بریکنگ نیوز

فاٹا کےمستقبل کےمتعلق مولانافضل الرحمن کا موقف

Jul-20-2016-19_55_46_n2.jpg

تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

فاٹا کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا مو قف پہلی بار سوشل میڈیا پر آیا ہے۔ اب تک یہ سمجھا جا تارہا ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن بھی محمود خان اچکزئی کی طرح فاٹا میں انگریزوں کے 1870ء کے قانون ایف سی آ ر کا حامی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا نے فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے جو بھی اور جب بھی بیان دیااپنا موقف پیش نہیں کیا بلکہ فاٹا کی رائے پوچھنے پر اصرار کیا۔ فاٹا کے عوام کی رائے کا مسئلہ کشمیر کے استصوابِ رائے یا ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے ریفرنڈم کی طرح ایک معمہ ہے جو حل ہونے والا نہیں۔ 19دسمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں آرمی چیف اور وزیر اعظم کے ساتھ خصوصی ملاقات میں بھی مولانا نے وہی مو قف دہرایا کہ فاٹا کے گرینڈ جرگہ سے پوچھا جائے۔فاٹا کا جرگہ پولیٹکل ایجنٹ اور ایف سی آر کے حامیوں کا فورم ہے اس لئے میڈ یا میں مولانا کا موقف واضح نہیں ہوا۔ آرمی چیف سے ملاقات، سوشل میڈ یا پر مولانا کا صاف اور واضح موقف 700الفاظ کی جامع اوربا معنی تحریر میں دیاگیا ہے۔
مولانا کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں چار صوبوں کے ساتھ فاٹا کا الگ ذکر ہوا ہے۔ یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ اس میں ترمیم کا حق ہماری قومی اسمبلی کو ہے مگر یہ حق فاٹا کے عوام کی مرضی کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ پہلے فاٹا کے عوام کی رائے لی جائے۔
دوسری بات یہ ہے فاٹا کا موجودہ سسٹم خیبر پختو نخوا سے بدرجہا بہتر ہے۔ فاٹا میں لکی مروت،کرک، ڈی آئی خان،بنوں اور کوہاٹ سے بہتر ترقی ہورہی ہے۔ اگر موجودہ حیثیت کو چھیڑا جاتا ہے تو فاٹا کا الگ صوبہ بننا موجودہ حالت سے بہتر ہوگا۔ دوسرے صوبے میں ضم ہونے سے فاٹا کے عوام کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئیگی۔ ان دو اصولی باتوں کی تشریح کرتے ہوئے مزید چار نکات سامنے لائے گئے ہیں۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ الگ صوبہ بننے سے فاٹا کو سینیٹ میں 23سیٹیں ملیں گی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی پختون سیٹوں کو ملاکر سینیٹ میں پختونوں کی اچھی تعداد آئیگی اور آئین سازی میں پختونوں کا پلہ بھاری ہوگا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ الگ صوبے کا اپنا گورنر، اپنا وزیر اعلیٰ اور اپنا پبلک سروس کمیشن ہوگا۔ اپنی اسمبلی ہوگی، اپنی عدلیہ ہوگی، اپنی پولیس ہوگی، روزگار کے مواقع پر فاٹا کے عوام کا اختیار ہوگا۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو خیبر پختونخوا کے برابر حصہ ملے گاجو پنجاب دینا نہیں چاہتا۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ فاٹا میں افغانستان کے ساتھ تجارت اور آمدورفت کے 5بڑے راستے ہیں۔ طورخم، غلام خان، بن شاہی، نوا پاس اور خرلاچی کے راستے تجارے ہوگی تو محاصل کی آمدن فاٹا کو ملے گی۔ وزیرستان میں آئرن، کاپر اور تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہیں۔ ان کی آمدنی فاٹا کو ملے گی اور فاٹا کا صوبہ ملک کا امیر ترین صوبہ ہوگا۔
یہ 6نکات ہیں جو شیخ مجیب کے 6نکات سے یکسر مختلف ہیں۔ یہ موقف محمود خان اچکزئی کے موقف سے بھی مختلف ہے۔ محمود خان اچکزئی ایف سی آر کی حمایت کرتا ہے وہ فاٹا کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتا اور پاکستان کا حق تسلیم نہیں کرتا۔ مولانا فضل الرحمن پاکستان کے آئین کا حوالہ دیتا ہیاور آئین کی روشنی میں 8قبائلی ایجنسیوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں پر مشتمل پختون صوبے کے قیام کی بات کرتا ہے۔ مولانا ایف سی آر کی جگہ نئے قانون کاحامی ہے۔ ایف سی آر کو صحیفہ آسمانی سمجھنے والوں میں سے نہیں اس طرح مولانا کا موقف پہلی بار صاف اور واضح ہوکر سامنے آیا ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔ مولانا کا موقف سامنے آنے کے بعد مولانا اُن لوگوں سے الگ ہوگیا ہے جو 1870ء کی طرح فاٹا کے عوام کو غلام رکھنا چاہتے ہیں۔فاٹا کو ایف سی آر کی زنجیروں میں جکڑ کر اپنے لئے مالی فوائد سمیٹنا چاہتے ہیں۔ فاٹا کے نام پر پشاور اور اسلام آباد میں دکان کھول کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ یا جو لوگ فاٹا کے حوالے سے بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہے ہیں۔ مولانا اُن سے الگ ہے۔ مولانا کا اپنا موقف ہے۔ اگر 2015ء میں فاٹا اصلاحات کے لئے کمیشن بناتے وقت مولانا کو اُس کمیشن میں نمائندگی دی جاتی یا ان کا موقف کمیشن کے سامنے رکھا جاتا یا 6 نکات کو میڈیا کے سامنے لایا جاتا تو فاٹا کے حوالے سے بہت سارے ابہام دور ہوجاتے۔ معاملات کو سدھارنے میں آسانی ہوجاتی۔ آرمی چیف سے مولانا کی ملاقات کے بعد برف پگھل چکی ہے۔ اللہ کرے مولانا کا تازہ ترین موقف معاملات کو سدھارنے میں مدد گار ثابت ہو۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ