بریکنگ نیوز

میں ایک سورما صحافی ہوں

26696566_1966749073337097_461427982_n-1.jpg

تحریر: سعد مدثر

اسی عنوان سے 2013 میں ایک کالم طلعت حسین صاحب نے تحریر کیا تھا، عنوان چوری کرنا مقصد نہیں بلکہ مقصود ہے یادہانی کروانا اور 2013 کے بعد اس میں ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالنا، “جناب طلعت صاحب نے صحافیوں کو اُس کالم میں بس چور نہیں کہا تھا. ”
شکر ہے بہت پرانے وقتوں میں کوئی اخبار نہیں تھا نہ ہی ٹاک شوز کا دور دورہ تھا ورنہ ان صحافیوں کا یہ بھی کہنا ہوتا کہ صحافت انبیا کا پیشہ ہے. ابھی جہاد تک ہی اکتفاء ہے، حالانکہ جہاد کی جتنی اقسام جس پر تمام فقہ کے مفتیان کا اتفاق ہے اُس میں جہاد بل قلم کا کہیں ذکر نہیں.
اگر اشرف المخلوقات کے بعد بنی نوع انسان کے لئے کوئی لقب ہے تو پاکستانی صحافی سب سے زیادہ بضد ہونگے کہ وہ اُن کے لئے ہی کہا گیا ہے، جیسے خود ساختہ چوتھا ستون صحافت کو بنا بیٹھے ہیں،
میں گو کہ صحافی نہیں پر ایک صحافتی ادارے سے قریب دو دہائیوں سے منسلک ہوں جس وجہ سے میری سوشل میڈیا پروفائل پر ہر 2 پوسٹ کے بعد ایک صحافی کی پوسٹ ہوتی ہے جو کہ اج کل پریس کلب الیکشن کی وجہ سے اور بھی بڑھ گئی ہیں.
صحافی کا کام عوام کو آگاہ کرنا ہے، لیکن جب وہ آگہی تو حاصل کر لے اور اسے آگے نہ پہنچائے اسے بڑا صحافی کہتے ہیں اور اُس آگہی کو صحیح وقت پر صحیح جگہ پر بیان کرنا آپ کو اُن بڑے صحافیوں میں دولتمند بھی بنا دیتا ہے.
کہتے ہیں کہ جو خبر چھپتی ہے اُس کے پیسے ہوتے ہیں اور جو نہیں چھپتی اُس کے دگنے پیسے ہوتے ہیں. اور اگر یہ بات آپ کو سمجھ آ گئی ہے تو آپ شعور رکھنے والے قاری ہیں.
سابقہ اسلام آباد پریس کلب باڈی نے صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ ِکے لئے پمز ہسپتال سے نہ صرف مفت علاج کا معاہدہ کیا بلکہ گریڈ18 کے برابر سرکاری ملازم کا سٹیٹس اور طبی سہولیات بھی مفت حاصل کی ہیں۔ اس تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیرِ مملکت اطلاعات اور وزیرِ مملکت کیڈ تھے، کیا وزیر صاحبہ ناواقف ہیں کہ سرکار کے قومی خبر رساں ایجنسی جو کہ ان کی وزارت کا ایک کلیدی ادارہ ہے وہاں عرصہِ دراز سے ملازمین کو طبی سہولیات مکمل طور پر حاصل نہیں لیکن وہ اپنے بچوں کو بلبلاتا چھوڑ کر پڑوسی کے بچے کو چپ کروا رہی ہیں، کیا اس تقریب میں کسی سورما صحافی نے کہا کہ یہ اسلام آ باد کے باسیوں اور سالہا سال انتظار کر کے گریڈ 18 پانے والے سرکاری ملازمین کے ساتھ زیادتی ہے کہ پہلے ہی آبادی کے لحاظ سے اس شہر میں موجود ہسپتال بستروں کی کمی کا شکار ہیں اور اب اُس میں مزید شراکت داری آ گئی کیا وزیر موصوف کیڈ ناواقف ہیں کہ آفیسر وارڈ میں بستر ناکافی ہیں.
کافی سے یاد آیا پریس کلب میں ایک کافی شاپ بھی تعمیر کی گئی ہے جو کہ متنازعہ ہے ، شہید صحافیوں کے لئے تعمیر کی گئی یادگار قبضہ کی گئی زمین پر تعمیر کی گئی ، ایک پارک بھی موجود ہے اور اُس پارک کا سی ڈی اے کے افسر نے افتتاح کیا اور فرمایا یہ ہر خاص و عام کے استعمال میں آۓ گا پر سورما صحافیوں نے چار دیواری اور دروازے میں اس پارک‫کو قید کر لیا.
اس پریس کلب کے لئے سرکار سے زمین لی سرکار سے فنڈنگ لے کر تعمیر کی اور پھر سرکار سے مراعات لے کر کہتے ہیں آپ ہمارا ماضی دیکھیں ہم وقت کے فرعونوں سے لڑتے ہیں.
پلاٹ، سرکاری گھر، رشتہ داروں کی نوکریاں اور اپنے لئے اعلیٰ عہدے، ان کی داستان بیان کرنا ناگزیر ہے کہ ان سورماؤں کو الفاظ سے فرق نہیں پڑتا اور اس قلم گردی میں ، میں ان کو ہرا نہیں سکتا. کیونکہ میں ایک سورما صحافی نہیں ہوں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ