بریکنگ نیوز

دنیا کی تاریخ گواہ ہے، عدل بنا جمہور نہ ہوگا

IMG-20171225-WA0001.jpg

تحریر عمران الله مشعل

24 دسمبر 2012 کی رات ایک فیملی اپنی بہن کا ولیمہ اٹینڈ کرکے گھر آرہی تھی کہ سندھ کے تالپور گھرانے کے چشم و چراغ سراج تالپور نے ان میں سے ایک لڑکی کو چھیڑنا شروع کیا۔ لڑکی کے بھائی، شاہزیب خان نے اسے منع کیا، جھگڑا ہوا اور تالپور کو وہاں سے جانا پڑا۔

پھر تالپور اپنے دوست، سندھ کے جتوئی خاندان کے چشم و چراغ شاہ رخ جتوئی اور دو مزید دوستوں کے لے کر ان کے گھر آیا، پھر سب کی آنکھوں کے سامنے شاہزیب خان کو شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے سیدھے فائر کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہوگئے۔

شاہزیب کا والد ڈی ایس پی تھا، مقدمہ چلا، ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گواہ وغیرہ سب موقع پر موجود تھے، سیش کورٹ کے چچ نے شاہ رخ اور سراج کو پھانسی جبکہ دوسرے دو ساتھیوں کو معاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔

معاملہ جتوئی اور تالپور گھرانوں کا تھا، ایسے ختم ہوجاتا تو پھر ہمارے ملک کو پاکستان کون کہتا؟ چنانچہ مقتول کی فیملی پر دباؤ ڈالنا شروع کیا گیا۔ انہیں دھمکیاں ملیں کہ اگر ہمارے بیٹے نہ رہے تو تمہاری بیٹیوں کو ایک ایک کرکے سربازار ننگا کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ پھر شاہزیب خان کے مجبور والدین کو مجبوراً ایک معافی نامہ سائن کرکے عدالت جمع کروانا پڑا جس میں انہوں نے اپنی خوشی اور اللہ کی خاطر تمام مجرمان کو معافی دینے کا اقرار کیا۔

لیکن بس اتنا کافی نہ تھا، کیونکہ قتل کے ان مجرمان کے خلاف دہشتگردی کی دفع بھی عائد تھی جسے کوئی انفرادی طور پر معافی دے کر ختم نہیں کروا سکتا۔

چنانچہ پھر تالپور اور جتوئی گھرانوں نے اپنے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سندھ حکومت کے زریعے استغاثہ کو کمزور کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف عدالت میں دہشتگردی کی دفعہ قائم کرنے کے خلاف رٹ دائر کی گئی جس کے جواب میں سندھ حکومت کی طرف سے جان بوجھ کر انتہائی کمزور بیان داخل کیا گیا، نتیجے کے طور پر چند ماہ پہلے سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان پر دہشتگردی کی دفع ختم کردی۔

اب معاملہ آسان ہوگیا – نئے سرے سے معافی نامہ جمع ہوا اور آج چاروں ملزمان کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ چاروں ملزمان پورے 5 سال بعد رہا ہوکر باہر آئے تو انہوں نے وکٹری کے نشان بنا رکھے تھے جیسے کوئی بہت بڑا فاتح اپنی مقبوضہ سلطنت کی شاہراہوں سے گزرتے ہوئے بناتا ہے۔

کیا یہ مقدمہ شاہزیب خان کے والد کی معافی سے ختم ہونا چاہیئے تھا؟ کیا اس میں ریاست کو فریق بنتے ہوئے جتوئی اور تالپور گھرانے کے ان ظالموں کو پھانسی دلوا کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ظلم کا راستہ بند نہیں کروانا چاہیئے تھا؟

اعتزاز احسن کی عدلیہ تحریک کے دوران یہ نظم بہت مشہور ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ،

ریاست ہوگی ماں کے جیسی
ہر شہری سے پیار کرے گی

ریاست ہماری واقعی ماں جیسی ہے، بس شہریوں کو جتوئی، تالپور، شریف، زرداری جیسے خاندانوں سے ہونا پڑے گا۔

اگر آپ کا تعلق ان خاندانوں سے نہیں تو پھر ریاست ہوگی ڈائن جیسی، ہر شہری پر ظلم ہوگا!!! بقلم خود باباکوڈا .

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ