بریکنگ نیوز

امیر تیمور کے دیس میں چند روز

images-1.jpeg

تحریر ارشادمحمود

تاشقنداور سمر قند کا قدرتی حسن اور دلفریب نظارے دیکھ کر انسان حیرت زدہ رہ جاتاہے۔ازبکستان کے ان شہروں کے گردونواح میں جس قدرسفر کرتے جائیں‘ یہ تصور پختہ ہوجاتاہے کہ واقعی یہ ایک پریستان ہے۔خوشی اس بات کی ہے کہ اس ملک کے باسیوں نے سوویت یونین سے آزادی کے بعد ترقی اور خوشحالی کا سفر نہ صرف جاری رکھا بلکہ آج کا ازبکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور طاقت ور ملک کے طور پر خطے میں ہی نہیں بلکہ عالم میں شناخت پیدا کررہاہے۔تین کروڑ سے کچھ زائد آبادی والے اس ملک کو دیکھ کر او کچھ دن یہاں گزار کراندازہ ہوتاہے کہ سارا نظام ایک خودکار سسٹم سے مربوط ہے۔ پولیس یا فوج کا نام ونشان ہی نظر نہیں آتا لیکن حکومت اور قانون کا دبدبہ ہرجگہ اپنی موجودگی کا احساس لاتاہے۔ لوگ پرسکون اور خوش وخرم نظر آتے ہیں۔صفائی ستھرائی کا معیار یورپ سے کم نہیں۔ پارکوں اور سیر گاؤں کاکوئی شمار نہیں۔پہلی نظر میں ہی ازبکستان ایک ترقی یافتہ اور جدید ملک نظر آتاہے۔
تاشقند اور سمر قند نہ صرف کشادہ اور بلند وبلا عمارتوں سے مزین ہیں بلکہ یہ دونوں شہرتاریخی واقعات کے امین ہیں بلکہ بے شمار سیاسی اور سماجی معرکوں کی یادیں بھی اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہیں۔شہر کا کوئی کونہ کدرہ ایسا نہیں جہاں کوئی بڑی تاریخی عمارت نہ ہو یا پھر یادگار۔ازبکوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی قدیم تہذہب اور کلچر کو ابھی تک سنبھالے ہوئے ہیں۔ شہروں میں قائم عظیم الشان میوزیم جہاں ماضی کی شان وشوکت کی یاد دلاتے ہیں وہاں نئی نسل اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو اس خطے کی تاریخ سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔حالیہ برسوں میں تمام تاریخی مقامات کی ازسر نو تزئین وآرائش کی گئی ۔سیاحوں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں کو ازبکستان لایاجاسکے۔بتایاجاتاہے کہ گزشتہ نو ماہ میں 224,000 غیر ملکیوں نے ازبکستان کی سیاحت کی۔ اگلے چند برسوں میں پچیس لاکھ کے لگ بھگ سیاحوں کو ازبکستان کی سیر کرانے کا منصوبہ تیار ہے۔اس غرض سے نئے ہوٹل، ٹور آپریٹرز، گائیڈز اور سیاحت کو منظم کرنے والی کمپنیاں قائم کی جارہی ہیں ۔ غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں تو سرکاری ادارے سیاحوں کو تنگ نہیں کرتے۔ زیادہ سوال جواب نہیں کیے جاتے ۔اگرچہ یہ کوئی معروف معنوں میں جمہوری ملک نہیں لیکن کیمونزم کے زمانے کی پابندیاں کب کی تمام ہوچکی ہیں۔معاشرہ مغربی طرززندگی اور ازبک کلچر کے درمیان میں جھولتا نظر آتاہے۔شہریوں میں مغربی تہذیب کے لچھن اپنانے کی طرف بہت رغبت پائی جاتی ہے۔
تاشقند ،سمرقند اور بخارا میں دور دیسوں سے سیاح کھچے چلے آتے ہیں۔ بعض لوگ مذہبی مقامات خاص طور پر امام البخاری کے مزار یا حضرت عثمان بن عفان کی شہادت کے وقت زیر مطالعہ قرآن مجید کی زیارت کو آتے ہیں۔ بہت سارے امیرتیمور‘ جو مغل سلطنت کے بانی تھے کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور اس خطے کی تاریخ کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔تاشقند میں امیر تیمور کی حیات اور خدمات کے حوالے سے ایک شاندار میوزیم قائم ہے۔اس میوزیم کو دنیا کے کئی ایک سربراہ بھی دیکھ چکے ہیں۔ یہ میوزیم ازبکستان کے حکمرانوں کی فتوحات کی کہانی سناتاہے۔
تعلیم پر زبردست توجہ دی جاتی ہے۔ بنیادی تعلیم لازمی ہے۔لگ بھگ سو فی صد کے قریب آبادی خواندہ ہے حتیٰ کہ دوردراز کے علاقوں میں بھی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ سوویت یونین کے زمانے سے ہی بنیادی تعلیم پر زور دیا جاتاتھا۔آزادی کے بعد تعلیم ازبک زبان میں دی جاتی ہے۔ انگریزی کا چلن بھی عام ہے ۔ روسی زبان سیکھانے اور سیکھنے والے روز بہ روز کم ہورہے ہیں۔ یہ تعلیم ہی کا کمال ہے کہ عورتیں زندگی کے ہر شعبے میں فعال کردار اداکرتی نظر آتی ہیں۔ حتیٰ کہ بازاروں میں بلاخوف وخطر کاروبار کرتی ہیں۔
تاشقند میں جگہ جگہ امیرتیمور کے مجسمے آوزاں نظر آتے ہیں لیکن کئی بھی لینن اور کارل مارکس کا مجسمہ دیکھنے کو نہ ملا۔ امام بخاری کے مزار پر گائیڈ نے بتایا کہ 1924میں سوویت یونین نے ازبکستان پر قبضہ کیا تو امام بخاری کا مزار بند کردیاگیا۔ اگرچہ کچھ عرصہ بعد اسے سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا لیکن نماز کی اجازت نہ تھی۔ 1991میں ازبکستان نے خودمختاری کا اعلان کیا تو مسلمانوں کو مذہبی آزادیاں ملنا شروع ہوئیں۔قدیم مساجداور مدارس کی بحالی اور تزئین وآرائش کا کام شروع کیا گیا۔نئی مساجد بھی تعمیر کی گئیں۔ بتایاگیا کہ عمومی طور پر مساجد میں نمازیوں کی تعداد کم ہوتی ہے لیکن جمعہ اور زمضان المبارک میں مساجد میں خوب رونق لگ جاتی ہے۔
عام لوگوں سے کمیونزم کے زمانے کے بارے میں سوال کرتاتو وہ ٹال دیتے۔لوگ کھل کر اس موضوع پر بات نہیں کرتے ۔وہ اپنے آپ کو سوویت یونین یا لینن ازم کے ساتھ شناخت نہیں کرتے بلکہ اسلام اور امیر تیمور کے ساتھ اپنے تعلق کو جوڑنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ازبکستان کے بانی صدر اسلام کریموف نے قریب ستائیس برس تک ملک پر حکومت کی۔وہ ایک سخت گیر حکمران تھے لیکن ان کے انتقال کے بعد ملک کے اندر شہری آزادیاں اور اظہار رائے پر عائد پابندیوں میں کچھ نرمی دیکھنے میں آئی۔ اکثر لوگ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے خوش نظر آتے ہیں کیونکہ موجودہ صدر شفقت مرزا نے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف موثر کارروائیاں کرکے معاشی صورت حال کو بہتر کیا۔وہ ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر تو کرہی رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چین اور دوسرے ممالک سے بھی سرمایاکاری کے معاہدے کررہے ہیں تاکہ ملک کو مزید ترقی دی جاسکے۔ چین پاکستان کی طرح ازبکستان میں بھی وسیع پیمانے پر سرمایاکاری کرنے جارہاہے۔تاشقند اور سمرقند میں عام لوگ چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے کردار سے بظاہر خوش نظر آتے ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے بھی عمومی طور پر گرم جوشی نظر آئی۔یہاں ون بلٹ ون روڑ کے آئیڈیے کو دلچسپی سے دیکھاجاتاہے۔پاک چین اقتصادی راہداری میں شراکت دار بننے اور اس منصوبے کے ثمرات سے مستفید ہونے کے حوالے سے بھی کافی گرم جوشی پائی جاتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ پر بھی ازبکستان کے شہری خوش نظر آتے ہیں۔وہ حیرت کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح پاکستانی قوم نے اس عفریت کو شکست فاش سے دوچار کیا۔
اکثر لوگ پاکستانیوں کو دیکھتے ہی پہنچان جاتے ہیں اور بلند آواز میں اسلام علیکم کہتے ہیں۔ پاکستان کے حالات کے بارے میں استفسارکرتے ہیں۔نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔اس وقت لاہور اور تاشقند کے درمیان فضائی رابطہ قائم ہے ۔ویزے کی پابندیاں نرم ہوچکی ہیں اور مزید بھی نرم ہورہی ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے تعلقات میں مزید گہرائی اور گیرائی پیدا ہوگی اور وہ ایک دوسرے کے تجربات اور وسائل سے مستفید ہوں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ