باہر تک کچھا کچھ بھر گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جلسہ گاہ تک نہ پہنچ پائے اور راولپنڈی کے پاس روات نامی مقام پر ایک اور جلسہ منعقد ہوا۔
اس سیاسی جلسہ میں بلاول کے لہجہ میں  بھٹو صاحب کی للکار، جوش، جذبہ کے ساتھ ساتھ بےنظیر ماں کی تربیت اور فہم و فراست کا رنگ بہت واضح نظر آیا۔
دورِ حاضر کو مدِ نظر رکھتے ہوئےغربت سے نجات، کسانوں کی مدد اور معاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کی دلجوئی کی نوید سنائی۔ بہت سالوں کے بعد کسی سیاسی تقریر میں فارن پالیسی کے حوالے سے ایک جامعہ پلان کا ذکر سننے کو ملا۔ ایک طویل مدت کے بعد با ئیں بازو کی جماعت کا وجود اور اس کی بھرپور حمایت نظر آئی۔
اس جلسہ گاہ میں ایک بار پھر سے دین اسلام کے ماننے والوں کی سلطنت کے ماتھے پر روشن خیالی کا جُھومر اقوامِ عالم کو چمکتا دکھائی دیا۔
اس عوامی رابطہ مہم سے عام لوگوں اور معاشرے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو یقین ہو چلا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی عظیم ماں اور قابلِ فخر نانا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور پریشان حال نوجوانوں کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ اور اس آسیب زدہ سیاسی دور میں بھی عوام اور بھٹو کا نہ ختم ہونے والا محجزاتی رشتہ ہی معتبر ترین ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ