بریکنگ نیوز

عالم دین اور مولوی میں فرق

125DD6DD-F9D2-4E83-9D3A-D79476B5F782.png

عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے، یہ قرآن کا فیصلہ ہے اور اٹل حقیقت ہے۔ مولوی صاحبان مغالطے میں نہ رہیں کہ میں علماء یا علم کی فضیلت سے انکاری ہوں؟ میں کیا کوئی بھی صاحبِ عقل عالم دین کی فضیلت سے انکار کرہی نہیں سکتا۔ ہاں میں علم یا عالم کی وہ تعریف نہیں مانتا جو آپ سناتے ہیں، یہ دھوکہ ہے اپنے ساتھ بھی اور امت کے ساتھ بھی، یہ کنویں کے مینڈک کی دنیا ہے۔
حدیث پاک ہے:
٭ ”حضرت ابو داؤدؓ سے روایت ہے: میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: جو آدمی طلب علم میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ اسے جنت کے راستے پر چلادیتا ہے اور بیشک فرشتے طالب علم کی رضاکے لیے اس کے پاؤں تلے اپنے پر بچھاتے ہیں اور عالم کیلئے زمین و آسمان کی ہر چیز یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی مغفرت طلب کرتی ہیں اور عابد پر عالم کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر ہے۔ بے شک علماء انبیاء کرام کے وارث ہیں۔ بے شک انبیاء کرام نے وراثت میں درہم و دینار نہ چھوڑا بلکہ انہوں نے اپنی میراث علم چھوڑی۔ پس جس نے اس (میراث علم) کو حاصل کیا، اس نے بہت بڑا حصہ پالیا“ (ترمذی)
٭ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”علمائے کرام زمین میں ان ستاروں کی طرح ہیں جن کے ذریعے بحرو بر کے اندھیروں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور اگر ستارے غروب ہوجائیں تو قریب ہے کہ ان (ستاروں) سے راہنمائی حاصل کرنے والے بھی بھٹک جائیں۔ (یعنی علماء کرام نہیں ہونگے تو عوام گمراہ ہوجائیں گے) اس حدیث کو امام احمد نے اپنی اسناد کے ساتھ اور دیلمی نے روایت کی اہے۔
٭ ”حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک فقیہہ ایک ہزار عابدوں سے زیادہ شیطان پر سخت اور بھاری ہے۔“ (امام طبرانی اور بیقہی نے روایت کیا ہے۔)
٭ حضرت حزام بن حکیم بن حزامؓ اپنے والد اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”’تم ایسے زمانے میں ہو جس میں فقہا کثرت سے ہیں اور خطیب بہت کم ہیں، عطا کرنے والے زیادہ ہیں، سوال کرنے والے کم ہیں۔ اس زمانہ میں عمل علم سے بہتر ہے لیکن عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں فقہا کم ہونگے اور خطیب کثرت سے ہونگے۔ سوال کرنے والوں کی کثرت ہوگی اور عطا کرنے والے کم ہونگے۔ اس زمانہ میں علم عمل سے بہتر ہوگا۔ (اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے)
٭ حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزر و تو (وہاں) بیٹھ کر فراخی کے ساتھ کھایا پیا کرو۔ عرض کیا گیا: یارسول اللہﷺ! جنت کے باغات کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: علم کی مجالس“ (اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔)
ذرا سوچیے: عالم دین اور طالبِ علم کی کتنی فضیلت ہے۔
علم اور عالم کی فضیلت ہر شخص ماننے کو تیار ہے لیکن وہ علم جس کی اللہ پاک نے اور نبی کریم ﷺ نے اتنی فضیلتیں بیان کی ہیں وہ کونسا ہے؟ کیا قرآن کو زبانی یاد کرکے فرفر پڑھنا مراد ہے؟ یا فقط وہ چند مخصوص کتابیں جو کسی خاص مسلک سے متعلق ہوں؟ ہر گز نہیں۔
مثال کے طور پر قرآن کو زبانی یاد کرنے والے کو حافظ قرآن کہاجاتا ہے مطلب قرآن کی حفاظت کرنے والا؟ قرآن کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ حالانکہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ قرآن میں کیا ہے؟ قرآن کیا کہہ رہا ہے؟ معانی و مطالب اور مفہوم سے ناواقف ہے۔ احکامات سے بے بہرہ ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی قیمتی خزانے کی حفاظت کیلئے ایسے شخص کی ڈیوٹی لگا دی جو نہ تو جسمانی طور پر قوی ہو نہ اسلحہ و تلوار وغیرہ کے استعمال میں مہارت رکھتاہو اور ساتھ ذہنی طورپر بھی معذور ہو یعنی اسے خزانے کی اہمیت کا احساس تک نہ ہو۔دوسرے نمبر پر اگر یہ فضیلتیں مدرسے کے ان طالب علموں کے لیے ہیں جو زکوٰۃ،صدقات کے سہارے مسلک کے سپاہی بنتے ہیں اور ساری عمر لوگوں کو اسلام سے خارج کرنے پر لگا دیتے ہیں تو یہ بات بھی شعورماننے سے قاصر ہے۔ مولوی کے بقول اگر علم وہی ہے جو مدارس میں پڑھایا جاتا ہے تو میرے ذہن میں غزوۂ بدر کا واقعہ آرہا ہے۔ جنگی قیدیوں کیلئے فدیہ مقررکیا گیا مگر جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کے لیے یہ رعایت تھی کر مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں اور آزادی حاصل کریں۔ بہت بڑی بات ہے۔ اس سے اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ تو کافر تھے، انہیں تو قرآن نہیں آتا تھا اور وہ علوم جو مولوی صاحبان پڑھاتے ہیں ان سے بھی ناواقف تھے تو نبی کریم ﷺنے کونسا علم سکھانے کا کہا تھااور وہ کیا تھا جس کے عوض انہیں رہائی ملی؟ یہ بات تو طے ہے کہ وہ علم یہ تو نہیں تھا جو مولوی صاحبان پڑھاتے ہیں، مطلب وہ دنیاوی علوم ہونگے جو مولوی صاحبان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے تو پھر نبی کریم ﷺ نے کیوں اُنہیں حاصل کرنے کا حکم دیا اور نہ صرف سیکھنے کا حکم دیا بلکہ قیدیوں کو رہا بھی کردیا۔ فیصلہ آپ کریں۔ اب اگر انبیاء کرام ؑ کا وارث بننا اتنا ہی آسان ہے، جتنا مولوی صاحبان بتاتے اور بناتے ہیں تومیرا خیال ہے دنیا کا ہر شخص بڑی آسانی سے انبیاء کا وارث کہلا سکتا ہے اور وہ بھی بنا کسی مشقت کے حالانکہ انبیاء کرام ؑ کی زندگیاں جہدِ مسلسل کا عملی نمونہ ہیں۔ انہوں نے انسانیت کی فلاح اور رہنمائی کیلئے جس قدر صعوبتیں برداشت کیں، وہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ”بے شک انبیاء کرام ؑ نے اپنی وراثت میں درہم و دینار نہ چھوڑا مگر علم چھوڑا“ حیرت کی بات ہے انبیاء کے وارث ہونے کے دعویدار کی وراثت ملین اور بلینز پر مشتمل ہے مگر علم کا پتہ نہیں، ذرا سوچیے کہ دولت کہاں سے آئی؟ حالانکہ انبیاء کرام نے تو دولت اکٹھی نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ انبیاء کے وارث نہیں ہوسکتے بلکہ یہ وہ ہیں جن کی اصلاح کیلئے انبیاء کرام کو مبعوث کیا گیا کیونکہ ہوسِ دنیا میں لگے ہوؤں کے دل میں انسانیت کا دردجگانے کیلئے انبیاء کو مبعوث کیاگیا مگر افسوس کہ انبیاء کی میراث میں سے کچھ بھی نہ پایا پھر بھی وارث ہونے کے دعویدار ہیں۔
دوسری حدیث کے مطابق علمائے کرام سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اب جن لوگوں کو عالم ہونے کا دعویٰ ہے اور کچھ معتقدین ان کو عالم سمجھتے بھی ہیں، ان سے کیا رہنمائی حاصل کریں۔ یہی کہ بس اس کا فرقہ جنتی ہے، باقی سارا عالم اللہ نے جہنم میں پھینکنے کے لیے بنایا ہے، فلاں کے پیچھے نمازہوتی ہے، فلاں کے پیچھے نہیں ہوتی۔ زکوٰۃ مسجد کو دینی چاہیے یاہمارے مدرسے کو کھالیں د و گے تو ثواب ہوگا ورنہ بے کار جائیں گی۔ افسوس اس طرح کی رہنمائی کے علاوہ آج مولویوں کے پاس کچھ نہیں اور عوام نہ اِدھر کی نہ اُدھر کی۔
تیسری حدیث کے مطابق ایک فقیہہ ایک ہزار عابدوں سے زیادہ شیطان پر بھاری ہے۔ مگر فقہ کا تو مولوی صاحبان نے کھاتہ ہی بند کردیا ہے۔ اجتہاد کرنے والا گمراہ تصور کیاجاتا ہے کیونکہ اب کسی میں اجتہاد کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اچھا تو اس حدیث کا کیا ہوگا؟ دراصل شیطان نے چکر دے کر مولوی کو اپنے ساتھ ملالیا اور اس میں مولوی کا اپنا بھی فائدہ ہے کہ اگر سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی اجازت دے دی گئی تو ان کا کاروبارٹھپ ہوجائے گا۔ دوسری طرف شیطانی مدد سے چلنے والی مغربی مشینریاں دوبارہ مسلم کے کنٹرول میں آجائیں گی جیسا کہ پہلے تھا اور یہ شیطانوں کو گوارہ نہیں۔
چوتھی حدیث ہمارے زمانے کے مولویوں پر صادق آتی ہے۔ یہاں عالم نہ ہونے کے برابر ہیں اور خطیب…… ماشاء اللہ…… ایک سے بڑھ کر ایک…… اور جوش خطابت کے کیا کہنے…… کسی کو کسی کے قتل پر آمادہ کرنا…… لڑائی جھگڑے کروانا…… لوگوں کی جیبیں خالی کروانا…… رونا رلانا…… اشتعال دلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے…… جہاں تک سوا ل کرنے والوں کی کثرت کی بات ہے تو اس کام کا ذمہ بھی مولوی صاحب نے اپنے سر ہی لے لیا ہے۔ ماشاء اللہ مانگنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اس بات سے ہر بندہ واقف ہے۔ مولوی صاحبان نے تو زکوٰۃ کو بھی غریبوں کیلئے نہیں چھوڑا اور وہ بھی مسجد اور مدرسے کیلئے مخصوص کروالی ہے حالانکہ زکوٰۃ مسجد کو نہیں دی جاسکتی تھی مگر……
پانچویں حدیث میں علم کی مجالس کو جنت کے باغات سے تشبیہہ دی گئی ہے اور ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ علم کی مجالس ہمارے دور میں ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملتیں۔ پیارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حکم سر آنکھوں پر مگر آج کا مسلمان کیا کرے؟ کہاں جائے؟ کونسی دیوار میں سر مارے؟ آج تو جس علم کی مجلس میں جاتا ہے یا تو وہاں ڈرنے ڈرانے کی باتیں ہوتی ہیں تاکہ ڈرا دھمکا کر چندہ اکٹھا کیا جائے، رونے رلانے کی باتیں ہوتی ہیں صدقات خیرات اکٹھا کرنے کیلئے، فرقہ پرستی اور کفر و شرک کی باتیں ہوتی ہیں اور مقصد ایک ہی ہے۔ انداز الگ الگ ہوسکتا ہے مگر مقصد ایک ہی ہے سب کا…… اور جو صاحب دل اور دردِ دل رکھنے والے علماء ہیں تو وہ بھی خاموش ہیں کیونکہ انہیں بھی اپنی عزت سے ڈر لگتا ہے۔ روایت سے بغاوت نہیں کرپارہے۔ خدارا! خاموش مت بیٹھیے…… ذرا سوچیے کہ اپنے رب کا سامنا کیسے کریں گے؟ وہاں پوچھے گئے سوالوں کے جواب کیسے دیں گے؟ یہاں کی بغاوت اورمشقت وہاں کی ذلت اور شرمندگی سے ہزار ہا درجے بہتر ہے۔ جب پوچھا جائے گا کہ دین فروشی کے وقت آپ کہاں تھے تو کیا جواب دو گے؟ جب پوچھا جائے گا کہ جب مولوی میری آیتیں بیچ رہے تھے۔ اپنی مرضی کے مطلب اور مفہوم نکال رہے تھے اور تم خاموش تھے تو کیا جواب دو گے؟ خدارا آئیے اور اس قوم کو، نوجوان نسل کو اسلام سے باغی ہونے سے بچائیے اور حقیقی اسلام اِن تک پہنچائیے جو اللہ کے نبی ﷺ اس دنیا میں لائے تھے۔

اسلام کو مولوی سے بچاؤ سے اقتباس

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ