بریکنگ نیوز

قائداعظم ؒ کو بھارتی تناظر میں خراج تحسین؟

IMG-20171221-WA0004-1.jpg

تحریر فتح محمد ملک

یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ اب ہمارے ہاں اپنی قومی تاریخ اور اپنے قومی اکابرین کو بھارتی تناظر میں پیش کرنے کا چلن شروع ہو گیا ہے۔ اس مرتبہ روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے بابائے قوم حضرت قائداعظم ؒ کے یومِ پیدائش پر اپنی خصوصی اشاعت میں دو ایسے مضامین بھی شامل کیے ہیں جن میں قائداعظم کو بھارتی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ مضامین دو مختلف کتابوں میں سے بطور خاص اخذ کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا مضمون دہلی یونیورسٹی میں سیاست کی پروفیسر محترمہ اجیت جاوید کی تحریر ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ قائداعظم ایک عظیم مگر ناکام رہنما تھے۔ اُن کی عظمت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہ آخر دم تک ہندوستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے۔ اپنے اِس مقصد میں انہیں ناکامی ہوئی۔ جب قائداعظم کی اس ناکامی کے نتیجے میں پاکستان بن گیا تب بھی انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کا نظریہ ترک نہ کیا اور اِس نئے ملک کی تعمیر اسلامی اصولوں پر کرنے سے انکار کر دیا:
“Now that he was in Pakistan, he decided to make it a model country, a truly democratic and modern state based on Hindu-Muslim unity and a fair share to all minorities. He did not want to build the new state on Islamic principles.”
مسلمہ تاریخی حقائق کے سراسر منافی اِس پرانی تحریر کو ہمارے معاصرعزیز روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے ہندوستانی تناظر (An Indian Perspective) کے عنوان سے شائع کرتے وقت درج ذیل پیراگراف کو ایک چوکھٹے کی شکل میں نمایاں کر کے پیش کرنا ضروری سمجھا ہے:
“Jinnah wanted a larger share in the governance of India and not a separate homeland. The demand of Pakistan was bargaining tactic to settle with the Congress and to prove that he was the only leader entitled to speak on behalf of the Muslims. He abandoned his bargaining stance and accepted the Cabinet Mission plan which provided both power for the League in the Muslim areas and a substantial position for himself in the governance of the whole of India. He had used religion to arouse the masses for his tactical move but could not control them. The Jinn of communalism and separatism took him to Pakistan.”
درج بالا اقتباس میں تین سراسر غلط دعوے کیے گئے ہیں ۔ اوّل : پاکستان کا قیام قائداعظم کا مقصود نہ تھا۔ وہ ایک متحدہ ہندوستان پر یقین رکھتے تھے۔ وہ فقط یہ چاہتے تھے کہ انہیں متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا واحد لیڈر تسلیم کیا جائے۔ قیامِ پاکستان کی خاطر تقسیمِ ہند کی بات وہ کانگرس کے ساتھ سودا بازی کے لیے کر رہے تھے۔ دوم: کابینہ مشن کا منصوبہ تسلیم کر کے انہوں نے سودا بازی کی یہ راہ بھی ترک کر دی تھی۔ سوم: انہوں نے اسلام کو صرف اپنی سیاست چمکانے کی خاطر استعمال کیا تھا مگر جب فرقہ واریت اور علیحدگی پسندی کا ’’جِن‘‘ اُن کے قابو سے باہر ہو گیا تو انہیں مارے باندھے قیامِ پاکستان قبول کرنا پڑا۔
سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ محترمہ اجیت جاوید اپنی اس بہتان طرازی کو قائداعظم کی عظمت کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہیں۔ میں اِسے قائداعظم کی شان میں گستاخی سے تعبیر کرتا ہوں۔ بابائے قوم کی اصول پسندی اپنی مثال آپ ہے۔ وہ اصولوں پر سمجھوتہ بازی کے تصور تک سے ناآشنا تھے۔ برصغیر کی جدید تاریخ میں اصولوں پر استقامت کی اُن سے بڑی مثال ناپید ہے۔ کابینہ مشن کا منصوبہ وقتی طور پر قبول کر کے رد کر دینا کانگریسی ذہنیت کو بے نقاب کرنے کی ایک حکمت عملی تھی۔سوال یہ ہے کہ جب قائداعظم کی قیادت میں اسلامیانِ ہند کی اسلامی جمہوری تحریک نے بھاری اکثریت کے ساتھ قیامِ پاکستان کے حق میں اپنی اجتماعی رائے کا برملا اظہار کردیا تھا تو پھر برطانوی حکومت نے قیام پاکستان کا راستہ روکنے کی خاطر کابینہ مشن کیوں بھیجا تھا؟ اِس سوال کا جواب بہت سادہ ہے اور وہ یہ کہ برطانوی حکومت اپنے نوسامراجی عزائم کی تکمیل کی خاطر انڈین نیشنل کانگرس کو اپنا آلہ کار بنا کر اسلامیانِ ہند پر اکھنڈ بھارت کا تصور جبرواستبداد کے ساتھ نافذ کرنا چاہتی تھی۔
آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر قائداعظم اور انڈین نیشنل کانگرس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد نے کابینہ مشن کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں برٹش انڈیا کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ دو حصے مسلم اکثریت کے تھے اور ایک حصہ ہندو اکثریت کا۔ اِن میں سے ہر حصے کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اگر مرکز ناانصافی کا راستہ اختیار کرے تو وہ مرکز سے الگ ہو کر آزاد اور خود مختار ریاست بن سکتا ہے۔ ہر دو مسلمان زعماء نے جب اس منصوبے کو منظورکر لیا تو کانگرس نے غضبناک ہو کر مولانا آزاد کو صدارت سے الگ کر دیا اور اُن کی جگہ پنڈت نہرو کو لا بٹھایا۔ پنڈت جی نے اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں منصوبے کی اصل روح سے انحراف کا عہد کیا۔ اس پر قائداعظم نے فی الفور کابینہ مشن کا منصوبہ ترک کر دیا۔ اُس وقت بھی قیامِ پاکستان ہی قائداعظم کی منزل تھا۔ کابینہ مشن پلان تو فقط ایک عارضی پڑاؤ تھا۔ قائداعظم کی حکمتِ عملی نے کابینہ مشن کی ناکامی کی ساری کی ساری ذمہداری کانگرس پر ڈال دی اور اس عارضی پڑاؤ کو خیرباد کہہ کر پاکستان کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے۔ ایک برطانوی مصنف لیونارڈ موزلے نے اپنی کتاب ’’دی لاسٹ ڈیز آف دی برٹش راج‘‘ (لندن1962ء) میں قائداعظم کو کابینہ مشن کے ارکان کی تمناؤں کی تکمیل کی راہ کا سب سے بڑا سنگ گراں قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں:
“Jinnah depressed them by his cold, arrogant, insistent demand for Pakistan or nothing. An encounter with Jinnah cast them down”.
جب قائداعظم نے اپنی عارضی حکمت عملی کو خیرباد کہہ دیا اور جواہر لال نہرو کی معذرتوں اور برطانوی حکومت کے شدید دباؤ کے باوجود کابینہ مشن کی سفارشات کو دوبارہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو قائداعظم کے عزم و استقلال کے سامنے کسی کی ایک بھی نہ چلی ۔ لیورنارڈ موزلے لکھتے ہیں:
“Mr. Jinnah reacted to Nehru’s statement like an army leader who has come in for armistic discussions under a flag of truce and finds himself looking down the barrel of a cocked revolver.”
جب برطانوی حکومت نے ہندوستان کو متحد رکھنے کی خاطر ایک اور مشن بھیجنے کا اعلان کیا تو قائداعظم نے متذکرہ بالا بھرے ہوئے ریوالور کی لبلبی پر اپنی اُنگلی رکھ دی اور اعلان کیا کہ اب میں کسی اور مشن سے مذاکرات نہیں کروں گا۔اب میرے پیش نظر مذاکرات کی میز کی بجائے زندگی کا وسیع میدانِ عمل ہے۔ اب سلطنتِ برطانیہ کو یا تو پُرامن طریقے سے پاکستان کا قیام قبول کرنا ہوگا یا پھر آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں ڈائریکٹ ایکشن (راست اقدام) کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ گویا آئینی جدوجہد کی راہ چھوڑ کر مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے کا اعلان تھا۔ اب سلطنتِ برطانیہ میں اس ممکنہ باغیانہ تحریک کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ اُسے بالآخر پاکستان کا قیام قبول کرنا پڑا۔
روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے اپنی اسی اشاعت (۲۵دسمبر۲۰۰۵ء) میں قائداعظم پر ایک اور مجموعہ مقالات میں سے عائشہ جلال کا ایک مقالہ بھی شائع کیا ہے۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی پاکستانی نژاد اس معلمہ کی منطق بھی نرالی ہے۔ فرماتی ہیں کہ برصغیر میں جداگانہ مسلمان قومیت کا نظریہ جسے عرفِ عام میں دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے تو درست ہے مگر اس نظریاتی اساس پر ہندوستان کی تقسیم یعنی پاکستان کا قیام درست نہیں۔ ہر دو جداگانہ قوموں کو متحدہ ہندوستان کے اندر ہی رہنا زیب دیتا ہے۔ اُن کا کہنا یہ ہے کہ:
“The claim that Muslims constituted a “nation” was perfectly compatible with a federal or confederal lstate structure covering the whole of India. It is no wonder that the claims of Muslims nation hood have been so poorly served by the achievement of territorial statehood.”
عقلِ عیار کا یہ نیا اور انوکھا بھیس دیکھیے۔ فرماتی ہیں کہ دو قومی نظریہ تو درست ہے مگر اس نظریہ کی بنیاد پر ایک جداگانہ مملکت کا قیام غلط ہے۔ دونوں قوموں کو ایک ہی فیڈریشن یا کنفیڈریشن کے اندر رہنا چاہیے۔ یہ مشورہ کم از کم نصف صدی بعد از وقت ہے۔ نصف صدی پہلے قائداعظم کو عائشہ جلال کی رہنمائی میسر نہ تھی کیونکہ وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں۔ایک اعتبارسے دیکھیں تو یہ مشورہ بروقت بھی ہیڈ پاکستان کے اندر سرگرمِ عمل ایک مختصر سی انڈوامریکن لابی پاکستان کو اکھنڈبھارت کی جانب پیش رفت کی تلقین کرنے میں مصروف ہے۔اپنے مضمون کے آخر میں محترمہ نے اس تمنا کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی قیادت اور بھارتی قیادت مل جل کر ایک مشترکہ خود مختاری کا تصور اپنا کر متحدہ ہندوستانی مستقبل کی تعمیر میں سرگرمِ عمل ہو جائیں۔ یہ تمنا بھی نئی نہیں ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قدامت پسند علماء نے اسی تمنا میں تحریکِ پاکستان اور اُس کے عظیم قائد کی سرتوڑ مخالفت کی تھی۔ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ آج علماء کے اُن گروہوں کی باقیات تو قیام پاکستان کے دل و جان سے قائل ہیں مگر سیکولر ملائیت کے علمبردار اُن پاکستان مخالف ملاؤں کے جانشین ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان اسلامیانِ ہند کے اجتماعی عزم و عمل نے قائم کر دکھایا تھا۔ آج پاکستان کی بقا کے ضامن بھی اسلامیانِ پاکستان ہیں۔ باقی رہ گئی عقلِ مستعار، تو اُس کے گھوڑے تب بھی خوب دوڑے تھے اور آج بھی خوب دوڑ رہے ہیں۔
***

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ