بریکنگ نیوز

چارسدہ:توھین رسالت کا واقع اور واقعیت

F64AA42E-4D22-4FDA-BA48-B75C99668355.jpeg

تحریر تہمید جان
==============================
معاشرے کی موجودہ صورت حال پر ہر باشعور آدمی بے چین ہے اور جس تیزی سے ہمارا معاشرہ عدم برداشت اور انتہاء پسندی کے طرف جا رہی ھے اس پر قوم و ملک کے اجتماعی دانش کرب کے عالم میں ہے۔لیکن اس سے زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم چاہے مذہبی ہو یا سیکولر٬تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ مالدار ہو یا غریب٬مرد ہو یا عورت جذباتیت کا شکار ہو چکے ہیں۔پہلے سے جو ذہن بن چکا ہو اسی ذہنیت کو مد نظر رکھ کر چیزوں کو دیکھتے ہیں اور دلچسپی رکھتے ہیں.ہر وہ مسئلہ ھمارے دلچسپی کا مرکز ھوتا ھے جس کا ھمارے نظریات سے مماثلت ھو اور جس مسلے کے متعلق ذہنی بنیاد نفرت پہ بنی ھو اس کو منفی رنگ میں اچھالتے ھیں. ھماری یہ ذھنی رجحانات صرف مذہبی مسائل سے وابستہ نہیں بلکہ ھم کسی بھی واقع کو غیر جانبدارانہ اور اور منطقی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت سے من حیث القوم محروم ھو چکے ھیں. منطقی استنتاج اور معروضی تجزیہ ھمارے لئے بے گانہ تراکیب ھیں.
ایک تازہ واقعہ جس نے گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پہ ھنگامہ بنایا ھے، شبقدر چارسدہ میں ایک پرنسپل کا اپنے طالب علم کے ھاتھ سے شہادت کا واقعہ ھے.
راقم اسلام آباد میں تھا جب سوشل میڈیا پہ خبر آئی کہ جائے مذکور میں ایک پرنسپل کو توھین رسالت کے الزام میں قتل کیا گیا ھے. کافی تشویش ھوئی کیونکہ میرا ذاتی تعلق بھی متعلقہ علاقے سے ھے اور بذات خود ایک عرصہ سے انتہا پسندی، تنگ نظری اور مذہبی منافرت کے خلاف جدوجہد میں مصروف ھوں. اگر چہ خود بھی مذہبی حلقوں کے الزام بازی کا شکار رھا ھوں تاھم کسی بھی حالت میں منطقی اور اور غیر جانبدارانہ ذھنی روئے کو نہیں چھوڑا.
حقائق کا بلاواسطہ جائزہ لینے کیلئے میں بذات خود شبقدر اور چارسدہ گیا، راستے میں عوام کو سنا، علاقے کے سیاسی زعماء کی رائے لی اور بالآخر متعلقہ موقع و محل پہ حاضر ھوا. قتل کے بعد علاقے کے عوام سراپا احتجاج تھے اور انہوں نے بہیمانہ فعل پر جلوس بھی نکالا تھا۔ چونکہ مقتول ایک معلم ھونے کیساتھ حافظ قرآن بھی تھا اور ایم اے اسلامیات ٬ایم اے عربی اور پشتو بھی. عوام اس قتل کے خلاف یک زبان تھے. ان احتجاجی جلوسوں میں قتل کی وجوہات میں توہین رسالت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔اس کے بعد میں متعلقہ تھانے پہنچا تو واقعے کہ تفتیشی افسر اے ایس آئی جھانگیر خان نے ایف آئی آر کی نقل سامنے رکھ دی. ایف آئی آر قاتل طالب علم سید فہیم شاہ کے خلاف تھا.ایف آئی آر درج کرنے والا متعلقہ کالج کا طالب علم ھونے کے علاوہ مقتول کا بھانجا بھی تھا. ایف آئی آر میں توہین رسالت کے حوالے سے کوئی بات نہیں تھی ۔تفتیشی رپورٹ اور واقعہ سے وابستہ لوگوں سے پتہ چلا کہ سارے مسلے میں مذہب کا کوئی رول ھے نہ توھین رسالت یا Blasphemy کا. طالب علم قاتل سید فہیم شاہ کلاس سےبغیر اجازت کے غیر حاضر رہتا، تعلیمی پرفارمنس بھی اچھی نہیں تھی. جس کی وجہ سے پرنسپل صاحب کیطرف سے ڈانٹ ڈپٹ پڑتا تھا جس کی وجہ سے مذکورہ طالب علم پرنسپل صاحب سے ناراض رہتا تھا۔بعض لوگوں نے بتایا کہ قاتل کا تعلق بریلوی مسلک سے تھا اور پرنسپل صاحب کا تعلق دیوبندی مکتب فکر سے تھا ۔ایک بار پرنسپل صاحب نے کبھی کسی بریلوی عالم کی بھی مخالفت کی تھی جس سے شاید شاگرد ناراض تھا. یہ بھی بات سننے میں آئی کہ استاد نے کسی شعر کی تشریح کی تھی جس کو شاید شاگرد مذہبیات کی توھین سمجھتا ھو. واقعہ کے وقت حاضری کے مسئلہ پر تکرار ھوئی. قاتل نے پستول سے گولیاں چلائیں.جس کی وجہ سے پرنسپل صاحب شدید زخمی ہوا اور زخمی حالت میں ان کو پشاور میں ھسپتال لے جار ھے تھے تو راستے میں زخموں کی تاب نہ لا سکا اور فوت ہوئے۔شبقدر میں کافی مذہبی لوگ بشمول جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنما کے جمع تھے جو پرنسپل صاحب کے وفات پہ سخت افسردہ تھے. اسکے بعد میں چارسدہ آیااور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ظہور آفریدی سے ملا جنہوں نے بتا یا کہ مذکورہ طالب علم فرسٹریشن کا شکار تھا. اور طالب علم نے یہ بھی کہا کہ میں نے first yearکسی اور کالج میں پڑھا اور پھر سیکنڈ کیلئے اسی کالج میں داخلہ لیا مگر پرنسپل صاحب کے روز روز ڈانٹنے سے میں بہت تنگ آ چکا تھا جس کیوجہ سے میں نے یہ اقدام کیا ۔طالب علم نے یہ الزام بھی لگایا کہ استاد نے ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ نہیں کہا، ایک بار ایک صحابی کے بارے میں کہا کہ وہ جہاد پہ اس لئے نہیں گیا کہ وہ بوڑھا اور کمزور ھو چکا تھا . یہ مجھے گستاخی لگ رہی تھی۔جس کیوجہ سے میں راتوں اس پہ سوچتا تھا کہ یہ مقدس ھستیوں کی بے ادبی کرتا ھے. طالب علم یہ بھی کہتا تھا کہ جب گزشتہ ایام میں میں اسلام آباد میں دھرنے پہ گیا تھا تو پرنسپل صاحب نے اس پہ بھی سرزنش کی تھی.چونکہ پرنسپل صاحب کا تعلق دیوبندی جماعت سے تھا ۔اس لئے یہ بھی مجھے اپنے اکابر کی گستاخی معلوم ہو رہی تھی۔ڈی پی او صاحب کا موقف بھی یہی تھا کہ اس واقعے کا براہ راست مذہب سے تعلق نہیں ہے۔اور جس طرح سوشل میڈیا پر یہ خبر توہین رسالت سے نتی کرکے وائرل کیا گیا حقیقت میں ایسا نہیں ہے البتہ مسلکی اختلاف کا تھوڑا سا لنک معلوم ہو رہا ہے۔
اور جہاں تک میں نے اس معاملے کو جانچا اور سمجھا یہ فرقہ وارانہ ذھن سازی کا نتیجہ ھے. اور معاشرے کو اس بھوت سے نجات دینے کیلئے منظم جدوجہد کی ضرورت ھے.میرا پہلاسے بھی یہ موقف رہا ہے کہ ہمارے معاشرے کا بنیادی مسئلہ احساس محرومی کمتری اور مسلکی تعصب اور عدم رواداری ہے جو بلآخر دہشت گردی اور قتل و قتال پر منتج ہوتا ہے۔اگر نچلے سطح پر مسالک کے درمیان سماجی رابطے اور تعلقات بحال کیا جائے تو بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ