بریکنگ نیوز

“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (9)

Zardari-Sahib.jpg

تحریر: امام بخش

پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی , ساتویں اور آٹھویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تحت 7 نومبر 2012ء کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے سوئس حکام کو خط لکھا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری کے خلاف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز (سوئس کیسز) دوبارہ کھولیں جائیں۔ 9 فروری 2013ء کو سوئس حکام کا حکومتِ پاکستان کو خط کا جواب آیا، جس میں سوئس حکام نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف کیسز کھولنے سے صاف انکار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ صدر زرداری کے خلاف کیسز میرٹ پر ختم کیے گئے تھے اور اب دوبارہ کیسز کھولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ سوئس حکام نے خط میں بالکل وہی موقف اختیار کیا، جو وہ ہمیشہ سے میڈیا پر دیتے چلے آ رہے تھے۔

سوئس کیسز کے حوالے سے یہ خبر میرے جیسے عام پاکستانیوں کے لیے حیران کُن تھی کیونکہ ہم تو 1997ء سے مسلسل سُنتے چلے آ رہے تھے کہ پاکستانی قوم سے لُوٹے ہوئے کرپشن کے چھ ارب روپے سوئٹزر لینڈ میں اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کیا ہوا، وہاں تو ایک ٹکہ بھی نہیں تھا۔ قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ؟ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ یہ مقدمے پاکستان میں دو عدالتوں میں چلنے کے باوجود صاف طور پر جھوٹے ثابت ہو چکے تھے۔ جب سوئٹزر لینڈ میں یہ مقدمے بے بنیاد ثبوتوں کی وجہ سے فائل ہی نہ ہو سکے تھے تو پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان کیوں مُسلسل تین سال تک ایک منتخب حکومت کو رگڑا لگاتے رہے تھے؟ ایک وزیر اعظم کو غیر آئینی طور پر نا اہل قرار دے دیا اور دوسرے کو بھی گھر بھیجنے کے درپے تھے۔ کوئی اندازاہ لگا سکتا ہے کہ تین سالوں دوران سول حکومت کے سامنے رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کر کے کتنا نقصان کیا گیا؟ کتنے وسائل ضائع ہوئے؟ غریب عوام کے خُون پسینے کی کمائی کی کتنی خطیر رقم سوئس کیسز چلانے والے منصفین کی تنخواہوں، الاؤنسز، پروٹوکولز اور دیگر سہولتوں پر بربادی ہوئی؟ اِن بھاری بھرکم بنیچوں میں بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ایک بار بھی شرم نہ آئی؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی آئین پاکستان، عدلیہ اور قوم کی توہینِ ہو سکتی ہے؟

میڈیا ہاؤسز میں بیٹھے ڈھولچی بھی کیا اندھے اور خالی کھوپڑی کے ربوٹ تھے، یا پھر ان کے ضمیروں میں رتی برابر رمق باقی نہ تھی، جو سوئس کیسز کے حوالے سے مُسلسل زوردار جُھوٹا پروپیگنڈا کرتے رہے تھے؟

8 ستمبر 2013ء کو صدر آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کی بار بار مداخلت کے باوجود پانچ سالہ جمہوری صدر کی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد پورے اعزاز کے ساتھ باوقار طریقے سے گارڈ آف آنر لے کر ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے۔

بطورِ صدر استثنٰی ہونے کی وجہ سے سوئس کیسز سمیت جن پانچ مقدمات پر آصف علی زرداری کے خلاف عدالتی کاروائی رُک گئی تھی، وہ مقدمات راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 11 اکتوبر 2013ء کو دوبارہ کھول دیئے۔ عدالت نے آصف علی زرداری کو 14 اکتوبر 2013ء کو طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بننے سے قبل اپنے خلاف سوائے پانچ مقدمات کے سب مقدمات سے باعزت بری ہو چکے تھے اور ان پانچوں مقدمات کو 16 ستمبر 2008ء کو اس وقت زیر التو ڈال دیا گیا تھا، جب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ ان مقدمات میں شریک ملزموں کو عدالت پہلے ہی باعزت بری کر چکی تھی۔ اِسی طرح سوئس کیسز کا بھی راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنایا تھا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد سوئس کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اُس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔

المختصر سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئسز کیسز کی دوبارہ سماعت کے دوران عدالت کی بار بار کی ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ 24 نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر دیا۔ 1997ء سے لے کر 2015ء یعنی اٹھارہ سال تک نیب سوئس کیسز (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز) کے سلسلے میں کوئی بھی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا تھا۔

یہاں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی صداقت، امانت، دیانت اور قابلیت کو داد دینا بنتا ہے۔ ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمہ دو بار سماعت نہیں ہو سکتا۔ یہ “انصاف پسند” منصف بذاتِ خود سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں شامل تھے، جس نے مئی 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشتِ ازبام ہونے پر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں خلافِ قانون قرار دیں تھیں مگر مقدمات کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا۔ دوبارہ سماعت کے بعد جولائی 2011ء کو احتساب عدالت میں یہ مقدمات ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے۔ پھر اس کے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھی جج صاحبان یعنی صادق و امین فرشتے سوئٹزرلینڈ میں کون سے مقدمات کو کھلوانا چاہتے تھے حالانکہ یہ اچھی طرح جانتے تھے یہ کیسز ابتدائی انکوائری کے بعد فائل ہی نہیں ہو سکے تھے؟ اِنصاف کے منصبِ اعلٰی پر بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ مقدمات بنانے اور چلانے والے حکمران معافیاں مانگ چکے اور برملا اِقرار کر چکے کہ یہ مقدمات صریحاً جُھوٹے بنائے گئے تھے۔ بعد میں جب سپریم کورٹ کے ججز تین سالہ خط کہانی چلا رہے تھے، تو سوئس حکام اپنے نقطہ نظر سے مُسلسل آگاہی دے رہے تھے، پھر ایک منتخب وزیراعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج کر انھوں کون سی ملک و قوم کی خدمت کی؟ آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کی اس کھلی بدنیتی اور نا انصافی میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔

سوئس کیسز میں بریت کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف ایک اثاثہ جات کا مقدمہ باقی تھا، جو نواز شریف نے سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمٰن کے ذریعے اثاثہ جات ریفرنس احتساب ایکٹ 1997ء کے تحت 1998ء میں قائم کیا تھا، جس میں آصف علی زرداری پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس ریفرنس میں آصف علی زرداری کے علاوہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی شریک ملزم تھیں، تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کر دیئے گئے تھے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران بھی نیب پراسیکیوٹر کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا اور اِس کیس میں چالیس گواہوں پر جرح کی گئی، جو تمام کے تمام جھوٹے ثابت ہوئے۔ کسی ایک گواہی اور ڈاکومنٹ سے کوئی کرپشن، کوئی کک بیک اور کسی قسم کا کمیشن ثابت نہ ہوا۔ 26 اگست 2017ء کو عدالت نے اس آخری مقدمے میں بھی آصف علی زرداری کو باعزت بری کر دیا۔ اس طرح 1990ء سے شروع ہونے والے جھوٹے سیاسی مقدمات کا 27 سال بعد یعنی 2017ء کو اختتام ہوا۔

آصف علی زرداری نے تمام جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہونے کے بعد بجا طور پر کہا کہ “میرے دشمن میرے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے۔ مجھ پر تمام کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے اور سب کے سب ختم ہو گئے، ہر کیس میں چار چار پانچ پانچ سو پیشیاں ہوئی ہیں۔ ہر کیس میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹرز تھے۔ میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں”۔

آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے مخالفین انتہاتئی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ کہتے ہیں۔ یہاں ہمیں پنجابی زبان کا محاورہ یاد آ رہا ہے کہ “من حرامی تے حُجتاں ہزار”۔ اگلی قسط آخری قسط ہو گی، جس میں ہم سوئس کیسز سے متعلق ہزار حُجتوں والوں کا جواب دیں گے۔
(جاری ہے۔)

پچھلی قسط

یہ آرٹیکل ابھی جاری ہے اور یہ اس کی نویں قسط ہے۔ پہلی، دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی , ساتویں اور آٹھویں قسط پڑھنے کے لئے کلِک کریں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ