بریکنگ نیوز

حافظ سعید خدا حافظ

14955959_1425243120837038_6066556335997869295_n-1.jpg

تحریر: شاہد حمید
خاکم بدہن ، شاید حافظ سعید کو خدا حافظ کہنے کاوقت آن پہنچا ہے۔ یکے بعد دیگرے بین الاقوامی سیاست ایسے نئے رخ اختیار کرتی جا رہی ہے جو علاقائی اور ملکی سطح پر تیزی سے اپنے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ گزشتہ تحریر میں میں واضح کرچکا ہوں کہ کیسے امریکی طاقت کو براعظم ایشاء (Asia Pacific) میں درپیش چیلنجز میں ہندوستان کس طرح معاون و مدگار کی حیَثیت سے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔اور کس طرح پاکستان کی کو چاروں شانے چت کرنے کی نئی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ہٹلر کا ایک اہم قول یہ ہے کہ اگر کسی جھوٹ کو بار بار شدت سے دہرایا جائے تو وہ سچ ہو جاتا ہے۔ اور لگتا ہے کہ کچھ ایسا ہی شاید جماعت الدعوہ اور اس تنظیم کے سربراہ حافظ محمد سعید کے ساتھ ہونے جار ہا ہے۔آزادی کشمیر کے بنیادی فلسفہ اور مقصد کے ساتھ اعلی درجہ کے فلاحی کام کرنے کے باوجود امریکہ اور بھارت نے دہشت گرد کی حیثیت سے حافظ سعید کو بین الاقوامی طور پر اس حد تک بدنام کیا کہ وہ اس تنظیم کے بارے میں کسی حد تک ایک نیا بیانیہ ترتیب دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اگرچہ جماعت الدعوہ کی بجائے ملی مسلم لیگ کے سیاسی پیلٹ فارم کی ترتیب و ترکیب نہایت منظم انداز میں عمل میں لائی گئی لیکن اس نئے ڈھانچے میں منتظمین کے چناؤ سے لے کر اس کے ظاہری خدوخال(Apparent Face) تک حافظ سعید کے اثرات واضح نظر آتے ہیں جو اسے قابل قبول بنانے کے لئے تنظیم کے لئے اندرونی طور پر تو شاید فائد ہ مند ہیں تاہم اسے دوسروں کے لئے قابل قبول (Acceptable) رہنے کے لئے رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملکی قومی دھارے (Political Mainstreaming) کی یہ کوشش شاید اتنی کارگر ثابت نہ ہو سکے۔دوسری جانب ریاست کے وہ معاملات جن کا تعلق براہ راست سالمیت اور ملکی استحکام سے ہو نہایت اہمیت کے حامل کہلاتے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات میں ریاست کو اکائی کی حیثیت حاصل ہے اور قومی مفاد(National Interest) اس اکائی کی بنیاد ٹھہرتا ہے۔گویا ریاست فرد واحد یا کسی تنظیم کو اس حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے جب تک اس فرد یا تنظیم سے قومی مفاد(National Interest) متاثر نہ ہو۔حتی کہ یہی قانون دوست ریاستوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جس کی ایک تازہ مثال حال ہی میں حافظ سعید کی فلسطین کے حق میں نکالی گئی ریلی میں شرکت کے بعد فلسطین جیسی کمزور ترین ریاست کی جانب سے اٹھایا جانے والا قدم ہے۔ گویا قومی مفاد میں فیصلہ جذبات ، نظریاتی یکجہتی یا کسی انس و محبت کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ سراسر ملک کی جغرافیائی سالمیت اور بین الاقوامی سطح پر اپنی حصے داری کو برقرار رکھے جانے کی نظر سے کیا جاتا ہے۔ایسی صورت حال میں جماعت الدعوہ کے چند ذیلی حصوں کو حکومتی تحویل میں لیا جانا اگرچہ معمول کی کاروائی سمجھی جانی چاہیے تاہم شاید یہ پہلا قدم ہے۔ اور آنے والے دنوں میں خاکم بدہن شاید حافظ سعید کو خدا حافظ کہنے کا وقت آن پہنچے۔۔۔۔۔پاکستان پائندہ باد

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ