بریکنگ نیوز

اسلام مکمل ضابطہ حیات کے مباحث

Capture.jpg

تحریر مجاہد حسین

“اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔” ہم میں سے ہر فرد نے یہ فقرہ اپنی زندگی میں بے شمار مرتبہ سنا ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دورمیں فکر اسلامی کو منجمد کرنے کی ذمہ داری بہت حد تک اسی فقرے میں موجود تصور پرعائد ہوتی ہے۔ مکمل ضابطہ حیات سے عموماً یہ مراد لی جاتی ہے کہ ہمارے تمام معاشی، سیاسی، عمرانی، تہذیبی اور نفسیاتی مسائل کا حل اسلام میں موجود ہے۔ یہ غلط تصور ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ ہمیشہ کے لئے انسانی زندگی کے ہرشعبے کو جزیات سمیت متعین کیا جا سکے۔ انسانی سماج ایک دریا کی صورت آگے بڑھتا رہتا ہے۔ جو نظام اپنے اندر اس تاریخی حقیقت کے لئے گنجائش نہیں رکھے گا وہ فرسودہ ہو کر پیچھے رہ جائے گا۔
اسلام چونکہ ہمیشہ قائم رہنے کے لئے آیا ہے اس لئے اس میں ابدی اورعارضی پہلوؤں کا ایک خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ ابدی معاملات میں عقائد، عبادات اورانفرادی اخلاقیات شامل ہیں۔ اللہ کے واحد لا شریک ہونے پر ایمان ہمیشہ اسلام کا حصہ رہے گا۔ اسی طرح نماز، روضہ، حج وغیرہ بھی اسلام کے ابدی معاملات میں شامل ہیں۔ انفرادی اخلاقیات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں سچ بولنا، نگاہ نیچی رکھنا، دیانت داری کو اپنا شعار بنانا وغیرہ جیسے معاملات شامل ہیں۔ بنیادی طور پر اسلام کے یہی تین پہلو ایسے ہیں جن میں کسی بھی دور میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ یہ تینوں شعبے اسلام کی اصل بنیادیں ہیں۔
اس کے بعد سماج سے متعلق معاملات آتے ہیں ۔ یہاں اسلام ایک وسیع دائرہ کھینچ دیتا ہے، جس کے اندرروح عصر کے مطابق اجتماعی زندگی کو ڈھالنے کی مکمل آزادی میسر ہے۔ جب بر صغیر میں مسلمانوں نے قدم رکھا تو یہاں کی تہذیب میں فرد کے روحانی اور باطنی پہلواہم تھے۔ اس لئے اسلام تصوف کی صورت میں سامنے آیا جس کی وجہ سے یہ مقامی باشندوں کے لئے اجنبی تصور نہ رہا۔ یہ اسلام میں موجود لچک کی ایک مثال ہے۔
عصر حاضر کو دیکھا جائے تو اس کی پنچ لائن فرد کی آزادی ہے جس کا آغاز یورپ میں نشاۃ ثانیہ سے ہوا تھا۔ لبرل ازم اسی آزادی کی ایک فلسفیانہ شکل کا نام ہے۔ پچھلی کئی صدیوں سے مسلمانوں کو سب سے بڑا چیلنج ہی یہی درپیش ہے کہ فرد کی اس آزادی کو اپنے اجتماعی وجود کا حصہ کس طرح بنایا جائے۔ اس معاملے میں مسلمان ہمیشہ افراط و تفریط کا شکار رہے ہیں۔ اسلام کے آغاز اورعروج کا دور وہ ہے جب سماج کو فرد پر فوقیت حاصل تھی۔ اس عہد کی تمام اسلامی فکر اسی صورتحال کی عکاس ہے۔ چونکہ اب وہ دور نہیں رہا اس لئے فقہ سمیت تمام فکر کی ایسی تشکیل نو کرنا لازم ہے جس میں فرد کی آزادی ایک بنیادی جزو ہو۔
چونکہ ابھی تک انفرادی آزادی کا تصور مسلمانوں کے لئے اجنبی ہے، اس لئے ان کی آنکھوں کو اسلامی نظام قائم کرنے کا خواب بہت مرغوب رہتا ہے کیونکہ اس کا حقیقی مقصد ریاست کی قوت کے ذریعے فرد کی آزادی کو کچلنا ہے۔ ہمارے جتنے بھی مذہبی رہنما سامنے آئے ہیں انہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں اسلامی نظام کی بات کی ہے۔ وہ اس وقت کو حسرت سے دیکھتے رہے جب فرد کی آزادی کا غلغلہ بلند نہیں ہوا تھا۔ وہ وقت کی نبض کو پرکھ نہیں سکے، زمانے کی سرگوشیاں نہیں سمجھ پائے، اور مڑ مڑ کر ماضی کی کتابوں سے حال کے مسائل کا حل پوچھتے رہے۔ اگر وہ تاریخ کے ساز سے ابھرتے نغموں پر کان دھرتے تو ایسے تخلیقی رستے تلاش کر سکتے تھے جن کے ذریعے مذہب کی مبادیات پر سمجھوتہ کئے بغیر فرد کی آزادی کو معاشرت کی بناوٹ کا حصہ بنا یا جا سکتا تھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخی قوتوں کا دھارا کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ عملاً ہر انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ زندہ معاشرے وقت سے پہلے ہی فکری سطح پر ضروری ایڈجسٹمنٹ کر لیتے ہیں جبکہ مردہ معاشرے مسلسل مزاحمت کر کے فکری انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں روح عصر خود کو منوا رہی ہے۔سیاسیات میں فرد کی آزادی جمہوریت کی شکل میں سامنے آئی ہے جسے مسلمانوں نے بہت عرصہ مزاحمت کرنے کے بعد آخرکار قبول کر لیا ہے۔ اسی طرح اب کلین شیو نوجوانوں کو مسجد وں میں اجنبیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ جینز میں ملبوس لوگ اگلی صفوں میں بے جھجک کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کو عملاً تسلیم کر لیا گیا ہے۔ شادی کے معاملے میں ولی کی اجازت فرد پر سماج کی فوقیت کا مظہر تھی۔ اب یہ شرط بھی ختم ہوتی جارہی ہے جس کا ثبوت عدالتوں کے سامنے ہونے والی شادیاں ہیں۔ خواتین بڑے شہروں میں اپنی پسند کے لباس میں ملبوس نظر آتی ہیں۔ یہ تمام مثالیں انفرادی آزادی کے شجر سے پھوٹنے والے شگوفے ہیں جن کی خوشبو ہر سو پھیلتی جا رہی ہے۔ ہم اپنی ناک کب تک بند رکھیں گے، یہ سوال خود سے ضرورکرنا چاہئے۔
اگر ہم مسلمانوں کی پچھلی دو صدیوں کی تاریخ ہی پڑھ لیں تو واضح ہو جائے گا کہ اس دوران عملی طور پر کس طرح مسلمان معاشروں میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ موجودہ تبدیلیاں اگر اسلام کا حصہ ہیں تو پھر پچھلے ایک ہزار سال کے سارے معاشرے غیر اسلامی قرار پاتے ہیں کیونکہ ان میں فرد کو وہ آزادی میسر نہیں تھی جو آج کے دور کا خاصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے اسلام خاموش رہتا ہے۔ وہ ان معاملات کو ہر دور میں پیدا ہونے والے مصلحین کی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہے اوراسی میں اسلام کی آفاقیت کا راز پوشیدہ ہے۔
تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام سماجی دائرے کو لامتناہی طور پر وسیع نہیں سمجھتا۔ اس پر بہت سی حد بندیاں ابدی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پرعورت اور مرد بغیر نکاح کے اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ اسی طرح ایک مسلمان معاشرے میں ڈیٹنگ کا تصور کبھی قبول نہیں کیا جا سکے گا۔ جمہوریت میں ایسا کوئی قانون نہیں بن سکے گا جو مرد کی مرد سے شادی کو جائز قرار دے سکے۔ مسلمان معاشرے میں نائٹ کلب کبھی نہیں کھل سکیں گے۔ اسی طرح لبرل ازم کی جو صورت مغرب میں موجود ہے، وہ ہمارے ہاں کبھی نہیں پنپ سکتی۔ اس کے اچھے اجزا ضرور ہم اپنی فکر میں پرو سکتے ہیں تاہم اسے مکمل طور پر قبول کرنا ممکن نہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ