بریکنگ نیوز

بچوں کا ادب توجہ چاھتا ھے

IMG-20171225-WA0000.jpg

بسم اللہ الرحمن الرحیم
( آرٹس کونسل میں منعقدہ دس ویں عالمی اردو کانفرنس میں جوکچھ میں نے کہا ،وہ من وعن پیش خدمت ہے )
۔
جناب صدر ۔۔!
محترم علی رضا عابدی ،
محترمہ رومانہ حسن
محترم منیر احمد راشد
جناب احمد شاہ ،صدر آرٹس کونسل ،
تمام حاضرین محفل ،ادیبوں،شاعروں ،دانش وروں کی خدمت میں السلام و علیکم

سب سے پہلے تو میں جناب احمد شاہ۔۔۔،آرٹس کونسل اور دس ویں عالمی اُردو کانفرنس کے جملہ منتظمین کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ اس اہم ترین کانفرنس میں بچوں کے ادب کا خصوصی سیشن رکھا گیا ،اورسمجھانے پر سمجھا گیا کہ بچوں کا ادب اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ادب کی دیگر اصناف ہو سکتی ہیں ۔
اس کے بعد میں وقت ضایع کیے بغیر حاضرین ،ناظرین اور سامعین کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا ۔
جناب صدر ، عام طور پر بچوں کے ادب کو۔۔۔ادب میں اور خاص طور پر پاکستانی ادب میں وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اس کا حق ہے ۔
یہ کہہ کر بڑوں کے ادیب نظریں چرا لیتے ہیں ،یا جان چھڑا لیتے ہیں کہ بچوں کے ادب کے لیے لکھنا بچوں کا کھیل نہیں ۔۔۔یا بچوں کے لیے لکھنا مشکل کام ہے ۔
یقیناًاس میں کچھ سچائی بھی ہوگی ،
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایسا مشکل کام بھی نہیں کہ اس کو بھاری پتھر سمجھ کر ۔۔۔چوم کر واپس رکھ دیا جائے ،بچوں کے ادیب ،جو خود بھی کم سن ہی ہوتے ہیں ،یہ کام مسلسل اور تواتر سے کر رہے ہیں ۔
اصل میں وجہ کچھ اور ہے ۔جس کی بنا پر بچوں کے ادب سے لکھنے کا آغاز کرنے والے ادیب بہت جلد بڑوں کے ادب کو پیارے ہو جاتے ہیں ،یا لکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں
دراصل ،بچوں کے ادب میں وہ شہرت نہیں ،وہ مقام آسانی سے نہیں ملتا ،جو محض ایک غزل ،نظم ،افسانہ یا ڈراما ہٹ ہوجانے کی صورت میں آسانی سے مل جاتا ہے ۔
بچوں کے ادب میں لکھنے والوں کو پیسے نہیں ملتے ،ان کو اپنے کام کا معاوضہ یا رائلٹی نہیں ملتی ۔
ادبی تقاریب میں اہم شخصیت کے طور پر مدعو نہیں کیا جاتا،تقاریب ہوتی ہی نہیں ہیں اس نوعیت کی جن میں تصاویر بنوانے ،کرسی صدارت پر متمکن ہونے یا مہمان خصوصی بننے کا اور شہرت حاصل کرنے کا موقع ملے ۔
جی ہاں جناب صدر ،
یہ سب چیزیں ،مثلا نام ،پیسہ ،شہرت ،مقبولیت ۔۔۔بچوں کے ادب میں اس طرح نہیں مل پاتا ،جس طرح بڑوں کے ادب میں لکھنے سے مل جاتا ہے ۔۔۔ہر بڑے ادیب کے ارد گرد کم از کم چار لوگ ضرور ہوتے ہیں جو اس کی واہ واہ کرتے رہتے ہیں ،اور بچوں کے ادب میں یہ سب نہیں ہوتا ۔۔۔اور نہ ہی لکھنے والوں کو ان کی تحریروں کا کوئی معاوضہ ملتا ہے ۔۔۔
پھر کوئی کیوں بچوں کے لیے لکھے ۔۔۔؟
جو دو چار سر پھرے ،بڑا ہونے تک ،بلکہ بوڑھا ہونے تک بچوں کے لیے لکھتے رہتے ہیں ،ان کی بھی ادبی حیثیت ،ادبی توقیر ۔۔۔ویسی نہیں ہوتی جیسی بڑوں کے ادب میں ۔۔۔ ایک رومینٹک نظم ،یا کوئی انقلابی سی غزل ،یا ایک ہی بھڑکتا ہوا ،پھڑکتا ہوا افسانہ لکھ دینے سے ہوجاتی ہے ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کہ آج کے بچے۔۔۔ہمارے زمانے کے یا پہلے کے بچوں کی طرح پڑھنے کے شوقین نہیں رہے ۔۔۔پڑھنے کا رجحان ختم ہو گیا ہے ۔۔۔موبائل ،ٹی وی چینلز ،انٹر نیٹ نے سب برباد کردیاہے ،پڑھنے کا شوق ختم ہو گیا ہے ۔
حاضرین کرام ۔۔۔میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی اور خاصا بڑا جھوٹ ہے ۔
آج کا بچہ پڑھتا بھی ہے ،اور پڑھنا چاہتا بھی ہے ۔
جناب صدر ،میں ٓپ کو بتاؤں کہ ہمارے بچپن کے زمانے میں ( اسی اور نوے کی دہائی میں ) جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پڑھنے کا بہت رجحان تھا ،اور بچوں کے کئی اہم پرچے شایع ہوتے تھے ۔نونہال ( کراچی )،تعلیم وتربیت ( لاہور )،جگنو( لاہور) ،پھول( لاہور ) ،ٹوٹ بٹوٹ ( کراچی )،بچوں کا رسالہ( کراچی ) ،ہو نہار( کراچی ) ،بچوں کا ڈائجسٹ ،چائلڈ اسٹار( کراچی ) وغیرہ ۔۔۔
یہ بڑے مقبول پرچے تھے ،مگر ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔۔۔اور مجموعی تعداد اشاعت پچاس ساٹھ ہزار سے زیادہ نہیں تھی ۔
مگر کیا آپ یقین کریں گے ۔۔۔کہ اس دور کے مقابلے میں ۔۔۔ آج بچوں کے پرچوں کی تعداد محض چند ہزار ۔۔۔یا ایک دو ہزار نہیں ہوتی ۔۔۔لاکھوں میں بھی ہوتی ہے ۔۔۔لوگ سمجھتے ہیں کہ پہلے جو بچوں کے پرچے آتے تھے وہ اب پڑھنے کا رجحان نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گئے ہوں گے ۔۔۔جی نہیں ۔۔۔کچھ پرچے یقیناًبند ہوئے مگر آج اس دور کے مقابلے میں بچوں کے پرچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے ۔۔۔بچوں کے لگ بھگ پچاس سے زائد رسالے ہر ماہ شایع ہور ہے ہیں ۔۔۔صرف بچوں کا اسلام کی مثال دوں گا ا س کی تعداد اشاعت ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے ۔۔۔جو کراچی سے شایع ہوتا ہے اور ہر ہفتے آتا ہے ۔زاد السعید کی تعداد بھی لاکھ سے اوپر ہی ہے ۔۔۔اس کے علاوہ ماہ نامہ اقرا ( لاہور ) ماہ نامہ اَرقم( لاہور ) ،نو نہال ( کراچی )،تعلیم وتربیت( لاہور ) ،ذوق و شوق( کراچی ) ،پھول( لاہور ) ،ماہ نامہ چندا ( کراچی )،ماہ نامہ ساتھی( کراچی ) ،جگنو ( لاہور )،کھلتی کلیاں( کراچی ) ،جگمگ تارے( کراچی ) ایسے پرچے ہیں جن کی تعداد اشاعت کئی ہزار ہے ،کچھ کی تعداددس ہزار سے بیس ہزار کے درمیان ہے ۔
اس کے علاوہ بچوں کا باغ ( لاہور )،بچوں کی دنیا( لاہور ) ،ماہ نامہ سم سم( کراچی ) ،بزم قرآن( لاہور ۔۔۔اور کراچی) ،بھی کئی کئی ہزار کی تعداد میں شایع ہوتے ہیں ۔بزم قرآن وہ رسالہ ہے جو کئی شہروں سے شایع ہوتا ہے ،۔۔۔پھرماہ نامہ شاہین اقبال ،بچوں کا گلستان،بچے من کے سچے ،کرن کرن روشنی( ملتان) ،بچوں کا پرستان( لاہور ) ،بچوں کا بھائی جان( حیدرآباد) ،بزم تعلیم( کرم ایجنسی ) ،بزم منزل( کراچی ) ،بچوں کا اشتیاق( جھنگ )،انوکھی کہانیاں( کراچی ) ،اسکول ٹائمز( ) ،بچوں کی کہانیاں( کراچی ) ،روضتہ الا طفال ،مسلمان بچے ،پیغام (پشاور) ،پیغام اقبال ،(راول پنڈی) ،مجاہد ،ماہ نامہ نور( لاہور ) ،جنگل منگل ( کراچی )،نٹ کھٹ (کراچی ) جو اب تعطل سے شایع ہوتا ہے ) روشنی ،میگ روشنی ،اجالا ،(لاہور) ،کہکشاں (کوئٹہ) ،لکھاری( ملتان) ،پھر پنجابی رسالہ پکھیرو ( لاہور )،سندھی رسالہ اتساہ ( کراچی )،ماہ نامہ ساتھی سندھی( حیدرآباد) ،ماہ نامہ گل پھل( سندھی) ،ماہ نامہ ادا سائیں( سندھی۔۔۔حیدرآباد ) گل ڑا(سندی۔۔۔حیدرآباد) اور پشتو رسالہ گلڑا۔۔۔یہ وہ رسالے ہیں جن میں ایک آدھ کو چھوڑ کر سب تواتر سے اور پابندی سے شایع ہورہے ہیں ،اور مجموعی طور ان تما رسائل کی تعداد اشاعت آٹھ سے دس لاکھ تک جا پہنچتی ہے ۔
جناب صدر ۔۔۔
اہم بات یہ ہے کہ بچوں کے یہ تمام رسائل فروخت ہوتے ہیں ،ان میں سے کوئی بھی بڑوں کے ادبی رسائل کی طرح مفت میں نہ تو تقسیم ہوتا ہے ۔۔۔نہ اعزازی بھیجا جاتا ہے ۔
لیکن پھر بھی بچوں کے ادب کی نہ وہ حیثیت ہے اور نہ توقیر ۔۔۔
نہ ان رسائل کو اشتہارات ملتے ہیں ،اور نہ ان میں لکھنے والے نو عمر ادیبوں کو وہ شہرت ،وہ عزت ،وہ توقیر مل پاتی ہے جو ان کا حق ہے ۔۔حالاں کہ یہ نوجوان ادیب وہ کام کر رہے ہیں جو اصل میں بڑے ادیبوں کو کرنا تھا ،مگر چوں کہ وہ بچوں کے لیے لکھنا مشکل سمجھتے ہیں تو یہ کام نو عمر اور نوجوان ادیبوں نے سنبھال لیا ہے ۔
جی ہاں ۔۔۔بچوں کے لیے زیادہ تر ادب بچے ہی لکھتے ہیں ۔۔۔تاہم ان میں سے اکثر ادیب کچھ ہی عرصہ بعد لکھنا چھوڑ کر کچھ اور کام کرنے لگتے ہیں ۔۔۔کیوں کہ انہیں اندازہ ہوجاتاہے کہ بچوں کے لیے مسلسل لکھنے میں فائدہ کوئی نہیں ۔۔۔مستقبل کوئی نہیں ۔
جناب صدر ۔۔۔
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بچوں کے ادب کے نام پر صرف باتیں ہوتی آئی ہیں ۔۔۔باتیں ہی ہوتی ہیں ،منصوبے بنتے ہیں ۔۔۔اور اس اہم ترین شعبہ ادب سے جڑے کسی فرد کے لیے سرکاری یا غیر سرکاری طور پر کچھ عملی کام نہیں ہوتا ۔۔۔
نہ کوئی سرکاری سطح کا ایوارڈ ۔۔۔نہ ستائش ،نہ شہرت ،نہ معاشی مسائل کا حل ۔۔۔
مگر پھر بھی بچوں کے سینکڑوں ،ہزاروں ادیب اس قوم کے بچوں کے لیے دن رات اپنے حصے کا کام کیے چلے جا رہے ہیں ۔
جناب صدر۔۔۔
میں اپنی گفتگو کو مختصر کرکے عالمی اردو کانفرنس کی وساطت سے ارباب حل و عقد سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ :
بچوں کے ادیبوں کے لیے اسی طرح وظائف کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔۔۔جیسا کہ بڑوں کے لیے لکھنے والے ادیبوں کے لیے مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی طرف سے وظائف دیے جاتے ہیں ۔
بچوں کے ادیبوں کو بھی اہم ادیب تصور کرتے ہوئے ،تمغہ حسن کارکردگی کا اہل سمجھا جائے ۔۔۔اور انہیں بھی تمغہ حسن کارکردگی ہر سال دیا جائے ۔
آپ کے علم میں ہوگا کہ ڈنمارک جیسے ملک میں بچوں کے ادیب ہانس کرسچین اینڈرسن کی تصویر نوٹ پر چھپتی ہے اور ہمارے ملک میں بچوں کا ادیب نوٹوں کی شکل تک دیکھنے سے محروم ہے ۔
لہذا میں التماس کرتا ہوں کہ ہر سطح پر بچونں کے ادیبوں کے معاشی مسائل دور کیئے جائیں ۔
ایسے درجنوں ،سینکڑوں ادیب ہیں جنہوں نے پوری زندگی بچوں کے ادب کو دے دی ،جناب مسعود برکاتی ،جناب محمود شام ، حنیف سحر ،اشتیاق احمد ،نذیر انبالوی ،عبدالرشید فاروقی ،ندیم اختر،عرفان رامے ،محبوب الہی مخمور ،علی حسن ساجد ،فرزانہ روحی ،شعیب مرزا،نعیم بلوچ ،منیر احمد راشد ،سلیم مغل ،سلیم فاروقی ،مجیب ظفر انوار حمیدی ،ضیاء الحسن ضیا ۔۔۔یہ تو محض چند نام ہیں ۔۔۔اور بے شمار ادیب ہیں۔۔۔مگر سرکاری طور پر کبھی انہیں وہ مقام نہیں ملا ،جو عام طور پر سطحی سی رومانی نظم لکھنے والوں کو بھی مل جاتاہے ۔
بچوں کے ادیبوں کی معاشی تنگ دستی دور کرنے کا کوئی سلسلہ شروع نہیں ہوتا ،
بچوں کے ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت کا کوئی باقاعدہ مربوط نظام نہیں ہے ۔
بچوں کے ادیبوں کو ان کی نگارشات پر کوئی رسالہ ،کوئی پبلشر با عزت معاوضہ اور رائلٹی دینے پر تیار نہیں ۔
۔
میں ٓرٹس کونسل کے روح رواں ،جناب احمد شاہ سے درخواست کروں گا کہ سرکار کچھ نہیں کرتی ،نہ کبھی کر سکے گی ۔
آپ تو بہت کچھ کرتے ہیں ۔۔۔بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔
میری درخواست ہے کہ بچوں کے ادب پر بھی اسی طرح کی سالانہ عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام کیا جائے ۔
آپ صرف وسائل دے دیں ،انتظام ہم کرلیں گے )
میری درخواست ہے کہ سرکاری سطح پر بچوں کے ادیبوں کو وظائف دلوانے اور تمغہ حسن کارکردگی دلوانے کے لیے کوشش کریں ۔
میری درخواست ہے کہ بچوں کے نوجوان ادیبوں کو سرکاری ملازمتوں ،اور خاص طور پر ایجو کیشن کے شعبے میں ان کی ملازمتوں کا کوئی کوٹہ مقرر کرانے کی کوشش کی جائے ۔
میری درخواست ہے کہ بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے ۔۔۔نئے ادیبوں کی فنی تربیت کے لیے ادارے تشکیل دیئے جائیں ۔
میری درخواست ہے کہ آرٹس کونسل میں بھی بچوں کے ادب کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ۔۔۔اور انہیں بھی ادبی کمیٹی کی طرح اپنے پروگرام کرنے اور بچوں کے ادب کو فروغ دینے کے فنڈز فراہم کیئے جائیں ۔
امید ہے کہ میری گزارشات پر غور کیا جائے گا ۔۔۔اور کوئی عملی کوشش بھی کی جائے گئی ۔
اور بچوں کے ادب و ادیبوں کو وہی اہمیت دی جائے گی جو ان کا حق ہے ۔
والسلام ۔
ابن آس محمد

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ