بریکنگ نیوز

کچھ یادیں ، کچھ باتیں

WhatsApp-Image-2017-12-29-at-11.07.37-AM.jpeg

وں نے اُس مشکل وقت میں مولانا کوثر نیازی ؒ کو چھوڑامگر اُنکی نظریں مولانا ضیاء القاسمیؒ کی طرف دیکھ رہیں تھیں۔چنانچہ مولانا کوثر نیازیؒ نے مولانا ضیاء القاسمیؒ سے ملاقات کر کے سارا ماجرا بیان کیا۔جسے سن کر مولانا ضیاء القاسمیؒ نے فرمایا کہ آپ بے فکر رہیں میں آپ کے ساتھ ہوں ، اور پھر فرمایا کہ ’’سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن آپ مجھ پر چھوڑ دیں، یہاں سے میں خود آپ کے لئے ووٹ مانگنے جاؤں گا۔بس پھر کیا تھا! مولانا قاسمیؒ کے جواب نے آدھی جیت کو یقینی جیت میں تبدیل کر دیا اور دوستی کا ایسا حق ادا کیا مولانا کوثر نیازیؒ ۱۷۱ میں ۱۵۱ ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ سینیٹر منتخب ہونے کے بعد مولانا کوثرنیازیؒ MNA ہاسٹل میں جس کے پاس بھی شکریہ ادا کرنے جاتے تو MNA حضرات بتاتے کہ ہم نے مولانا ضیاء القاسمیؒ کے کہنے پر ووٹ دیا ہے۔مولانا قاسمی ؒ کی اس مخلصانہ محبت کو مولانا کوثر نیازیؒ نے آخری وقت تک یاد بھی رکھا اور پاس بھی۔
بہت سادہ سا ہے اپنا اُصولِ دوستی کوثر
جو اُن سے بے تعلق ہے ہمارا ہو نہیں سکتا
جی تو بات ہو رہی تھی محبت کی۔!صدراسحاق خان صدر پاکستان تھے، مولانا کوثر نیازی ؒ نے اُن سے ملاقات کرکے کہا کہ میں مولانا ضیاء القاسمیؒ کا نام پیش کرتا ہوں ، آپ اُنکی دِینی،ِ ملی خدمات کے اِعتراف میں ممبر اسلامی نظریاتی کونسل منتخب کر دیں۔صدراسحاق خان نے فرمایاکہ ٹھیک ہے آپ اُنکا نام وزارت مذہبی اُمور کے پاس موجود لسٹ میں درج کروا دیں، وہ مجھے سمر ی بھجیں گے اور میں دستخط کر دوں گا۔وزارت مذہبی اُمور اُن دنوں معروف عالم دین ،مجاہد ملت، حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کے پاس تھی۔انکا اور مولانا قاسمیؒ کا فکری اختلاف بھی عروج پر تھااور مولانا ضیاء القاسمیؒ اپنی تقاریر میں مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ کا بھر پور آپریشن بھی کر چکے تھے۔لہذا جب اُنہوں نے لسٹ میں مولانا ضیاء القاسمیؒ کا نام دیکھا تو اُسے فوراََ نکال دیا۔جب مولانا کوثر نیازیؒ کو اس بات کا علم ہوا کہ لسٹ میں مولانا ضیاء القاسمیؒ کا نام شامل نہیں تو فوراََ وزیرمحترم کے پاس تشریف لے گئے اور معاملات کو بڑے فہم کے ساتھ سلجھا کے مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ کو اس بات پر راضی کر لیاکہ وہ مولانا ضیاء القاسمیؒ کا نام لسٹ میں شامل کر لیں۔چنانچہ مولانا کوثر نیازیؒ کی کوشش سے مولانا ضیاء القاسمیؒ کا نام لسٹ میں شامل کر کے انہیں ممبر اسلامی نظرایاتی کونسل منتخب کر لیا گیا۔تعلق کیا ہوتا ہے ، باہمی محبت کیا ہوتی ہے یہ میں نے انہی دو شخصیات سے سیکھا بھی اور سمجھا بھی۔ بقول حضرت نیازیؒ
اُن کے کیوں ہو کے رہ گئے کوثر
بزمِ احباب ہم سے برہم ہے
مولانا قاسمی ؒ کی شخصیت حُسنِ ذوق اور حِس مذاح کا حسین امتزاج تھی۔اکثر و بیشتر اِحباب کی نوک جھونک سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔دوران سفر یا پریشانی کے عالم میں ساتھیوں کے ذہن کو بانٹنے کے لئے کوئی نہ کوئی چٹکلا سنا دیتے تھے۔ایک مرتبہ مولانا ضیاء القاسمیؒ ، مولانا ضیاالرحمن فاروقیؒ ، مولانا اعظم طارقؒ کو حکومت وقت نے اپنی حراست میں لے کر نظر بند کر دیا۔دوران نظر بندی مولانا قاسمیؒ حالات کی سختی اور سنجیدگی کو ساتھیوں کے چہروں پر واضح محسوس کر چکے تھے۔لہذا آپ نے فضاکو بدلنے کے لئے مجھے اشارہ کیا، میں اُٹھا اور مولانا ضیاالرحمن فاروقی ؒ کو ایک طرف لے جا کر کہنے لگا کہ حکومت مولانا ضیاء القاسمیؒ اور مولانا اعظم طارق ؒ کو رہا کرنے پر راضی ہے۔مگر آپ کا نام سننا گوارا نہیں۔اُنکا کہنا ہے کہ اس شخص کی تقاریر نے پورے ملک میں آگ لگائی ہے،لہذا ہم ان کو نہیں چھوڑ سکتے۔مولانا فاروقیؒ کے چہرے پر اِنتہائی اَفسردگی کے آثار نمایا ں ہو گئے،جنہیں دوسری طرف بیٹھے مولانا قاسمیؒ محسوس بھی کر رہے تھے اور محظوظ بھی ہو رہے تھے۔اِسی دوران مولانا فاروقیؒ نے نہایت معصومانہ انداز میں کہا ’’سید الرشیدعباسی! بات یہ ہے کہ اعظم طارق تو اَب جیل میں رہنے کا عادی ہو گیا ہے،تم ایسا کرو! اعظم طارق کو اَندر رکھوا کہ مجھے کسی طرح باہر نکلوا لو۔‘‘ میں نے یہی بات مولانا قاسمیؒ کو سنائی تو بہت کھل کھلا کے ہنسے۔اور دورانِ سفر اکثر مجھ سے یہی واقعہ دہرانے کی فرمائش کرتے۔
حضرت قاسمیؒ باذوق اور اہلِ علم حضرات کی مجلس کو پسند فرماتے تھے۔چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں ۔مجھے بخوبی یاد ہے جب حضرت صاحبزادہ پیر سیدنصیر الدین نصیرؒ نے توحیدِ خداوندی پر جامع’’ حمد‘‘ لکھی تو اُسے پڑھنے کے بعد حضرت قاسمیؒ نے اُن سے ملاقات کی خواہش کا اِظہار کیا۔چنانچہ میں نے حضرت پیر صاحب سے بات کی اور انہیں بتایا کہ مولانا ضیاء القاسمیؒ ملاقات کے خواہشمند ہیں، تو اُنہوں نے فرمایاکہ میری بھی خواہش ہے کہ مولانا ضیاء القاسمیؒ میرے ساتھ کھانا کھائیں یا چائے ضرور پئیں۔فون رکھتے ہی میں نے حضرت قاسمیؒ صاحب کو اِطلاع دی اور مقررہ وقت پر حضرت پیرنصیرالدین نصیرؒ کے ہاں حاضر ہو گئے۔پیرصاحب ؒ نے حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ کے اعزاز میں بہت خوبصورت اِہتمام فرمایا اورتقریباََ تین گھنٹے تک وہ ملاقات جا ری رہی ، جس میں بہت سی راز و نیاز کی باتیں ہوئیں،روایتی پیری مریدی ،تصوف و اہلِ تصوف اور دیگر موضوعات پر بھی گفت و شنید ہوتی رہی۔اُس طویل ملاقات اور سیر حاصل گفتگو کے بعدحضرت قاسمیؒ کے دل میں پیر سید نصیر الدین نصیر کے لئے ایک خاص محبت پیدا ہو گئی تھی، مجھ سے فرمانے لگے کہ ’’یہ سو سال پہلے کی شخصیت اِس دور میں پیدا ہوئی ہے‘‘۔اِسی طرح اُنہوں نے جامع مسجد گول فیصل آباد میں ایک مفصل تقریر میں بھی ہونے والی ملاقات کا ذکر کیا ۔بہر حال ! وہاں سے رُخصت چاہی تو پیر صاحب ؒ نے حضرت قاسمی صاحبؒ کی خدمات کو بہت سراہا اور تصانیف کا تحفہ پیش کرتے ہوئے اپنی قیام گاہ سے نکل کر باہری دروازے تک رخصت کیا۔
گزروں بلا جواز بھی کوثر اُدھر سے میں
منظر یہی دوبارہ اگر کل دکھائی دے
محبت اور احترام کا یہ تعلق پھر آخری وقت تک قائم رہا اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط تر بھی ہوتا گیا۔ میاں محمد نواز شریف کا دورِ حکومت تھا۔کنونشن سینٹر اسلام آباد میں علماء مشائخ کنونشن منعقد کیا گیا۔جس میں علامہ ساجد نقوی کی تقریر کے بعد حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ کا خطاب تھا۔ملکی حالات اِنتہائی کشیدہ صورت حال اختیار کر چکے تھے۔ہال میں موجود ہر صاحبِ ذِی شعور کی نگاہیں اُن دونوں شخصیات پر مرکوز تھیں ۔مولانا قاسمیؒ کا وقت آیا تو انہوں نے دوران خطاب اپنے مخصوص انداز میں جذبہُ حب الوطنی سے شر شار ہو کر وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ پیر آف گولڑہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیں ، اُس میں مجھے بھی بلائیں اور فریقِ مخالف کو بھی، میں اور میرے رفقاء ملکی امن کے لئے ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں، پیر آف گولڑہ جو فیصلہ فرمائیں گے ہمیں منظور ہوگا۔بس مولانا ضیاء القاسمیؒ کے یہ الفاظ کہنے کہ دیر تھی کہ پورے ہال میں تائیدی و تعریفی جملوں کی صدائیں سنائی دینے لگیں۔
مولانا ضیاء القاسمیؒ ایک صاحبِ بصیرت شخصیت تھے۔چاہے کتنا ہی مشکل وقت کیوں نہ ہو ،وہ اپنی جماعت ، اپنے رفقاء کو بڑی آسانی سے باہر نکال لیتے تھے۔اِسی طرح کی صورت حال میرے ساتھ اُس وقت پیش آئی جب مولانا کوثر نیازی انتقال فرما گئے تھے۔اِنتہائی رَنج و اَلم کی کیفیت تھی۔حضرت قاسمی ؒ بھی اپنے عزیز دوست کو آخری سفر پر رخصت کرنے کے لئے تشریف لائے ،نماز جنازہ کا وقت طے ہو چکا تھا۔مگر مسئلہ یہ در پیش آیاکہ پورے ملک سے دِینی ،ِ ملی ، سیاسی شخصیات، جید علماء کرام ، سجادہ نشین ، اسکالرز بھی موجود تھے۔اکثردِینی شخصیات کی یہی خواہش تھی کہ نمازِ جنازہ ہم پڑھائیں ۔اِسی دُوران میں نے مولانا ضیاء القاسمیؒ کی نشست پر حاضر ہو کر انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا اور یہ بھی کہا میری اور حضرت نیازی ؒ کے دیگر رفقاء کی خواہش ہے کہ نمازِ جنازہ آپ پڑھائیں۔ مولانا ضیاء القاسمیؒ نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا’’ کہ’’مولانا کوثر نیازی اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے، ان پر کسی فرقے کی چھاپ نہیں تھی، اور نمازِ جنازہ بھی چونکہ فیصل مسجد میں اَدا کی جانی ہے، لہذا سب سے زیادہ حق فیصل مسجد کے اِمام کا ہے کہ وہ نمازِ جنازہ پڑھائیں‘‘۔ حضرت کا بصیرت افروز فیصلہ سن کر ہم سب کو اِتفاق کرنا پڑا۔اور پھر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے مولانا کو ثر نیازی ؒ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور پورے ملک کے علماء ،مذہبی و سیاسی قائدین،مختلف درگاہوں کے سجادہ نشینوں نے حضرت مولانا ضیاء القاسمی ؒ کے فیصلے کی تائید میں نماز جنازہ ادا کی۔
مرگیا کیا تیرا شاعر، تیرا کوثر نیازی
سونے سونے کیوں ہیں کوچہ و بازار تیرے
بہر کیف ! مولانا ضیاء القاسمیؒ کسی فردِ واحد کا نام نہیں تھا ۔بلکہ ایک فکر کا نام تھا، ایک سوچ کا نام تھا، ایک نظریے کا نام تھا ۔اِنسان دُنیا سے ضرور چلا جاتا ہے مگر اُسکا دیا گیا پیغام ،نظریہ کی صورت ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔مجھے آج بھی وہ لمحے یاد ہیں جب زندگی کے آخری اَیام میں میرے گھر تشریف لائے تو باغیچے میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے ’’یہاں رات کی رانی کا پودا بھی لگاؤ‘‘۔میں کیونکہ حضرت کے اعلیٰ ذوق کو سمجھتا ہی نہیں بلکہ مداح بھی تھا ،لہذا فوراََ رات کی رانی کا پودا اپنے باغیچے کی زینت بنا دیا۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔حضرت قاسمیؒ ہمیشہ کے لئے داغِ جدائی دے کر رخصت ہوگئے۔آج وہ پودا بڑھ کر بڑا ہو چکا ہے، رات کی آغوش میں اُسکی مہک جب میری سانسوں کی دہلیز پر دستک دیتی ہے تو مولانا ضیاء القاسمیؒ کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، اور وہیں تخیلات کی محفل لگا کر حضرت قاسمیؒ کی جدائی کے غم غلط کرنے لگتا ہوں ۔
کوثر در و دیوار سے کرتا ہوں میں باتیں
ڈستے ہیں مجھے جب بھی شبِ ہجر کے سائے
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا ضیاء القاسمی ؒ کی قبر پر کروڑ ہا رحمتیں نازل فرمائیں ۔اور ہمیں انکی دی گئی سوچ و فکر کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ (آمین)

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ