بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (8)

IMAGE8.jpg

تحریر: امام بخش

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی آٹھویں قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی ، ساتویں ، نویں ، دسویں اور گیارہویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی غیر آئینی نا اہلی کے بعد راجہ پرویز اشرف وزیرِ اعظم بنے، تو عدالتِ عظمٰی نے اُن کو بھی صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا۔ خط کے متن پر عدالت عظمٰی اور دوسرے وزیرِ اعظم میں بھی اختلاف چلتا رہا۔ آخر کار وزارتِ عظمٰی نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔

ہم یہاں یاد دلاتے چلیں کہ جب عدالتِ عظمٰی وزراء اعظم کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں بند کیسز کھلوانے کے لیے خط لکھوانے پر بضد تھی، اُس وقت سوئس حکام اس کھیل پر حیران تھے کہ یہ کون سے بند مقدمے کھلوانا چاہتے ہیں کیونکہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز (سوئس کیسز) سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ سوئٹرزلینڈ میں اِن کیسز کی فقط انکوائری ہوئی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور شواہد نہ ہونے پر سوئٹزر لینڈ میں مقدمے فائل بھی نہیں ہو سکے تھے۔ سوئس حکام اس سے قبل بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہوئے تھے، جب سوئس کیسز میں جسٹس قیوم ملک کی طرف سے سنائی جانے والی گٹھ جوڑ پر مبنی سزائیں سُنائی گئی تھیں۔

سوئس حکام یہ حقیقت بھی جان چکے تھے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم ہونے کے دن یعنی 4 نومبر 1996ء کو ہی آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اُس کے بعد 21 مئی 1997ء کو اے اے زی اور بی بی کے کوڈ نام سے دو اکاؤنٹس سوئٹزر لینڈ میں کھولے گئے۔ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے ساڑھے چھ ماہ بعد دو خطوط بنائے گئے، جن پر آصف علی زرداری کا ایڈریس درج کیا گیا۔ اِن خطوط میں بیس بیس ملین ڈالرز بطور کمیشن مندرجہ بالا اکاؤنٹس میں بھجوانے کا ذکر تھا۔ جب دونوں خطوط کا اوریجنل لیٹر ہیڈز سے موازنہ ہوا تو کیمیکل رپورٹ کے مطابق دونوں خطوط جعلی نکلے مگر پھر بھی جسٹس قیوم ملک نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو 1999ء میں سزائیں سنا دیں، جو 2001ء میں ججوں اور شریفوں کی ملی بھگت پر مبنی پکڑی جانے والی گفتگو کی ریکارڈڈ ٹیپس کی وجہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالعدم قرار دے دیں۔ سوئس حکام کو یہ بھی یاد تھا کہ کس طرح شریف حکومت نے مئی 1997ء میں کھولے گئے اکاؤنٹس میں موجود رقم سے متعلق تین بار مؤقف بدلتے ہوئے شکایت کی تھی۔ شریف حکومت نے سب سے پہلے اسے کِک بیکس کہا، پھر منی لانڈرنگ کا ڈھونگ رچایا اور آخر میں کہا کہ یہ تو منشیات کی کمائی ہے۔ شریف حکومت کی یہ سب جعل سازیاں انکوائری میں ہی ٹھس ہو گئیں اور سوئٹزر لینڈ میں سرے سے مقدمات فائل ہی نہ ہو سکے تھے۔

نام نہاد آزاد عدلیہ، مسلم لیگ (ن) اور میڈیا کے گٹھ جوڑ نے پورے پاکستان کو اپنے پروپیگنڈے سے مکمل طور پر جکڑا ہوا تھا مگر سوئس حکام وطنِ عزیز کی اِس مضحکہ خیز صورت حال پر ہنستے تھے کہ یہ کیسے احمق لوگ ہیں جو ایک جھوٹے مقدمات پر اپنا وقت و وسائل ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی خوامخواہ کی مصیبت بنے ہوئے ہیں۔

جنیوا کے اٹارنی جنرل (پروسیکیوٹر جنرل) ڈینیل زیپیلی نے میڈیا کو بڑے واضح انداز میں بتایا کہ سوئس حکومت پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات نہیں چلا سکتی کیونکہ آصف علی زرداری کو بطور سربراہِ مملکت مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ انٹرنیشنل قانون کے مطابق صدر، وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کو عالمی استثنٰی حاصل ہوتا ہے۔

اس سے قبل جنیوا کے اٹارنی جنرل فرانکوئس راجر مچلی (جس نے 1997ء سے 2008ء تک سوئس کیس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی) نے سوئس فیڈرل محکمہ خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سربراہان ریاست کو بیرون ملک فوجداری کاروائی سے مکمل استثنٰی ہوتا ہے۔ اُنھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ “باہمی قانونی معاونت کی اصل روح یہ ہے کہ سوئزر لینڈ کسی دوسرے ملک کی تحقیقات میں مدد کرتا ہے۔ اگر درخواست گذار ملک میں کوئی تفتیش نہیں ہو رہی تو پھر قانونی معاونت کے لیے درخواست کا کوئی جواز نہیں۔” (ہمارے ہاں پاکستان میں تفتیش کا یہ حال تھا کہ عدالت میں سوئس مقدمات کی دو بار سماعت کے ہونے کے باوجود مقدمات سو فیصد جھوٹے ثابت ہو چکے تھے)۔

ان مقدمات میں شریف حکومت کے وکیل جیکؤس پاتھن بھی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کا جو مرضی فیصلہ آئے مگر سوئس حکام کو سوئس قوانین اور انٹرنیشنل لاء اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی ملک کے صدر مملکت کے خلاف کیسز شروع کیے جا سکیں۔ مزید برآں، جیکؤس پاتھن کا یہ اقرار بھی میڈیا پر موجود ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ نے شریفین کی مشہورِ زمانہ چمک کے لشکاروں کے باوجود سزا دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کیسز میں سرے سے کوئی ثبوت موجود ہی نہ تھا، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ نامزد ملزمان نے مذکورہ کمپنیوں سے کمیشن وصول کیا ہے۔

سوئس حکام میڈیا پر واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ پاکستانی عدالتوں کا بھلے کوئی بھی فیصلہ آئے، سوئس قوانین سوئس حکام کو یہ قطعاً اجازت نہیں دیتے کہ ایک سربراہ مملکت کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ اُنھوں نے بارہا بتایا کہ اگر پاکستان سے کوئی بھی ادارہ ہمیں لکھے، تب بھی سوئس عدالت دوبارہ اِن کیسز کی انکوائری نہیں کر سکتی۔ ویسے بھی سوئس قانون کے مطابق لیمیٹیشن ایکٹ کے تحت پندرہ سال میں مقدمہ بند کر دیا جاتا ہے۔ اُن کا صاف پیغام تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو سوئس کورٹ یہ کام نہیں کر سکتی۔

پاکستان میں منصفی کے عہدے پر براجمان “صادق و امین فرشتے” یقینی طور یہ اصل حقائق جانتے تھے مگر انھوں نے اپنے ایجنڈے پورے کرنے تھے ورنہ حقائق تو چیخ چیخ کر اپنی سچائی کا اعلان کر رہے تھے۔

المختصر، خط کہانی چلاتے چلاتے “آزاد عدلیہ” بند گلی کے آخری سِرے پر پہنچ کر خود ہی پھنس گئی۔ اس غیر آئینی کھیل میں اس کے لیے راہ فرار مشکل ہو گئی۔ آخر کار عدالتِ عظمٰی کو خط کے متن کے حوالے سے حکومتی مؤقف تسلیم کرنا پڑا۔ عدلیہ نے حکومت کے ساتھ “چیمبر ڈیل” کے بعد عدالتی حکم کے تحت حکومت نے 7 نومبر 2012ء کو سوئس حکام کو خط میں لکھا گیا کہ 2008ء میں اس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کو بند کرنے کے خط کو واپس تصور کیا جائے۔ تاہم خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ پاکستان کے صدر کو جو عالمی سطح پر ایسے مقدمات سے استثنٰی حاصل ہے، اسے نہیں چھیڑا جائے گا۔ اِسی متن کے ساتھ خط لکھنے کی بار بار درخواستیں تو حکومتی وکیل اعتزاز احسن وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھی کرتے رہے تھے۔ اب یہاں سوال اُٹھتا ہے کہ یہ خط تو پہلے بھی لکھا جا سکتا تھا پھر صداقت و امانت کے درجے پر فائز آزاد عدلیہ کے صادق و امین فرشتوں (یاد رہے کہ اس وقت اس کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کا پانچ رکنی بنچ کر رہا تھا اور اس بینچ میں سارے کے سارے فرشتے پی سی او زدہ تھے) نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو گھر بھیج کر ایک اور داغِ تذلیل پاکستانی عدلیہ کے سینے پر کیوں سجایا؟ کیا اِس سے آئین و قانون کی اصل تعبیر و تشریح سے پرہیز کرنے والے خود پسند اور تذبذب و خلجان کے مارے آزاد عدلیہ کے ججوں کا آمریت پسند رویہ کھل کر سامنے نہیں آتا؟

اگلی قسط میں ہم لکھیں گے کہ ایک منتخب وزیرِ اعظم کی نااہلی، پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی اور تین سال تک مسلسل تکرار پر ملکی خزانے کی بربادی کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے لکھوائے گئے خط کا سوئس حکام نے کیا جواب دیا؟
(جاری ہے)۔

پچھلی قسطاگلی قسط

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی آٹھویں قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی ، ساتویں ، نویں ، دسویں اور گیارہویں پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ