بریکنگ نیوز

محسن نقوی شہید کی یاد میں

IMG-20180117-WA0000.jpg

تحرير راجہ عديل

15جنوری 1996کی شام کو آسمان ادب سے شعر و سخن کا ایک ایسا روشن آفتاب غروب ہوا کہ جس کی کرنیں آج بھی اندھیروں میں منزلوں کا پتہ دیتی ہیں اور وہ آفتابِ سخن کہ جسے دنیائے ادب محسن نقوی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے اس کا طلوع جنوبی پنجاب کے ایک دورافتادہ پسماندہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہوا
محسن نقوی نے 5 مئی 1947 ء کو ڈیرہ غازی خاں میں سید چراغ حسن نقوی کے گھر میں آنکھ کھولی۔ انکا خاندانی نام سید غلام عباس تھا۔

محسن نقوی نے ابتدائی تعلیم کا آغاز ڈیرہ غازی خان میں گھر کے قریب واقع سکول سے کیا۔ گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک، گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خاں سے ایف اے کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا
اور پھر گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجوایشن اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ محسن نقوی اپنے 6 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
محسن نقوی ابھی ایم اے (اردو) فائنل ائیر میں تھے تو ان کا پہلا مجموعہ ” بند قبا” شائع ہو گیا تھا۔انہوں نے کچھ عرصہ ڈیرہ غازی خان میں رہ کر کاروبار بھی کیا مگر انکا رحجان شاعری اور خطابت کی طرف تھا تو اس طرف زیادہ توجہ دینے لگے ان پر شہرت کی دیوی مہربان تھی تھوڑے ہی عرصے میں شاعری اور خطابت کے میدان میں محسن نقوی کا نام گونجنے لگا.محسن نقوی کی شادی 1967میں اپنی کزن سے ہوچکی تھی جن سے انکے دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے.محسن نقوی بعد ازاں لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے.محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کئے۔ان کی تصانیف میں عذاب دید، برگ صحرا، طلوع اشک، ، رخت سفر اور دیگر شامل ہیں۔محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔
اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا
محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں ۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں ۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پذیرائی حاصل ہوئی ۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا ۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کئے جا چکے ہیں ۔محسن نے اخبارات کے لئے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔
اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہےجنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔ ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھا دیا گیا تاہم ان کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے
سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
سفر تو خیر کٹ گیا
میں کرچیوں میں بٹ گیا۔

محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ تاہم ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ