بریکنگ نیوز

پروفیسر حسن ظفر عارف کی پراسرار موت

5CF12BA3-4CFE-4C88-8D03-707036AF162D.jpeg

تحریر عثمان غازی

سر پر ماؤ کیپ پہن کر کراچی کی سڑکوں پر مارکس کے فلسفے کا پرچار کرنے والا 72 سالہ فلسفی آج پراسرار طور پر مارا گیا

1983 میں جب حسن ظفرعارف نے ڈکٹیٹر جنرل ضیا کو چیلنج کیا تھا تو کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ ایک دن وہ اسی جنرل ضیا کی بنائی ہوئی نسل پرست جماعت کا پرچارک بن جائے گا

الطاف حسین نے جب پاکستان بنانے والے لوگوں کو پاکستان مردہ باد کا نعرہ دیا تو کوئی ایم کیوایم بانی کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں تھا، عرفیت میں جو سارے کانے، لولے، لنگڑے، کن کٹے اور بھالو تھے، وہ سب اڑن چھو ہوگئے، یہ ایک ایسا وقت تھا کہ جب اردو بولنے والوں کی نسل میں گٹکے اور مین پوری کا زہر گھولا جاچکا تھا، کوئی نہیں تھا جو الطاف حسین کے ساتھ کھڑا ہوتا

ترقی پسند سیاست کرنے والا بائیں بازو کا ایک البیلا لیڈر کیسے تنگ نظر نسل پرست سیاست کرسکتا ہے!! اس سوال کا جواب کسی کو نہیں معلوم۔۔ گزشتہ برس سندھ لٹریچر فیسٹول میں میری ملاقات ڈاکٹر آصف بالادی سے ہوئی، یہ سندھی نسل پرست جماعت جسقم کے جنرل سیکریٹری رہ چکے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بائیں بازو کے ترقی پسند انقلابی ہیں تو میری ہنسی چھوٹ گئی

میں نے کہا کہ محترم لیفٹ سیاست کبھی بھی اتھنک بنیادوں پر نیشنل موومنٹس کو سپورٹ نہیں کرتی، سوک بنیادوں پر نیشنل ازم کو ویت نام، کیوبا اور کوریا میں سپورٹ کیا گیا ہے، آپ کہیں سے بھی انقلابی نہیں ہیں بلکہ انقلاب کی ضد ہیں

میں نے ان سے کہا کہ مومن خان مومن، ساتھی اسحاق اور حسن ظفر عارف بھی لیفٹ سیاست کرتے رہے ہیں، جب یہ ایم کیوایم میں شامل ہوتے ہیں تو آپ ان کو رد انقلاب لکھتے ہیں اور خود کے معاملے میں آپ کا نظریہ تبدیل ہوجاتا ہے

ایم کیوایم کے پاس کوئی نہیں تھا جو ریاست کے سامنے کھڑا ہوسکتا، ترقی پسندوں کی جانب سے پروفیسر حسن ظفر عارف کھڑا ہوا، جب انہیں گرفتار کیا گیا تو بھی کوئی ایم کیوایم والا سامنے نہیں آیا، یہ کراچی میں بائیں بازو کی سیاست کے استاد پروفیسر ریاض تھے کہ جنہوں نے حسن ظفر عارف کی رہائی کے لیے نیوز کانفرنس کی اور پھر گرفتار ہوئے

ایم کیوایم نظریات نظریات کی رٹ لگاتی ہے، 30 سال میں ایک آدمی پیدا نہ کرسکی جو حیدرآباد میں مومن خان مومن کی جگہ کھڑا ہوسکے، جو کراچی میں ساتھی اسحاق کی طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار سکے، جو حسن ظفر عارف کی طرح جان دے سکے، ان لوگوں نے غلط کیا یا درست یہ ایک الگ بحث ہے مگر انفرادی حیثیت میں ان کی پاگل پن نما جرات کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے، یہ اتنے جری نکلے کہ اپنے نظریات تک کا سودا کرلیا

لیفٹ سیاست کے بڑے ناموں کا لسانیت پرست گروہ میں شامل ہونا خود لیفٹ سیاست کی ناکامی ہے کہ وہ کوئی پلیٹ فارم تک نہیں بناسکی جہاں یہ لوگ اپنا اظہار کرسکیں، جدوجہد کرنے والوں کو جدوجہد کا میدان درکار ہوتا ہے، یہ میدان نسل پرست گروہ نے فراہم کردیا، یہ ایم کیوایم میں شامل نہیں ہوئے تھے بلکہ دھکیلے گئے تھے کہ دوسری جانب ان کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا

آج ایک ایم کیوایم والا پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش کی تصویر شئیر کرکے کہہ رہا تھا کہ کیا نظریہ تھا۔۔ کاش ان کو اندازہ بھی ہو کہ کیا نظریہ تھا اور کہاں آکر مارا گیا۔۔ !!

تاریک راہوں میں۔۔ بے نتیجہ جنگوں میں ۔۔ لاحاصل جدوجہد میں مارے جانے والے دنیا کے ہر انقلابی کو سلام کہ وہ بے شک سچے تھے

ہاں! ایم کیوایم والے میری یہ بات کہیں لکھ کر رکھ لیں، حسن ظفرعارف اس شہر کا آخری بوڑھا درخت تھا

اب کوئی نہیں

اب کوئی نہیں ہوگا

عثمان غازی

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ