بریکنگ نیوز

وہ تازیانے لگے ہوش سب ٹھکانے لگے

IMG-20171115-WA0014.jpg

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

پہلے چالیس برس پاکستان کے بے نتھے قومی گھوڑے کو اصطبل کے کھونٹے پر باندھنے اور سعادت مند بنانے کی تربیت میں گزر گئے۔ بہت محنت ہوئی اس گھوڑے کو چابک کے اشارے پر چلانے میں۔

کیا اسپِ بے لگام تھا زرا زرا سے بہانے رسی تڑاتے، بات بے بات ہنہناتے اگلی ٹانگوں پر کھڑا ہو جاتا۔ سرخ آنکھوں میں ایسا جلال کہ سائیس چوکڑی بھول جائے اور پٹھ پر ہاتھ رکھتے گھبرائے۔

پھر کسی جہاندیدہ گھڑ پال نے مشورہ دیا کہ سبز چارہ کم کرتے چلے جاؤ، روزانہ کی ٹہل کو ہفتہ وار میں بدل دو، دس پندرہ دن میں ایک بار بھوسے میں ہلکی پھلکی افیون بھی ملا دو۔ چابک پیٹھ اور ٹانگوں پر ہر وقت نہ مارو بلکہ کان کے قریب وقفے وقفے سے سڑاک سڑاک کرتے رہو تاکہ جانور کو مسلسل احساس رہے کہ چابک بس اب پڑا کہ جب پڑا۔جانور کے لیے چابک سے زیادہ موثر اس کے پیٹھ اور ٹانگوں پر پڑنے کا ڈر ہوتا ہے۔

یہ سب کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب تم گھوڑے کو کبھی کبھار سبز چارہ دو گے، یا ٹہلائی کرواؤ گے، یا پیٹھ اور ٹانگوں پر خرخشہ پھیرو گے یا سال چھ مہینے میں ایک بار مالش بھی کر دو گے تو جانور اسے بھی غنیمت سمجھ کے خوش رہے گا اور اسے گمان رہے گا کہ سائیس صرف ظالم ہی نہیں۔ کہنے پر چلتے رہو تو مہربان بھی ہے۔

یوں تمہارے جانور کا جسم تو گھوڑے کا ہوگا پر نفسیات گدھے والی ہو جائے گی۔ اس کے بعد بھلے اس کی پیٹھ پر سواری کرو کہ سرکس میں کرتب دکھانے کے لیے استعمال کرو یا مسلسل اصطبل میں رکھو۔ گھوڑا ہر حال میں احسان مند رہے گا۔

وہ قوم جو 30 برس پہلے تک ناک پے مکھی نہیں بیٹھنے دیتی تھی۔ اس کا یہ حال ہوگیا کہ چابک چھوڑ چابک کے سائے سے بھی ڈر جاتی ہے۔

کیا ٹھاٹ تھے جب اسی قوم نے چینی روپے سے سوا روپے ہو جانے پر ایوب حکومت کی کھٹیا کھڑی کر دی تھی
جب بھی میرے محلے میں گٹر کا پانی سڑک پر کھڑا ہوجاتا۔ لونڈے یونیورسٹی روڈ پر احتجاجی ٹائر رکھ کے انھیں آگ لگا دیتے۔ اب اہلِ محلہ اس پر خوش ہونا سیکھ گئے ہیں کہ مہینے دو مہینے بعد ہی سہی کم ازکم گٹر کھل تو گیا، چند دن کے لیے سہی سڑک خشک تو ہوئی۔

کیا ٹھاٹ تھے جب اسی قوم نے چینی روپے سے سوا روپے ہو جانے پر ایوب حکومت کی کھٹیا کھڑی کر دی تھی اور آج موٹر سائیکل پر آنے والے دو لڑکے میرے گھر کے سامنے والی بھری مارکیٹ کی بیکری سے پچاس ساٹھ ہزار روپے کیش نہایت اطمینان سے لے گئے۔ ان کے جاتے ہی باقی دکاندار اکٹھے ہو گئے اور لٹنے والے کو دلاسہ دینے لگے۔ اچھا ہے تو نے پیسے دے دئیے، جان سے زیادہ تھوڑی ہیں، بس بھول جا، پرچہ کٹوانے کی ضرورت نہیں اور لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اللہ مالک ہے۔

تین دن پہلے کراچی سے تین بلوچ طالبِ علم غائب ہوگئے اور پھر گھر واپس آ گئے۔ کوئی نہیں پوچھ رہا کہ کون کس قانون کے تحت لے گیا، کیوں لے گیا، کیوں چھوڑ دیا۔ ان بچوں کے گھر والوں، اہلِ محلہ سے لے کر میڈیا اور سوشل میڈیا تک سب ان کے اتنی جلد اور زندہ سلامت لوٹ آنے پر خوش ہیں اور مبارک باد دے رہے ہیں اور چھوڑ دینے والوں کے احسان مند ہیں۔

دن یوں گزرتا ہے اور شام کو ہم سب ٹی وی دیوتا کی آرتھی اتارتے ہیں اور نیند آنے تک چرنوں میں بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔ٹرمپ خود کو آخر سمجھتا کیا ہے، ہم ایک خودار قوم ہیں جو کبھی اپنی غیرت اور عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے، بیس کروڑ غیور لوگوں پر مشتمل ایٹمی قوت کے صبر کو آزمایا نہ جائے۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ضرب بیس کروڑ ۔۔۔

اور دور کسی اصطبل میں کھونٹے سے بندھے گھوڑوں میں سے کوئی ایک اپنا تھوبڑہ گھپ اندھیرے میں دائیں بائیں ہلاتے ہوئے ہلکے سے بھررر کرتا ہے اور پھر چند گھنٹے بعد ایک اور صبح سر پے تن جاتی ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ