بریکنگ نیوز

فری بلوچستا ن کا سکرپٹ اور ٹرمپ کی دھمکی

received_1845797312114948-1.jpeg

تحریر : شاہد حمید
برطانیہ اور جنیوا میَں فری بلوچستان کے اشتہارات لگانے کے بعد اب ہندوستانی خفیہ ادارے امریکہ کی مشہور زمانہ وال سٹریٹ پر اسی قسم کے بینر کو لگواچکے ہیں۔جہاں ایک طرف گلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کا دکھ مٹانے اور پاکستان پر بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب امریکی حکومت سے رفتہ رفتہ بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کو علاقائی سطح پر تسلط کے اپنے دیرینہ ایجنڈے کو تیز کرنے پر اکسا رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ براعظم ایشاء (Asia Pacif) میں امریکہ کی گہری دلچسپی ہندوستان کے لئے حکمت عملی (Strategic) اعتبار سے خاصہ مددگار ہے۔ اور پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت ہندوستان کے ہضم کرنا بھی مشکل ہے۔
چند روز قبل ہی یروشلم کو اسرائیل کے دارلحکومت کے طور پر تسلیم کئے جانے کے لئے امریکہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے قدم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں امریکی طاقت کو بین الاقوامی منظر نامے میں واضح پیغام موصو ل ہوا کہ وہ بلا شرکت غیرے فیصلہ سازی نہیں کر سکتا۔اگرچہ ہندوستان نے بھی امریکہ کے خلاف ووٹ دیا تاہم اس ووٹ میں بھارت کی موجودہ سیاسی طاقتوں کی منشاء موجود نہ تھی جس کی ایک بڑی وجہ بھارت اور اسرائیل کے قریبی سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں جو عرصہ دراز سے قائم ہیں۔ تاہم سیاسی مجبوریوں کے باعث ہندوستان فوری طور پر ایسا قدم اٹھانے سے باز رہا۔ دوسری جانب اس واقعہ سے کچھ دیر قبل اور بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ نہایت غیر سیاسی اور ان ممالک کے لئے واضع پیغام تھے جو عرصہ دراز سے امریکہ کی سیاسی اور معاشی امداد حاصل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک اہم ملک رہا ہے جو شاید معاشی اعتبار سے اگرچہ بالواسطہ بہت زیادہ امریکی امداد پر انحصار (Depend) نہیں کرتا رہا تاہم یہ امداد خاصی حد تک فائدہ مند ضرور رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ا مریکہ کی سیاسی حمایت اور پاکستانی اداروں پر امریکی چھاپ کے باعث بین الاقوامی طور پر پاکستان کو قومی سلامتی کے معاملہ میں بھی ایک ڈھال(Cover) ملتی رہے ہے۔جو شاید اب ممکن نہ رہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے ہم ان ممالک کو دیکھ لیں گے جو ہم سے معاشی امداد حاصل کرتے ہیں دراصل ایک واضع پیغام ہے جو پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کو بآسانی سمجھ میں آجانی چاہیے۔اور اس دھمکی کا عملی طور پر آغاز ہو چکا ہے۔جس میں ٹائمز سکوائر پر پاکستان کی قومی سلامتی کو واضح طور پر چیلنج کیا گیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کچھ ہی روز قبل ہندوستان کے ایک مرکزی وزیر بھی نہایت واضح انداز میں پاکستان پر حملے اور حصے بخرے کرنے کی تجویز دے چکے ہیں ہیں جو اگرچہ نئی بات نہیں لیکن وقت اور حالات کے تناظر میں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ سیاسی فیصلہ سازی جہاں بین الاقوسطح پرخطرات کی گھنٹیاں بجا رہی ہے وہیں ملک پاکستان کے لئے بھی کسی آمدہ چیلنج ان خطرات کا حصہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی کافی عرصہ سے امریکہ سفارتی سطح پرقدرے فاصلہ پر ہے۔اور اس سیاسی خلاء کا بالواسطہ فائدہ ہندوستان کو حاصل ہو رہا ہے۔ یوں وقت کی نزاکت متقاضی ہے کہ اعلی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا جائے اور فری بلوچستان کے ہندوستانی سکرپٹ اور امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کوکسی متبادل آواز کی صورت میں واپس لوٹایا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ