بریکنگ نیوز

”آدم خور” کی حقیقت کیا ہے؟

DR-Syed-Salahudeen-300x160.jpg

تحریر:پروفیسر ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

پاکستان کو درپیش مسائل میں ہر آنے والا دن اضافہ کر رہا ہے ۔حکومت چین کی بانسری بجانے میں پچھلی حکومتوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے مگر آج مجھے ایک الگ اور اہم موضوع پرمعلومات اپنے قارئین تک پہنچانی ہیں اور تھوڑا ذکر میڈیا سے وابستہ افراد اور میڈیا مالکان کا۔میں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ عوام کا حکومت سے شکوہ اپنی جگہ۔کیا بحیثیت انسان ہم اپنے فرائض اور ذمہ داری بطور احسن نبھا رہے ہیں۔اس کا جواب یقینی طور پر ”ناں” میں ہو گا کیونکہ ہم بظاہر مہذب نظر آتے ہیں مگر تہذیب ہم سے کوسوں دورہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مکمل طور پر مہذب تہذیب کے پیروکار ہیں اور نہ ہی اپنے دین پر عمل پیرا ہیں۔ ہم اکثر جہالت کا رونا روتے ہیں۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے افراد بھی ذہنی طورپر پس ماندہ ہیں۔گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک خوف و ہراس کی کیفیت رہی کہ کوئی آدم خور شہر میں آگئے ہیں۔ مجھے اندرون اور بیرون ملک بے شمار کالز وصول ہوئیں اور پوچھا گیا میڈیا پر ایسی دل ہلا دینے والی خبریں مرچ مصالحہ لگا کر کیوں پیش کی جارہی ہیں ان خبروں سے خواتین اور بچے سہم کر رہ گئے ہیں اور کیا ملک بھر میں کوئی نفسیات کا ماہر نہیں جس سے رائے لے لی جائے کہ ان مردہ خوروں کی حقیقت کیا ہے۔مجھے پوچھے گئے سوالات پر دکھ کے ساتھ شرمندگی بھی ہوئی کہ ہمارے ملک کا میڈیا اگر بالغ رویہ اختیار کرتا تو مجھے یہ ندامت نہ اٹھانا پڑتی۔میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اس اہم موضوع پر ضرور قلم اٹھائوں گا اور آدم خوروں کی حقیقت کو واضح کروں گا۔مجھے ذاتی طور پر اس بات کا بہت دکھ ہوتا ہے کہ میڈیا اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔رائی کو پہاڑ بنا کر پیش کرنے سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے ۔بقول شاعر
دیکھ کر فصل اندھیروں کی یہ حیرت کیسی
تونے کھیتوں میں اجالا ہی کہاں بویا تھا
آدم خوری یا مردم خوری اس عمل کو کہتے ہیں جس میںایک انسان دوسرے انسان کا گوشت کھاتا ہے۔اسے انگریزی میں Cannibalism اورAnthropophagy کہا جاتا ہے۔ قبل از تاریخ دور میں مردہ خوری کے شواہد افریقہ،جنوبی امریکا،نیوزی لینڈ،شمالی امریکا،آسٹریلیا،الجزائر اور بھارت میں ملتے ہیں ۔اس کی وجوہات میں سماجی عدم توازن،قحط اور پاگل پن یا ذہنی بیماری ہو سکتی ہے۔آدم خور کی حقیقت کیا ہے ؟ انسان کو بائیو سائیکو سوشل ماڈل کہا جاتا ہے۔بائیو کا مطلب اس کا جسم، سائیکو کا مطلب اس کی نفسیات اور سوچ اور اس کا سوسائٹی کے ساتھ مناسب تعلق۔ مناسب یا نارمل تعلق سے مراد یہ ہے کہ کیا سوسائٹی اسے قبول کرتی ہے؟ جسے سوسائٹی قبول نہ کریں وہ انسان نارمل نہیں ہوتا ہے۔ مذکورہ تینوں اجزاء میں سے کسی ایک جزو میں کمی یا تبدیلی ہو تو اسے بیماری سمجھا جاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں آدم خور کیوں نہیں پائے جاتے؟ماضی کی بات الگ ہے جب معاشرہ مہذب نہیں تھا اور تعلیم و شعور عام نہیں ہوا تھا تو اس قسم کی باتیں سننے کو ملتی ہوں گی مگر اب وقت بدل چکا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں معاشرہ تعلیم یافتہ اور باشعورنہیں ہو گاوہاں ایسے واقعات ایسے واقعات پیدا ہوتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ آدم خور زندہ اور مردہ انسانوں کو کھاتا ہے مگر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے اسے کرونک شیزوفینیا chizophrenia) (S یعنی پرانا ذہنی مرض کہا جاتا ہے۔اس بیماری میں مریض کا مناسب وقت پر علاج نہ ہونے کے باعث وہ سوسائٹی سے الگ ہو جاتا ہے اور اسے سوسائٹی قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ایسے مریض ایسی جگہوں پر بسیرا کرتے ہیں جہاں انسانی آبادی نہ ہو۔اسی لئے یہ اکثر قبرستان یا کسی ویران جگہ پر رہتے ہیں۔ لوگ انہیں پاگل کہتے ہیں ۔دیوانہ کہتے ہیں اور انہیں مردہ خور بھی سمجھا جاتا ہے ۔حالانکہ توجہ اور نگہداشت سے ان کی حالت سنبھل سکتی ہے اور علاج کے بعد انہیں مکمل صحت یابی حاصل ہو جاتی ہے۔ایک شعر اسی صورت حال کا عکاس ہے۔
دیوانگی میں ہوش نہیں کون کہہ گیا
دیوانگی سمجھنے کو دیوانہ چاہئے
میں نے کالم کی ابتداء میں ذکر کیا ہے کہ ہمارا معاشرہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ہمارے معاشرے میں ذہنی اور نفسیاتی مریض کو اگر جعلی پیروں اور جھوٹے تعویزوں سے آزادی نصیب ہو جائے اور عوام میں یہ شعور بیدار ہو جائے کہ دوسری جسمانی بیماریوں کی طرح ذہنی امراض کا علاج ہو سکتا ہے تو پاکستان میں بھی کوئی مردہ خور نظر نہیں آئے گا۔ دیکھا جائے تو ان نارمل اور چلتے پھرتے انسانوں کو ذہنی مریض بنانے میں گھر کے افراد،رشتہ دار اور سو سائٹی پوری طرح ذمہ دارہیں۔ اگر ایسے مریضوں کا بر وقت ذہنی علاج ہو جا ئے تو وہ بھی عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ گھر والے اور رشتہ دار انہیں کھانا،لباس اور دیگر ضروریات زندگی مہیا نہیں کرتے اور اگر ایسا مریض سوسائٹی میں لوٹنے کی کوشش بھی کرے تو لوگ ان کا خیال کرنے کی بجائے انہیں پتھر مارتے ہیں اور وہ واپس لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جہاں ویرانے ان کا مقدر بنتے ہیں ۔ایسے مریض حلال یا حرام کچھ بھی کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ایسے مریض انسانوں کے علاوہ بلی،کتے اور دیگر جانوروں کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں۔سوسائٹی کا کوئی بھی فرد جب انہیں پھٹے ہوئے لباس اور خستہ حال حلیے میں دیکھتا ہے تو وہ انہیں جن بھوت ہی سمجھتا ہے ۔ان میں مرد اور عورت کی قید نہیں ہے۔ یہ مرض دونوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ منتشر شخصیت کے مالک ہوتے ہیں جسے طب میں پرسنالٹی ڈس آرڈر کہا جاتا ہے۔بیماری کے دوران ان میں ایک عادت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو خوفزدہ کر کے اور تکلیف پہنچا کر ذہنی آسودگی حاصل کرتے ہیں ۔
مردہ خوروں کے حوالے سے جہاں قارئین تک معلومات پہنچانا ضروری ہے وہاں میں میڈیا سے وابستہ افراد اور اداروں سے ضرور درخواست کروں گا کہ خدارا مردہ خوروں کے حوالے سے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی بجائے ان کی اصل حقیقت سامنے لائی جائے اور ایسے واقعات سے سنسنی پھیلانے سے گریز کریں اور ان واقعات کو ڈرامائی اندازمیں پیش کرکے لوگوں میں خو ف و ہر اس پھیلانے کی بجائے انہیں تسلی دی جائے اور حقیقت ان کے سامنے لائی جائے۔ایسے مریضوں کا علاج ہونا چاہئے۔انہیں سوسائٹی میں واپس لایا جائے ۔ انہیں اچھا ماحول دیا جائے ۔انہیں دوائیاں مہیا کی جائیں۔ان کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھا جائے ۔ان کی برائیوں اور خرابیوں کو دور کرنے کے لئے کو شش کی جائے۔ہر وقت کسی عام نارمل انسان کو بھی برا کہا جائے تو وہ برا بن جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں گلے سے لگایا جائے اور ان کو بہتر ماحول دیا جائے تو یقینی طور پر وہ سوسائٹی میں لوٹ سکتے ہیں اور ملک کے کار آمد شہری بن کے قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔ میڈیا کو چاہئے کہ نفسیات کے ما ہرین سے اس حوالے سے گفتگو کی جائے اور لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور سوسائٹی سے یہ خوف و ہراس ختم کیا جا سکتا ہے۔ آد م خور ایک ذہنی مریض ہوتا ہے مگر سوسائٹی کے عدم تعاون کی وجہ سے وہ ضروریات زندگی سے محروم ہو جاتا ہے۔ایسے مریضوں کے پاس پہننے کے لئے لباس نہیں ہوتا،عرصہ تک بال نہ کٹوانے سے وہ بھوت ہی نظر آئیں گے۔ خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ایسے مریض حلال حرام سے بے نیاز ہو کر کچھ بھی کھا لیتے ہیں ۔بال بڑھے ہوئے، ناخن بڑھے ہوئے،کپڑے پھٹے ہوئے۔ہاتھوں اور پائوں پر زخم اور خراشوں کے نشانات ہوتے ہیں۔حلیہ دیکھ کر انہیں جانور کہہ سکتے ہیں۔دراصل انسان کے ذہن میں کئی کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں ایسے مریض کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے اور عام طور پر وہ اپنے دفاع میں کسی پر بھی حملہ کر دیتا ہے اس حملے میں کوئی زخمی بھی ہو سکتا ہے۔لیکن یہ سب اس کی ذہنی مرض کی وجہ سے ہو رہا ہوتا ہے جو علاج سے مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتا ہے۔
میری میڈیا سے گزارش ہے کہااس سنجیدہ معاملے کے حل کے سلسلے میں درست خطوط پر کوشش کی جائے۔میڈیا سنسنی پھیلانے کی بجائے اس بات پر توجہ دے اور لوگوں کو آگاہ کرے کہ عام انسان ذہنی مرض کی وجہ سے دوسرے انسانوں سے کٹ کر الگ اور قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے اور اس سارے معاملے میں یقینی طور پر رشتہ دار،عزیز اور سوسائٹی ذمہ دار ہے ۔ایسا مریض سوسائٹی کی عدم توجہ کی وجہ سے ا س حالت تک پہنچتا ہے ۔اسے واپس سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے اور اسے موقع دیا جائے کہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکے اور بحیثیت انسان اپنی زندگی گزار سکے۔ہمارا فرض ہے اسے حیوانی حلیے سے انسانی ماحول میں لے آئے۔آخر میں محمود پاشا کا ایک شعر
بات کوئی بری نہیں ہوتی
سوچ حلیہ بگاڑ دیتی ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ