بریکنگ نیوز

نقیب خان محسود: غضب کا رومانوی دہشت گرد

5D6CB24B-E41D-4D26-9145-C6634A3022B2.jpeg

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

گذشتہ 24 گھنٹے سے سوشل میڈیا پر ایک ہی تصویر گردش کر رہی ہے جسے دیکھ کر رومانوی داستانوں کے مسحور کن کردار کا گمان ہوتا ہے۔ سرخ و سفید، دراز قد نوجوان، جس کے تیکھے مردانہ خدوخال، لمبے گیسوؤں اور چہرے پر بے تحاشا اعتماد کی فراوانی دور سے جھلک رہی ہے۔

صبح جب کوئٹہ سے ژوب کیلئے سفر پر روانہ ہوا، ایک لمحے کے لیے فیس بک پر وائرل ہونے والے ان تصاویر کو دیکھ کر اچھا لگا لیکن متن پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ کل اس رومانوی کردار کو ایک پولیس مقابلے میں مار دیا گیا ہے۔

تعجب اور افسوس کے ملے جلے احساسات کے ساتھ اس بارے میں معلومات کریدنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ اس نوجوان کا نام نسیم اللہ عرف نقیب خان محسود ہے۔اسے سی ٹی ڈی نے نو جنوری کو سہراب گوٹھ میں واقع اس کی دکان سے اٹھایا اور کل بتایا کہ وہ ایک ’پولیس مقابلے‘ کے دوران ہلاک ہوگیا ہے۔

رات گئے تک انکاؤنٹر سپیشلسٹ راؤ انوار نے نقیب کو مطلوبہ دہشت گرد بھی قرار دے دیا اور غیر مصدقہ الزامات کی ایک لمبی فہرست کا ذکر بھی کر ڈالا۔

ستائیس سالہ نقیب خان 2007ء میں فوجی آپریشن کے بعد اپنے خاندان سمیت وزیرستان سے کراچی کوچ کر آیا تھا۔ ہزاروں دیگر خاندانوں کی طرح ان کا خاندان بھی یہاں پر خود کو محفوظ سمجھتا تھا۔

نئے شہر میں وہ تجارت سے وابستہ ہوا اور اس کے ساتھ ماڈل بوائے کی طرح متنوع طرز میں شوقیہ ماڈلنگ بھی کرنے لگا۔

نقیب خان محسود کے مشاغل، فیس بک اور زندگی کو دیکھنے کے قرینے پر نظر دوڑائیں تو وہ اس کا کسی طور بھی احسا ن اللہ احسان، شاہداللہ شاہد، عصمت اللہ معاویہ، منگل باغ، مفتی قوی وغیرہ کی طرح نہیں لگتا جو مزے سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ عزت اور سُکھ کی زندگی گزار رہے ہیں۔

نقیب شکل اور ظاہری رکھ رکھاؤ کے اعتبار سے ایک آرٹسٹ یا رومانوی فلموں کا ہیرو لگتا تھا۔اُس کے فیس بک پر سٹیٹس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے اکلوتے لاڈلے بیٹے کو پاکستانی فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ بنانا چاہتا تھا۔

کمال کے دہشت گرد ہیں کہ جن سے مار پڑتی ہے یا جن کو مارنے کے درپے ہیں اپنے اکلوتے لاڈلے کو وہی بنا رہے تھے۔

چلو مان لیا اس نے مذاق میں کہہ دیا ہوگا لیکن اُسامہ بن لادن سے لے کر ہمارے حقانی صاحب تک کسی کو بھی سپورٹس بائک کی سواری کا شغل کرتے یا اپنی فیملی کے ساتھ پکنک منانے کا کار بے سود کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا جب کہ نقیب خان تو وکھرے ٹائپ کا دہشت گرد تھا۔وہ ان تمام مشاغل کے ساتھ زندگی لینے اور لٹانے کے احساسات بھی رکھتا تھا جس کا علم شاہد صرف انکاؤنٹر سپیشلسٹ کو تھا۔

نقیب خان کی شہادت کے بعد جعلی یا اصلی پولیس مقابلوں کے کہنہ مشق سورما راؤ انوار کے ساتھ عجیب و غریب اتفاقات ہونے لگے ہیں۔ وہ دوسری دفعہ خودکش حملے میں بچ گئے ہیں۔عینی شاہدین نے آخری خودکش حملہ آور کو انتہائی تحمل سے جھلستے ہوئے دیکھا ہے۔شاید راؤ انوار کی کرامات کے باعث خودکش حملہ آور نے اپنا انکاؤنٹر کرانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔

فیس بک پر نقیب خان کے دوستوں، عزیز و اقاریب کے ردعمل سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک عام نوجوان تھا۔شاید انکاؤنٹر سپیشلسٹ کے بیٹے سے زیادہ نارمل۔ قدرت کے رنگوں سے پیار کرنے والا، کاروبار زندگی کے الجھے گیسو سلجھانے میں ماہر اور بال سنوارنے کے طور طریقوں میں اپنے عمر کے شاید سب نوجوانوں سے یکتا۔

نقیب کو زندگی سے بے تحاشا پیار تھا لیکن حکام بالا کی نظریں شاید زیادہ دور تلک دیکھ لیتی ہیں۔ انہوں نے اس رومانوی کردار کی اصلیت معلوم کرنے راؤ انوار کو بھیجا۔ جنہوں نے غالباً ایک ہفتے تک نقیب خان محسود کے ’کردار‘ کی جانچ پڑتا ل کی، اور بلآخر اسے موت کی ابدی نیند سلا دیا۔

اگر وہ واقعی مجرم تھا تو کیا اسے قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاسکتا تھا؟ کم از کم اس کی شکل و صورت اور خوش لباسی کا لحاظ کرلیتے کہ اس سے پہلے صاحب کا اتنے خوبصورت دہشت گرد سے پالا نہیں پڑا تھا۔ صاحب زرا تحمل کر لیتے، اگر شاہ رخ جتوئی کی طرح وہ جیل سے چھوٹ بھی جاتا تو راؤ صاحب کے انکاؤنٹر کی خواہش تو پھر بھی پوری ہوسکتی تھی۔ان کا ہاتھ کون روک سکتا ہے؟

مگر اس میں اچھنبے کی بات نہیں۔ جس طرح پرانے زمانے میں صحرا نشین عرب کی زندگی پیاس، گرمی اور اونٹ کے تکون کے گرد گھومتی تھی، ویسے آج کے قبائلی پشتون کی زندگی بھی نقل مکانی، بیگانگت اور قتل کے گرد گھومتی ہے۔ آپ کسی پشتون نوجوان کے نام کے ساتھ طالب، دہشت گرد، این ڈی ایس، یا پھر را کے ایجنٹ کا لاحقہ لگادیں، اس کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔

نہ کورٹ، نہ کچہری، قانون کے رکھوالے ملک الموت بن کربلا جھجک زندگیاں چھینتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے یہی تو نقطہ اٹھایا تھا کہ ’تم سوات سے کسی بھی لڑکے کو طالب کہہ کر اٹھاؤ گے اور ماردوگے تو کیا ہم مان لیں گے؟ جو بھی ہے قانون کے سامنے لایا جائے‘۔

سوات، وزیرستان، ٹانک، خیبر، دیر اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے کوچ کرنے والے لوگ آج ذلت و رسوائی کی تصویر بنے پھرتے ہیں۔

ہر خاندان کے پاس کسی نہ کسی پیارے کو کھونے کی کہانی ہے، گھر کے لٹ جانے یا نیلام ہوجانے کے قصے علیحدہ۔

جس ریاست کی خارجہ پالیسیوں کے عوض وہ بموں، شیلوں، میزائلوں اور گولوں کے سامنے سینہ سپر ہوئے تھے آج انہی کے قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتوں ذلیل و خوار ہیں۔

جن لوگوں کو مملکت خداداد کی ڈھال کہا جاتا تھا، آج اس ڈھال میں سو چھید ہیں۔

پشتون بکھرے اور منتشر شدہ قبائلی موب کی صورت اختیار کر گئے ہیں، ریاست کے دست شفقت سے محروم ۔۔۔ اب قبائلیت کی قبائے دریدہ میں بھی ان کے ننگ و ناموس کی ریاکاری کا سامان نہیں ہوپاتا۔اوپر سے کسی لیڈر یا مہان پھٹان کا وارد ہونا بھی مفقود، لہٰذا اب ان کی زندگیوں کا انحصار جعلی پولیس مقابلہ سپشلسٹوں کی تحمل مزاجی اور یا گریڈ لینے کی ضرورت پر ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ