بریکنگ نیوز

پروفیسر فتح محمد ملک___ اپنی تحریروں کے آئینے میں

726852-ProfFatehcopy-1403703248-470-640x480.jpg

پروفیسر فتح محمد ملک___ اپنی تحریروں کے آئینے میں
تحریر: خورشید رضوی
خواتین و حضرات!
مجلسِ فروغِ اردو ادب، دوحہ، قطر کے اکیسویں اجلاس پذیرائی میں آج ہمیں سالِ رواں کے اعزاز یافتگان، یعنی پاکستان سے محترم پروفیسر فتح محمد ملک اور ہندعستان سے جناب پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد کو خوش آمدید کہنا ہے۔ علاوہ ازیں آج ایک خصوصی ایوارڈ ڈاکٹرسید تقی عابدی کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ میں ان تینوں حضرات کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں۔
میرے نام یہ قرعہ نکلا ہے کہ میں اس موقع پر پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کے بارے میں کچھ عرض کروں۔ مجلس کے پاکستانی باوز کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے سب سے پہلے محترم ملک صاحب کی خدمت میں ہدیۂ سپاس پیز کرنا ہے کہ انہوں نے اِس ایوارڈ کو قبول فرما کر مجلس کی عزت افزائی کی۔
خواتین و حضرات،
پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کے بارے میں میں جو کچھ بھی یہاں عرض کر سکوں گا، غیر ضروری بھی ہوگا اور ناکافی بھی۔ غیر ضروری اس لیے کہ اُن کا نام اور کام مسلّم و معروف ہے اور اُنہیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ ناکافی اس لیے کہ اُن کے سدا بہار قلم نے مضامینِ نو کے جو انبار لگائے ہیں میری عاجزانہ گفتگو ہر گزاس کا احاطہ نہ کر سکے گی۔
ملک صاحب ایک متوازن، متحمل اور خوشگوار شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ اقبال کے بڑے شیدائی ہیں اور خود اُن کے حوالے سے اس وقت مجھے علامہ کا یہ مصرع یاد آ رہا ہے:
نرم دمِ گفتگو، گرم دم جستجو
یہی ملک صاحب کی شخصیت اور کردار ہے۔
ملک صاحب بیک وقت ناقد، عالم، خطیب، صحافی، ماہرِ تعلیم، محقق، معلّم اور منتظم ہیں۔ اُن کی عمر کا ایک بڑا حصہ تدریس میں گزرا۔ جن اداروں میں انہوں نے تدریسی خدمات انجام دیں اُن میں پاکستان کی قائداعظم یونیورسٹی، امریکہ کی لومبیا یونیورسٹی، جرمنی کی ہائیڈل برگ اور ہم بولٹ یونی ورسٹی اور روز کی سینٹ پیٹرز برگ یونیورسٹی شامل ہیں۔ مقتدرہ قومی زبان پاکستان کے سربراہ اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈین اور پھر ریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی اعلیٰ اتنظامی قابلیت کابھی ثبوت دیا۔
ملک صاحب کی امتیازی صلاحیتوں کا اعتراف آغازِ کار ہی سے کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ ایم۔ اے اردو میں نمایاں کامیابی پر اُنہیں گولڈ میڈل ملا۔ پاکستان رائٹرز گِلڈ کا ایوارڈ برائے تنقید اُن کے حصے میں آیا۔ نظریۂ پاکستان کونسل کی طرف سے بھی وہ طلائی تمغے کے حق دار ٹھہرے۔ ۲۰۰۱ء میں حکومتِ پاکستان نے اُنہیں ستارۂ امتیاز کے اعزاز سے نوازا اور ۲۰۰۳ء میں اقبال صدارتی ایوارڈ سے ۔ اُن کی شخصیت اور کارناموں پر ایک سے زائد ایم۔ فل اور پی ایچ۔ڈی کے تحقیقی مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں۔ اُن کے قلم سے لاتعداد مضامین نکل چکے ہیں۔ جرمنی، انگلستان، امریکہ، ماریشس ، ایران، بلجیم فرانس اور دیگر ممالک کی علمی کانفرنسوں اور سیمینار میں اُنہوں نے بھرپور شرکت فرمائی ہے۔
لیکن سامعین، یہ سب تو ملک صاحب کے خارجی حوالے ہیں جو اپنی جگہ اہم ہیں تاہم کسی صاحبِ قلم کی اہمیت کا اصل حوالہ اُس کے داخل کا حوالہ ہوتا ہے جس کی نمود اُس کے قلم سے ہوتی ہے۔ ملک صاحب کے قلم کی روانی قابلِ رشک ہے۔ مختلف ادبی رسائل کے تازہ شماروں میں اُن کی نو بہ نو تحریریں مسلسل نظر افروز ہوتی رہتی ہیں۔ اُن کے مقالات و مضامین کو شمار میں لانا دشوار ہے۔ اُن کی مستقل تصانیف میں سے کوئی پندرہ بیس تو میرے علم میں ہیں جبکہ اُن کی کل تعداد جاننے کا مجھے دعویٰ نہیں۔
خیر کثرتِ تصنیف بھی بجائے خود اتنی اہم نہیں۔ اصل بات ان تصانیف کا علمی وزن ہے۔ ملک صاحب نے جو کچھ لکھا ہے ٹھوس، مدلل، خوانا (readable) اور بااعتبارِ اسلوب دل نشیں ہے۔ اگرچہ اُن کے قلم نے انگریزی میں بھی جولانی دکھائی ہے تاہم اُن کا اصل ارتکاز اردو نثر پر رہا ہے اور یہی مجلسِ فروغِ اردو ادب کا بھی نقطۂ ارتکاز ہے۔
ملک صاحب، شروع ہی سے ایک فعال شخصیت کے مالک رہے ہیں۔ اعتماد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جانا اُن کی طبیعت کا حصہ ہے۔ دورِ طالب علمی ہی میں ترقی پسند تحریک نے اُنہیں متاثر کیا۔ مگر وہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر پارٹی لائن پر چلنے کے قائل نہیں تھے۔ چنانچہ اُن کی شخصیت دائیں اور بائیں دونوں بازؤوں کے لیے ایک معمّا بھی بنی رہی۔ دائیں بازو والے اُن کی ترقی پسندی کے باعث اُنہیں اشتراکی خیال کرتے رہے اور بائیں بازو والوں کو بسا اوقات یہ تحفظ رہا کہ وہ ترقی پسند ہوتے ہوئے بھی اسلام کو انسانیت کے جملہ مسائل کا حل سمجھتے رہے، اقبال کو مرشد مانتے ہیں اور دو قومی نظریے اور اُس کے نتیجے میں بننے والے پاکستان کو صرف اسلامی نہیں، انسانی سطح کا کارنامہ تصور کرتے ہیں۔ دراصل ملک صاحب اُن سالم الاعضا لوگوں میں سے ہیں جن کا دایاں اور بایاں، دونوں باوز سلامت ہوتے ہیں۔ چنانچہ خود انھیں اپنے میلانات میں کوئی کشاکش محسوس نہیں ہوئی اور اُنہوں نے اس سوال کا، مکمل شرحِ صدر کے ساتھ مختصر اور جامع جواب دیا:
’’میں خود کو ترقی پسند سمجھتا ہو کہ ایک مسلمان اس کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ مگر ترقی پسندی پر ترقی پسند تحریک کی اجارہ داری تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘
یہ بات ملک صاحب کی تحریروں سے واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اسلام کی مُلاّئی تعبیر اور مستشرقانہ تفسیر دونوں سے مطمئن نہیں اور اُس کی حرکی تفہیم پر یقین رکھتے ہیں جس کا نمونہ، اُن کی رائے میں، فکرِ اقبال ہے۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو اُن کی نوع بہ نوع قلم فرسائی کا مرکز و محور یہی یقین ہے اور اُن کے نتائج قلم کی کثرت بالآخر اسی وحدت میں ضم ہو جاتی ہے۔ اُن کے مرکزی موضوع چار مقدموں کی گہری روحانی و نظریاتی اساس تک پہنچنے اور پہنچانے کی مساعی سے عبارت ہیں۔ اُردو کا مقدمہ، اقبال کا مقدمہ، پاکستان کا مقدمہ اور ادبی نصب العین کا مقدمہ۔ اُردو کا رسم الخط، اُس کا تشخص اور نفاذ، فکرِ اقبال کے اعماق میں غوطہ زنی اور پھر دوسروں کے ذہن سے وہ جالے صاف کرنا جو بعض ظاہری تضادات سے پیدا ہوتے ہیں، پاکستان کی ایک نادر الوجود جغرافیائی/روحانی حیثیت کا اثبات اور ادب برائے زندگی کے نصب العین کی وضاحت__یہ ہیں وہ مسائل جن کی تشریح و تفسیر کے سلسلے میں ملک صاحب ایک انتھک قلمکار ہیں۔
یہاں یہ واضح کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ملک صاحب اپنے نظریات پر مضبوطی سے جمے رہنے کے باوجود نہ تو بے لچک ہیں اور نہ تنگ نظر۔ اُن کے نزدیک اسلام اور انسانیت ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ چنانچہ وہ اقبال کے ’’پین اسلامزم‘‘ کو ’’پین ہیومنزم‘‘ میں ’’پین‘‘ کا سابقہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ اُن کے خیال میں اقبال کے پیغام کا لُبِّ لباب ہے:
آدمیت احترامِ آدمی
باخبر شو از مقام آدمی
بندۂ حق از خدا گیرد طریق
می شود بر کافر و مومن شفیق
یہی سبب ہے کہ وہ کمال ژرف نگاہی سے اُس ظاہری تضاد کی گُتھی سلجھا لیتے ہیں جو بہت سے ذہنوں کو اُلجھاتا ہے۔ یعنی وطنیت کے بُت کو توڑنے کی دعوت کے بعد اقبال کا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ وطن کا مطالبہ۔ ملک صاحب کا استنتاج یہ ہے کہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ اپنی گہرائی میں ’’کثیر قومی نظریہ‘‘ ہے اور برصغیر کی تمام قوموں کے تہذیبی وجود کی بقا اور آزادانہ نشوونما کا منشور ہے۔ چنانچہ اقبال کا جداگانہ طون جو بالآخر پاکستان کی صورت میں ڈھال کرجریدۂ عالم پر ثبت ہوا بین الاسلامیت سے علاقائیت کی طرف مراجعت نہیں بلکہ بین الاسلامیت سے بین الانسانیت کی طرف پیش قدمی ہے۔
اردو، ملک صاحب کے خیال میں، صدیوں کے ارتقا پذیر ہونے والے عظیم الشان ہند اسلامی کلچر کا توانا اظہار ہے۔ اسی اسلامی شناخت کے باعث اردو زبان اور رسم الخط کے خلاف برصغیر میں ایک مہم جاری رہی جس کے گہرے سیاسی و مذہبی محرکات کی نشاندہی ملک صاحب نے کی ہے۔ مقتدرہ قومی زبان، کی سربراہی کے زمانے میں انہوں نے ’’پاکستا ن میں اردو‘‘ کے عنوان سے پانچ جلدوں میں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور کشمیر میں اردو کا جائزہ ، اس موضوع پر متنوع تحریروں کا ایک بھرپور انتخاب کے ذریعے پیش کیا ہے۔ یہ انتخاب بہت جامع اور وقیع ہے۔ خبر کے لیے مطالعے کی وسعت کے ساتھ ساتھ جانکاہ محنت بھی درکار ہوتی ہے۔
اقبال کے فکری ارتقا کو ملک صاحب نے مکمل عہد کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور، آروبندوگھوش اور بنکم چیٹر جی کے فلسفاینہ پس منظر کو بھی سامنے رکھتے ہوئے اقبال کی انفرادیت کا تعین کیا ہے۔ انہوں نے ترقی پسند کیمپ کی طرف سے اقبال پر کیے جانے والے اعتراضات کا بھی جائزہ لیا ہے جن کی نمائندگی مجنوں گورکھپوری، اختر حسین رائے پوری، علی سردار جعفری اور ممتاز حسین جیسے دانشوروں کی آراء سے ہوتی ہے جنہوں نے اقبال پر تنگ نظری، غلط فکری، فاشیّت، فنی ناہمواری اور مذہبی مشن کی عبثیّت جیسے الزامات عائد کیے ہیں اور پھر اُن کے رد میں ملک صاحب نے خود روس کے بعض ممتاز اہلِ نظر کی آراء نقل کی ہیں جنہوں نے اقبال شکنی کے جوش کو برصغیر کے اشتراکیوں کی اپنی تنگ نظر فرقہ پرستی پر محمول کیا ہے۔ نیز یہ کہا ہے کہ اقبال عالمِ اسلام کی سربلندی عالمِ انسانیت کے لیے چاہتے تھے۔ جابجا اقبال کے جو اقتباسات پیش کیے گئے ہیں وہ اقبال کی ذہنی شفافیت کے ساتھ ساتھ خود ملک صاحب کی ژرف نگاہی کی بھی دلیل ہیں۔ انہوں نے ترقی پسند ادبی تحریک سے متاثر ہونے کے باجود اُن نقائص کی منصفانہ نشاندہی کی ہے جو برصغیر میں اس تحریک کی تعمیر ہی میں مضمر تھے۔ یعنی مغرب سے مرعوب ہونا اور قومی ہونے سے پہلے ہی بین الاقوامی ہو جانا۔ ملک صاحب کی نظر میں نام نہاد بین الاقوامی کلچر دراصل مغربی کلچر تھا۔ اقبال انقلاب کے علمبردار تھے جبکہ ترقی پسند نوجوان محض بغاوت کی علامت تھے۔ اقبال کا فن ملک صاحب کے خیال میں ’’جمالِ فن سے زیادہ کمالِ دانش سے اعتنا کا ثمر ہے۔‘‘ انہوں نے نظریۂ پاکستان میں اقبال کے اساسی کردار کی نہایت باریک تہوں کو بھی کھولا ہے۔
ملک صاحب کی ادبی تنقیدی تحریریں وہ عمق رکھتی ہیں جو اچھی تنقید میں ہونا چاہیے۔ ہر اچھی تحریر وقت کے پہاڑ میں سرنگ کے مانند ہوتی ہے جو خود سے گزرنے والوں کی زندگی سے اُتنا وقت بچاتی ہے جتنا اُس کے بنانے میں صرف ہوا۔ ملک صاحب کے مضامین مطالعے کا رعب جمانے کی بجائے قاری کو حاصلِ مطالعہ میں شریک کرتے ہیں۔ اُن کی نقدانہ آراء دو ٹوک موقف رکھتی ہیں اور اختلاف رائے کو جنم دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۶۲ء میں لکھے گئے اُن کی مضمون ’’تمیز دار بہو کی بدتمیزی‘‘ سے سلیم احمد بہت متاثر اور شاہد احمد دہلوی بہت ناخوش ہوئے۔ اس میں ملک صاحب نے ڈپٹی نذیر احمد کی ناول نگاری کو ہمارے معاشرے اور خود ناول کی صنف کے لیے موجبِ زوال قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ رائے ضرورت سے زیادہ سخت تھی تاہم چونکہ یہ اُن کی رائے تھے اس لیے ملک صاحب اس کے اظہار میں ہچکچائے نہیں۔ دراصل اس مضمون کی تہ میں ملک صاحب کے نظریۂ اخلاق کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اخلاق اُن کی نگاہ میں اکہرے پند و موعظت سے نہیں، گہری دردمندی اور فراخ دلی سے عبارت ہے جو اُنہیں ڈپٹی نذیر صاحب کے کردار اصغری کی تمیزداری میں دکھائی نہیں دیتی مگر امیر حمزہ اور حاتم طائی کی داستانوں میں نظر آتی ہے۔
’’محمد علی جوہر کی غزل‘‘ پر لکھتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ ’’مولانا کی سیاست اور صحافت جرأتِ رندانہ کا مظہر ہے تو شاعری شوقِ فضول کا۔‘‘ البتہ زمانۂ اسیری میں مطالعۂ قرآن اور اقبال سے رغبت کے نتیجے میں عشق حقیقی اُن کے اشعار میں لو دینے لگا۔ یہاں ملک صاحب نے مولانا کے کلام کا جو انتخاب پیش کیا ہے اُن میں مشہور اشعار کے پہلو بہ پہلو بہت سے نامانوس اشعار بھی ملتے ہیں جو ملک صاحب کے تفصیلی مطالعے کا ثمر ہیں۔ دو ایک شعر آپ بھی دیکھیے:
نظر آیا ہمیں ہر چیز میں تو
اِس میں یہ دھوم ہے یکتائی کی
عقل کو ہم نے کیا نذرِ جنوں
عُمر بھر میں یہی دانائی کی
***
اُس نغمۂ الست کی کچھ دل کشی نہ پوچھ
کانوں میں آ رہی ہے ابھی تک صدائے دوست
ملک صاحب کے الفاظ میں ’’یہ رنگِ تصوف رسمی اور مستعار نہیں بلکہ دینی اور صوفیانہ تصورات کو اپنے عہد کی علمی سیاسی جدوجہد کی روشنی میں تفسیر کرنے نمودار ہوا ہے۔‘‘
معاصر ادب کی چار نامور شخصیات منٹو، فیض، راشد اور ندیم پر ملک صاحب نے مستقل کتابیں مرتب کی ہیں۔ منٹو پر بنی بنائی تنقید سے آگے بڑھ کر اُس کے فنّی ارتقا پر نظر ڈالی گئی ہے۔ ملک صاحب کی رائے میں ’’پاکستان کا طلوع اپنے جلو میں نئی تخلیقی زرخیزی لایا تھا۔ منٹو ہمارے اُن فنکاروں میں یگانہ و یکتا ہے جنہوں نے اس تخلیقی زرخیزی کو کام میں لانے کی طرف توجہ دی۔‘‘
اپنے تنقیدی مجموعے ’’تعصبات‘‘ میں (خصوصاً مضمون ’’فیض کی دو آوازیں‘‘ میں) ملک صاحب فیض پر مختلف پہلوؤں سے گرفت کرتے نظر آتے ہیں تاہم بیس بائیس برس بعد فیض پر اپنی مستقل تصنیف تک آتے آتے وہ اُن کے لیے بہت نرم گوشہ پیدا کر چکے ہیں۔ اب اُن کی رائے یہ ہے کہ ’’تم تر رندی و آزادہ روی کے باوجود فیض کی شاعری اور زندگی پر ایک کھری اور رچی ہوئی دینداری کی چھاپ نمایاں ہے‘‘ وہ فیض کو عاشقِ پاکستان تصور کرتے ہیں۔
راشد کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اُن کے ہاں سیاسی شعور اور روحانی احساس باہم بغلگیر ہیں۔ نیز یہ کہ اگرچہ بظاہر اُن کی شاعری کہیں کہیں اقبال کا ردِعمل نظر آتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اقبال کے خلاف ردِعمل کے زمانے میں راشد اقبال کے فنی و فکری مسلک پر ثابت قدم نظر آتے ہیں۔ فیض اور منٹو کی طرح ملک صاحب راشد کی پاکستانیت کے بھی قائل ہیں جو، اُن کی رائے میں ’’ایک جداگانہ رنگ و آہنگ رکھتی ہے۔‘‘
ملک صاحب کی کتاب ’’ندیم شناسی‘‘ واقعی ندیم شناسی کے سلسلے میں نہایت کامیاب دستاویز ہے جس میں احمد ندیم قاسمی کی شخصیت کے متنوع پہلو اور سوانح کے مجموعے خدوخال ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اس کتاب میں فیض کی طرح، ندیم سے بھی ملک صاحب کی گہری محبت کا رشتہ واضح ہوتا ہے مگر اُنہوں نے اس محبت کو معروضی حقائق پر غالب نہیں آنے دیا۔
ملک صاحب کا نثری اسلوب دوٹوک، واضح اور دل نشیں ہے جس کے پیچھے برسوں کی ریاضت بولتی ہے۔ وہ منجھی ہوئی زبان لکھتے ہیں اور اظہار مافی الضمیر کے لیے انگریزی الفاظ کا سہارا کم سے کم لیتے ہیں۔ اُن کے مضمون ، ’’دانتے، اسلام اور یورپ کا ذہنی جمود‘‘ میں بعض انگریزی اقتباسات کا جو ترجمہ پیش کیا گیا ہے وہ فنِ ترجمہ میں ملک صاحب کی مہارت کا آئینہ دار ہے۔ اُن کے ہاں جابجا بعض انگریزی تعابیر کا اردو قابلِ داد ہے۔ مثال کے طور پر “Ivory Tower” میں پایا جاتا ہے۔ اس کا لفظی ترجمہ ’’ہاتھی دانت کا مینار‘‘ بھی ہوا ہے اور اسے سے ’’مینار عاج‘‘ بنایا گیا س کی بہترین شکل ’’بُرجِ عاج‘‘ متعین ہوئی جو سید محمد کاظم مرحوم کے ہاں ملتی ہے مگر یہ سب کاوشیں ’’ترجمہ‘‘ ہی تھیں۔ ملک صاحب نے اس کے لیے ’’مر مریں حصار‘‘ کی اصطلاح برتی جو ترجمے کی حدود سے آگے نکل کر تخلیقی ترجمانی میں ڈھل جاتی ہے۔
خواتین و حضرات! شاید میں آج کی محفل کے مقتضیات سے باہر نکل رہا ہوں جیسا کہ میں آغاز میں عرض کر چکا ہوں ملک صاحب کے نتائجِ علم کا حاصل اس محفل میں نہ ممکن ہے اور نہ مقصود۔ مجھے تو بس ستارۂِ صبح کی طرح پیشرویِ آفتاب کا کردار ادا کرنا تھا۔ لازم ہے کہ میں بلاتاخیر عنانِ قلم کھینچ لوں اور ملک صاحب کے کمالات پر اپنی معروضات کو تشنہ و نامکمل چھوڑتے ہوئے اُن کی خدمت میں باردگر ہدیۂ تبریک اور آپ سب کے حسنِ سماعت پر ہدیۂ تشکر پیش کرتے ہوئے اجازت چاہوں۔ شکریہ ۔
(مجلس فروغِ اردو ادب قطر کے سالانہ اجلا میں پڑھا گیا)

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ