بریکنگ نیوز

عشق محسن میں ہمیں مقتل میں پکارے تو سہی!

IMG-20171227-WA0006.jpg

تحریر مدیحہ عباس نقوی

حسینیت اور بھٹوازم سے اتنا گہرا اور پکا رشتہ باندھا ہے بابا نے کہ اپنا آپ مجھے ان کے بغیر نا مکمل محسوس ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کے لیئے اٹھتی آوازوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیئے ۲۰۱۳ میں جب ٹویٹر جوائن کیا تو حسینیت اور بھٹو ازم ہی میری پہچان بنے۔

بچپن کے علم کی طرح شاید بچپن کی معصوم محبتیں بھی دل پر نقش ہو جاتی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی ہمارے خاندان کا عشق ہیں۔ ہماری محفلیں ان کے ذکر کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہیں۔ بابا اور تایا ابو ہمیشہ اپنے قصے سناتے تھے کہ کس طرح لاہور میں پیپلز پارٹی نے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی، کسطرح شہید ذوافقار علی بھٹو کی سحر انگیز شخصیت لوگوں کو دیوانہ بناتی گئی، اور کیسے شہید بھٹو کی پھانسی کے بعد کہرام برپا ہو گیا تھا ہمارے گھروں میں۔ پنجاب پولیس تایا ابوسمیت پیپلز پارٹی کے جیالوں کوگرفتار کر کے لے گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔جھوٹے مقدمات بنا کر کسی کو چھ ماہ جیل میں رکھا گیا تو کسی کو ایک سال۔ ضیا الحق اپنے دور کا یزید ثابت ہوا۔

بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے شہید بھٹو کے خاندان کو بالآخر ۱۹۸۴ میں علاج کے لیئے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
لیکن بھٹو کی بہادر بیٹی، ‘پنکی! سر اٹھا کر چلو، تم میری بیٹی ہو’ شہید بابا کی وصیت کو مشعلِ را ہ بنا کر، شاہنواز کی جواں سال موت کا دکھ دل میں لیئے ۱۹۸۶ میں پاکستان واپس آئی۔ بینظیر بھٹو نے اپنا سیاسی سفر لاہور کی اس سرزمین سے شروع کیا جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔بینظیر کی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر لوگ دیوانہ وار گھروں سے باہر آئے۔ پاکستان کی تاریخ میں آج تک ایسا استقبالیہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ خواتین اور بچے گھروں کی چھتوں پر تھے، نوجوان بزرگ بی بی کا ساتھ دینے کے لیئے سڑکوں پر تھے۔ بینظیر نے اپنے شہید باپ کی طرح حق کا مشکل راستہ چُنا۔

پاکستان اور دنیائے اسلام کی پہلی خاتون وزیرِاعظم۔ جس نے جہاں اپنی ذہانت کا سکہ پوری دنیا میں منوایا وہاں سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان قوتوں کا مقابلہ کیا۔ کہیں مقابلے پر ملا تھے، کہیں ڈکٹیٹر تو کہیں ‘جمہوری’ مسلم لیگ نواز۔ بینظیر بھٹو نے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس کی سزا بی بی کو مرتضیٰ بھٹو کی لاش اور آصف علی زرداری کی قید کی صورت میں ملی۔ سامراجی قوتوں نے ایک بار پھر بی بی کوپاکستان سے جانے پر مجبور کر دیا۔

دل میں عوام کی محبت اور درد لے کر بینظیر بھٹو ایک مرتبہ پھر پاکستان لوٹیں، ‘بینظیر جہاں جائیں گی، خود کش بمبار ان کا پیچھا کریں گی’ جیسی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لا کر۔ ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۷ کو جیالوں کے سمندر نے کراچی میں اپنی رانی کا استقبال کیا۔ بینظیر کو وطن اور لوگوں سے دور کرنے کے لیئے دھماکہ کروایا گیا لیکن بھٹو کی بہادر بیٹی اگلے ہی روز اپنے لوگوں میں موجود تھی۔ مشرف نے سیکیورٹی دینے سے منع کر دیا، نواز شریف نے بی بی شہید کو سیکیورٹ رسک کہا، عمران خان نے بی بی پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار خود بی بی کو ٹھہرایا۔

تمام تر سازشوں کو پسِ پُشت رکھتے ہوئے بینظیر بھٹو نے عوام کی آواز پر لبیک کہا۔ بقول شاعر

پہلی آواز پہ لبیک کہا جاتا ہے
جادئہ عشق میں مٹر کر نہیں دیکھا جاتا!

عوام سے اس محبت کی سزا بینظیر کو ۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک گولی کی صورت میں ملی۔ لاکھوں سوگوار چہرے اور روتی آنکھیں چھوڑ کر بھٹو کی پنکی رخصت ہو گئی۔ بی بی کی شہادت پاکستان کا نقصان ہے اور اتنا بڑا جس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔

عوام کی خاطر جانیں نذر کرنے والے بھٹو کی تیسری نسل سے جیالوں کی تیسری نسل کا یہ وعدہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا نظریہ گھر گھر پہنچے گا۔ بلاول کے ساتھ ہم وہ پاکستان دیکھیں گے جس کا خواب شہید بھٹو اور بی بی شہید نے دیکھا تھ

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ