بریکنگ نیوز

پیرنی اور مُرید سیاستدان کو اپنے رُوپ کا لحاظ کرنا چاہیئے تھا!

imran-with-peer.jpg

تحریر: امام بخش

اس تصویر میں دو افراد بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک میزبان ہے اور دوسرا مہمان۔ میزبان پیر صاحب ہیں اور مہمان مُرید۔ جہاں یہ دونوں افراد بیٹھے ہیں، یہ مُرشد خانہ ہے، جہاں مُرید روحانی رہنمائی کے لئے وقتاً فوقتاً جایا کرتا تھا۔

یاد رہے کہ مُرید نے پیر صاحب کے ساتھ ساتھ اِن کی زوجہ محترمہ کے ہاتھ پر بھی بیعت کی ہوئی ہے۔ یعنی اس اسپیشل مُرید کے میاں پیر اور بیوی پیرنی ہے۔

تصویر اگر غور سے دیکھیں تو پیر اور مُرید کسی موضوع پر محو گفتگو ہیں۔ 31 دسمبر 2017ء تک کوئی انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اس وقت گفتگو کے دوران دونوں کے دماغوں میں کیا سوچیں چل رہی تھیں۔ کیا اِن دونوں کے دماغ ایک ہی سمت پر سوچ رہے تھے یا پھر پیر اور مُرید کے دماغ انتہائی مختلف سمتوں میں سوچ رہے تھے؟ غالباً یہ امکان ہے کہ پیر صاحب اپنی طرف سے روحانی فیض عطا فرما رہے تھے لیکن مُرید کچھ اور سوچ رہا تھا۔

مُرید کیا سوچ رہا تھا؟

روحانی عشق کے سین پارٹ ہونے کے بعد کوئی بھی آدمی اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ مُرید کیا سوچ رہا تھا۔

ہم یہاں عقیدت اور عزت کے رشتے یعنی پیری اور مُریدی کو بھی ساتھ رکھ کر سوچتے ہیں کہ ایسی رزیل سوچ کے مالک شخص کی شخصیت پوری طرح کھل کر سامنے نہیں آ جاتی، جو مہمان بن کر کسی کے گھر جاتا ہے، جہاں اُسے پوری عزت ملتی ہے مگر مہمان اپنی گری ہوئی حرکتوں سے باز نہیں آتا اور میزبان کے گھر میں چوروں کی طرح نقب لگانے کے منصوبوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے؟ کیا ایسے شخص کو سمجھنے کے لیے باقی کچھ بچتا ہے؟

حیرت ہوتی ہے کہ یہ مہمان دورانِ گفتگو اپنے میزبان سے نظریں کس طرح ملاتا ہو گا؟

یہ “روحانی عشق” یقینی طور پر نیا نہیں ہے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ مُرید پیرنی سے “روحانی فیض” کی خاطر شروع کی جانے والی ملاقاتوں میں ابتدا سے ہی اپنی جوانی کے زمانے کی پلے وائے والی “فطرت ثانیہ” پر آ گیا تھا۔ نہیں یقین تو قندیل بلوچ کو سُن لیں، جس نے دو سال قبل ہی مُرید اور پیرنی کے چہروں سے نقاب اُلٹ دیئے تھے۔ حالات و واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ انوکھا مُرید آج بھی مشرقی روایات کے برعکس اپنی پرانی پلے بوائے والی سوچ پر پوری طرح مستحکم کھڑا ہے۔

عام انسان یہ سوچ کر کانپ جاتا ہے کہ اس وقت پچاس سالہ پیرنی کے پانچ جوان بچوں پر کیا بیت رہی ہو گی۔ ان میں سے دو شادی شدہ بیٹیاں مائیں بھی بن چکی ہیں۔ ناجانے ارد گرد کے لوگ ان کے ساتھ کس طرح پیش آ رہے ہوں گے اور ان کے لیے اس صورت حال میں جینا کتنا مشکل بن گیا ہو گا۔

تیس سال تک خوشحال ازدواجی زندگی گزارنے والی پیرنی صاحبہ کو ایک لمحے کے لیے بھی اپنے خاندان، بچوں، عمر اور اپنی حیثیت کا خیال نہیں آیا؟ اللہ تعالٰی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے ناپسندیدہ ترین عمل یعنی طلاق کے بارے میں بھی دروغ گوئی کی انتہا کی جا رہی ہے کہ “یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر ایسا ہوا ہے”۔ کیا یہ سب بیس کروڑ گدھے بیٹھے ہوئے ہیں، جو اِس فضول گوئی پر یقین کر لیں؟

پاکستان کی تین بڑی سیاسی پارٹیوں میں سے ایک بڑی پارٹی کے سربراہ عمران احمد خان نیازی یعنی مُرید صاحب کے قدموں کو بھی شرم و حیا نے ایک لمحے کے لیے نہ روکا؟

کوڑھ مغزی اور سفاکیت کی انتہا ہے۔

کیا توہین کا احساس بھی نہیں ہے؟

کیا سینے میں دل نہیں ہے، دیدوں کا پانی مر گیا ہے، یا پھر ضمیر نامی چیز بالکل عنقا ہے؟

کاش پیرنی اور مُرید سیاستدان نے جو سچا جھوٹا رُوپ دھارا ہوا ہے، کم از کم اسے ہی کچھ عزت دے دیتے۔

یاد رہے کہ اس چھیاسٹھ سالہ مُرید صاحب کی تاریخ ہے کہ موصوف نے آج تک اپنے کسی بھی محسن کو نہیں بخشا مگر اس بار تو اس نے اِنتہا کر دی ہے کہ اپنے پیر صاحب کو فریب میں رکھ کر پیرنی ہی کو لے اُڑا ہے۔ آج تک شعبدہ باز پیروں کا سنتے آئے ہیں، شعبدہ باز مُرید پہلی بار دیکھا ہے۔ شاید یہ وہی تبدیلی ہے، جس کا ذکر سُن سُن کر قوم کے کان پک گئے ہیں۔ ورنہ موصوف کی ایک صوبے میں حکومت مدت پوری کر رہی ہے مگر سوشل میڈیا کے علاوہ کچھ تبدیل نہیں ہوا۔

اگر مُرید کے بیانات کو دیکھا جائے تو اپنی ہی بات سے مُکر جانے کا شہرہ رکھتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ موصوف نے ہر بات پر جھوٹ بولنے کی قسم کھائی ہوئی ہے، تبھی تو کسی صورت میں پوشیدہ نہ رہ سکنے والی بات پر بھی یہ اپنی قسم نہیں توڑتا اور ہر بار نکاح ایسے معاملے میں بھی اپنی قسم نبھاتا ہے۔

آج “روحانی عشق” پر اخلاقیات کے اسباق پڑھانے کے ساتھ چیخوں و پکار کرنے والے واعظین شاید سمجھ رہے ہیں کہ عوام ان کے اپنے اخلاقیات بھول گئے ہیں، جو یہ پروپیگنڈا سٹنٹ کے طور استعمال ہونے والے کردار تنویر زمانی اور آیان علی پر “وعظ” فرماتے رہے ہیں۔ مزید برآں، مُرید کی سیاسی پارٹی چھوڑنے والی ہر خاتون کے خلاف یہی لوگ اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور تو اور انھوں نے مُرید کی سابقہ بیوی ریحام خان تک کو معاف نہیں کیا۔

آج نام نہاد دانشور بھی عوام کو ڈانٹتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شادی تو عمران خان کا ذاتی معاملہ ہے اور نکاح تو ثواب والا کام ہے۔ عوام کے اجتماعی شعور کی توہین کرنے والے اِن دانشوروں کو معلوم نہیں ہے کہ انوکھے مُرید کی سیاسی پارٹی کے ترجمانوں کی شادی کے بارے میں وضاحتوں کے علاوہ یہ بذاتِ خود بھرے جلسے میں ببانگ دہل اپنی شادی کا تذکرہ فرما دیتا ہے۔ تب کیوں نہیں روکتے کہ ذاتی معاملہ سیاسی جلسے میں کیوں اُچھالتے ہو؟

وطنِ عزیز میں نماز پڑھنے، عمرے اور حج کرنے کے علاوہ دوسرے ذاتی زندگی کے معاملات کی نمائش تو بھرپور انداز میں جاتی ہے۔ وہاں تو کوئی قدغن نہیں لگتی کہ یہ ذاتی معاملہ ہے۔ پاکستان کا ستیاناس مارنے والے آئین شکن ضیاءالحق کے ایسے ہی منافقانہ ڈراموں پر اُس کی سیاسی اور صحافتی بیوائیں آج تک صدقے واری ہیں۔

ٹیریان کی امی سیتاوائٹ اپنی بچی کے عیاش اور سنگدل باپ سے نکاح کی درد بھری فریادیں کرتی ہوئی قبر میں اُتر گئیں۔ اگر وہ آج زندہ ہوتیں تو مُرید کی سیاسی پارٹی کے ترجمانوں اور دانش کے نام پر تہمت دانشوروں کی طرف سے نکاح کے بارے میں فضائل سُن کر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی۔

سب جمہوری ملکوں میں عوامی شخصیات کی شادیوں اور اسکینڈلز کی میڈیا پر خبریں نشر ہوتی ہیں۔ وہاں تو کوئی اس طرح نہیں ڈانٹتا کہ یہ ذاتی معاملہ ہے۔ عمران خان بھلے جس عمر میں شادی کرے، یہ اِس کا بنیادی حق ہے۔ اخلاقیات، مذہب اور قانون انھیں پوری طرح اجازت دیتے ہیں۔ مگر قومی رہنما کے طور پر اس انداز میں اخلاقیات کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے شادیاں کرنا اُسے ہرگز زیب نہیں دیتا۔

ایک خوش باش خاندان کو اُجاڑ کر اپنی پیرنی اُڑانے والا عام مُرید ہوتا تو اتنی بڑی بات نہیں تھی مگر اس مُرید کے ساتھ پوری قوم کی تقدیر جُڑی ہوئی ہے۔ یہ مُرید اِس وقت وطنِ عزیز کے ایک صوبے پر حکومت کر رہا ہے اور مستقبل میں وزیرِ اعظم بننے کا اُمید وار بھی ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ سیاستدان کی ذاتی زندگی ہی اُس کا اصل کردار ہوتا ہے۔ وہ حکومت میں بھی آ کر وہی گُل کھلاتا ہے، جن کی آبیاری وہ اپنی ذاتی زندگی میں کرتا ہے۔

آخر میں ایک سوال پوچھنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ موجودہ پاکستانیوں کی ذاتی زندگیاں تو کیا اُن کی آنے والی نسلوں کی ذاتی زندگیوں پر اثرانداز ہونے کے متمنی فردِ واحد کی ذاتی زندگی پر ایک پاکستانی شہری بات کیوں نہیں کر سکتا؟

شیئر کریں

One thought on “پیرنی اور مُرید سیاستدان کو اپنے رُوپ کا لحاظ کرنا چاہیئے تھا!”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ